کورونا وائرس: ایران سے پاکستانی زائرین کی واپسی اور حکومت کی بے خبری

Print Friendly, PDF & Email

یقیناً ہماری حکومتوں نے کورونا وائرس کے پھیلائو کے بعد حفظِ ماتقدم کے طور پر کوئی قدم نہ اٹھایا۔ ایران کے شہر قم میں کورونا وائرس کی وجہ سے پہلا شخص 17فروری کو جاں بحق ہوا۔ اُس وقت پاکستان سے گئے پانچ ہزار زائرین ایران میں موجود تھے، وہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ صورتِ حال تشویش ناک ہوتی جارہی تھی، مگر ہماری حکومت غفلت و بے خبری کی نیند سورہی تھی۔ ایران کے اندر سے بڑی تعداد میں لوگ ہوائی جہازوں کے ذریعے پاکستان آرہے تھے لیکن کسی حکومت اور مجاز ادارے کو پروا نہ تھی۔ آخرکار ایران نے زائرین کو زاہدان میں لاکر چھوڑ دیا۔ اب بھی نااہل، غافل اور بدعنوان حکومتوں، محکموں اور اداروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ لوگ غیر قانونی طور پر غیر روایتی راستوں سے بلوچستان کے اندر داخل ہورہے تھے، لیکن کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں تھا، نہ ہنگامی طور پر سرحدوں پر پیٹرولنگ شروع کی گئی۔ یوں ان زائرین کو تفتان کے اندر داخل ہونے دیا گیا۔ نمائشی والے اقدامات شروع ہوئے، خیمہ بستیاں آباد کی گئیں۔ تین تین سو زائرین کو ایک بڑے ہال میں رکھا گیا، جہاںکوئی بنیادی اور طبی سہولت نہ تھا۔ایک خیمے میں دس دس افراد رہنے پر مجبور تھے۔ المیہ دیکھیے کہ بعض بااثر افراد جن میں وزیراعظم کے معاون زلفی بخاری کا نام سرفہرست آرہا ہے، سفارش کرکے اپنے جاننے والے دوست احباب کے خاندان کو تفتان قرنطینہ سے نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ اس طرح پورا ملک اس وبا کی لپیٹ میں آگیا۔ جام کمال پر سندھ حکومت کی جانب سے تنقید ہوئی تو انہوں نے خفگی کا اظہار کیا، اور جواباً کہا کہ ’’جو تفتان کا نام صحیح نہیں لے سکتے وہ بھی تبصرے کررہے ہیں‘‘۔ ان کے مطابق 20دن کسی صوبے نے زائرین کا پوچھا تک نہیں۔ مسئلہ یہی ہے کہ بلوچستان حکومت نے انہیں 20 دن تک رکھا کیوں آئین کی شق 19کے تحت زائرین کی آمد، بارڈر کھولنا اور بند کرنا وفاقی حکومت کے دائرۂ اختیار میں تھا، جس نے اپنا فرض نہیں نبھایا۔ مگر بلوچستان حکومت بااختیار تھی، وہ وفاق اور دوسرے صوبوں کو دوٹوک اندا ز میں اپنا فیصلہ سناتی۔ اوّل یہ کہ زائرین کو بلوچستان میں کسی صورت داخل ہونے نہیں دیا جائے گا، دوئم وہ وفاقی حکومت سے کہتی کہ ان زائرین کو ایران کے علاقے زاہدان میں قرنطینہ میں رکھا جائے۔ مدت پوری ہونے کے بعد وفاقی حکومت خصوصی طیاروں کے ذریعے انہیں زاہدان سے اپنے علاقوں میں لے آتی۔ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ ہر صوبہ اپنے زائرین کو خصوصی طیارے کے ذریعے زاہدان سے لے آتا۔ ایران کی حکومت کو اس کے لیے ادائیگی کی جاتی۔ لیکن بلوچستان حکومت نے اپنے اختیارات کا استعمال ہی نہ کیا، اور تفتان کے اندر سطحی اقدامات کرکے کریڈٹ لینے کی کوشش کی۔ پی ڈی ایم اے والے دیگیں پکانے میں لگ گئے جیسے شادی بیاہ کی کوئی تقریب ہو۔ محکمہ صحت کو پتا نہیں کیا ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔ کوئی کمیٹی اس تناظر میں نہ بن سکی جو اس صورتِ حال کو تکنیکی اور طبی حوالوں سے دیکھتی۔ افراتفری مچی رہی، حکومت کی رٹ دکھائی نہیں دی۔ زائرین قرنطینہ مراکز سے نکل کر سڑکوں پر آئے۔ کوئٹہ قرنطینہ کے اندر اراکینِ اسمبلی سیاسی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے جاتے رہے۔ میڈیا اور غیر متعلقہ افراد کو خود صوبائی وزیر داخلہ قرنطینہ اور کورونا کے مریضوں کے لیے مختص ہسپتالوں کے اندر لے جاتے رہے۔ کبھی وزیراعلیٰ کی بریفنگ میں ہجوم رہا،کبھی چیف سیکرٹری تو کبھی دوسروں کی پریس کانفرنسوں میں۔ مجلس وحدت المسلمین کے بعض رہنما قرنطینہ میں زائرین کے ساتھ احتجاج پر بیٹھ گئے۔ حکومت ان رہنمائوں کو گرفتار کرسکی، نہ ہی انہیں قرنطینہ میں رکھا گیا۔ وہ لوگ اب بھی اپنی آبادیوں میں آزادانہ گھوم رہے ہیں، بلکہ اعلیٰ سرکاری حکام سے بھی مل رہے ہیں۔ گویا ہر طرف افراتفری و بدنظمی دیکھی گئی۔ زائرین کو بالخصوص تفتان کے اندر عذاب میں مبتلا رکھا گیا۔ محض تھرمل گنز سے جسم کا درجۂ حرارت چیک کیا جاتا۔ طبی عملہ غیر تربیت یافتہ تھا جنہوں نے اس سے پہلے کبھی تھرمل گنز کا استعمال نہیں کیا تھا۔ ان کے پاس ٹیسٹ کی کٹس نہ تھیں۔ وفاقی حکومت نے دو ہفتے بعد کوئٹہ میں کورونا کی تشخیص کرنے والی پہلی لیبارٹری کے لیے سازو سامان بھیجا اور پھر تفتان میں موبائل لیبارٹری قائم کی۔ صرف چند درجن ٹیسٹنگ کٹس فراہم کی گئیں۔
غرض باقی صوبوں کے زائرین اپنے صوبوں میں منتقل ہوچکے ہیں۔ اس وقت تفتان کے اندر 400 زائرین موجود ہیں جن کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ کوئٹہ کے شیخ زید ہسپتال میں ایک شخص فوت ہوچکا ہے جو کورونا کا مشتبہ مریض تھا، تاہم حکام نے موت کی وجہ دل کا دورہ بتایا۔ پہلی مصدقہ موت 22 مارچ کو فاطمہ جناح ہسپتال میں 65سالہ شخص کی ہوئی جو ایران سے واپس آیا تھا۔کوئٹہ میں بھی مشتبہ مریضوں کو رکھا گیا ہے۔ گویا خطیر رقم ضائع کی گئی۔ حالانکہ اس رقم سے ان زائرین کو C-130کے ذریعے اپنے صوبوں کو بھیجا جاسکتا تھا۔ معلوم نہیں کتنے متاثرین کوئٹہ یا صوبے کے دیگر علاقوں کی آبادیوں میں گھل مل چکے ہیں، اس کا بہتر اندازہ آنے والے دنوں میں ہوجائے گا۔
سندھ حکومت کے متحرک ہونے کے بعد وفاق اور باقی صوبے بھی اب اقدامات کررہے ہیں۔ سندھ نے مکمل لاک ڈائون کردیا ہے۔ بلوچستان حکومت نے بھی صوبے میں جزوی لاک ڈائون کردیا ہے۔ شہروں کے اندر بس سروس، بین الاضلاعی اور بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ بند کردی گئی ہے۔ بڑے شاپنگ مال اور تجارتی مراکز کو بھی تالے لگا دیے گئے ہیں۔ صرف اشیائے ضروریہ فروخت کرنے والی دکانیں کھلی ہیں۔ صوبے میں طبی ایمرجنسی نافذ کرکے ہنگامی بنیادوں پر آلات کی خریداری شروع کردی گئی ہے۔ اضلاع کی سطح پر تمام ڈپٹی کمشنرز کو وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ ہوائی اڈوں اور سرحدوں پر بروقت اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے اب کروڑوں لوگوں کو گھروں میں محصور کرنے کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آرہا۔ ایسے میں غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے۔ اس صورتِ حال میں سیاسی جماعتوں کا کردار محدود نظر آرہا ہے۔ بلوچستان کے اندر ماسوائے جماعت اسلامی کے، کوئی سیاسی جماعت رفاہِ عامہ کے شعبے نہیں رکھتی، اور جماعتیں اخباری بیانات کے ذریعے اس وائرس سے بچانے میں لگی ہوئی ہیں۔

Share this: