بادشاہی میں فقیری

اسلام نے امیری اور فقیری، دنیا اور دیں کا حسین امتزاج پیش کیا تھا۔ اسلام کے خلفائے اربع طاقت و قوت میں کسی بادشاہ اور حکمراں سے کم نہیں تھے، اور دین داری و درویشی میں کسی راہبِ گوشہ نشیں سے کم نہیں تھے۔ حکومت پر پہنچ کر انہوں نے دین داری اور فقیری کا مظاہرہ کیا۔ ایمان داری، اخلاص، تقویٰ، عبادت، دیانت و استغنا کا مظاہرہ کیا۔ بعد میں بھی کتنے ہی ایسے بادشاہ ہوئے ہیں جن کی زندگیوں میں فقیری اور بے نیازی کی جھلک پوری طرح جلوہ گر تھی۔
خلیفہ کی حیثیت ایک عام آدمی سے زیادہ نہیں تھی۔ وہ خدا کی مخلوق کے سامنے جواب دہ تھے۔ حکومت تنقید سے بالاتر نہیں تھی۔ عام آدمی ان کو منہ پر ٹوک دیتا تھا۔ آخری دور کا واقعہ ہے، احمد شاہ ابدالی نے ایک مرتبہ عید کی نماز مسجد وزیر خان لاہور میں پڑھی۔ نماز کے بعد خطبے میں مولوی محمد رمضان نے بادشاہ کے حق میں نصرت و تائید کی دعا مانگی۔ اس کو خلیفہ عادل کہا۔ سامنے مولانا محمد رمضان کے استاد مولانا محمد شہریار بھی بیٹھے تھے، وہ اٹھ کھڑے ہوئے، انہوں نے کہا: تجھ کو شرم نہیں آتی، کل قیامت کے روز خدا کو کیا منہ دکھائے گا، تُو اس شخص کو عادل قرار دے رہا ہے، جس کی وجہ سے لاہور سے لے کر دہلی تک سیکڑوں خاندان تباہ ہوگئے، عورتیں بیوہ ہوگئیں، بچے یتیم ہوگئے، علاقے تباہ ہوگئے۔ اس جملے کی زد براہِ راست احمد شاہ ابدالی پر پڑتی تھی۔ وہ اٹھ کھڑا، اس نے کہاکہ آپ کو معلوم ہے کہ میں کون ہوں؟ مولانا نے جواب دیا کہ ہاں آپ احمد شاہ ہیں۔ اُس نے کہاکہ اس گستاخی کی کیا سزا ہوسکتی ہے؟ مولانا نے کہا: میں نے بچپن میں چار باتوں کی تمنا کی تھی: حفظِ قرآن، علوم دین کی تحصیل، حجِ بیت اللہ… سو الحمدللہ یہ تینوں سعادتیں حاصل کرچکا۔ اب آخری تمنا باقی ہے، وہ ہے شہادت فی سبیل اللہ، شاید آج اس کا دن آگیا ہے۔ احمد شاہ سن کر دم بہ خود رہ گیا۔ اس قسم کی حق گوئی کے واقعات تاریخ کے اوراق میں کثرت سے محفوظ ہیں۔ جس طرح بادشاہ ہوکر فقیری اختیار کرنے کے واقعات صرف مسلمان معاشرے میں مل سکتے ہیں، اسی طرح منہ پر حق بات کہنے کے واقعات بھی اسلامی معاشرے میں ہی مل سکتے ہیں۔

کلیسا کی بنیاد رہبانیت تھی
سماتی کہاں اس فقیری میں میری
یہ اعجاز ہے ایک صحرا نشیں کا
بشیری ہے آئینہ دار نذیری

(اقبال)
(عصرِ جدید کا نکتہ ٔآغاز، بعثت ِنبوی/ششماہی السیرۃ34) )رمضان المبارک1436ھ)

بیادِ مجلس اقبال

جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے
مرا عشق، میری نظر بخش دے

یہ شعر امت کے نوجوانوں کے لیے خصوصی دعا بیان کرتا ہے کہ ’’اے اللہ، جس درد سے میرے قلب و جگر کو تُو نے بھر دیا ہے، یہ جذبہ، شوق اور حرارت ان نوجوانوں کے سینوں میں بھی بھردے، عشق کی جس تپش سے مجھے نوازا ہے اور میری نگاہوں میں جو ایمانی بصیرت بھری ہے، ان نوجوانوں کو بھی منتقل کردے۔ امت کے یہ نوجوان ہی تو ہماری امیدوں کا مرکز ہیں، اس لیے انھیں جذبوں اور فکر و عمل کی دولت سے مالا مال فرمادے‘‘۔