افغانستان: ایک اور عالمی استعمار کی شکست

Print Friendly, PDF & Email

افغانستان واحد ملک ہے جہاں دنیا کی 3 عالمی قوتوں کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ 1842ء میں برطانیہ اپنے پٹھو شاہ شجاع کو کوئٹہ سے قندھار لے گیا، پھر کابل پر قبضہ کرلیا اور شاہ شجاع کو بادشاہ بنادیا، جو تھوڑے عرصے بعد قتل کردیا گیا۔ اس کے بعد برطانیہ اپنے ہم نوائوں کو تخت پر بٹھاتا رہا۔ کچھ مدت بعد امان اللہ خان کے ہاتھوں پشاور کے قریب برطانیہ کو شکست ہوئی اور امان اللہ خان کو افغانستان کا بادشاہ تسلیم کرلیا گیا۔ یہ دور ظاہر شاہ کے دورۂ اٹلی کے بعد ختم ہوگیا، اور سردار دائود نے شاہ کا تختہ الٹ دیا اور اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد کمیونسٹوں نے تختہ الٹا اور قبضہ کرلیا۔ نور محمد ترہ کئی صدرِ افغانستان بن گیا اور افغانستان مسلم دنیا سے نکل کر ایک کمیونسٹ افغانستان بن گیا۔ یہ وہ دور تھا جب مجاہدین کمیونسٹ حکومت کے خلاف صف آرا ہوگئے۔ مجاہدین اور حکومت میں کشمکش جاری تھی کہ سوویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کرلیا اور کابل میں داخل ہوگیا۔ اس وقت صدر حفیظ اللہ امین تھا جو پرچم پارٹی کا سربراہ بھی تھا۔ وہ بھی روس نواز تھا۔ اب مجاہدین اور سرخ فوج آمنے سامنے آگئے۔ بالآخر ایک طویل کشمکش کے بعد مجاہدین کے ہاتھوں سرخ فوج کو شکست ہوگئی اور روس نے پاکستان سے مل کر معاہدہ کیا۔ اُس وقت زین نورانی وزیر خارجہ، جونیجو وزیراعظم اور ضیا الحق صدرِ پاکستان تھے، اوریہ معاہدہ ضیا الحق کی مرضی کے بغیر ہوا۔ یوں ضیا الحق اور جونیجو میں کشمکش بڑھ گئی اور جنرل ضیا نے وزیراعظم جونیجو کو فارغ کردیا۔ بہرحال سوویت یونین افغانستان سے رخصت ہوگیا۔ افغانستان میں شکست کے بعد سوویت یونین نے اپنا وجود دنیا کے نقشے سے کھودیا اور تاریخ کا حصہ بن گیا۔ اس کے بعد مجاہدین کے ہاتھ حکومت آگئی۔ ان کے آپس کے اختلافات نے طالبان کے لیے راستہ ہموار کردیا۔ لیکن نائن الیون کے بعد طالبان کی حکومت بھی ختم ہوگئی۔ امریکہ نے افغانستان میں اپنی مرضی کا حکمران بٹھادیا۔ یہ انتخابات کے بعد ہوا۔ حامد کرزئی صدر بن گئے، حامد کرزئی کے بعد اشرف غنی افغانستان کے صدر بنے۔ ان کے مدمقابل عبداللہ عبداللہ تھے، انہوں نے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری افغانستان آئے اور اعلان کیا کہ انتخابات دوبارہ ہوں گے، لیکن ان کو اندرونی کشمکش کا اندازہ ہوگیا، اس لیے جان کیری نے انتخابات کو ایک طرف رکھ دیا اور دونوں میں صلح کرادی، اشرف غنی صدر بنے اور عبداللہ عبداللہ کو ایگزیکٹو کا عہدہ ملا۔ حامد کرزئی کے آخری دورِ حکومت میں جان کیری نے ایک معاہدہ تیار کیا، جسے افغان لوئی جرگہ نے تسلیم کرلیا۔ جان کیری نے صدر حامد کرزئی کے سامنے اس معاہدے کا مسودہ رکھا تو حامد کرزئی نے دستخط سے انکار کردیا، جان کیری نے کہا کہ اگر تم دستخط نہیں کرو گے تو تمہارے بعد جو آئے گا وہ کرے گا۔ چونکہ حامد کرزئی کا آخری سال تھا اور انتخابات کا مرحلہ شروع ہوچکا تھا اس لیے جان کیری نے دستخط کے معاملے کو کچھ عرصے کے لیے ملتوی کردیا۔ جب نئے انتخابات ہوئے تو اشرف غنی کے سامنے جان کیری نے افغان امریکہ معاہدہ رکھ دیا، انہوں نے فوراً اس پر دستخط کردیے اور دونوں کے درمیان معاہدہ قابلِ قبول ہوگیا، لیکن اس معاہدے کو طالبان نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
اب 2020ء میں امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر میں تاریخی معاہدہ ہوگیا ہے۔ اس معاہدے کے موقع پر دنیا کے 5 ممالک کے سربراہ اور اہم شخصیات موجود تھیں۔ اس طرح ایک اور سپر پاور کا غرور افغان طالبان کے حضور سجدہ ریز ہوگیا ہے۔
پاکستان کی قوم پرست قوتوں کو یقین نہیں تھا کہ طالبان امریکہ کو شکست دے سکتے ہیں، اور امریکہ طالبان کے حضور بیٹھ کر معاہدہ کرے گا ۔ اس معاہدہ میں طے ہوگیا ہے کہ طالبان جنگ روک دیں گے، حملہ نہیں کریں گے، داعش اور دوسری تنظیموں کی حمایت نہیں کریں گے، گرفتار فوجی چھوڑ دیں گے، اور اس کے بدلے افغان حکومت 5 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کردے گی۔ 10 مارچ کو طالبان اور افغان حکومت میں مذاکرات ہوں گے، اس میں ان شرائط پر عمل درآمد ہوگا۔ اس کا اگلا مرحلہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا ہوگا۔
اب دیکھنا یہ ہوگا کہ طالبان اشرف غنی کی حکومت کو تسلیم کرتے ہیں یا نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ امریکہ افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد کم کرے گا، اور یہ تعداد 8500 رہ جائے گی۔ اس کے بعد یہ فوجی بھی 135 دنوں میں آہستہ آہستہ افغانستان سے رخصت ہوجائیں گے۔ اس طرح افغان سرزمین سے ایک اور استعمار اپنی فوج کو سلامتی کے ساتھ واپس لے جائے گا۔ اس دوران امریکہ اپنے 5 فوجی اڈے خالی کردے گا۔ اس معاہدے کے وقت نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینراسٹالن برگ موجود تھے۔ یوں 19 سالہ جنگ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ امریکہ افغانستان میں مداخلت نہیں کرے گا۔ 27 اگست تک امریکہ طالبان پر سے عائد پابندیاں اٹھالے گا۔ فوجوں کا انخلا طالبان اور عالمی گواہان کی موجودگی میں ہوگا۔ قیدیوں کا تبادلہ 3 ماہ کے اندر ہوجائے گا۔ اشرف غنی کا بیان کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے، وہ صرف دکھاوا ہے، وہ امریکہ کا لایا ہوا صدر ہے، امریکہ کی مرضی پر چلے گا۔ جب اس نے لوئی جرگہ کے معاہدہ پر دستخط کردیے تھے تو اس معاہدہ کا کیسے انکار کرسکے گا!
خطرات موجود ہیں، اس معاہدے کو سبوتاژ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کون کرے گا؟ اس کا فیصلہ جلد یا بدیر ہوجائے گا۔ اس معاہدے کے اثرات بلوچستان پر بہت زیادہ پڑیں گے، وہ مسلح کارروائیاں جو افغان سرحد سے ہوتی تھیں، آہستہ آہستہ ختم ہوجائیں گی اور چین کا سی پیک آگے بڑھنا شروع ہوجائے گا۔ ایک اہم مسئلے کا عام لوگوں کو علم نہیں ہے، چین نے چند سال قبل طالبان کے ساتھ 3 ارب ڈالر کا ایک معاہدہ کیا تھا، ہلمند میں 3 کھرب ڈالر کے ذخائر ہیں۔ چین نے یہ رقم طالبان کو فراہم کی تھی اور جس کے رابطے بلوچستان کی مسلح تنظیموں سے بھی ہوتے ہیں، اس معاہدے کے بعد بلوچ مزاحمت بہت کمزور ہوجائے گی، اس کے علاوہ بھی کئی معاملات سامنے آئیں گے۔ پاکستان کی سرحد بہت حد تک محفوظ ہوجائے گی، پاکستان اس موقع کو ضائع نہ جانے دے اور نئی حکمت عملی ترتیب دے، طالبان سے قریبی تعلقات استوار کرے تاکہ بھارت کو اس سے دور رکھا جائے۔ ایک بہترین خارجہ پالیسی ترتیب دے اور افغانستان کو پیش نظر رکھ کر پالیسی بنائے۔

Share this: