“ڈیل” اور “دھرنے” کی دھند میں لپٹا ہوا سوال، پاکستان کا سب سے بڑا دشمن کون؟۔

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان کا سب سے بڑا دشمن کون ہے؟… بھارت؟ امریکہ؟ یورپ؟ اسرائیل؟
بلاشبہ یہ تمام قوتیں پاکستان کی دشمن ہیں، مگر پاکستان کا سب سے بڑا دشمن پاکستان کا حکمران طبقہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طبقے نے کسی اصول کو اصول نہیں رہنے دیا۔ پاکستان ایک نظریے کے تحت وجود میں آیا تھا، مگر ہمارے حکمران طبقے کا کوئی نظریہ ہی نہیں ہے۔ ہمارا حکمران طبقہ کبھی سیکولر ہوجاتا ہے، کبھی اسلامی بن جاتا ہے، کبھی لبرل بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ اس حکمران طبقے نے ملک کو اچھی جمہوریت دی، نہ اچھی آمریت دی۔ اس طبقے نے آئین کو آئین رہنے دیا ہے، نہ سیاست کو سیاست رہنے دیا ہے، نہ نظامِ عدل کو نظامِ عدل رہنے دیا ہے۔ اس صورتِ حال کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری قومی زندگی ایک سنگین مذاق بن کر رہ گئی ہے۔
اس مذاق کے نتیجے میں ان سطور کی اشاعت تک میاں نوازشریف ڈیل اور ڈھیل سے تعمیر ہونے والے طیارے یا ائر ایمبولینس کے ذریعے ملک سے باہر جاچکے ہوں گے۔ معروف اینکر مہر بخاری کی اطلاع کے مطابق میاں صاحب کی روانگی کے ایک ہفتے بعد مریم نواز بھی برطانیہ یا بوسٹن میں اپنے والد سے جاملیں گی۔ میاں نوازشریف کے صحافتی کیمپ میں بعض لوگ میاں نوازشریف کو ’’مزاحمتی‘‘ اور ’’انقلابی‘‘ ثابت کرنے پر تُلے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک نام خورشید ندیم کا بھی ہے۔ مگر میاں نوازشریف کے بیرونِ ملک جانے کی اطلاع کے بعد خورشید ندیم کو آٹے دال کا بھائو معلوم ہوگیا۔ چناں چہ انہوں نے ’’برادرِ یوسف یا برادرِ جمہوریت‘‘ کے عنوان کے تحت اپنے کالم میں فرمایا:
’’شہبازشریف ’’برادرِ یوسف‘‘ تو نہ بنے لیکن وہ ’’برادرِ جمہوریت‘‘ بھی نہ بن پائے۔ سیاست میں اصل رشتے داری نسبی نہیں، نظریاتی ہوتی ہے۔ جو آج ’’برادرِ جمہوریت‘‘ ہے، وہ برادرِ یوسف ہی تو ہے۔
جمہوریت دو سال سے بے اماں و بے ردا، ملک کے کوچہ و بازار میں رسوا ہورہی تھی۔ نوازشریف نے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کی چادر سے اس کا سر ڈھانپ دیا۔ وہ بیٹی سمیت جیل جا پہنچے تو یہ ذمے داری شہبازشریف کی تھی کہ وہ اس چادر کی حفاظت کرتے۔ وہ مسلم لیگ کے علَم کو جمہوریت کی ردا بنادیتے۔ اوباشوں کے حملوں سے اس کو محفوظ رکھتے۔ نوازشریف کا بھائی ہونے کا تقاضا تھا کہ وہ جمہوریت کو بھی اپنی عم زاد سمجھتے جس کی عزت کے تحفظ کے لیے نوازشریف نے اپنی جان دائو پر لگادی۔ وہ یہ ذمے داری ادا نہیں کرسکے۔
اگر وہ مسلم لیگ کا علَم بچا لیتے تو ہم سمجھتے کہ چادر تو سلامت ہے، کسی وقت جمہوریت کے سر پر ڈالی جاسکتی ہے۔ افسوس یہ بھی نہ ہوسکا۔ آج گلی بازار میں نون لیگ زیربحث ہے۔ سوالات اُٹھ رہے ہیں۔ نون لیگ کو ایک بار پھر مقتدر حلقوں کی باندی بنانے کی کوشش ہے‘‘۔
(روزنامہ دنیا۔ 9 نومبر 2019ء)
غور کیا جائے تو خورشید ندیم کے اس کالم میں بھی کئی مسائل موجود ہیں۔ مثلاً انہوں نے فرمایا ہے کہ نواز لیگ کو ایک بار پھر مقتدر قوتوں کی باندی بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ خورشید ندیم کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ بنی بنائی باندی کو کوئی بے وقوف ہی باندی بنانے کی کوشش کرے گا۔ خورشید ندیم نے نواز لیگ کی صورتِ حال کا سارا ملبہ شہبازشریف پر ڈالنے اور میاں نوازشریف کو صاف بچا لے جانے کی کوشش کی ہے۔ مگر ہم اپنے گزشتہ کالم میں عرض کرچکے ہیں کہ میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں، اور ’’حکمتِ عملی‘‘ کے تحت ایک بھائی ’’اصول پرستی‘‘ کی اداکاری کرتا رہا ہے اور دوسرا ’’مسٹر مفاہمت‘‘ کا کردار نبھاتا رہا ہے۔ آخر میاں نوازشریف کوئی دودھ پیتے بچے تو نہیں کہ آئس کریم یا ٹافی کا لالچ دے کر ڈیل اور ڈھیل پر آمادہ کرلیا گیا ہو۔ اتفاق سے ہم نے گزشتہ کالم میں جو کچھ عرض کیا تھا اس کی تصدیق معروف اینکر صابر شاکر نے اپنے حالیہ کالم میں کردی ہے۔ صابر شاکر نے اپنے کالم میں کیا لکھا، ملاحظہ فرمائیے:
’’مسلم لیگ نواز کے قائد اور مریم بی بی رہا ہوچکے ہیں، شہبازشریف سیاسی منظرنامے سے غائب ہیں اور اپنی ساری توجہ اپنے بھائی کی صحت اور مستقبل پر دے رہے ہیں، وہ فی الحال داخلی سیاست میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کررہے۔ پارٹی دوسرے اور تیسرے درجے کی سیاسی قیادت کے حوالے ہے۔ میاں نوازشریف سے ملاقات کی کسی کو اجازت نہیں، جو کچھ طے پایا ہے اُس پر مریم بی بی بھی آن بورڈ ہیں اور کسی قسم کی عہد شکنی نہیں کی جارہی، کیوں کہ جو کچھ بھی طے پایا ہے وہ سب کچھ نوازشریف کی مرضی و منشا کے ساتھ ہوا ہے اور جزئیات شہبازشریف نے بڑے بھائی کی ہدایت پر طے کی ہیں۔ حسبِ سابق برادر اور دوست ممالک بھی آن بورڈ ہیں، اگر اس پر عمل ہوجاتا ہے تو شریف فیملی کو مستقبل قریب نہ سہی مستقبل بعید میں کافی کچھ کھویا ہوا واپس مل سکتا ہے، جس میں اقتدار کا ہما بھی شامل ہے۔ اس لیے شریف فیملی مکمل طور پر علاج پر توجہ دے رہی ہے۔ نئے اپ ڈیٹڈ سوفٹ ویئر انسٹال ہوچکے ہیں، پرانے بیانیے کی جگہ نئے بیانیے کا ورژن کام کرے گا۔ پرانی ڈسکیں نکال دی گئی ہیں اور نئی وائرس فری ڈسکیں انسٹال کی گئی ہیں۔ اس لیے فوری طور پر جاتی امرا غیر سیاسی رہے گا۔ جب مناسب وقت آئے گا، رونقیں بحال ہوجائیں گی، فیملی کے اندر اب اس بات پر مکمل اتفاق ہے۔‘‘
(روزنامہ دنیا۔ 8 نومبر 2019ء)
صابر شاکر کے مذکورہ اقتباس سے بھی صاف ظاہر ہے کہ ڈیل اور ڈھیل پر میاں نوازشریف کی مہرِ تصدیق موجود ہے۔ تازہ ترین ڈھیل اور ڈیل کا مرکزی نکتہ یہ خیال ہے کہ شریف خاندان نے 2000ء میں جنرل پرویز کے ساتھ ڈیل کی تھی اور اس نے دس سال کے لیے سیاست سے باہر رہنے کا وعدہ کیا تھا، مگر حالات ایسے پیدا ہوگئے کہ پورا شریف خاندان صرف سات سال میں ملک واپس لوٹ آیا۔ غالباً شہبازشریف نے اپنے گھر میں ایک بار پھر یہی آئیڈیا فروخت کیا ہے کہ اس وقت شریفوں کا ملک سے باہر چلے جانا ہی بہتر ہے۔ حالات بدلے تو ماضی کی طرح شریف خاندان ایک بار پھر سیاست کا مرکزی کردار بن جائے گا۔ یہ خیال بعیداز قیاس نہیں۔ پاکستان کی سیاست کسی اصول یا ضابطے کی پابند تو ہے نہیں۔ یہاں فوجی قیادت کے بدلتے ہی سب کچھ بدل جاتا ہے۔ ہیرو ولن بن جاتا ہے اور ولن ہیرو کا کردار ادا کرتا نظر آتا ہے۔ چناں چہ شریف خاندان آج نہیں تو کل پھر ملک کی سیاست میں اہم بن سکتا ہے۔ یہ سب ٹھیک ہے، مگر شریفوں کے صحافتی وکیلوں سے عرض ہے کہ ازراہِ عنایت شریفوں کے ساتھ ’’اقدار‘‘ اور ’’مزاحمت‘‘ جیسے تصورات کو وابستہ نہ کریں، اور انہیں عشق کی روایت سے وابستہ کرنے کی رکیک حرکت نہ کریں۔ کیوں کہ ایسا کرنے کا مطلب اقدار، مزاحمت اور عشق جیسے بلند تصورات پر تھوکنا ہے۔ یہ بداخلاقی ہی نہیں بد تہذیبی بھی ہے۔ اصول ہے: شیر کو شیر کہو اور گیدڑ کو گیدڑ کہہ کر پکارو۔ مزاحمت نہ شریف خاندان کے خون میں ہے، نہ مزاحمت ان کی تعلیم و تربیت کا حصہ ہے۔ یہاں تک کہ مزاحمت ان کی تاریخ و تہذیب کا بھی حصہ نہیں رہی۔ ایک صاحب بتا رہے تھے کہ مریم نواز نے کہیں فرمایا ہے کہ ڈیل کی باتیں کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔ یہ شریف خاندان سے بلند ہونے والی ایک آواز ہے۔ شریف خاندان کے اندر سے اُٹھنے والی ایک اور آواز شہبازشریف کے فرزندِ ارجمند سلیمان شریف کی ہے۔ انہوں نے اپنے 8 نومبر 2019ء کے ٹویٹ میں لکھا:۔
’’خدا کے فضل سے شہبازشریف اپنے بھائی اور لیڈر کو وہاں سے نکال لایا جہاں سے ’’سلیکٹڈ‘‘ نے ٹی وی اور اے سی اتارنا تھا‘‘۔
سوال یہ ہے کہ اگر کوئی ڈیل اور ڈھیل نہیں ملی تو میاں شہبازشریف کیسے اپنے ’’بھائی‘‘ اور ’’لیڈر‘‘ کو وہاں سے نکال لائے جہاں سے سلیکٹڈ کو ٹی وی اور اے سی نکالنا تھا؟ کیا شہبازشریف کوئی ’’بیٹ مین‘‘ ہیں؟ کوئی ’’مافوق الفطرت ہستی‘‘ ہیں؟ میاں شہبازشریف کی فیملی کے ایک رکن نے سوشل میڈیا پر میاں شہبازشریف کی ایک تصویر Share کی ہے اور میاں شہبازشریف کو ’’Game Changer‘‘ قرار دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ڈھیل اور ڈیل کے بغیر شہبازشریف Game Changer کیسے بنے؟ مریم نواز کو اپنے گھر سے نمودار ہونے والی ان دو شہادتوں پر بھی غور کرنا چاہیے اور پھر ڈیل اور ڈھیل پر زبان کھولنی چاہیے۔ خیر یہ تو ایک جملۂ معترضہ تھا۔ یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ میاں نوازشریف ابھی کچھ عرصہ پہلے کہا کرتے تھے کہ میں مرجائوں گا مگر باہر نہیں جائوں گا۔ مگر اب جو کچھ ہورہا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ میاں صاحب کی ڈھیل اور ڈیل نے ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو مذاق بنادیا ہے۔
عمران خان فرمایا کرتے تھے کہ وہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے۔ اُن کے اس فقرے کا مفہوم یہ نہیں تھا کہ وہ کسی کو این آر او دے سکتے ہیں، بلکہ عمران خان این آر او کی مذمت کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ سے یہ کہتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کسی کو این آر او نہ دے۔ مگر اب میاں نوازشریف ’’طبی این آر او‘‘ لے کر ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔ اس سے عمران خان کی اصل ’’اوقات‘‘ ایک بار پھر ظاہر ہوگئی ہے۔ کہنے کو عمران خان کہہ رہے ہیں کہ وہ میاں نوازشریف کی بیماری پر سیاست نہیں کرنا چاہتے، مگر یہ ایک ایسے آدمی کا فقرہ ہے جو کبھی کہا کرتا تھا کہ میں آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بجائے خودکشی کرنا پسند کروں گا۔ بعد میں عمران خان نے کہہ دیا کہ یوٹرن لینا تو بڑے لوگوں کا کام ہے۔ ملک سے میاں نوازشریف کی روانگی کا ایک مطلب یہ ہے کہ اس سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کے مؤقف کو تسلیم نہیں کیا۔ اس تناظر میں اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے تعلق کے بارے میں سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔ اس سلسلے میں صابر شاکر کے ایک کالم کی یہ چند سطریں اہم ہیں:۔
’’اہم بات یہ ہے کہ کافی عرصہ ہوا وزیراعظم اور آرمی چیف کی نہ تو کوئی خبر آئی اور نہ ہی تصویر جاری کی گئی ہے۔ یہ ملاقات جب بھی ہوگی، کافی اہم ہوگی۔ ایک فریق کا رویہ کافی محتاط ہوچکا ہے، کیوں کہ اب کوئی کسی دوسرے کا وزن اٹھانے کے لیے نہ تو تیار ہے اور نہ ہی ماحول۔ اپوزیشن نے پہلے مرحلے میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے، تحریک کے نتائج دھرنے کے نتائج کی نوید دے سکتے ہیں کہ ایمپائر کا موڈ تبدیل ہوا یا نہیں۔‘‘
(روزنامہ دنیا۔ 8 نومبر 2019ء)
تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان سے فاصلہ بڑھانا شروع کردیا ہے؟ اس بارے میں ابھی وثوق سے کچھ کہنا دشوار ہے۔ مگر میاں صاحب ملک سے باہر چلے گئے ہیں اور خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بڑے اعتماد سے کہا ہے کہ انتخابات ہوں گے اور جلد ہوں گے۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ جو کچھ جانتے ہیں حکومت نہیں جانتی۔ اسٹیبلشمنٹ اور شریفوں کے درمیان جو ڈیل ہوئی ہے خواجہ آصف اس کا اہم حصہ ہیں۔ چناں چہ اُن کا مذکورہ بالا بیان بے پَر کی اڑانے کے مترادف نہیں ہے۔ دال میں کہیں نہ کہیں کوئی ’’کالا‘‘ موجود ہے۔ مگر یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سیاست ہے، اس سیاست کا کوئی اصول اور ضابطہ تو ہے نہیں۔ چناں چہ ہمیں ابھی عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے باہمی تعلق کے بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔ ایک زمانہ تھا کہ ہم میاں نوازشریف کے بارے میں لکھا کرتے تھے کہ عام طور پر لوگ اپنے پائوں پر کلہاڑی مارتے ہیں، مگر میاں نوازشریف چوں کہ زیادہ ذہین ہیں اس لیے وہ پائوں پر کلہاڑی مارنے کے بجائے کلہاڑی پر پائوں مارتے ہیں۔ بدقسمتی سے عمران خان کا قصہ بھی یہی ہے۔ اس کا ٹھوس ثبوت یہ ہے کہ عمران خان اور ان کی حکومت کے خلاف جو ردعمل موجود ہے اس میں عمران خان اور ان کی حکومت کی کارکردگی کا کردار سب سے زیادہ ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ جس وقت عمران خان کرتارپور راہداری پر بھنگڑا ڈال رہے تھے ٹھیک اسی وقت بھارت کی سپریم کورٹ بابری مسجد کو ہندوئوں کی ملکیت میں دے رہی تھی، مگر عمران خان نے اپنی تقریر میں ایک بار بھی بابری مسجد کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کا ذکر نہیں کیا۔ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان بھارت کو ناراض نہیں کرنا چاہتے؟ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک جانب بھارت کشمیر کو ہڑپ کرچکا ہے اور کشمیریوں پر ظلم و ستم کی انتہا کیے ہوئے ہے، مگر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور سول حکومت کرتارپور، کرتارپور کیے چلی جارہی ہے۔ کرتارپور راہداری کی تقریب میں بھارتی اداکار سنی دیول بھی موجود تھا اور ہمارے ذرائع ابلاغ اُسے بار بار اسکرین پر دکھا رہے تھے۔ یہ وہی سنی دیول ہے جس نے اپنی ایک فلم میں یہ ڈائیلاگ بولا تھا کہ پاکستان اتنا چھوٹا سا ملک ہے کہ اگر سارے بھارتی اس کی طرف منہ کرکے پیشاب کردیں تو پاکستان پیشاب کے سیلاب میں ڈوب جائے۔ مگر بھارت اور سکھوں کے سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کی کشادہ نظری کا یہ عالم ہے کہ انہیں سنی دیول اور اینٹی پاکستان فلمیں بنانے والوں کی کوئی بات یاد نہیں۔ اس سلسلے کی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات استوار کرنے کے لیے پسِ پردہ مذاکرات ہورہے ہیں۔ روزنامہ جنگ نے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی اطلاع کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ملک اپنے ہائی کمشنرز سے کہنے والے ہیں کہ وہ اسلام آباد اور نئی دہلی میں چارج سنبھال لیں۔
(روزنامہ جنگ کراچی۔ 9 نومبر 2019ء)
آئیے ہم اس کالم کے آغاز میں اٹھائے گئے سوالات کو ایک بار پھر اٹھائیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا دشمن کون ہے؟ بھارت؟ امریکہ؟ یورپ؟ اسرائیل؟ بلاشبہ یہ تمام قوتیں پاکستان کی بڑی دشمن ہیں، مگر پاکستان کا سب سے بڑا دشمن پاکستان کا حکمران طبقہ ہے۔ اس طبقے کی سفاکی کا یہ عالم ہے کہ ایک جانب وہ کشمیریوں کے غم میں آنسو بہا رہا ہے، اور دوسری جانب وہ کشمیریوں کے گلے پر خنجر چلانے والے بھارت سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کے لیے اُس کے ساتھ خفیہ مذاکرات کررہا ہے۔ ایک جانب پاکستان کا حکمران طبقہ بابری مسجد کے سلسلے میں بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کی مذمت کررہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اس فیصلے نے بھارتی مسلمانوں کو دیوار سے لگا دیا ہے، اور دوسری جانب وہ بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کے لیے مذاکرات کررہا ہے۔ یہ زیادہ پرانی بات تو نہیں کہ عمران خان مودی کو عہدِ حاضر کا ہٹلر کہہ رہے تھے، مگر اب عمران خان ہٹلر کے نمائندوں کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کے لیے مذاکرات فرما رہے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار ہوگئی ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا دشمن پاکستان کا حکمران طبقہ ہے۔ قائداعظم نے ایک بار فرمایا تھا کہ اگر بھارت نے مسلم اقلیت کے ساتھ ظلم کیا تو پاکستان خاموش تماشائی نہیں بنا رہے گا بلکہ وہ بھارت میں مداخلت کرے گا۔ مگر پاکستان کا حکمران طبقہ اُن سکھوں کے عشق میں تو مرا جارہا ہے جنہوں نے قیام پاکستان کے وقت لاکھوں مسلمانوں کو قتل کیا اور ہزاروں مسلم خواتین کی عصمت دری کی، اور بھارت کے جن مسلمانوں نے پاکستان بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا ان کی طرف پاکستان کا حکمران طبقہ نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔ ہندوئوں اور سکھوں کے سلسلے میں اس حکمران طبقے کو ’’اسلام‘‘ اور اس کی ’’رواداری‘‘ یاد آتی ہے، مگر بھارت کے مظلوم مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے سلسلے میں انہیں قرآن کا یہ حکم نظر نہیں آتا کہ مظلوم مسلمانوں کو ظالموں کے ظلم سے نجات دلانے کے لیے ان کی مدد کرو۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کا حکمران طبقہ منافق بھی ہے اور اسلام اور پاکستان کا غدار بھی۔
مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے کے حوالے سے بنیادی سوال یہ ہے کہ اس کی پشت پر کون ہے؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جتنی بڑی تحریکیں چلی ہیں ان کی پشت پر اسٹیبلشمنٹ موجود تھی۔ اسی لیے ہم ان کالموں میں یہ عرض کرتے رہے ہیں کہ اگر اسٹیبلشمنٹ متحد ہے تو پھر مولانا کسی سول شخصیت کے لیے اسلام آباد آرہے ہیں۔ بصورتِ دیگر ان کا ہدف کوئی فوجی ہے۔ اصل صورتِ حال کیا ہے یہ تو کچھ عرصے بعد ہی دھرنے کے ’’حتمی نتائج‘‘ سے معلوم ہوسکے گا، البتہ ’’مارکیٹ‘‘ میں جو خبریں گردش کررہی ہیں اُن میں سے ایک خبر منصور آفاق نے روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں نقل کی ہے۔ منصور آفاق نے لکھا:
’’حکومت سے شریف خاندان کی کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔ جو ڈیل ہوئی ہے ’’وہ ایک عمر رسیدہ بڑے‘‘ سے ہوئی ہے۔ اسے کون روکے گا… اپوزیشن کو عمران خان کے بعد کسی سے تکلیف ہے تو (قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر) قاسم خان سوری سے ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ ان کے سلسلے میں وہ ’’عمر رسیدہ بزرگ‘‘ کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ انہی کی اجازت سے انہوں نے شہرِ اقتدار پر لشکر کشی کی‘‘۔
(روزنامہ جنگ۔ 10 نومبر 2019ء)
اگر مذکورہ اطلاع درست ہے تو مولانا کے دھرنے اور اس کے ممکنات اور مضمرات کا مفہوم بالکل عیاں ہے۔ یہ سامنے کی بات ہے کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر اقتدار میں نہیں آسکتے تھے۔ منصور آفاق کے کالم میں موجود اطلاع کو درست مان لیا جائے تو اب اسٹیبلشمنٹ ہی مولانا کے دھرنے کے ذریعے عمران خان کی حکومت کو گرانے یا کمزور کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ قومی نقطہ نظر سے نہ عمران خان کو اقتدار میں لانے کا کوئی جواز تھا، اور نہ اب عمران خان کو ایک سال میں کمزور کرنے کا کوئی جواز ہے۔ عمران خان کو اقتدار میں لانے کا جواز اس لیے نہیں تھا کہ عمران اور اُن کی جماعت کی اہلیت اور صلاحیت راز نہیں تھی۔ عمران خان کو ایک سال میں فارغ یا کمزور کرنے کا جواز اس لیے نہیں ہے کہ عمران خان کی برطرفی سے صرف ’’چہرہ‘‘ تبدیل ہوگا، ’’نظام‘‘ نہیں۔ ملک و قوم کی اصل ضرورت نظام کی تبدیلی ہے۔ چہروں کی تبدیلی کی سیاست ’’اینٹی پاکستان‘‘ سیاست ہے، خواہ یہ سیاست امریکہ کرے یا اسٹیبلشمنٹ کرے۔ پاکستان ایک بہت بڑے ’’Ideal‘‘ کو حقیقت بنانے کے لیے قائم کیا گیا تھا، مگر ہمارے جرنیل ہوں یا سیاست دان… انہیں پاکستان کے Ideal سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اقبال کا آئیڈیل شاہین ہے۔ چنانچہ پاکستان کے حکمران طبقے کو چاہیے تھا کہ وہ پاکستان کو شاہین تخلیق کرنے والا ملک بناتا، مگر پاکستان کے حکمران طبقے نے پاکستان کو گدھ تخلیق کرنے والا ملک بنادیا ہے۔ فوجی گدھ، سول گدھ، سیاسی گدھ، صحافتی گدھ، سیکولر گدھ، لبرل گدھ، مذہبی گدھ۔ پاکستان کے حکمران طبقے نے اس سے بھی بڑا ظلم یہ کیا ہے کہ وہ گِدھوں کو شاہین باور کرانے پر تُلا ہوئے ہیں۔ مگر قوم کو ابھی تک اقبال کی بات یاد ہے۔ اقبال نے کہا ہے:۔

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور

ہم نے ان سطور میں عرض کیا تھا کہ پاکستان کے حکمران طبقے نے ہماری زندگی کو کھل جا سم سم اور بند ہوجا سم سم کے مصداق بنادیا ہے۔ اس کا تازہ ترین ثبوت یہ ہے کہ میاں نواز شریف ڈھیل اور ڈیل کے سائے میں اب تک برطانیہ یا امریکہ پہنچ چکے ہوتے مگر حکومت کے سامنے ’’اچانک‘‘ یہ سوال آگیا کہ میاں صاحب باہر چلے گئے اور عدالت نے مقدمات میں میاں صاحب کو طلب کرلیا تو حکومت عدالت کو کیا جواب دے گی۔ چنانچہ میاں صاحب کی بیرون ملک روانگی تاخیر کا شکار ہوگئی۔ اس حوالے سے تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ حکومت نے میاں صاحب کو بیرون ملک جانے کی اجازت تو دے دی ہے مگر کہا ہے کہ میاں صاحب کو 7 ارب روپے زرضمانت کے طور پر ادا کرنے ہوں گے اور انہیں بتانا ہوگا کہ وہ بیرون ملک سے کب واپس آئیں گے، حکومت کا کہنا ہے کہ اگر میاں نواز شریف کو اس کی شرط منظور نہیں تو حکومت عدالت سے رجوع کرسکتی ہے۔ اس طرح عمران خان اور ان کی حکومت نے میاں صاحب کی بیرون ملک روانگی کا بوجھ شریف خاندان اور عدالت کے سر پرڈال دیا ہے۔ لیکن کہانی اتنی سی نہیں ہے۔ بعض حقائق سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ نواز شریف کے مسئلے پر اسٹیبلشمنٹ تقسیم ہوگئی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا ایک دھڑا میاں صاحب کی ڈیل اور ڈھیل اور ان کی بلارکاوٹ بیرون ملک جانے کا حامی ہے جبکہ دوسرا دھڑا عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوکر اس کی مزاحمت کررہا ہے۔ نواز لیگ کے رہنما اب تک عمران خان پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ عمران خان میاں نواز شریف کی بیماری پر سیاست کررہے ہیں مگر اب خود نواز لیگ میاں صاحب کی بیماری پر بھرپور سیاست کرتی نظر آرہی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ نواز لیگ نے بظاہر 7ارب روپے زرضمانت کے طور پر رکھنے سے انکار کردیا ہے۔ حالانکہ شریف خاندان کے لیے 7 ارب روپے مونگ پھلی کے دانے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ چنانچہ نواز لیگ کو چاہیے کہ وہ میاں صاحب کی بیماری کے پیش نظر پہلی فرصت میں 7 ارب روپے زرضمانت کے طور پر رکھے اور میاں صاحب کو برطانیہ یا امریکہ لے جائے مگر نواز لیگ اس سلسلے میں بحث و تکرار پر اتر آئی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ نواز لیگ کا اصل مسئلہ میاں صاحب کی بیماری یا ان کی صحت نہیں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے۔ یہ سامنے کی بات ہے کہ میاں صاحب سرکاری اسپتال سے شریف میڈیکل سٹی جانے کے بجائے سیدھے جاتی امرا پہنچے اس سلسلے میں نواز لیگ نے فرمایا کہ جاتی امرا کے ایک کمرے کو آئی سی یو بنادیا گیا ہے۔ اس سلسلے کی دو اہم ترین باتیں یہ ہیں کہ میاں صاحب جب سے جاتی امرا آئے ان کی صحت کے بارے میں نواز لیگ نے کوئی تشویش ناک اطلاع قوم کو مہیا نہیں کی مگر جیسے ہی حکومت نے میاں صاحب کی بیرون ملک روانگی کو مشروط کیا فوراً یہ اطلاع آگئی کہ میاں صاحب کی صحت ٹھیک نہیں اور انہیں شریف میڈیکل سٹی منتقل کرنے کے بارے میں غور کیا جارہا ہے۔ یہ میاں صاحب کی بیماری پہ سیاست نہیں تو اور کیا ہے؟
کھل جا سم سم کا تماشا صرف میاں صاحب اور مریم کی ضمانت اور رہائی کے سلسلے میں ہی برپا نہیں ہوا۔ مولانا فضل الرحمن کا دھرنا بھی پہلے دن سے کھل جا سمِ سم اور بند ہو جا سم سم کا منظر پیش کر رہا ہے۔ مولانا اور ان کی جماعت کے رہنما کہہ رہے تھے کے ہم عمران خان کا استعفیٰ لیے بغیر نہیں جائیں گے۔ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مفتی کفایت نے تو اس سلسلے میں ’’بھول نہ جانا پھر پپا نورس لے کر گھر آنا‘‘ کی طرز پر یہ اشتہاری فقرہ بھی تخلیق کر لیا تھا کہ بھول نہ جانا پھر پپا استعفیٰ لے کر گھر آنا۔ مگر مولانا فضل الرحمن نے عمران خان کا استعفیٰ لیے بغیر اچانک دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ وہ کسی بھی وقت آگے بڑھیں گے شہادتیں پیش کریں گے اور لاشیں اٹھائیں گے مگر مولانا اسلام آباد سے اٹھے تو صرف دھرنے کی لاش ان کے کاندھوں پر تھی۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا کے وہ رہبر کمیٹی اور دیگر جماعتوں کے مشورے سے دھرنا ختم کریں گے مگر دھرنے کے خاتمے کے سلسلے میں نہ کہیں رہبر کمیٹی نظر آئی نہ دوسری جماعتوں کی موجودگی کہیں محسوس ہوئی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو سکندر جب گیا دنیا سے دونوں ہاتھ خالی تھے کے مصداق مولانا جب گئے اسلام آباد سے تو ان کے دونوں ہاتھ خالی تھے کی صورت حال پیدا ہو گئی۔ بلاشبہ مولانا نے اب ایک دھرنے کے بجائے جگہ جگہ دھرنا دینے اور شاہراہیں بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اور دھرنے کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ مگر چونکہ مولانا اسلام آباد کے دھرنے سے شہرت کے سوا کچھ حاصل نہ کر سکے اس لیے ان کے مزید دھرنوں سے کچھ زیادہ توقع رکھنا مشکل ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مولانا نے اچانک دھرنا کیوں ختم کیا؟ کیا اس کا سبب یہ تو نہیں کہ اسٹیلشمنٹ کی جو شخصیت یا شخصیات مولانا کے دھرنے کی پشت پر تھیں وہ داخلی کشمکش کے نتیجے میں کمزور پڑ گئی ہیں۔ اصل صورت حال کیا ہے اس کے سلسلے میں ہمیں مزید انتظار کرنا ہو گا۔ تاہم مذکورہ بالا تمام واقعات سے یہ حقیقت مزید تلخ ہو کر سامنے آئی ہے کہ پاکستان کا حکمران طبقہ پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اسے پاکستان اور پاکستانی قوم اور اسے درپیش ہولناک مسائل کے حل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کے لیے اپنا ذاتی، گروہی اور اداراتی مفاد ہی سب کچھ ہے۔ کسی کے لیے ڈھیل اور ڈیل ہی سب کچھ ہے۔ کسی کے لیے دھرنا دلوانا اور دھرنا دینا ہی سب کچھ ہے۔

Share this: