مقبوضہ کشمیر کے بعد نئی دہلی کے مسلمان ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

عالمی ضمیر، مسلمان حکمران اور انسانی حقوق کی علم بردار این جی اوز کہاں محوِ استراحت ہیں؟۔

دِلّی کہ اک شہر تھا عالم میں انتخاب… یہ اس دِلّی کا قصہ ہے جو سو بار اجڑا اور سو بار بسایا گیا… آج پھر دِلّی کے بعض علاقے کھنڈرات کا منظر پیش کررہے ہیں، جہاں کے محلے اجاڑ دیئے گئے ہیں، مکانات نذرِ آتش کردیئے گئے ہیں۔ گھر تو گھر مسلمانوں کی عبادت گاہیں، مقدس مساجد بھی آتش زنی، توڑ پھوڑ اور بے حرمتی سے محفوظ نہیں رہ سکیں۔ یہ بھی ایک ایسی ہی مسجد تھی جہاں لوگ ہندو بلوائیوں کے ہاتھوں نذرِ آتش کیے جانے کے باوجود ملبے کے ڈھیر میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے پہنچ تو گئے تھے مگر انہیں ہرگز یہ یقین نہیں تھا کہ وہ یہاں سے زندہ سلامت اپنے گھروں کو لوٹ بھی سکیں گے یا نہیں۔ ایک جانب اگر انہیں یہ دھڑکا لگا ہوا تھا کہ نماز کے دوران قریبی علاقے مصطفیٰ آباد سے ملحق ہندو اکثریتی علاقے ’شیووہار‘ میں موجود ہندو انتہا پسند ان پر حملہ نہ کردیں کہ انہوں نے ایک دوسری مسجد کی طرف جانے والے راستے کو بند کرکے مسجد کے باہر موجود سائیکلوں اور موٹر سائیکلوں کو آگ لگاکر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیا تھا۔ دوسری جانب اس خطرے سے بھی ان کے دل دھڑک رہے تھے کہ مسجد کے چاروں طرف بظاہر ان کی حفاظت کے لیے تعینات کیے گئے محافظ ہی ان پر حملہ آور نہ ہوجائیں۔ اسی خوف کی کیفیت میں خطبہ دیتے ہوئے مسجد کے خطیب نے نمازیوں کو نصیحت کی کہ یہ مسلمانوں پر آزمائش کا وقت ہے، ہمارے لیے اس وقت صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ہاں ایک بے چارہ امام مسجد اس نصیحت کے سوا اور کر بھی کیا سکتا تھا! مسلمان رضا کاروں نے بھی نمازیوں کو یہی تلقین کرنا مناسب جانا کہ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد مسلمان یہاں مزید نہ ٹھیریں اور فوراً اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں مسلم کُش فسادات کے دوران ہلاکتوں کی تعداد نصف صد کے قریب پہنچ چکی ہے، جب کہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق تقریباً چار سو افراد ان فسادات میں زخمی ہوکر اسپتالوں میں علاج کے لیے پہنچے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک ایوب شبیر نامی شخص بھی شامل ہے جس کا کمسن معصوم بیٹا اپنے باپ کی میت پر آنسو بہاتے ہوئے بتارہا تھا کہ اس کے والد کباڑیئے کا کام کرتے تھے، وہ صبح اپنے گھر سے باہر نکلے تو فسادیوں نے ڈنڈے مار مار کر انہیں مار ڈالا۔ کسی نے ان پر اس ظالمانہ تشدد کا سبب بتایا اور نہ کسی نے حملہ آوروں سے یہ پوچھنے کی ہمت کی کہ ایوب شبیر کا مسلمان ہونے کے سوا جرم کیا تھا؟ اور ایوب شبیر کے بے سہارا، بے کس و بے بس اہلِ خانہ کے پاس صبرِ ایوب کا مظاہرہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
85 سالہ اکبری بیگم اپنے گھر میں موجود تھی کہ کسی اشتعال کے بغیر نعرہ زن ہجوم نے اس کے گھر پر پیٹرول بموں سے حملہ کردیا۔ باقی اہلِ خانہ تو بھاگ کر باہر آگئے اور کسی طرح جان بچانے میں کامیاب ہوگئے، مگر ضعیف و نادار اکبری بیگم مکان کے ساتھ ہی شعلوں کی لپیٹ میں آکر ہندو ذہنیت کے اندھے انتقام کی بھینٹ چڑھ گئی۔
بھارت کے زیر تسلط کشمیر کی وادی میں سات ماہ سے زائد عرصے سے جاری فوجی محاصرے اور سخت ترین کرفیو کے بعد اب بھارت کے وفاقی دارالحکومت نئی دہلی کے شمال مشرقی حصے میں مسلمان آبادیوں کو بھی کرفیو کے حوالے کردیا گیا ہے۔ عالمی اداروں اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں اس صریح اور یک طرفہ ظلم کے خلاف کہیں کہیں آوازیں بلند ہورہی ہیں مگر بھارت کی کٹر ہندو حکومت جس کا مقصد ہی ہندوستان کو غیر ہندوئوں، خصوصاً مسلمانوں سے پاک کرنا ہے، پر ان کا کوئی اثر نہیں ہورہا۔ انسانی حقوق کے نام پر آسمان سر پر اٹھا لینے والی این جی اوز بھی نہ جانے کہاں محوِ استراحت ہیں کہ انہیں مودی کا ظلم، جبر اور تشدد نظر نہیں آرہا۔ جہاں تک مسلمان ممالک کا تعلق ہے وہ بھی ان تمام مظالم پر آنکھیں بند کیے اپنے عیش و آرام میں مگن ہیں، صرف ترکی کے صدر اردوان ہیں جنہوں نے کھل کر اس صورتِ حال کی مذمت کی ہے۔ پاکستان جس کے قیام کے وقت بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ان کا تحفظ پاکستان کی جانب سے کیا جائے گا، مگر آج پاکستان کے حکمران اس انتظار میں ہیں کہ جب مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھے گا تو وہاں کے مسلمان شدید ردعمل کا مظاہرہ کریں گے، جب کہ بھارت کے اندر مظالم کو روکنے کے لیے کسی ٹھوس اقدام کے بجائے اس خوش فہمی پر زندہ ہیں کہ ان مظالم کے ردعمل میں بھارت کے اندر تحریک خودبخود جنم لے گی جو بھارت کو شکست و ریخت سے دوچار کرے گی اور بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔ ان حالات میں بے چارے بھارتی مسلمان ’’کون سنتا ہے فغانِ درویش… قہر درویش بر جان درویش‘‘ کی کیفیت سے دوچار ہیں۔
بھارت میں یہ مسلم کُش فسادات نہ پہلے ہیں اور نہ آخری…برصغیر کی 1947ء میں تقسیم سے پہلے اور خاص طور پر بعد کی تاریخ کے اوراق اس قسم کے فسادات کی داستانوں سے بھرے پڑے ہیں۔ بھارت کی موجودہ مودی حکومت کا تو ایجنڈا ہی یہی ہے، اور وہ اس کا کھلے بندوں اظہار کرنے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کرتی کہ وہ بھارت کی سیکولر آئینی حیثیت کو ختم کرکے اسے ایک خالص ہندو ریاست میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ اپنے اس ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر اس نے 5 اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیر کی الگ شناخت ختم کرنے کے لیے آئین میں ترامیم کرکے دفعات 370 اور 35 اے کا خاتمہ کیا، اور اپنے ان اقدامات کو بزور منوانے کے لیے پوری وادی کشمیر کو فوج کے محاصرے میں دے دیا۔ پھر اسی حکومت نے خالصتاً مذہبی امتیاز پر مبنی شہریت کا قانون پارلیمنٹ سے منظور کرواکر مسلمانوں کو دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت آئینی طور پر تسلیم کرنے پر مجبور کرانا چاہا جس کے خلاف وہاں کے مسلمانوں اور دوسرے انصاف پسند حلقوں نے شدید احتجاج کیا، مگر مودی حکومت اس قطعی غیر منصفانہ قانون کو واپس لینے پر تیار نہیں۔ موجودہ فسادات کے پسِ پردہ جن مقاصد کا حصول مقصود ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شہریت کے قانون کے خلاف طویل احتجاج کے خاتمے کا راستہ نکالا جائے اور مسلمانوں کو خوف و ہراس کی کیفیت سے دو چار کرکے انہیں شہریت کا آمرانہ قانون تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے۔ ان فسادات کے پسِ پردہ ایک مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ گزشتہ ماہ ہونے والے انتخابات میں نئی دہلی میں حکمران بی جے پی کی عبرتناک شکست کا بدلہ دہلی کے مسلمانوں سے لیا جائے اور دہلی میں ’’عام آدمی پارٹی‘‘ کی کامیابی کا سبق سکھایا جائے۔ چنانچہ حکمران عام آدمی پارٹی (آپ) کی جانب سے برملا اس امر کا اظہار کیا جارہا ہے کہ حالیہ مسلم کُش فسادات کے دوران پولیس حکام نے نئی دہلی میں ’’آپ‘‘ کی حکومت کے احکام پر عمل درآمد سے جان بوجھ کر چشم پوشی کی، اور ہندو بلوائیوں کو نہ صرف یہ موقع دیا گیا کہ وہ مسلمانوں کی املاک، عبادت گاہوں اور جانوں سے کھل کھیل سکیں، بلکہ جہاں ضرورت پڑی پولیس نے حملہ آور بلوائیوں کو روکنے کے بجائے ان کی سرپرستی، حوصلہ افزائی اور عملی امداد سے بھی گریز نہیں کیا۔
نئی دہلی کی مسلمان بستیوں میں قتل و غارت، مساجد و مدارس اور گھروں کی تباہی و بربادی عین اُس وقت روا رکھی گئی جب یک محوری دنیا کے بلا شرکت غیرے حکمران اور بزعمِ خویش عالمی امن کے ٹھیکیدار امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کا دورہ کررہے تھے، مگر اس ظلم و ستم اور غارت گری کو رکوانے کے لیے کوئی عملی اقدام تو دور کی بات ہے، امریکی صدر یہ سب کچھ ہوجانے کے باوجود اس کی مذمت میں ایک لفظ تک زبان پر نہ لا سکے۔ شاید امریکی صدر کے دورۂ بھارت کے دوران اس مسلم دشمن طرزِعمل، مسلمانوں کے جان و مال کے بے دریغ نقصان اور خونریزی کی منصوبہ بندی کرنے والوں کا مقصد ہی یہی تھا کہ مسلمانوں کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کا ہمارا تمہارا ایجنڈا مشترک ہے، اس لیے ہم بھی اُس سرپرستی کے حق دار ہیں جو اسرائیل کو مسلمانوں کے قتلِ عام اور اُن کی جائدادوں پر قبضے کے صلے میں امریکہ کی جانب سے مل رہی ہے، بھارت کو اس سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیے۔

دہلی میں 2002ء کا ہولناک ’’گجرات ماڈل‘‘ دہرایا گیا،ممتا بنرجی

دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات کو ’’قتلِ عام‘‘ قرار دیتے ہوئے بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ بنگال سمیت پورے ملک میں ’’گجرات ماڈل‘‘ کو نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہاکہ بنگال میں ’’گولی مارو… کو‘‘ جیسے نعرے کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ نیتا جی انڈور اسٹیڈیم میں ’’بنگال کی فخر ممتا‘‘ مہم کا آغاز کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی لیڈروں اور ورکروں کو وارننگ دیتے ہوئے کہاکہ بنگال دہلی نہیں ہے اور یہاں اس طرح کے متنازع نعرے لگانے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی ریلی میں شرکت کے لیے بی جے پی ورکروں نے ’’دیش کے غداروں کو، گولی مارو سالوں کو‘‘ جیسے متنازع نعرے لگائے، جس کا ویڈیو کلپ وائرل ہورہا ہے۔ ممتا بنرجی نے کہاکہ اس طرح کے نعرے بازی سے میں فکرمند ہوں، قتل آمیز دھمکی پر مبنی نعرے لگانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ممتا بنرجی نے کہاکہ امتحانات ختم ہونے کے بعد بنگال کے ہر بلاک میں دہلی فساد مخالف جلوس اور ریلی نکالی جائے گی تاکہ فرقہ واریت کی تباہی سے متعلق آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ یہ بی جے پی چھی چھی کے عنوان سے ہوگی۔ ممتا بنرجی نے کہاکہ دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات ’’قتلِ عام‘‘ تھا اور حکومت کے ذریعے اسپانسر شدہ قتل عام ہے۔ پولیس کی موجودگی میں تباہی مچائی جارہی تھی اور پولیس خاموش تماشائی تھی۔ پولیس کانسٹیبل اور انٹیلی جنس سے معافی مانگنے کے ساتھ میں کہتی ہوں کہ دہلی میں ’’گجرات ماڈل‘‘ کو دہرایا گیا ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ماڈل کو روک دیا جائے، ورنہ یہ پورے ملک میں پھیل جائے گا۔ اس فساد میں مرنے والوں کے اہلِ خانہ کے ساتھ میری پوری ہمدردی ہے، ہم ان کے ساتھ پوری طاقت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہاکہ بی جے پی کو شرم آنی چاہیے کہ اپنی ناکامی پر اس نے ملک کے عوام سے معافی نہیں مانگی۔ ممتا بنرجی نے کہاکہ ترنمول کانگریس فسادات متاثرین کی ہر ممکن مدد کرے گی اور اس کے لیے فنڈ جمع کیا جائے گا۔ ممتا بنرجی نے کہاکہ جو لوگ بنگال میں امن و امان اور قانون کی بات کررہے ہیں انہیں پہلے دہلی کی فکر کرنی چاہیے کہ وہاں کیا ہورہا ہے، کس طریقے سے پولیس کی موجودگی میں قتل عام اور تباہی مچائی گئی۔ ممتا بنرجی نے کہاکہ ملک میں غدار کون ہے اس کا فیصلہ ملک کے عوام کریں گے، بی جے پی والے کون ہوتے ہیں! ممتا بنرجی نے کہاکہ متنازع نعرے لگانے والے کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور پولیس فوٹیج کی مدد سے مزید لوگوں کو گرفتار کرے گی۔ گرفتار افراد کے خلاف انڈین پینل کوڈ کی مختلف دفعات لگائی گئی ہیں۔ ترنمول کانگریس نے امت شاہ پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہاکہ شاہ کے بغیر بنگال بہت ہی بہتر ہے۔ خیال رہے کہ اپریل اور مئی میں بنگال میں میونسپل انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس کے بعد اسمبلی انتخابات ہیں، اس لیے بنگال میں سیاسی فضا گرم ہے۔

Share this: