ہفتہ یکجہتی کشمیر

Print Friendly, PDF & Email

پانچ اگست 2019ء کو بھارت میں بی جے پی کی فاشسٹ حکومت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی آئین کی دفعات 370 اور 35-A کو منسوخ کرنے کے اقدام کے بعد سے جموں و کشمیر کی مقبوضہ وادی ایک بڑی جیل کی صورتِ حال سے دوچار ہے، چھے ماہ سے زائد گزر چکے، 80 لاکھ سے زائد مسلمان آبادی تمام بنیادی سہولتوں اور انسانی حقوق سے محروم، محاصرے کی کیفیت میں ہے۔ دنیا کی تاریخ کا طویل ترین کرفیو تاحال جاری ہے۔ وادی کے عوام کی زندگی ظالم بھارتی فوج کے ہاتھوں اجیرن ہوچکی ہے۔ ضعیف العمری اور علالت کے باوجود جرأت و عزیمت کی علامت سید علی گیلانی سمیت پوری حریت قیادت نظربند ہے، حتیٰ کہ ماضی میں بھارت کی ہاں میں ہاں ملانے اور مقبوضہ کشمیر میں وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز رہنے والے فاروق عبداللہ اور ان کے بیٹے عمر عبداللہ، اور محبوبہ مفتی اور ان کی بیٹی التجا مفتی کو بھی نظربند کیا جاچکا ہے۔ یوں کشمیریوں کے لیے اُن کے اپنے ہی وطن کو فوجی سنگینوں کے سائے تلے عقوبت خانہ بنادیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر بھارت کے ظالمانہ اقدامات پر زبردست تنقید ہورہی ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ابھی گزشتہ ہفتے منعقد ہوا جس کی درخواست کونسل کے مستقل رکن چین کی جانب سے کی گئی تھی۔ اجلاس میں اقوام متحدہ سیکرٹریٹ نے کونسل کے ارکان کو مقبوضہ کشمیر کی ناگفتہ بہ صورتِ حال پر بریفنگ دی، اور اجلاس کے بعد چینی مندوب نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی کھل کر تائید و حمایت کی۔ یورپی پارلیمان میں بھی گزشتہ دنوں ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں بھارت کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اُس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر کا اپنے ساتھ الحاق کر رکھا ہے۔ قرارداد میں یورپی یونین کی رکن ریاستوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ امریکہ کی معاون نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے بھی حال ہی میں پاکستان اور بھارت کا دورہ کیا۔ واشنگٹن میں واپسی پر نیوز بریفنگ کے دوران دوسری باتوں کے علاوہ انہوں نے واضح الفاظ میں بھارت سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر کے تمام سیاسی رہنمائوں کو جنہیں بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھا گیا ہے، رہا کیا جائے اور ہمارے سفارت کاروں کو کشمیر تک مسلسل رسائی دی جائے۔ ترکی، ایران، ملائشیا اور دیگر بہت سے ممالک بھی بھارت کے ظالمانہ اقدامات کی کھل کر مذمت کر چکے ہیں، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور بین الاقوامی برقی اور ورقی ذرائع ابلاغ بھی بھارتی اقدامات اور فوج کے ظلم کی کھل کر مذمت کررہے ہیں۔
بین الاقوامی برادری، عالمی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کا یہ طرزِعمل جہاں ایک جانب حوصلہ افزا ہے، وہیں دوسری جانب اس کا انتہائی تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ عالمی برادری زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ رہی، عالمی ہلالِ احمر کشمیری مظلوموں کی مدد کے لیے پہنچی ہے نہ اقوام متحدہ کی امن فوج بھارتی فوج کے ظلم و ستم سے کشمیریوں کو نجات دلانے کے لیے خطے میں بھیجی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں، عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی کھلی خلاف ورزیوں کے باوجود بھارت پر کسی قسم کی پابندیاں آج تک عائد نہیں کی گئیں۔ عالمی سطح پر اس طرزِعمل کا ایک اہم سبب جہاں مختلف ملکوں کے مادی مفادات ہیں وہیں ایک بڑا سبب خود حکومتِ پاکستان کا رویہ ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کا عالمی سطح پر وکیل، مسئلے کا مسلمہ بنیادی فریق اور تنازعے کا اصل مدعی ہے، اور جب مدعی خود ہی سست ہو تو کسی دوسرے سے کیا گلہ کیا جائے! جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کے تمام تر واویلا کے باوجود حقیقت بہرحال یہی ہے کہ دنیا آج بھی ’’جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس‘‘ کے اصول پر کاربند ہے۔ ہماری بنیادی کمزوری یہی ہے کہ ہم ظالم کا سر کچلنے کے لیے لاٹھی اٹھانے کے بجائے لاتوں کے بھوت کو باتوں سے رام کرنے کے لیے کوشاں ہے، جو کوششِ رائیگاں کے سوا کچھ نہیں۔ اگر ہم واقعی مسئلے کو حل کرنے اور کشمیری بھائیوں کو بھارتی جبر سے آزاد کرانے میں سنجیدہ ہیں تو ہمیں کشتیاں جلا کر میدان میں اترنا ہوگا کہ:۔

فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

مسئلہ کشمیر کے اب تک زندہ رہنے کا سبب اور معاملے کا سب سے حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ ہر طرح کے ظلم و ستم اور جبر کے ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری مسلمانوں کا جذبۂ مزاحمت ختم نہیں کیا جا سکا، دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کشمیری عوام نے ابھی 25 جنوری کو بھارت کے ’یوم جمہوریہ‘ کو ’یوم سیاہ‘ کے طور پر مناکر ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ظلم کی سیاہ رات کے خاتمے تک اپنی جدوجہدِ آزادی جاری رکھیں گے۔ اطمینان کا پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں کی اس جدوجہد میں اُن کے شانہ بشانہ ہیں اور حکمرانوں کی تمام تر کمزوریوں کے باوجود پاکستانی قوم نے اپنے کشمیری بھائیوں کی پشتی بانی میں کبھی کمی نہیں آنے دی۔ اپنے انہی دلی جذبات کے اظہار کے لیے پاکستانی قوم ہر سال پانچ فروری کو ’’یومِ یکجہتی کشمیر‘‘ مناتی ہے، جماعت اسلامی کہ جس کا کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد سے دیرینہ قلبی تعلق ہے اور پانچ فروری کے یومِ یکجہتی کا آغاز بھی سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کی کوششوں کا ہی مرہونِ منت ہے، جماعت اسلامی نے ہر سال کی طرح اِس سال بھی اس دن کو پورے جوش و خروش سے منانے کے لیے 31 جنوری سے 5 فروری تک ہفتۂ یکجہتی کے مختلف پروگرام ترتیب دیئے ہیں۔ مقامِ شکر ہے کہ پاکستانی حکومت نے بھی امسال یہ دن منانے کے لیے خصوصی تیاریاں کی ہیں، اور وزیر خارجہ نے 25 جنوری سے 5 فروری تک قومی و بین الاقوامی سطح پر اس ضمن میں مختلف پروگرام منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا یہ عزم یقیناً خوش آئند ہے اور پوری پاکستانی قوم ان پروگراموں میں شریک ہوکر اپنے کشمیری بھائیوں کو اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلائے گی۔ عوام کی سطح پر یہ اظہارِ یکجہتی بلاشبہ قابلِ ستائش اور اپنے اندر اطمینان کا پہلو لیے ہوئے ہے، تاہم حکومت کی سطح پر محض اظہارِ یکجہتی سے مسئلے کے حل میں کسی پیش رفت کی توقع رکھنا عبث ہوگا۔ اس کے لیے ٹھوس عملی اقدام بہرحال ناگزیر ہے۔
(حامد ریاض ڈوگر)

Share this: