تحریک ِ ادب اسلامی کے خاموش کارکن حفیظ الرحمٰن احسن

پروفیسر حفیظ الرحمٰن احسن نے 22 فروری 2020ء کی صبح چار بجے آخری سانس لیا اور ملکِ عدم کی جانب روانہ ہوگئے۔ اس سانحے کی سب سے پہلی اطلاع پروفیسر نور ور جان کو دی گئی، اور پھر ٹیلی فونوں، میسجز اور سوشل میڈیا کے ذریعے یہ خبر تمام متعلقہ حلقوں تک پہنچ گئی۔ چند روز قبل سوشل میڈیا پر اُن کی شدید علالت کی اطلاع دیکھی تو دل کو ایک دھچکا سا لگا۔ مجھے فوری طور پر کراچی اور حیدرآباد جانا تھا اس وجہ سے اُن کی عیادت کی سعادت سے محروم رہا جس کا اب ہمیشہ قلق رہے گا۔ میری یہی غیر حاضری جنازے میں شرکت میں مانع رہی۔ پروفیسر حفیظ الرحمٰن احسن اور جناب نعمت اللہ خان دونوں کی چند دنوں کے وقفے سے رحلت تحریکِ اسلامی کے لیے بڑے سانحات اور خیر کے جذبے کے تحت سر جھکا کر کام کرتے رہنے والے اور حوصلہ و ستائش سے بے پروا لوگوں کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں۔ دونوں کے میدانِ کار اگرچہ مختلف تھے، لیکن دونوں نمود و نمائش سے کوسوں دور، واضح اور اپنے طے کردہ مقصدِ زندگی سے عشق کرنے والے اور اپنے مؤقف پر انتہائی نامساعد حالات میں بھی ڈٹے رہنے والے تھے۔
جناب حفیظ الرحمٰن احسن پیشے کے اعتبار سے استاد تھے۔ پڑھنے لکھنے کا ذوق اوائلِ عمری ہی سے موجود تھا۔ چنانچہ اپنی تدریسی ذمہ داریوں کے دوران مولانا مودودیؒ کے لٹریچر سے متاثر ہوئے اور پھر ساری زندگی اسی مشن میں گزار دی۔ اپنی ذات میں انتہائی منکسر مزاج، مخلص اور انتھک انسان تھے۔ اپنی علمی استعداد اور ذہنی سطح کے اعتبار سے اُن کا شمار تحریکِ اسلامی اور ملک کے علمی و ادبی حلقوں میں ایک دانشور اور صاحبِ فکر ادیب و شاعر کے طور پر ہوتا تھا۔ انہوں نے 1966ء میں جناب نعیم صدیقی کی زیر ادارت شائع ہونے والے ماہنامہ ’’سیارہ‘‘ میں لکھنا شروع کیا اور پھر چند سال کے بعد اس اعلیٰ علمی، ادبی اور تحقیقی مجلہ کے مدیر ہوگئے۔ نعیم صدیقی مرحوم کے بعد انہوں نے اس مجلے کا معیار گرنے نہ دیا اور مشکل حالات میں بھی اسے نکالتے رہے۔ میرا مرحوم سے پہلا تعارف اسی مجلے کے ذریعے ہوا۔ میں اپنا تحریر کردہ ایک خاکہ لے کر مرحوم کے دفتر واقع کاغذ مارکیٹ انارکلی لاہور حاضر ہوا۔ مصروف ہونے کے باوجود محبت سے ملے، خاکہ دیکھا اور سیارہ کے اگلے شمارے میں اسے شائع بھی کردیا۔ کسی ادبی مجلے میں شائع ہونے والی یہ میری پہلی تحریر تھی۔ بعد میں بھی اُن سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ وہ اگرچہ تحریک اسلامی میں شامل ہوگئے تھے لیکن مولانا مودودیؒ اور جماعت اسلامی کے ساتھ اُن کا محبت بھرا تعلق مرتے دم تک قائم رہا۔ ایک بار حلقۂ ادبِ اسلامی کے پروگرام میں تشریف لائے اور موضوع کی مناسبت سے بہت اعلیٰ اور فکر انگیز گفتگو کی۔ کچھ عرصہ قبل ہی بھارت میں مقیم شاعر جناب عزیز بگھروی کے بارے میں ہفت روزہ ایشیا میں میں نے ایک خاکہ لکھا تو احسن صاحب نے خط لکھ کر حوصلہ افزائی کی اور بعض امور کی وضاحت اور تصحیح بھی فرمادی۔ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت (1988-89ء) میں جب حکومت نے حیدر آباد میں نہتے شہریوں پر پولیس اور غنڈہ عناصر کے ذریعے قیامت توڑی اور حیدرآباد کے شہری پانی اور بجلی بند ہونے پر گولیوں کی بوچھاڑ میں سر پر قرآن اٹھا کر احتجاجاً باہر نکل آئے تو اس ظلم پر حفیظ الرحمٰن احسن کی یہ نظم زبان زدِ عام ہوگئی:۔
بے کسوں کے سر پہ قرآن کے سپارے رو دیئے
میں اُن سے اکتسابِ فیض کا ہمیشہ خواہاں رہا لیکن اُن کی مصروفیات اور علمی، ادبی اور تحقیقی کاموں کی وجہ سے ملاقات سے گریز کرتا تھا۔ اُن کا وقت میرے نزدیک بہت قیمتی تھا۔
جناب حفیظ الرحمٰن احسن مرحوم نے حیاتِ مستعار کے دوران جتنے بڑے بڑے کام کیے، انہیں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے، اور ہر کام اس قدر لگن، محنت اور ایثار کے ساتھ کیا کہ کام کرنے کا حق ادا ہوگیا۔ انہیں اوائلِ جوانی ہی میں اندازہ ہوگیا تھا کہ اُن کا کام کُل وقتی ہے، جزوقتی نہیں، اور یہ پوری توجہ اور محنت مانگتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے مرے کالج سیالکوٹ کی لیکچرر شپ سے استعفیٰ دیا اور ہفت روزہ ’آئین‘ اور ماہنامہ ’سیارہ‘ کے لیے خود کو وقف کردیا۔ جناب نعیم صدیقی کی ادارت میں ماہنامہ سیارہ نے ایسے ایسے شاندار نمبر اور ادبی مباحث شائع کیے کہ لوگوں کو اب تک یاد ہیں۔ اس محنت طلب اور مشکل کام میں نعیم صدیقی مرحوم کے معاونین میں جناب حفیظ الرحمٰن احسن اور طاہر شادانی شامل تھے۔ اُن دنوں مولانا مودودی مرحوم جہاں اتوار کے روز مبارک مسجد عبدالکریم روڈ لاہور میں درسِ قرآن و حدیث دیتے تھے، وہیں ہر روز شام کو اپنی رہائش گاہ پر ملک بھر سے آنے والوں سے ملاقات کرتے اور اُن کے سوالوں کے جوابات دیتے تھے۔ یہ عصری مجالس حالاتِ حاضرہ، ملکی سیاسی صورتِ حال، عالمی معاملات اور دینی مسائل پر ایک ایسی علمی و فکری مجلس تھی جسے اُس کی روح کے مطابق عوام الناس تک پہنچانا ضروری تھا۔ لیکن مجبوری یہ تھی کہ اس مجلس میں مولانا کی گفتگو کو نہ تو ریکارڈ کرنے کی اجازت تھی اور نہ ہی نوٹس لینے کی۔ چنانچہ علمی و فکری معلومات کے اس خزانے کو عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے محترم مظفر بیگ مرزا نے اپنے ہفت روزہ ’آئین‘ میں ’’5اے ذیلدار پارک‘‘ (یہ مولانا کی رہائش گاہ کا پتا تھا جہاں یہ عصری مجالس ہوتی تھیں) کے نام سے مستقل کالم شروع کیا۔ ان مجالس کی روداد محض حافظے کی بنیاد پر جناب مظفر بیگ مرزا، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اور حفیظ الرحمٰن احسن ہر ہفتہ لکھتے اور آئین میں شائع کرتے تھے۔ اب یہ عصری مجالس ان تینوں بزرگوں کے نام سے تین جلدوں میں شائع ہوچکی ہیں۔ اس دوران جناب حفیظ الرحمٰن احسن نے پروفیسر خورشید احمد کے ساتھ دارالبلاغ کے نام سے ادارہ قائم کیا، جو مولانا کی تقاریر اور گفتگو ریکارڈ کرکے محفوظ کرلیتا تھا۔ اب اس ریکارڈ کا بڑا حصہ قلم و قرطاس پر منتقل ہوچکا ہے۔ اور باقی پر پروفیسر نورور جان تسلسل کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ یہی نہیں، جناب حفیظ الرحمٰن احسن نے 60، 70 کی دہائیوں میں جب ادبی محاذ پر ترقی پسند تحریک چھائی ہوئی تھی اور ملک بھر میں ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کے نعرے لگ رہے تھے، جناب حفیظ الرحمٰن احسن مرحوم نے اسعد گیلانی، نعیم صدیقی، ماہرالقادری اور دیگر کے ساتھ مل کر ادب برائے مقصد، یا مقصدی ادب کے لیے فضا تیار کی، اور حلقہ ادبِ اسلامی کے پلیٹ فارم سےادیبوں اور شاعروں کو منظم کیابلکہ مقصدی ادب کی بحث کو اپنے جرائد کے ذریعے آگے بڑھایا۔ چنانچہ برصغیر میں بیسویں صدی کی ادبی تحریک، خصوصاً اس صدی کے نصف آخر کی تاریخ فاران، آئین اور سیارہ کے بغیر مکمل ہوسکے گی اور نہ ہی نعیم صدیقی، جناب سلیم احمد، ماہر القادری اور حفیظ الرحمٰن احسن کے تذکرے کے بغیر معتبر کہلا سکے گی۔ جناب حفیظ الرحمٰن احسن نے بچوں کے ادب پر بھی بہت اعلیٰ کام کیا۔ انارکلی لاہور کی پیپر مارکیٹ میں اُن کا ادارہ ’’ایوانِ ادب‘‘ اور ستلج بلاک علامہ اقبال ٹائون لاہور میں ان کی رہائش گاہ اسلامی ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کا ادبی ڈیرہ تھا جہاں بڑی معیاری ادبی محفلیں جمتی تھیں۔ آج یہ دونوں ڈیرے حفیظ الرحمٰن احسن کے بغیر سُونے ہوگئے ہیں کہ موت سے کس کو رستگاری ہے۔
اللہ تعالیٰ پروفیسر صاحب کی مغفرت فرمائے۔ دین کے لیے اُن کی کوششوں کو قبول فرمائے اور ادبِ اسلامی کے لیے اُن کے جاندار کام کو اُن کی بخشش کا ذریعہ بنادے۔ آمین