جسٹس فدا محمدخان

Print Friendly, PDF & Email

(1938ء ۔2019ء)

ضلع صوابی (سابق ضلع مردان)کے ایک گائوں ہمزہ ڈھیر میں اس علاقے کے ایک معزز اور اسلامی سوچ رکھنے والے خاندان میں 21 اکتوبر 1938ء کو ایک بچے نے آنکھ کھولی جس کا نام فدا محمد خان رکھا گیا۔ والدِ گرامی حضرت مولانا محمد ادریس خان کے دل میں یہ آرزو تھی کہ ان کا بیٹا آقائے دوجہاں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا پیروکار اور فداکار بن کر زندگی گزارے۔ ماں باپ کی یہ آرزو اللہ نے پوری کردی۔ فدا محمد خان مرحوم کو جاننے والے گواہی دیتے ہیں کہ وہ واقعی ایک مخلص امتی اور نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے وفادار تھے۔ مولانا محمد ادریس خان اپنا چھوٹا موٹا کاروبار بھی کرتے تھے اور پختون روایات کے مطابق گاؤں کے مکتبِ دینی میں تدریس کا فریضہ بھی ادا کرتے تھے۔ علاقے بھر میں ان کی بڑی عزت تھی۔ خاندان کو قریب سے جاننے والے دوستوں نے بتایا کہ جسٹس صاحب کے آبا و اجداد اپنے علمی اور روحانی کمال کی وجہ سے اہلِِ علاقہ کے لیے پیرومرشد کا مرتبہ رکھتے تھے۔
ایک ذہین اور سنجیدہ بچہ
مولانا محمد ادریس خان صاحب کا یہ بچہ اپنی ذہانت اور سنجیدگی کی وجہ سے گائوں اور خاندان کے بزرگوں سب کی نظروں میں بہت قابلِ قدر ہیرا تھا۔ تعلیم کے لیے مدرسہ اور اسکول دونوں جگہ جانا ہوتا، اور ہر جگہ اساتذہ کے دلوں میں اس بچے کی بڑی قدر تھی۔ ذہین اتنا کہ ہر کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرتا۔ سنجیدگی ایسی کہ ہر شخص بے ساختہ پیار کرنے لگتا۔ فدا محمد خان تعلیم کے مدارج طے کرتے ہوئے اسلامیہ کالج پشاور میں داخل ہوئے۔ یہاں سے اعلیٰ نمبروں کے ساتھ بی اے کیا اور اوّل آئے، گولڈ میڈل کے مستحق قرار پائے۔ پھر 1968ء میں ائیرفورس میں ملازمت اختیار کی۔ اپنی ذہانت اور محنت کے سبب اس دوران انھوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ ملازمت کے دوران وہ اسلامک لا میں پی ایچ ڈی بھی کرچکے تھے۔
اعلیٰ تعلیمی ریکارڈ
جسٹس فدامحمد خان نے جتنے بھی امتحان دیے، ہر ایک میں پوزیشن حاصل کی۔ بی اے میں پشاور یونیورسٹی سے گولڈ میڈل اور میرٹ اسکالرشپ کے حق دار قرار پائے۔ بی ایس سی (War Studies)کی ڈگر ی بھی پشاور یونیورسٹی سے امتیازی نمبروں کے ساتھ حاصل کی۔ تین مضامین میں ایم اے کیا۔ پہلا ایم اے اسلامیات میں، دوسرا ایم اے عربی میں، اور تیسرا ایم اے انگریزی زبان میں۔ ایم اے انگریزی میں پشاور یونیورسٹی میں اوّل آئے۔ اردو، پشتو اور فارسی کے علاوہ انگریزی اور عربی پر عبور حاصل تھا۔ اس کے ساتھ اپنے شوق سے یورپ کی اہم زبانوں میں سے جرمن زبان میں بھی ڈپلومہ کورس کا امتحان پاس کیا، جس کے نتیجے میں جرمن زبان بھی سمجھ سکتے تھے۔
ڈاکٹریٹ
جسٹس فدا محمد خان نے پی ایچ ڈی کا ارادہ کیا تو اس کے لیے بھی انھوں نے بہت اہم موضوع چنا۔ ’’اسلامی قانون اور قانون سازی‘‘ (Islamic Law & Juris prudence) ان کے مقالے کا عنوان تھا۔ اس مقالے کے موضوع کا حق ادا کیا۔ اہلِ علم اور موضوع کے ماہرین مرحوم کے اس کام پر اُن کی محنت وذہانت کے لیے رطب اللسان تھے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جسٹس صاحب نے زندگی بھر اعلیٰ مناصب پر ذمہ داریاں ادا کرنے کے باوجود خود کو طالب علم کے طور پر مصروفِ عمل رکھا۔ اس کے نتیجے میں انھوں نے ہر شعبۂ علم میں تخصص حاصل کیا۔ جسٹس صاحب نے قرآن و حدیث پر کتابیں بھی لکھیں جن کی اہلِ علم نے دل کھول کر تحسین کی۔ ان کی کتاب ’’مفہوم القرآن‘‘ اور ’’مفہوم الحدیث‘‘ جامعہ پشاور میں بی اے اور ایم اے کے نصاب کا حصہ ہیں۔ قرآن مجید کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی ان کی علمی کاوش کا مظہر ہے۔
فوج میں خدمات
صدرضیاء الحق کے دور میں جناب فدا محمد خان صاحب کو ایک بہت اہم ذمہ داری سونپی گئی، اور وہ یہ تھی کہ فوج کے اندر ائمہ اور خطبا کے تقرر کے بارے میں مکمل ضابطے اور قواعد تیار کیے جائیں۔ اس سے قبل ائمہ وخطبا کے لیے کوئی خاص ضوابط یا ان کے رینک کا تصور نہیں تھا۔ اس موضوع پر نئے سرے سے رولز اور ریگولیشن تیار کرنے کا کام خاصا اہم اور مشکل تھا۔ فدا محمد خان صاحب نے یہ کام پوری محنت اور دانش سے مکمل کیا۔ امام کا رینک پہلی بار صوبیدار کے برابر تجویز کیا گیا جسے تسلیم کرلیا گیا۔ مرحوم نے اپنے اس شعبے میں اس قدر محنت سے کام کیا کہ ائمہ وخطبا کا تقرر مکمل طور پر اہلیت کی بنیاد پر ہونے لگا، جو امیدوار مطلوبہ اہلیت پر پورا نہ اترتا اُس کی سفارش کوئی بڑے سے بڑا آدمی بھی کرتا تو نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ دھیمے انداز میں مگر مضبوط مؤقف اپناتے ہوئے معذرت کرلیتے۔ فرماتے کہ اگر ایک دینی ذمہ داری کے لیے ہم اہلیت کے اصول کو پامال اور مجروح کریں گے تو دنیا وآخرت میں ہمارا کیا انجام ہوگا۔ کتنی معقول دلیل ہے۔
شریعت کورٹ میں
اگست 1988ء میں صدر ضیاء الحق طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہوگئے اور غلام اسحاق خان صاحب صدر مقرر ہوئے۔ 20سال ائیرفورس میں ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد 1988ء کے اواخر میں صدر غلام اسحاق خان مرحوم نے فدا محمد خان صاحب کو شریعت کورٹ کا جج مقرر کردیا۔ انھوں نے اپنی اس ذمہ داری کے دوران شریعت کورٹ کے جج کے علاوہ اس عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر بھی کام کیا۔ سپریم کورٹ میں جب شریعت بینچ قائم ہوا تو اس میں بھی کچھ عرصے کے لیے بطور جج خدمات سرانجام دیں۔ سپریم کورٹ میں شریعت بینچ کے قیام کے لیے انھوں نے دیگر ججوں اور اہلِ علم کے ساتھ مل کر کافی علمی اور قابلِ عمل تجاویز مرتب کیں۔ جسٹس صاحب کو ہمیشہ یہ ملال رہا کہ تجاویز اور عدالتوں کے فیصلے تو اطمینان بخش ہوتے ہیں، مگر ان پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ یا تو وہ سرد خانے اور سرخ فیتے کا شکار ہوجاتے ہیں، یا ان کے خلاف خود سرکار اور سودی نظام کے علَم بردار عناصر قانونی جنگ چھیڑ دیتے ہیں، جس کا اختتام ممکن نہیں ہوتا۔
نازک موضوعات پر شرعی فیصلے
شریعت کورٹ کے جج کی حیثیت سے جسٹس صاحب نے بہت اہم اور تاریخی فیصلے کیے۔ یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ قانونی و علمی حلقوں میں ہمیشہ زیربحث رہا ہے۔ اس پر انھوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں بہت اہم فیصلہ لکھا۔ اسی طرح سود، تعدد ازواج، قوانینِ قصاص وحدود، اور عورت کی گواہی ایسے موضوعات ہیں جن پر تجدد کے حامی اور بالخصوص مغربی تہذیب سے مرعوب عناصر قرآنی احکام کے خلاف بہت کچھ لکھتے اور بولتے ہیں۔ ان تمام امور پر قرآن و حدیث میں بغیر کسی اشتباہ والتباس کے واضح احکام دیے گئے ہیں۔ اگر آج کا مغرب قصاص، سود، تعدد ازواج، عورت کی گواہی اور یتیم پوتے کی وراثت کے حوالے سے اپنا نقطۂ نظر رکھتا ہے تو انھیں اس بات کا حق ہے، کیونکہ وہ قرآن وسنت کو ماننے والے نہیں ہیں۔ البتہ جو لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں، ان کی طرف سے واضح احکامِ قرآن وسنت کے خلاف مؤقف اختیار کرنا بلکہ اس غلط اور صریح طور پر غیر اسلامی مؤقف کے نفاذ کے لیے پوری قوت کے ساتھ تحریکیں چلانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ جس طرح گزشتہ صدی کے عالمی شہرت یافتہ اسکالرز سید قطبؒ، مفتی محمد شفیعؒ، شبیر احمد عثمانیؒ، محمدالغزالیؒ، سید مودودیؒ اور دیگر علمائے حق نے ان تمام موضوعات پر کسی ذہنی مرعوبیت اور تحفظات کے بغیر قرآن وسنت کے احکام کو دوٹوک انداز میں بیان کیا ہے، جسٹس فدا محمدخان نے بھی اپنے فیصلوں میں یہی طریقِ کار اختیار کیا ہے۔
حکیمانہ انداز
ہر فیلڈ اور پیشے میں لوگوں کی آرا میں اختلاف فطری امر ہے۔ جسٹس صاحب کو بھی زندگی بھر اس صورتِ حال کا سامنا رہا۔ ان کے ہم پیشہ فاضل ججوں میں سے کئی ایک اُن سے اختلاف کا اظہار کرتے تھے، مگر انھوں نے کبھی کسی سے تلخ انداز میں بات نہیں کی، البتہ اپنے مؤقف پر دلائل کی روشنی میں پوری مضبوطی اور عزم وایمان کے ساتھ قائم رہے۔ ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی بار عاصمہ جہانگیر اور ان کے ہم نوا خواتین و مرد وکلا اور مہم جُو حضرات جسٹس صاحب کے فیصلوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے شریعت کورٹ جاتے۔ جسٹس صاحب بڑی حکمت اور تدبر کے ساتھ اُن کے اشتعال کو ٹھنڈا کرتے، ان کے مخالفانہ نعروں کے باوجود بڑے پن کے ساتھ انھیں اپنے چیمبر میں بلاتے، اُن کے خیالات جاننے کے باوجود اُن کی پوری طرح تکریم کرتے اور اپنے مؤقف پر دلائل دے کر انھیں لاجواب کردیتے۔ جسٹس صاحب کو جاننے والے اس بات کے گواہ ہیں کہ کسی بھی سرکاری یا نجی معاملے میں انھوں نے کبھی کسی کی دل آزاری نہیں کی۔ اپنی بات اور سوچ کی آبیاری کرتے رہے، مگر اللہ تعالیٰ نے ایسا حسنِ اخلاق عطا فرمایا تھا کہ مخالفت کرنے والے بھی حیران رہ جاتے۔
اپنائیت ومانوسیت
جسٹس فدا محمد صاحب سے پہلی ملاقات قاضی حسین احمد مرحوم کے ساتھ اس صدی کے آغاز میں اُس وقت ہوئی جب قاضی صاحب 2002ء کے انتخاباتِ عام میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ اسلام آباد میں کسی تقریب میں قاضی صاحب نے مجھ سے جسٹس فدا محمد خان صاحب کا تعارف کرایا۔ میں نے اُن کا نام پہلے سے سن رکھا تھا، مگر ملاقات کا اعزاز پہلی بار حاصل ہوا۔ جسٹس صاحب نے بڑی اپنائیت کے ساتھ فرمایا کہ میں آپ کو جانتا ہوں اور آپ کی تحریریں بھی نظر سے گزرتی رہتی ہیں۔ مجھے مرحوم کی اس بات سے بڑی خوشی ہوئی۔ اس کے بعد بارہا جسٹس صاحب سے مختصر ملاقاتیں اور کبھی اسلام آباد میں کسی شادی کے موقع پر طویل نشستیں بھی ہوتی رہیں۔ ان نشستوں میں ہمیشہ علمی وقانونی موضوعات پر جسٹس صاحب سے استفادے کا موقع ملتا رہا۔ کئی مشترکہ دوستوں کے گھروں پر ضیافت کے موقع پر بھی طویل نشست ہوجایا کرتی تھی۔
عظمتِ کردار
جسٹس صاحب کا معمول تھا کہ اپنے حلقۂ احباب وتعارف میں جو بھی اُن کو کسی خوشی کے موقع پر دعوت دیتا یا غم کے موقع کی اطلاع ملتی تو ضرور اس خوشی اور غم میں شریک ہوتے۔ غریب لوگوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر سادہ کھانا کھاتے اور انھیں پوری طرح اپنائیت کا احساس دلاتے۔ کئی مواقع پر کسی شادی کی دعوت میں دور دراز پہاڑی علاقوں میں جانا ہوتا تو اپنے فیملی ارکان کے ساتھ جیپ میں مشکل راستوں سے سفر طے کرتے۔ ان کے میزبان ایسے مواقع پر فخر سے پھولے نہ سماتے کہ اتنی عظیم شخصیت پُرمشقت سفر کرکے ان کی خوشی کو دوبالا کرنے میں شریک ہوئی ہے۔ یہ ایسی خوبیاں ہیں جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہیں۔ جسٹس صاحب کہا کرتے تھے کہ بڑے لوگوں کی خوشیوں میں تو سبھی شریک ہوتے ہیں، اُن لوگوں کی خوشیوں میں شریک ہونا ضروری ہوتا ہے جن کو معاشرہ زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ بلاشبہ مرحوم کے کردار میں یہ بڑی عظمت کی بات ہے۔ جسٹس صاحب کو جاننے والے تمام لوگ گواہ ہیں کہ ان کے ظاہر و باطن میں مکمل یکسانیت تھی۔ ایسے لوگ اللہ کے ولی ہوتے ہیں۔
اللہ کے گھر کی تعمیر
ایک بار ہم دونوں کے مشترکہ دوست مرزا محمد خالد صاحب کے ہاں جسٹس صاحب سے ملاقات ہوئی۔ یہ معلوم کرکے بڑی خوشی ہوئی کہ جسٹس صاحب جب اسلام آباد میں ہوں تو نماز جمعہ باقاعدگی سے مسجد عمار بن یاسر میں پڑھاتے ہیں۔ نمازی ان کا خطاب سننے کے لیے سراپا شوق ہوتے ہیں۔ اسی دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجد عمار بن یاسر کی تعمیر جسٹس صاحب ہی کی کاوشوں اور مساعیِ جمیلہ کے نتیجے میں ممکن ہوسکی۔ مرزا خالد صاحب کے بقول مسجد کی جگہ تو متعین تھی، مگر فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے وہاں پر خیمہ لگا کر پانچوں نمازیں باجماعت پڑھنے کا اہتمام کیا گیا۔ اس مسجد سے بالکل ملحق جماعت اسلامی کے دو ارکان محمد دین شاہد صاحب اور مرزا محمدخالد صاحب کے گھر ہیں۔ اس خیمہ مسجد کے اندر ایک روز جسٹس صاحب تشریف لائے۔ مرزا محمد خالد صاحب نے ان کا استقبال کیا، باہمی تعارف ہوا تو جسٹس صاحب نے بتایا کہ انھیں قاضی حسین احمد صاحب نے کہا ہے کہ خیمہ مسجد کو پختہ مسجد میں تبدیل کرنے کے لیے مقامی دوستوں کی طرف دستِ تعاون بڑھائیں۔
جامع مسجد، مرکزِ اسلامی
مرزا صاحب اور دیگر احباب خود بھی اس کام کے لیے پہلے سے سرگرم عمل تھے۔ اب جسٹس صاحب کی صورت میں ایک مؤثر شخصیت کا تعاون ایک عظیم نعمت ثابت ہوا۔ چنانچہ حضرت عمار بن یاسرؓ کے نام سے وہ مسجد جو آج تحریکِ اسلامی کا مرکز اور مختلف جماعتی و تحریکی تنظیموں کی تربیت گاہوں کے لیے ایک محفوظ اور آرام دہ جگہ ہے، جسٹس صاحب کی عملی مدد سے بہت تھوڑے عرصے میں پایۂ تکمیل کو پہنچ گئی۔ تہ خانے میں تربیت گاہوں کے دوران شرکا رہائش بھی اختیار کرسکتے ہیں اور تربیتی خطابات ولیکچر بھی منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ اس مسجد میں جب بھی کبھی فجر کی نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے تو امام مسجد قاری خلیل احمدچترالی صاحب ہمیشہ راقم الحروف سے نماز پڑھانے کا تقاضا بلکہ اصرار کرتے ہیں۔ نماز کے بعد درسِ قرآن یا درسِ حدیث بھی لازمی ہوتا ہے۔ اس مسجد میں پُرسکون ماحول دیکھ کر جہاں نمازوں میں طمانیت محسوس ہوتی ہے وہیں جسٹس صاحب بھی یاد آتے ہیں جو انتہائی بحرانی اور اشتعال انگیز مجالس کے اندر بھی اپنی شیریں کلامی سے سکینت کا ماحول پیدا کردیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس عظیم مردِ مومن کے درجات بلند فرمائے اور ان کی جملہ دینی خدمات کو ان کے حق میں صدقۂ جاریہ بنادے۔
ایک مؤثر مدرس
جسٹس صاحب بہت اچھے مدرس تھے۔ قرآن وحدیث پر گہری نظر تھی، امہات کتب کا مطالعہ مسلسل جاری رکھتے تھے۔ جب درس دیتے تو عام سامعین کے فہم و سمجھ کے مطابق آسان الفاظ میں ہر مشکل عقدہ کی تشریح کرتے، تاکہ ہر شخص بات کو پوری طرح سمجھ سکے۔ جسٹس صاحب اعلیٰ علمی استعداد کے حامل لوگوں کے سامنے کبھی درس یا لیکچر دیتے تو ان کی علمی سطح کو ملحوظ رکھتے۔ سوالوں کے جواب دیتے ہوئے ہر چیز پر علمی انداز میں رہنمائی فرماتے۔ کئی مرتبہ کوئی تیکھا سوال آجاتا تو اس کا جواب بھی مسکراہٹ اور شیرینی کے ساتھ دیتے۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک خاموش مبلغ اور داعی تھے، جن کا پیشہ ورانہ شعبہ عدلیہ اور دیگر سرکاری ادارے رہے۔
نایاب ذخیرۂ کتب
جسٹس صاحب نے اپنی گھر میں ایک بہت عظیم الشان لائبریری قائم کررکھی تھی۔ اس لائبریری میں ہزاروں کتابیں ہر موضوع اور ہر زبان میں موجود ہیں۔ کئی نایاب کتب کے مخطوطات بھی انھوں نے سنبھال کے رکھے ہوئے تھے۔ قرآن مجید کے مختلف کتابت کے مطبوعہ اور قلمی نسخے بھی ان کے ذوقِ سلیم کی علامت ہیں۔ یہ ذخیرۂ کتب و مخطوطات اہلِ علم کے لیے ایک ریفرنس لائبریری کا درجہ رکھتا ہے۔ ہمارے اہلِ علم اور ذوقِ سلیم کی مالک شخصیات کا المیہ یہ رہا ہے کہ ان کے بعد ان کے خاندان میں شاذونادر ہی کوئی ان کے علمی ذخیرے سے استفادہ کرپاتا ہے۔ ایسی کتب یقیناً ان لائبریریوں کے اندر زیادہ نفع بخش ہوتی ہیں جہاں تشنگانِ علم آتے اور اپنی علمی پیاس بجھاتے ہیں۔ جسٹس صاحب کے منہ بولے بیٹے اور شاگرد جناب قاضی خطیب صاحب کے بقول مرحوم کی جمع کردہ ان کتابوں میں انگریزی، فارسی، اردو، عربی، ہندی، پشتو، سندھی، بلوچی اور لاطینی زبانوں کی کتب شامل ہیں۔
اکلوتے بھائی کی جدائی کا غم
جسٹس صاحب کے ایک ہی بھائی تھے جو ان سے چند سال چھوٹے تھے۔ دونوں بھائیوں کو اللہ نے حسنِ خلق کی دولت سے مالامال کیا تھا۔ دوسرے بھائی پروفیسر حسین احمد سے جن لوگوں کا تعارف تھا، وہ گواہی دیتے ہیں کہ وہ بھی بڑے خوش اخلاق اور ملنسار آدمی تھے۔ دونوں بھائیوں میں باہمی محبت کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ جسٹس صاحب کے بھائی ان سے چھوٹے تھے، مگر ان سے جب بھی ملتے پورے احترام کے ساتھ ملتے۔ مارچ2019ء میں پروفیسر حسین احمد صاحب کی اسلام آباد میں وفات ہوئی۔ دونوں بھائیوں نے کئی سال قبل اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہیں تعمیر کرلی تھیں۔ بھائی کی وفات کے موقع پر جسٹس صاحب بہت ہی دل برداشتہ اور غمگین تھے۔ اپنے دوستوں سے کہنے لگے ’’میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مختلف دوستوں کا ایک اچھا حلقہ میرے ساتھ ہے، مگر مجھے بھائی کی کمی اور خلا پُر ہوتا نظر نہیں آتا‘‘۔ پنجابی اور عربی میں مختلف شعرا نے اپنے اپنے انداز میں بھائیوں سے محرومی کا نقشہ کھینچا ہے۔ بھائی کی جدائی کو بازو ٹوٹ جانے اور پشت ننگی ہوجانے سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس میں بڑا وزن ہے۔
داعیِ حق کا جنازہ
اسلامی سوچ اور قرآن وسنت پر گہری نظر ہونے کے حوالے سے جسٹس صاحب قانونی وعدالتی حلقوں کے اندر ایک نہایت ثقہ اور قابلِ اعتبار شخصیت کے مالک تھے۔ بھائی کی وفات پر ان کے دوستوں نے انھیں صبرواستقامت کی دعائیں دیں تو فرمانے لگے کہ ’’اللہ کا شکر ہے کہ میں نے صبر کیا ہے، مگر غم تو فطری بات ہے۔ کیا معلوم کس لمحے میں اپنے بھائی جاملوں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مقرب بندوں میں جگہ عطا فرمائے‘‘۔ جسٹس صاحب کی رائے یا تمنا کے مطابق وہ اپنے بھائی کی رحلت کے کچھ مہینے بعد 5 دسمبر2019ء کو اسلام آباد میں عالم فانی سے کوچ کرگئے۔ اگلے دن 6دسمبر کو اسلام آباد میں ان کے احباب کی بڑی تعداد ان کے جنازے میں شریک ہوئی۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق صاحب نے مرحوم داعیِ حق کی نماز جنازہ پڑھائی اور ان کی خوبیوں کا نہایت جامع انداز میں تذکرہ کیا۔
پسماندگان
جسٹس صاحب نے اپنے پیچھے بیوہ کے علاوہ دو بیٹے اور چار بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔ بڑی بیٹی کلثوم کے سوا سب بچے شادی شدہ، نہایت سلجھے ہوئے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ کلثوم کی شادی اس وجہ سے نہ ہوسکی کہ وہ بچپن ہی سے شوگر کی مریضہ ہیں۔ کلثوم نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور اس کے بعد اپنے ذاتی مطالعے سے اپنے ذہنی وعلمی افق کو وسیع کرتی رہیں۔ ماشاء اللہ جسٹس صاحب کا اپنی بیٹی کلثوم کے ساتھ سب سے زیادہ محبت کا تعلق تھا۔ یہ بیٹی اپنے والدین کے گھر والد صاحب کی آنکھوں کی بھی ٹھنڈک تھی اور اب اپنی والدہ کے ساتھ بھی ہر وقت موجود رہتی ہیں۔ والدہ ان کی موجودگی سے قلبی اطمینان محسوس کرتی ہیں۔ اللہ جسٹس صاحب کی اس بیٹی اور اس کی والدہ محترمہ کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔
دوسری بیٹی فاطمہ ایجوکیشن مینجمنٹ میں ماسٹر کی ڈگری ہولڈر ہونے کے علاوہ ایم ایس سی ڈویلپمنٹ اسٹڈیز اور ایم اے اسلامیات ہے۔ تیسری بیٹی زینب نے اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ ان کا ذوق بھی اپنے مرحوم والد کی طرح بہت قابلِ تحسین ہے۔ عزیزہ کا مقالہ ’’قرآن اور تفسیر قرآن‘‘ کے موضوع پر تھا۔ چوتھے نمبر پر بیٹا عمرفاروق ہے جس نے ایم بی اے کیا ہے اور ماربل بزنس سے وابستہ ہے۔ دوسرا بیٹا علی حیدر آئی ٹی کے شعبے سے فارغ التحصیل ہے۔ عملی زندگی میں اسی فیلڈ سے وابستہ اور ایک موبائل کمپنی میں ملازم ہے۔ سب سے چھوٹی بیٹی مریم نے ایل ایل ایم کی تعلیم حاصل کی ہے۔
عدل وانصاف اور میرٹ
جسٹس صاحب کی وفات کے چند دن بعد ان کے گھر اسلام آباد میں تعزیت کے لیے حاضری دی تو عزیزم عمر فاروق اور جناب قاضی خطیب صاحب سے ملاقات ہوئی۔ قاضی خطیب صاحب کا تعلق مانسہرہ کے ایک علمی گھرانے سے ہے۔ ان سے ٹیلی فون پر رابطہ رہتا ہے۔ جسٹس صاحب نے ان کو اپنا بیٹا بنا رکھا تھا۔ اپنے حقیقی بچوں کی طرح ان سے محبت بھی کرتے اور ہر خاندانی معاملے میں ان سے مشورہ بھی کرلیتے۔ اس موقع پر مرحوم کے بیٹے عمر فاروق اور منہ بولے بیٹے قاضی خطیب صاحب نے جسٹس صاحب کی زندگی کے کئی واقعات سنائے، جن سے ان کی عظمت کا سکہ دل میں مزید گہرا ہوا۔ عمر فاروق کا اندازِ تکلم بہت حد تک اپنے والد مرحوم سے ملتا جلتا ہے۔ چہرے سے بھی ویسی ہی شرافت ٹپکتی ہے جیسی جسٹس صاحب کے چہرے پر ہم ہمیشہ دیکھا کرتے تھے۔
بااصول انسان
اسی روز گفتگو کے دوران عزیزم عمر فاروق نے بتایا کہ کئی مرتبہ کسی تعلیمی ادارے میں خاص شعبے کے اندر داخلے کے خواہش مند ان کے بچے اور بچیاں چند نمبروں سے مطلوبہ میرٹ سے پیچھے رہ جاتے۔ ایسے موقع پر والد صاحب سے درخواست کرتے کہ وہ ادارے کے ذمہ داران سے جو ان کے بہت عقیدت مند ہیں، بات کریں۔ یہ سن کر جسٹس صاحب نہایت دوٹوک، مگر پیار بھرے انداز میں فرما دیتے کہ بچو! میں اگر سفارش کرکے اپنے بچوں کو داخلہ دلاؤں گا تو عدل وانصاف کا دعویٰ کہاں چلا جائے گا؟ جہاں اور جس شعبے میں میرٹ پر داخلہ ملتا ہے وہیں داخلہ لے لو۔ اللہ تعالیٰ اس میں برکت دے گا۔
غریب پرور
مرزا خالد صاحب نے اس موقع پر اپنے ذاتی تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس صاحب ضرورت مندوں کی حاجتیں پوری کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم عمل رہتے۔ موصوف کے بقول بے شمار ایسے کیس ذاتی طور پر ان کے علم میں ہیں جب جسٹس صاحب نے کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کی اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ لین دین کے معاملے میں انتہائی کھرے اور پائی پائی کا حساب کرنے والے مردِ مومن تھے۔ اگر کبھی کوئی قریب ترین دوست بھی کسی کیس کے بارے میں کچھ کہتے تو فرماتے کہ آپ کہیں یا نہ کہیں میں ان شاء اللہ اپنی سمجھ کے مطابق فیصلہ پورے عدل وانصاف کو ملحوظ رکھتے ہوئے صادر کروں گا۔
اعزازی خدمات
جسٹس صاحب انتہائی مصروف پیشہ ورانہ زندگی کے باوجود اتنے تعلیمی وفلاحی اداروں میں خدمات سرانجام دیتے تھے کہ ان کی مصروفیات کو دیکھ کر بڑی حیرت ہوتی ہے۔ ذرا ملاحظہ فرمائیے: (1) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے شریعہ بورڈ کے چیئرمین تھے۔ (2) اس کے ساتھ ادارہ معارف اسلامی لاہور میں کئی سال علمی خدمات سرانجام دینے والے عالمِ دین جناب سید شبیراحمدؒ کی شروع کردہ ’’قرآن آسان تحریک‘‘ کے صدر بھی تھے۔ (3) انجمن انسداد نابینا پن (Prevention of Blindness Society) کے سرپرست اعلیٰ تھے۔ (4) انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی اسلام آباد کے ممبر بورڈ آف گورنرز کی ذمہ داری بھی ادا کررہے تھے۔ (5)اسلامک یونی ورسٹی اسلام آباد کی دعوہ اکیڈمی کونسل کے ممبر بھی تھے۔ (6) ممبر کونسل آف اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، اسلام آباد۔ (7)ممبرکونسل آف شریعہ اکیڈمی، انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی اسلام آباد۔ (8) ممبر کونسل آف انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اکنامکس، اسلامک یونی ورسٹی اسلام آباد۔
ہرلمحہ مصروفِ عمل
اس کے ساتھ مرحوم اپنی وفات تک (9) ممبرایڈوائزری بورڈ ورلڈ جیورسٹس کونسل۔(10) ممبر سنڈی کیٹ(Syndicate)، ایم آئی یونی ورسٹی آف آزاد کشمیر۔ (11) ممبرریسرچ فنڈ سپروائزری کمیٹی اسلامک یونی ورسٹی اسلام آباد۔ (12) ممبر سلیکشن بورڈ اسلامک یونی ورسٹی اسلام آباد کے اندر سرگرم عمل رہے۔ ان کے علاوہ بے شمار علمی وتحقیقی اور دستوری اداروں میں سابق ممبر کے طور پر ان کا نام ان کی ذاتی وعلمی خدمات کی فہرست میں شامل ہے۔

Share this: