کشمیر کی مظلوم خواتین سے پاکستان کی خواتین کا اظہار یکجہتی

شاہد شیخ
مقبوضہ وادی میں تین ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری بھارتی کرفیو اور لاک ڈاؤن کے باعث تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز بند ہیں، سڑکوں سے ٹریفک غائب ہے، موبائل فون، انٹرنیٹ سروس معطل ہے، خوراک اور دواؤں کی قلت ہے۔
کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے پوری وادی ہی متاثر ہے، مگر وہاں کی خواتین بہت زیادہ متاثر ہیں۔ قابض فورسز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیرِاعلیٰ فاروق عبداللہ کی بیٹی اور بہن سمیت متعدد خواتین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
دوسری جانب دورہئ بھارت کے موقع پر جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وادی کی موجودہ صورتِ حال غیر مستحکم ہے۔
اقوام متحدہ میں موجود پاکستانی مندوب کا کہنا ہے کہ بھارت کے جابرانہ ہتھکنڈوں نے مقبوضہ کشمیر میں محصور خواتین کی زندگی مزید اجیرن کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابض افواج ماؤں کے سامنے اُن کے بچے اٹھا کر لے جاتی ہیں جن میں سے بہت سوں کا پھر کوئی سراغ ہی نہیں ملتا۔
بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں دوسرا کاری وار کرتے ہوئے جموں و کشمیر کا پرچم اور آئین ختم کرکے وہاں بھارتی قوانین لاگو کردیے ہیں، مگر پاکستان کی سرکار عالمی امن کے نام نہاد ٹھیکیداروں کی طرح خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اب دونوں یونٹ نئے لیفٹیننٹ گورنر چلائیں گے، زیادہ اختیار دلی کے پاس ہوں گے، اور کشمیر کی مسلم آبادی کو مستقبل قریب میں کم دکھانے کے لیے بھارتی شہری وہاں جائدادیں بھی خرید سکتے ہیں۔ مگر اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارے بھارتی جارحیت کے خلاف کسی قسم کی نہ صرف عسکری کارروائی سے گریزاں ہیں، بلکہ مذمتی قرارداد کی سطح پر بھی نہتے کشمیری عوام کی حمایت سے گریزاں ہیں۔
بیانات کی حد تک تو وزیراعظم پاکستان عمران خان المعروف ٹیپو سلطان بھی جوابی وار بہت خوب کرتے ہیں، اور یہی ان کی وجہئ شہرت ہے، جس کے قصیدے پوری دنیا میں پڑھے جاتے ہیں، اور جب مودی کی عسکری جارحیت میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو خان صاحب کے کیے گئے جوابی ٹوئٹس کمال کے ہوتے ہیں، جس کی داد وتحسین وہ اپنے سپورٹر سے احسن انداز میں وصول کرتے ہیں۔
دوسری طرف کشمیر کی مظلوم خواتین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پاکستان میں جماعت اسلامی کی خواتین سڑکوں پر سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں۔ کشمیر مارچ کے حوالے سے کراچی، حیدرآباد اور جیکب آباد کی خواتین کا جوق در جوق نکلنا قابلِ تحسین ہے۔ جماعت اسلامی حلقہ خواتین سندھ کی ناظمہ عطیہ نثار نے ایک سوال کے جواب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو مقبوضہ علاقوں بالخصوص کشمیر میں ظلم اور جبر کا سامنا کرتی خواتین کے حق میں آواز اٹھانا ہوگی۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر کراچی، حیدرآباد اور جیکب آباد میں ہونے والے احتجاج میں خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے دل کشمیری عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں، اور دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ان سے جدا نہیں کرسکتی۔ عطیہ نثار نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ جیکب آباد ایک قبائلی علاقہ ہے، وہاں جہادِ کشمیر مارچ کے نام پر خواتین کا گھروں سے نکلنا قابلِ تحسین ہے، اور پاکستان کے عوام بیدار ہوچکے ہیں، اب کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے کا وقت آگیا ہے۔ شدید بارش کے باوجود کراچی میں ہونے والے کشمیر مارچ میں خواتین کے جذبہئ استقامت نے پوری قوم کا ہی نہیں، امتِ مسلمہ کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی حلقہ خواتین کراچی کی ناظمہ اسما سفیر نے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: الحمدللہ ہم ایک اللہ، ایک قرآن اور ایک رسولؐ کے ماننے والے ہیں۔ دنیا میں جہاں ظلم ہوگا جماعت اسلامی مظلوم کی آواز بنے گی۔ یہی وہ جذبہ ہے جو ہماری تربیت کا حصہ ہے، جس کا عملی مظاہرہ دنیا نے شارع فیصل پر دیکھا کہ ہزاروں خواتین نامساعد حالات کے باوجود اپنے محاذ پراستقامت کے ساتھ ڈٹی رہیں۔
حیدرآباد میں کشمیر مارچ میں خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت کے حوالے سے جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی ناظمہ غزالہ نے کہا کہ خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے یہ ثابت کردیا کہ یہ ایشو سب کے لیے کتنا حساس ہے، اور جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے جذبہئ اظہارِ یکجہتی قابلِ تحسین ہے، حیدرآباد کی خواتین کی ظلم کے خلاف آواز دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کا ذریعہ بنی ہے۔
حیدرآباد کی ناظمہ نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ خواتین کا نقطہ نظر یہ ہے کہ حکومت کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اب کوئی عملی قدم فوری طور پر اٹھانا چاہیے، یقیناً ملک کے تمام ادارے اور تمام سیاسی جماعتیں وزیراعظم عمران خان کو ایک پیج پر ملیں گی۔