خیبر پختونخوا: طبی ملازمین کی 46روزہ ہڑتال کا خاتمہ

۔”اصلاحات“ کے خلاف ڈاکٹروں کا احتجاج چار سال سے جاری ہے

خیبر پختون خوا میں ریجنل ہیلتھ اتھارٹی اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے قیام کے قانون کی صوبائی اسمبلی سے منظوری کے خلاف صوبے کے تمام تدریسی، ضلعی اور تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں گرینڈ ہیلتھ الائنس کے پلیٹ فارم سے پچھلے 46 دنوں سے جاری احتجاج اور ہڑتال اتوار کے روز وزیراعلیٰ کے ساتھ ہونے والے کامیاب مذاکرات کے بعد ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ صوبائی اسمبلی سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے نے وزیراعلیٰ محمود خان کے ساتھ ہونے والے اجلاس کے بعد ہڑتال اور احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ہڑتالی ملازمین برطرفی کے خوف سے مطالبات منظور کروائے بغیر ہی ہڑتال ختم کرکے ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں، تاہم ملازمین کے نمائندوں نے اس دعوے کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے مسائل حل کرنے کے لیے دوماہ کا وقت مانگا ہے جس کے لیے ایک بااختیار کمیٹی بنادی گئی ہے۔ یہ کمیٹی کابینہ ارکان اور جی ایچ اے کے ارکان پر مشتمل ہوگی۔ کمیٹی کو دو مہینوں میں تمام مسائل کے ممکنہ حل کے لیے تجاویز پیش کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ دریں اثناء صوبائی حکومت نے ہسپتالوں میں ہڑتال کرنے والے ملازمین کے تحفظات کے سلسلے میں تین صوبائی وزراء پر مشتمل کمیٹی کا اعلامیہ جاری کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صوبائی وزیر قانون سلطان محمد خان کو کمیٹی کا کنوینر، جبکہ صوبائی وزیر برائے مواصلات اکبر ایوب خان اور صوبائی وزیر خوراک قلندر لودھی اس کمیٹی کے ارکان ہوں گے، اس کے علاوہ کمیٹی میں سیکرٹری صحت کو بھی بطور رکن شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو سفارشات کی تیاری کے لیے دو ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں احتجاج اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں اسسٹنٹ پروفیسر کے ساتھ وزیر صحت کی ہاتھا پائی اور تشدد کے واقعے کے بعد بھی صوبائی وزیروں پر مشتمل کمیٹی کا اعلان کیاگیا تھا جس میں وزیرقانون، وزیر مواصلات اور وزیر زراعت کو نمائندگی دی گئی تھی، تاہم اس کمیٹی کا اس عرصے میں صرف ایک اجلاس ہوا۔ لہٰذا نئی کمیٹی میں وزیرزراعت کے بجائے وزیر خوراک کو شامل کیا گیا ہے، اس کمیٹی کا اجلاس آئندہ چند روز میں طلب کرلیا جائے گا۔
دوسری جانب ہڑتالی ملازمین کے اتحاد یعنی گرینڈ ہیلتھ الائنس نے بھی حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ بات چیت کے لیے ڈاکٹر سراج الاسلام کی سربراہی میں 6 رکنی کمیٹی کے ارکان کے نام جاری کردیئے ہیں جن میں پروفیسر محمد اظہر، ڈاکٹر عالمگیر خان، جبکہ پیرا میڈیکس یونین سے جوہر علی، نرسنگ یونین سے انور سلطانہ کو شامل کیا گیا ہے، کمیٹی میں احمد خان کو بطور کنسلٹنٹ ذمہ داری دی گئی ہے۔
سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال ختم کرنے کی اطلاع پر صوبے بھر سے مریضوں نے پشاور کے ہسپتالوں کا رخ کرلیا ہے۔ گزشتہ روز پشاورکے تینوں تدریسی ہسپتالوں کی او پی ڈیز میں معمول سے زیادہ رش رہا، جبکہ وارڈز میں بھی سہولیات اور آپریشن تھیٹرز کی فہرست بحال کردی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ 46 روز تک سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز اور لیبارٹریز کی بندش کے باعث دس لاکھ سے زائد مریضوں کے علاج کا حرج ہوا، جبکہ 20ہزار آپریشن بھی معطل پڑے تھے جس سے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں تھیں، تاہم پیر کے روز سے ہسپتالوں میں رش دوبارہ بڑھ گیا ہے۔ صبح سے ہی لیڈی ریڈنگ، خیبر ٹیچنگ اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں بارہ ہزار سے زائد مریضوں نے او پی ڈیز میں معائنے کے لیے رجوع کیا۔ اسی طرح ہسپتالوں میں لیبارٹریز ٹیسٹ اور آپریشن تھیٹرز کی لسٹ بھی بحال کردی گئی ہے اور دعویٰ کیا جارہا ہے کہ دس دن کے دوران آپریشن کے منتظر مریضوں کے آپریشن کردئیے جائیں گے۔ اس حوالے سے شہریوں نے سُکھ کا سانس لیا ہے، کیونکہ طویل عرصے کے بعد ہسپتالوں میں ان کا علاج بحال کردیا گیا ہے۔ اس دوران گرینڈ الائنس کے صدر ڈاکٹر عالمگیر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ کئی ہفتوں سے جاری تھا، جو بالآخر اتوار کو مکمل ہوا۔ بقول اُن کے حکومت نے نئے قانون کے بارے میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے تمام تر تحفظات کو دور کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ڈاکٹر عالمگیر خان نے کہا کہ ملازمین کی سروسز اور پنشن کے تحفظ پر حکومت نے مکمل طور پر اتفاق کیا ہے۔ یاد رہے کہ طبی عملے کی اس طویل ہڑتال کے دوران گرینڈ الائنس نے 25 اکتوبر کو اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان بھی کیا تھا، لیکن بعد ازاں وہ اپنے اس فیصلے سے پیچھے ہٹ گیا تھا۔ ہڑتال اور احتجاج کے دوران اکتوبر کے اوائل میں پولیس نے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں مظاہرین پر تشدد بھی کیا تھا جس میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر زبیر سمیت 12 افراد زخمی ہوئے تھے، جب کہ زخمی ہونے والوں میں دو خواتین صحافی بھی شامل تھیں۔ احتجاج کرنے والے 39 ڈاکٹروں اور مختلف تنظمیوں کے عہدیداران کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے، جبکہ 13 ڈاکٹروں کو گرفتار کرکے مردان جیل منتقل کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ چند روز قبل صوبائی حکومت نے ایک اعلان میں ہڑتال کرنے والے ڈاکٹروں اور ملازمین کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ ان کی جگہ بھرتیاں کرنے کے لیے اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کیے گئے تھے۔ جب کہ اس ساری صورت حال کے بارے میں گرینڈ ہیلتھ الائنس کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ حکومت نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ مذکورہ قوانین کی اسمبلی سے منظوری سے قبل انہیں اعتماد میں لیا جائے گا لیکن ان سے اس ضمن میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی، لہٰذا وہ قوانین کے خلاف احتجاج پر مجبور ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریجنل اور ڈسٹرکٹ اتھارٹیز کے قیام پر ڈاکٹروں اور طبی عملے کی طرف سے پہلے ہی سے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا تاہم حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ ان سے مشاورت کی جائے گی، لیکن اس کے برعکس قوانین کی منظوری سے قبل ان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا جس سے حالات خراب ہوئے۔ انھوں نے کہاکہ جب ان قوانین کے خلاف احتجاج کیا جا رہا تھا تو نہ صرف طبی عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ احتجاج کرنے والے 18 ڈاکٹروں اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے انھیں گرفتار بھی کیا گیا۔ڈاکٹروں کے مطابق ان اتھارٹیز کے قیام سے ہسپتالوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بڑھے گی جس کے تحت کوئی بھی شخص یا ادارہ ہسپتال میں سرمایہ کاری کرسکے گا۔ ان قوانین کا سب سے بڑا نقصان عوام کو ہوگا، کیونکہ پہلے سرکاری ہسپتالوں میں علاج مفت ہوتا تھا لیکن اب انھیں پیسے دینے پڑیں گے۔ اس ایکٹ کے تحت حکومت کی طرف سے اضلاع اور علاقائی سطح پر ہیلتھ اتھارٹیز کے اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پی ٹی آئی کی سابق صوبائی حکومت نے 2015ء میں بھی میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن یا ایم ٹی آئی کے نام سے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت سرکاری ہسپتالوں میں بڑے بڑے انتظامی فیصلے کیے گئے تھے اور اس موقع پر بھی ڈاکٹروں نے اس نئے نظام کی شدید مخالفت کی تھی، لیکن اُس وقت کی حکومت یہ قانون لاگو کروانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ اب موجودہ صوبائی حکومت نے بھی ان اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اسے اضلاع اور دیہاتی علاقوں تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں حال ہی میں ریجنل اور ڈسٹرکٹ اتھارٹیز ایکٹ 2019 صوبائی اسمبلی سے منظور کروایا گیا ہے۔ اس ایکٹ کے مطابق ان اتھارٹیز کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے فنڈز فراہم کیے جائیں گے، جبکہ یہ ادارے ایک پالیسی بورڈ کے ماتحت ہوں گے جس کی سربراہی صوبائی وزیر صحت کریں گے۔ اس قانون کے تحت ڈاکٹروں اور محکمہ صحت کے دیگر عملے کی تقرریوں اور تبادلوں کا اختیار ان اتھارٹیز کے بورڈ کو دیا جائے گا، اور اس طرح انھیں اس سلسلے میں پورا انتظامی اختیار حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ اداروں کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ ضرورت کے مطابق ڈاکٹروں کا تبادلہ اسی ضلع میں کیا جائے جہاں سے وہ تعلق رکھتے ہیں۔یہاں اس امر کی نشاندہی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ ڈاکٹروں کی مختلف تنظیموں کی طرف سے اصلاحاتی عمل کے خلاف گزشتہ تقریباً چار سال سے وقتاً فوقتاً احتجاج کا یہ سلسلہ جاری ہے، اور اس دوران سب سے زیادہ مشکلات مریضوں کو پیش آتی رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ احتجاج مزید جاری رہتا اور نجی کلینک بھی مزید چند دنوں تک بند رہتے تو اس سے ایک بڑا بحران جنم لے سکتا تھا۔ اس ساری گمبھیر اور پریشان کن صورت حال کے متعلق صوبائی وزیر صحت ہشام انعام اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت ہر صورت میں ہسپتالوں میں اصلاحاتی عمل کو جاری رکھے گی اور اس ضمن میں کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ خیبر پختون خوا اسمبلی میں اپوزیشن کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ 2015ء میں نافذ کیے جانے والے ایم ٹی آئی قانون کے نفاذ سے طبی مراکز کی حالت میں کافی حد تک بہتری آئی ہے اور ہسپتالوں کو خودمختاری ملی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریجنل اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز ایکٹ کے قیام کا فائدہ چار سال بعد ہوگا اور اس قانون کے نفاذ کا واحد مقصد طبی مراکز کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔

Share this: