خلافتِ عثمانیہ کا عروج و زوال

Print Friendly, PDF & Email

مائیکل ہیملٹن مورگن/ترجمہ و تلخیص:ناصر فاروق
پندرہویں اور سولہویں صدی میں، مسلم کلاسیکی تاریخ سہ پہر کے بعد شام کا رخ کررہی تھی، سائے گہرے ہورہے تھے، ماضی مستقبل سے بہتر لگ رہا تھا۔ دمشق، بغداد، اندلس، اور خراسان کی شان وشوکت عرصہ ہوا قصۂ پارینہ ہوچکی تھی۔ اگرچہ تہذیبِ اسلامی روبہ زوال تھی، مسلمانوں کے ایک گروہ نے ایک آخری بھرپور کوشش کی کہ کسی طور بقائے باہمی ممکن بنائی جاسکے۔
یہ عثمان ترک تھے۔ بیشتر دنیا اُن کی طاقت کے آگے لرزاں رہی۔ عربوں کی پہلی فتح کے ہزار سال بعد، جب سقوطِ بغداد اور سقوطِ غرناطہ وقوع پذیر ہوچکے تھے، عثمان ترکوں نے عرب دنیا کو ازسرِنو تعمیر کیا، تاہم اندلس وہ واپس نہ لے سکے۔ انھوں نے اسپین کی جگہ بلقان کی ریاستوں پر فتوحات حاصل کیں، اور رومانیہ سے پولینڈ کی جنوبی سرحدوں تک پہنچ گئے۔ اُن کا دارالحکومت بغداد نہیں بلکہ استنبول تھا، اور انھوں نے ہمیشہ کے لیے بازنطینی سلطنت کو دنیا کے نقشے سے مٹا دیا تھا۔ وہ باسفورس کے پانیوں سے تین براعظموں میں دور تک واحد مقتدر قوت تھے۔ وہ سائبیریا کے برف زاروں سے ترکی تک سو سال کا طویل فاتحانہ سفر طے کرکے قدیم چین کے دروازے پردستک دے رہے تھے، جہاں وہ Tu K’ueکے نام سے پکارے گئے۔ ترک محض طاقت کی علامت نہ تھے، بلکہ اعلیٰ انتظامی صلاحیتوںکے بھی مالک تھے، انھوں نے ایک ایسی عالمی سلطنت مستحکم کی، جو چھے صدیوں تک قائم رہی، اور بیسویں صدی تک یہ سفر جاری رہا۔ عثمانی سلطنت میں مذہبی رواداری، بین المذاہب معاشرتی زندگی، اور انصاف کی فراوانی تھی۔
یہ سن 1492ء تھا، استنبول کی بندرگاہوں سے، ابھی جب کہ ترکوں کے ہاتھوں بازنطینی قسطنطنیہ کی فتح کو چالیس سال ہی گزرے تھے، ایک چھوٹی سی غیر ملکی کشتی آتی ہوئی نظر آئی۔ سلطان بایزید ثانی کا وفد وزیراعظم کی سربراہی میں کسی کے استقبال کے لیے وہاں موجود تھا۔ کشتی میں آنے والے بھی کسی ملک کے نمائندے لگتے تھے۔ آخر کون تھے یہ مہمان؟ جب کشتی حدِّ نگاہ میں داخل ہوئی، توصاف دیکھا جاسکتا تھا کہ آنے والے کوئی مسافر نہ تھے بلکہ تھکے ہارے پناہ گزین تھے، جو اپنا وطن کھوچکے تھے، ایسا نقصان اٹھا چکے تھے کہ جس کی تلافی ممکن نہ تھی، وہ پوری ایک تاریخ پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ انھوں نے ترک عثمان حکومت کی جانب سے پناہ کی دعوت قبول کرلی تھی۔
یہ اندلس کے سفاردی یہودی پناہ گزین تھے۔ یہ غرناطہ، قرطبہ، اشبیلیہ اور میڈرڈ کے رہنے والے تھے۔ یہ وہ شہر تھے جو کبھی عظیم سہ مذہبی ریاست کا حصہ تھے۔ ان سفاردیوں کو اندلس سے ملکہ ازابیلا کے حکم پرجلا وطن کردیا گیا تھا۔ انھوں نے جبراً عیسائی بن جانے یا موت پر جلا وطنی کو ترجیح دی، اور عثمانی خلافت کے سائے میں پناہ لینا پسند کیا، اور استنبول میں بودو باش اختیارکی۔
یہودیوں کے اس نئے گھر میں، جہاں ترک مسلمانوں کی عمل داری تھی، ہزاروں آرتھوڈکس عیسائی بھی آباد تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ آرتھوڈکس عیسائیوں کی سر قبیلی آماج گاہ تھی۔ استنبول میں پہلے ہی سے کئی یہودی مہاجرین آباد تھے۔ عثمانی ترک سلطنت دراصل ہم آہنگ اور باہم مذہبی معاشرت کی تجسیمِ نو تھی۔ یہاں وہ سارے مذاہب پھر سے یکجا ہوگئے تھے، جن کی تہذیبی آبیاری گزشتہ مسلم ادوار میں ہوئی تھی۔ ترکی واحد مسلم مثالی معاشرہ نہ تھا۔ پندرہویں اور سولہویں صدی میں، یہودی اور عیسائی پوری مسلم دنیا میں آباد تھے۔ مصر، عراق، شام، اور ہندوستان میں عیسائیوں کی بڑی بڑی اقلیتیں موجود تھیں۔ مراکش کے شہروں سے پورے شمالی افریقا میں، مصر سے ایران تک بڑی بڑی یہودی کمیونٹیز پھل پھول رہی تھیں۔ مگر عثمانی ترک سلطنت میں یہ رویہ کوئی خاموش غیر سرکاری پالیسی نہ تھا، بلکہ اعلانیہ اور واضح تھا۔ سلطانوں کے فرمان میں صاف لکھا تھا کہ ’’ترک گورنر ہرگز کسی یہودی کو داخل ہونے سے نہیں روکیں گے، اور نہ ہی کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہونے دیں گے، بلکہ عزت و تکریم سے اُن کا خیر مقدم کریں گے۔‘‘
یہودیوں کی استنبول آمد کے صرف چھے سال بعد، عثمانی سلطنت اپنی سیاسی و عسکری قوت کے اوج پر پہنچ گئی تھی۔ ترک اور اُن کی افسر شاہی نے بیس لاکھ اسکوائر میل سے زائد زمین اور لاکھوں میل ملحقہ سمندری علاقوں کا انتظام خوبی سے سنبھالا ہوا تھا۔ ترکوں کی گرفت میں وہ زمینیں اور لوگ تھے، جو عمان سے بحرہند اور جنوب مغربی ایشیا میں دور تک، جنوبی پولینڈ اور روس سے یورپ کے شمال مشرقی علاقوں تک، اور مراکش سے پورے شمالی افریقا تک پھیلے ہوئے تھے۔ ترک بیڑے بحر روم پر راج کرتے تھے۔ ترک نقشہ ساز عالمی مہم جوئیوں میں اُسی طرح مصروف تھے، کہ جس طرح اُن کے دشمن اسپین سے شمالی و جنوبی امریکہ میں نئی دنیائیں تلاش کررہے تھے۔
یہ عظیم سلطنت اپنے اندر ایک کائنات تھی۔ یہاں عرب، بازنطینی، یونانی، سرب، بوسنیائی، کروٹس، پولس، یوکرائنی، چیک، سلووک، ہنگرین، آسٹریائی، رومانینز، فارسی، قفقازی، بربر، آذربائیجانی، آرمینی، جارجیائی، صومالی، اور ایتھوپین ہم آہنگی سے مساویانہ زندگی گزار رہے تھے۔ زبانیں اور لب و لہجے بے شمار تھے۔ ایسی ریاست میں اسپین کے لٹے پٹے یہودیوں کا خیرمقدم کیوں نہ کیا جاتا؟ بغداد اور قرطبہ سے قاہرہ تک، اور پھر استنبول کی خلافت میں دیگر مذاہب اور نسل کے لوگوں کو ہمیشہ حمایت اورسرپرستی حاصل رہی ہے۔ سلطان کے شاہی محافظ اور دستے زیادہ تر بلقانی مسیحی نوجوانوں پر مشتمل تھے۔ تاہم انھیں شادی اور خاندان تشکیل دینے کی اجازت نہ تھی، تاکہ وہ ساری زندگی شاہی خدمات میں پوری طرح صرف کرسکیں۔ یہاں تک کہ چند عیسائی اعلیٰ وزارتوں تک پہنچے، اور سلطان سلیمان کے دور سے تین نسلوں تک نمایاں وزارتی حیثیتوں میں کام کرتے رہے۔
حیرت انگیز طور پر یہ عظیم الشان سلطنت دیگر حکومتوں کی طرح موروثی انتظامیہ پرقائم نہ تھی، بلکہ قابلیت کی بنیاد پر نوجوان حکام کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ یہ تعلیمی اداروں سے امتیازی کارکردگی کی بنیاد پرچنے جاتے تھے، اور سینئرعہدوں تک پہنچتے تھے۔ اس پر مزید انوکھی بات یہ ہے کہ اکثر غیر مسلم ہوتے تھے۔ البتہ عثمانی خلافت موروثی تھی۔ استنبول کا سلطان حرمین مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا والی کہلاتا تھا، اور خلیفۂ وقت خدا کا زمین پر نمائندہ تھا۔ ترک حکومت نے ایسا قانونی ڈھانچہ تشکیل دیا تھا کہ جس میں مسلمانوں کے لیے شرعی قوانین، اور دیگر کے لیے اُن کی شریعتوں کے قوانین لاگوکیے گئے تھے۔ تاہم ریاست کے کاروباری معاملات کے لیے سول قوانین بنائے گئے تھے۔
دیگر مذاہب اور نسلوں کے لیے برداشت اور ہم آہنگی کا رویہ اسوۂ حسنہ اور خلافتِ راشدہ کے طرزِ حکمرانی کا ہی تسلسل تھا، جسے خوبی سے قائم رکھا گیا تھا۔ طاقت، انصاف، اور موافقت کے اس ماحول نے ترک سلطنت کی عظمت مستحکم کردی تھی۔ اس معاملے میں سلطان سلیمان اوّل کا کردار سب سے نمایاں رہا، اس کا زرّیں دور 1526ء سے 1566ء تک طویل اور عظیم الشان تھا۔
یہ1566ء کے موسم خزاں کی ابتدا تھی۔ سلیمان توپ قاپی محل کی بالکونی میں بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا، باسفورس کے پانیوں میں شام ڈھل رہی تھی، چاند ٹھنڈی لہروں پر جھلک رہا تھا، ستارے ٹمٹما رہے تھے۔ 71 سالہ بوڑھا، گوکہ اب تک وہ روئے زمین کا سب سے طاقت ور حکمران تھا، آج بالکل تنہا تھا۔ اُس کی چہیتی یوکرائنی نژاد بیوی خرم سلطان آٹھ برس ہوئے دنیا سے رخصت ہوچکی تھی، اُس کے چہیتے بیٹے بھی خانہ جنگی یا صحت کی خرابی سے چل بسے تھے۔ اُسے اس مرحلے پر یہ خبر بھی ملی تھی کہ ہنگری، جسے وہ چھے بار مغلوب کرچکا تھا، پھر مشکلات کھڑی کررہا تھا۔ اب اس عمر اور تنہائی میں کیا میدانِ جنگ اُس کے لیے کسی دلچسپی کا حامل ہوسکتا تھا؟ جبکہ وہ دس سال سے میدانِ جنگ سے دور رہا تھا۔ یہ بہت مشکل لگ رہا تھا۔ یہ وہ حکمران تھا کہ جس کے بارے میں یہ یقین کیا جاتا تھا کہ انجیلی ہم نام (حضرت سلیمان علیہ السلام) کی مانند ہے، جسے زوال نہیں۔
آسٹریائی سفیرBaron de Busbecq، جو سلیمان عالیشان کے دور میں استنبول میں تعینات تھا، 1555ء میں سلطان سے ملا تھا کہ جب اُس کی عمر ساٹھ برس تھی، وہ اپنی یادداشتوں میں سلطان کی بابت لکھتا ہے: ’’اُس کا تاثر ایک ایسا چہرہ، جس پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی تھی، ایک تمکنت، کہ جس میں باوقار سی اداسی محسوس ہوتی تھی۔ وہ گئے برسوں سے بوجھل معلوم ہوتا تھا۔ لیکن اُس کا رکھ رکھاؤ اور حلیہ ایک عظیم الشان ریاست کے شاندار حکمران کا سا تھا۔‘‘
خلیفہ سلیمان کے بارے میں ایک تلخ تصور یہ ہے کہ یورپ میں کسی بھی مقامی حکمران سے زیادہ وہ پروٹسٹنٹ ازم کی پیش قدمی میں مددگار ثابت ہوا۔ ابتدا میں فرانسیسی بادشاہ فرانسس اوّل سے اُس کے اتحاد کے باعث ایسا ہوا، فرانسس پروٹسٹنٹ مفادات کے لیے کام کررہا تھا، جبکہ مخالفت میں زیادہ طاقت ور کیتھولک قوتیں اسپین کے چارلس پنجم کے ساتھ میدان میں تھیں۔
بزلہ سنج اور منصف ہونے کے ساتھ ساتھ، سلیمان ایک ماہر جنگجو، عسکری چالوں میں مشاق، ہتھیاروں کی پہچان اور سپہ سالاری میں عمدہ صلاحیتوں کا حامل تھا۔ سن 1521ء میں اُس نے بلغراد فتح کیا، اور اگلے ہی سال جزیرہ رہوڈز کو سرنگوں کیا، سن 1526ء میں ہنگری کو پسپا کیا، اور وسطی یورپ میں ویانا کے دروازے تک پہنچ گیا، 1529ء کے ستمبر سے اکتوبر تک اُس نے ویانا کا محاصرہ کیے رکھا۔ سن 1534ء میں سلیمان کی فوجوں نے فارس کے خلاف کامیاب جنگی مہم چلائی، عرب دنیا میں وہ شمالی افریقا تک فتح کے جھنڈے گاڑتا چلا گیا، اور بحر احمر کی بندرگاہ عدن پر جاکر رکا۔ تاہم مالٹا میں اُسے ناکامی کا سامنا ہوا۔
سلیمان عربی، فارسی شاعری میں صوفیانہ درک بھی رکھتا تھا، خود بھی شاعرتھا۔ اپنے ایک دوہے میں لکھتا ہے:
مری تنہائی کی دولت، مری محبت، مری چاندنی
مری مخلص دوست، مری رازداں، مرا وجود، مری سلطانہ
سب حسیناؤں سے حسین…۔
مری بہار کا سماں، مری مسکراتی صبح، مری دلگداز شام
مری محبوب، مرا گلاب، اس دنیا میں مرے دل کا سکون
یہ حسین زلفیں، یہ ابرو، یہ نگاہیں
مرے محبوب، ترے حُسن کے گیت ہمیشہ گنگناؤں گا
میں، ایک دکھی دل لیے، آنکھوں میں آنسو پیے، خوش ہوں…
تاہم شاعری اُس کے لیے ایک عارضی پناہ گاہ سے زیادہ کچھ نہ تھی، تلخ سیاسی فیصلوں کے کرب سے بچنے کے لیے جہاں وہ پناہ لیتا تھا۔ یہ فیصلے اسے ہر روز ہی لینے پڑتے تھے۔ مثال کے طور پر، اسے اپنے ہی دوبیٹوں کو سزائے موت دینی پڑی تھی۔ بایزید اور مصطفیٰ، جنھیں بغاوت کی سازشوں میں ملوث ہونے پرگرفتار کیا گیا تھا۔ کیسی کیسی تلخ یادیں بوجھ بن چکی تھیں۔ ایک دن مؤرخ کو یہ لکھنا پڑا کہ سلطنتِ عثمانیہ میں شہزادوں کی بغاوتوں کی روایت نے حالات انتہائی مشکل بنادیے تھے۔ بعدازاں قفس کے قانون کا نفاذ شاید سنگین ترین غلطی ثابت ہوا۔ اس قانون کے تحت ممکنہ جانشینوں کو نظربند رکھا جاتا تھا کہ کہیں اقتدار کی خاطر بغاوتیں نہ کرتے پھریں۔ مگر پھر یہی قانون آگے چل کر خلافتِ عثمانیہ کے زوال کا ایک سبب قرار پایا۔ ترک بدقسمتی سے شاہی جانشینی کوکوئی منظم ادارتی شکل نہ دے سکے تھے۔
یہ ایک خطرناک حقیقت تھی کہ اس عظیم الشان ریاست کے معماروں نے اس سلسلے میں بڑی غفلت کا ارتکاب کیا تھا۔ جس طرح بازنطینی ممکنہ حریف جانشینوں کو مروا دیا کرتے تھے، کچھ یہی رویہ عثمان ترکوں نے بھی اختیار کرلیا تھا۔ یہ اس لیے کیا گیا تھا کہ سلطان سب سے بڑے بیٹے کے بجائے جس بیٹے کو بھی زیادہ اہل سمجھے، یا چہیتا خیال کرے، اُسے اپنا ولی عہد نامزد کرسکے۔ وجہ اس کی جو بھی بنی، نتیجہ اقتدار کی خونیں کشمکش کی صورت میں سامنے آیا، اور اس میں سلطان کی بیویوں کے سازشی کردار کلیدی ثابت ہوئے۔ یوں کئی صدیوں تک یہ محلاتی سازشیں سلطنتِ عثمانیہ کی جڑیں کھوکھلی کرتی رہیں۔
یہی وجہ تھی کہ اُس شام سلیمان کو ہنگری کے بارے میں فیصلہ کرنے میں دشواری پیش نہ آئی۔ اگلی صبح اُس نے سیاسی مشیر محمد پاشا اور قانونی مشیر ابوسعود کو طلب کیا، اور ہنگری کے معاملے میں رائے مانگی۔ ’’ہم آپ کی یہ مہم انجام تک پہنچائیں گے‘‘ انھوں نے انتہائی مؤدبانہ لہجے میں گزارش کی۔
دوماہ بعد نومبر میں، سلیمان عالیشان نے جنگ کا حکم دے دیا۔ شمال میں ہنگری کے محاذ پر فوجیں روانہ کردی گئیں۔ وہ بھی اُن سے ایک مقام پر آملا تھا۔ ترک آسٹریا اور عالم عیسائیت کی سرحدوں پر صف بہ صف ہوگئے تھے۔ موسم انتہائی سرد اور نم تھا۔ وہ پہلے بھی کئی بار اس مقام پراپنی فوج کی قیادت کرچکا تھا، مگر اِس بار وہ بیمار اور ضعیف تھا، زندگی کے دن پورے ہورہے تھے، عجیب مایوسی ماحول پر طاری تھی۔ اُس کا سارا تزک واحتشام ایک غیرمحسوس اداسی لیے ہوئے تھا۔ گو کہ اُس کی فوجیں بڑی زورآور تھیں، مگر زندگی ساتھ چھوڑ گئی۔
سلیمان عالیشان دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگیا، مگر تاریخ آگے بڑھ گئی۔ مؤرخین نے اُس کی موت کو ترک عثمانوں کے زوال کا اشارہ قرار دیا۔ سوسال بعد ایک اور ترک سلطان نے ویانا کا محاصرہ کیا، اور اُس کی شکست خلافتِ عثمانیہ کی آخری یورپی مہم ثابت ہوئی۔ تاہم باسفورس کی سدا بہار لہروں پر زندگی جھلملاتی رہی۔ مرمرہ میں بڑے بڑے جہازوں کی آمد اور چھوٹی کشتیوں کی سیر جاری رہی۔ ایک اور سلطان اقتدار میں آچکا تھا، مگر اُس کا کام دربار تک محدود ہوچکا تھا، اور معاملات درباریوں کے ہاتھوں میں چلے گئے تھے۔ اس کے بعد بھی یہ عظیم الشان سلطنت تین سو پچاس سال قائم رہی، تاہم زوال پذیر رہی۔ اس کمزور صورتِ حال کی وجہ سلیمان جیسی قیادت کی کمی تھی۔ دھیرے دھیرے ترک انتظامیہ کے تاروپود بکھرنے لگے، ماتحت ریاستیں ایک ایک کرکے آزاد ہوتی چلی گئیں۔ کریمیا، ایران، آرمینیا، اور جارجیا آزاد و خودمختار ہوگئے۔ رومانیہ نے 1877ء میں آزادی حاصل کی۔ بلغاریہ نے 1908ء میں اعلانِ آزادی کیا۔ البانیہ 1917ء میں الگ ہوا۔ یمن 1918ء میں سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ نہ رہا۔ پہلی عالمی جنگ میں شکست نے اس عظیم خلافت کا حتمی طور پر خاتمہ کردیا۔

Share this: