تہذیب مغرب کا عظیم انہدام

Print Friendly, PDF & Email

صنعتی انقلاب کی ہلاکتیں، ارضی مستقبل کی تصویر

نومی اوریسکس اورایرک کونوے/ترجمہ:ناصر فاروق
۔(نومی اوریسکس سائنس کی تاریخ داں ہیں، سن 2013ء میں ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ میں پروفیسر تھیں، یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں تاریخ اور سائنس پڑھاتی رہی ہیں۔ انھوں نے جیو فزکس، ماحولیات، اور عالمی حدت کے موضوعات پر تحقیقی کام کیا ہے۔ ایرک ایم کونوے امریکی خلائی ادارے ناسا میں تاریخ کے استاد ہیں۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں، پروفیسر نومی اوریسکس کے اشتراک سے معروف کتاب Merchants of Doubt بھی تصنیف کرچکے ہیں۔ ان کی کتاب Collapse Of Western Civilization کے ترجمے کا پہلا حصہ قارئین کے مطالعے کے لیے پیش خدمت ہے)۔

تعارف

سائنس فکشن لکھنے والے تخیلاتی مستقبل تراشتے ہیں، مؤرخین ماضی کی ازسرِنو تعمیر کرتے ہیں۔ یوں، دونوں ہی حال سمجھنے کی سعی کرتے ہیں۔ ہم نے اس کتاب میں، دونوں اقسام کی آمیزش کردی ہے، تاکہ مستقبل کا صحیح تصور تراش سکیں، کہ جس طرح مؤرخ ماضی میں جاکر حال کا ’سبب‘ سمجھتا ہے، اور ممکنہ مستقبل کی خبر دیتا ہے۔ یہ تہذیب ِمغرب پر حالتِ نزع کا سہ صد سالہ دور ہے، جو اختتام پذیر(1540–2093)ہے۔ ہم آلِ ’’عہدِ روشن خیالی‘‘ گومگو کی حالت میں ہیں، کہ آیا یہ کس طرح ممکن ہوا، کہ ہم عالمی موسمی تبدیلی اور اُن ضرر رساں واقعات کی پیشگی کوئی روک تھام نہ کرسکے، بلکہ بھرپور معلومات کے باوجود ناکام ہوئے، کہ جن واقعات وسانحات کا پیش آنا نوشتۂ دیوار تھا۔ ہمارا مؤرخ آج اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ مغربی تہذیب پر دوسرا ’’تاریک دور‘‘(Dark Age) آچکا ہے، جس میں خودفریبی اور خودملامتی رچی بسی ہے، اس کی جڑیں آزاد منڈی کے نظریے پر تیقن میں ہیں، دنیا کی طاقت ور ترین اقوام سانحۂ ’’زوال‘‘ کے آگے بے بس ہیں(1)۔ مزید یہ کہ وہ سائنس دان جو ’’مسئلہ زوال‘‘ کی بہتر سوجھ بوجھ رکھتے تھے، اپنی ہی معاشرتی مجبوریوں کے آگے لولے لنگڑے ثابت ہوئے، وہ کسی ’’مغربی انہدام‘‘ کے تعارف کا بوجھ نہ اٹھا سکے، اور اس اہم ذمے داری سے دامن چھڑاتے رہے۔ یہاں ہمارے مستقبل کا مؤرخ جو دوسری ری پبلک چائنا میں زندگی بسر کررہا ہے، ’’دور نیم تاریک‘‘ (1988–2093)کے واقعات کا پھر سے جائزہ لے رہا ہے، جو ہمیں ’’عظیم انہدام‘‘ اور’’بڑے پیمانے پرانسانوں کی نقل مکانی‘‘ (2073–2093)تک لے جارہے ہیں۔

دورِ نیم تاریک کی آمد

ماقبل تاریخ کی انسانی ’تہذیب‘ میں بہت سے معاشرے مستحکم ہوئے اور پھر منہدم ہوگئے، مگرکچھ نے بہت واضح اور وسیع آثار چھوڑے۔ ان آثار سے وجۂ زوال سمجھی گئی، کہ آخر جوکچھ ہوا وہ کیوں اور کیسے ہوا؟ اسی طرح اکیسویں صدی کی قومی ریاستوں کے ساتھ ہوا جو خود کو مغربی تہذیب کہتی ہیں۔ یہاں تک کہ آج رومی اور مایا تہذیبوں کے زوال سے دوہزاریوں بعد بازنطینی اور انکا سلطنتوں کے خاتمے کے ہزار سال بعد، مؤرخین، ماہرینِ آثارِ قدیمہ اورماہرینِ رکازات مذکورہ تہذیبوں کے زوال کی بنیادی وجوہات پر متفق نہیں ہوسکے ہیں، کہ آیا کس طرح ان کی آبادیاں، طاقت، استحکام، اور شناخت ختم ہوئی۔
تہذیب ِ مغرب کا مقدمہ مگر مختلف ہے، کیونکہ اس کے افعال واعمال کے نتائج نہ صرف قابلِ پیش گوئی تھے، بلکہ پیش گوئی کی بھی جاچکی تھی۔ بیسویں صدی کے آغاز سے اکیسویں صدی کی ’الیکٹرونک بناوٹوں‘ تک، اس ٹیکنالوجیکل معاشرے نے بڑے آثار چھوڑے ہیں، یہ ہمیں اس قابل بناتے ہیں کہ پوری وضاحت اور غیر معمولی تفصیلات سے معاملات سمجھ سکیں۔ تجزیہ کاروں میں ایک سے حالات پر آراء کا اختلاف ہے، مگر اس بات پر سبھی متفق ہیں کہ اہلِ مغرب جانتے تھے کہ اُن کے ساتھ کیا ہونے جارہا تھا، مگر وہ اُسے روکنے کے قابل نہ تھے۔ درحقیقت اس کہانی میں سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ’اہلِ مغرب جتنی معلومات رکھتے تھے، اُتنے ہی نااہل ثابت ہورہے تھے‘۔ اُن کا علم اُن کی طاقت نہ بن سکا تھا۔
زوال سے سو سال پہلے مغربی دنیا جانتی تھی کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ(CO2) اورکرۂ ارض کے ماحول میں موجود آبی بخارات حرارت جذب کرچکے تھے۔ تین مراحل پر مبنی صنعتی انقلاب کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بہت بڑے اضافی اخراج کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا تھا۔ ابتدا میں (1750–1850) سلطنتِ برطانیہ لپیٹ میں آئی، پھر جرمنی، امریکہ، اور باقی یورپ متاثر ہوا، اور پھر جاپان (1850–1980)، اورآخر میں چین، بھارت، اور برازیل(1980–
2050)۔ آخری مرحلے کی ابتدا میں، بیسویں صدی کے وسط میں، طبیعات کے سائنس دانوں نے یہ جانا کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ میں یہ افزونی زمین کی حدت میں اضافہ کردے گی۔
تاہم چند ہی ماتھوں پر بَل آئے۔ ابھی مجموعی اخراج کی شرح کافی کم تھی، لیکن ا کثر سائنس دان ماحولیات کو ناگزیر طور پر برباد ہوتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ 1960ء کی دہائی میں اکثر یہ کہا جاتا تھا کہ ’’آلودگی کا حل ’پانی میں حل ہونا‘ ہے‘‘۔ جیسے جیسے زمین پرآلودگی مزید بڑھی، نمی میں انجذاب کی گنجائش ختم ہوئی، اشیاء بدلنا شروع ہوگئیں۔ چند کیمیائی عوامل انتہائی طاقتور اثرات مرتب کرنے لگے، اور انتہائی کم ارتکاز پر بھی ان کی شدت قائم رہی، جیسے آرگینوکلورین انسیکٹی سائیڈز (organo chlorine insecticides)، یا کلوری نیٹڈ فلورو کاربنزوغیرہ۔آرگینوکلورین انسیکٹی سائیڈزنے ساٹھ کی دہائی میں مچھلیوں، پرندوں، اورممالیائی جانداروں میں تولیدی، پیداواری عمل متاثر کیا، افزائشِ نسل کم ہونے لگی۔ سائنس دانوں نے ستّر کی دہائی میں درست پیش گوئی کی کہ کلوری نیٹڈ فلورو کاربنز اوزون تہ ختم کردے گا۔
دیگر کئی غیر معمولی منفی اثرات انتہائی کثرت سے پیداواری عمل پر اثرانداز ہورہے ہیں، جس کی وجہ زمینی ماحولیات میں نمکیات اور تیزابی بخارات کا بہت بڑی مقدار میں اخراج ہے۔ ان میں سلفیٹ جو جلتے ہوئے کوئلے سے خارج ہوتی ہے، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین جو قدرتی ایندھن کے پھُکنے سے بنتی ہے، جنگلات کے اجڑنے سے، اور زراعت کی رائج جدید تکنیکیات سے، اور غیر معمولی پیداوار کے جدید طریقوں سے بننے والی ماحولیاتی صورت حال تباہ کُن ہوتی جارہی ہے۔
ستّر کی دہائی میں سائنس دان یہ محسوس کررہے تھے کہ انسانی سرگرمیاں زمین کی طبیعاتی اور حیاتیاتی کارگزاریوں کے نتائج پر اثرانداز ہورہی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جغرافیائی تاریخ کا عہد اینتھروپوسین زمین پرلوٹ رہا ہو۔ تاہم ان سائنس دانوں میں کوئی بھی دور اندیش نہ تھا: زیادہ تر متعلقہ تحقیق جوہری ہتھیاروں کی آزمائش اور ترقی کی ضمنی پیداوار پر تھی۔ اُن دنوں ایسے انسان کا ملنا محال تھا جو ارضیاتی حدود کا گہرائی سے مطالعہ کررہا ہو، اورکاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی زمینی اہلیت اور گنجائش کا درک رکھتا ہو۔
تاہم اس ضمن میں اتنی تحقیق ضرور ہوئی کہ ردعمل کی تحریک پیدا ہوئی۔ بڑے تحقیقی پروگرام شروع کیے گئے، ادارے بنائے گئے جو اس مسئلے کی حقیقت کو تسلیم کریں اور تحقیق کریں کہ آیا کس طرح اس گمبھیر صورتِ حال پر قابو پایا جائے۔ ثقافتی طور پر زمین کی ’حوصلہ افزائی‘ کے لیے سالانہ ارتھ ڈے منایا جانے لگا، کہ جیسے گویا ہر دن زمین کا ’دن‘ نہ ہو، اور امریکہ میں Environmental Protection Agencyکے قیام نے یہ تصور مستحکم کیا کہ ماحول کا تحفظ ہونا چاہیے۔ 1980ء کی دہائی کے آخر میں سائنس دان یہ جان چکے تھے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ارتکازات اور دیگر گیس ہاؤسز کی آلودگی کے زمینی ماحولیات، سمندروں کی کیمیائی ہیئت اور حیاتیاتی نظاموں پر مہلک اثرات مرتب ہورہے ہیں، جو ہولناک نتائج کی خبر دے رہے تھے۔ بہت سے گروہ اور افراد گرین ہاؤسز گیس کے اخراج میں کمی کی ضرورت پر شدت سے زور دینے لگے، اور توانائی کے ایسے ذرائع پر زور دینے لگے جن کا انحصار کاربن پر نہ ہو۔
مؤرخین سال 1988ء کو ’دورِ نیم تاریک‘ کا آغاز قرار دیتے ہیں۔ اس سال دنیا کے سائنسی اور سیاسی رہنماؤں نے ہائبرڈ سائنسی حکومت کی بین الحکومتی تنظیم کا فیصلہ کیا، جسے Intergovernmental Panel on Climate Change
(IPCC)کا عنوان دیا گیا۔ اس کا کام متعلقہ سائنس پر تبادلہ تحقیق و علم تھا۔ اس کا بنیادی مقصد عالمی حکومت کے ذریعے کرۂ ارض اور اُس کے حقوق کا تحفظ تھا۔ ایک سال بعد مانٹریال پروٹوکول سامنے آیا، جس کا کام اوزون کی تہ کو گھٹانے والے اجزا پر قابو پانے کی پالیسی وضع کرنا تھا، یہ پروٹوکول ماحولیاتی تحفظ کا عالمی مثالی انتظامی نمونہ ہے۔ سال 1992ء میں اس نمونے کی بنیاد پر دنیا بھر کی حکومتوں نے اقوام متحدہ کے Framework Convention on Climate Change (UNFCCC) پر دستخط کیے، تاکہ فطری ماحول پر ’’خطرناک انسانی مداخلتوں‘‘ کا جائزہ لیا جاسکے(2)۔ ایسا لگا کہ دنیا نے اس بحران کی سنگینی کا احساس کرلیا ہو، اور وہ سمجھ رہی ہو کہ بس اب یہ ’تباہ کن صورتِ حال‘ آج یا کل کی بات ہے، اور اب اس کے حل کے لیے اہم اقدامات اٹھائے جارہے ہوں۔ لیکن ہماری بدنصیبی، اس سے پہلے کہ تبدیلی کی کوئی لہر اٹھتی، معاملات الٹے قدموں پھرگئے۔ ناقدین نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں سائنسی بے یقینی بہت زیادہ ہے، اس بے یقینی کی بنیاد پرگرین ہاؤسز گیسوں کے اخراج کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جاسکتا، اور اس ضمن میں کوئی بھی کوشش ضرورت سے زائد ہوگی، سرمایہ ضائع ہوگا۔ ابتدا میں مٹھی بھر لوگوں نے یہ دلیل قائم کی، تقریباً یہ سبھی امریکہ کے لوگ تھے۔ کچھ ملکوں نے کوشش کی، مگر امریکہ کو عالمی تعاون کا حصہ بننے پر قائل نہ کرسکے۔ دیگر قوموں نے امریکی بے حسی کو ہی اپنے لیے جواز بنالیا، اور اپنی آلودگی پر بھی توجہ نہ کی۔
یوں ہزاریے کے اختتام تک موسمی تبدیلی کے خدشات سے انکار عام ہوچکا تھا۔ امریکہ میں بشمول صدر، ارکانِ کانگریس اور دیگر سیاست دانوں نے یہی مؤقف اختیار کیا۔ یورپ میں، آسٹریلیا اور کینیڈا میں، ’’بے یقینی‘‘ کا پیغام مشتہر کیا گیا، صنعت کار اس مہم کے روحِ رواں تھے، بینکرز بھرپور معاون تھے۔ اس دوران غیر صنعتی اقوام میں بھی موسمی تبدیلی کے خطرات سے انکار کا دوسرا ورژن سامنے آیا، اُن کی دلیل یہ تھی کہ ’موسمی تبدیلی کا خطرہ‘ اُن کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے ظاہر کیا جارہا ہے (وہ سمجھتی تھیں کہ جو تھوڑے بہت گرین ہاؤسز بھی اُن کے ہاں کام کررہے ہیں، یہ اُنھیں بھی بند کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ یہ پہلے ہی عالمی موسم کی تبدیلی میں کوئی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کررہے)۔
تاہم ایک قابلِ توجہ استثنا ہے۔ مثال کے طور پر چین نے چند اہم اقدامات اٹھائے ہیں، اپنی آبادی میں نظم وضبط قائم کیا ہے، اور معیشت کونان کاربن بنیادوں پر مستحکم کیا ہے، نان کاربن ذرائع توانائی اختیار کیے ہیں۔ مغرب میں بہ مشکل ہی ان اقدامات پرکوئی توجہ دی گئی ہے، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اہلِ مغرب نے چین کی کوششوں کو ’ڈرامائی طور پر پھیلتی ہوئی معیشت، اور دھویں کے بڑے پیمانے پر اخراج کا ردعمل‘ قرار دیا ہے، یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ نئے نان کاربن ذرائع سے توانائی حاصل کرنا چین کی مجبوری ہے۔
جب واضح ہوا کہ سن 2050ء تک چین کے اقدامات دھویں کے اخراج میں تیزی سے کمی لے آئیں گے، تو دیگر قوموں نے چین کے پیچھے چلنا شروع کیا۔ اب یہاں سے تاریخ نے پھر سے گنتی شروع کردی۔ لیکن جیسا کہ اکیسویں صدی کے ابتدائی برسوں تک ’فطری ماحولیات میں انسانی مداخلتوں‘ کا سلسلہ جاری تھا… جنگلوں کی آگ، سیلاب، طوفان، گرمی کی لہریں شدت اختیار کرتی چلی گئیں، اور اُس وقت تک بھی یہ خطرات کسی شمار میں نہ تھے۔ اس حقیقت کا انکار کرنے والے اب بھی یہی اصرار کررہے تھے کہ موسمی شدتیں محض فطری تغیر پذیری کا نتیجہ ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ مگر یہ دعویٰ بے ثبوت ہے۔ جو اس تلخ حقیقت سے لاتعلق تھے، اُنھوں نے زندگی ویسی ہی جاری رکھی کہ جیسی وہ چل رہی تھی، وہ لاشعوری کیفیت ہی میں رہے۔ ماہرینِ طبیعات ان قدرتی آفات کے مطالعات میں اس ’’حقیقت‘‘ سے انکار کے قابل نہ رہے تھے، مگر وہ مبہم دلائل کی گتھی میں اُلجھ گئے تھے، کہ آیا کس طرح اکا دکا واقعات کو اس ’’خوفناک عالمی حقیقت‘‘ سے نسبت دیں۔ یقیناً انسانی تمدن کو خطرہ کسی ایک سیلاب یا طوفان سے نہ تھا، بلکہ عالمی موسم میں غیر معمولی خطرناک تبدیلیوں سے تھا، اس کے نمونوں اور سرد خطے پر اثرات، اور بڑھتی ہوئی سمندری تُرشی سے تھا۔ لیکن سائنس دان جن کی تربیت بطور ماہرینِ موسمیات ہوئی ہے، واضح پہلوؤں پر توجہ مرکوز کیے رہے۔ یہ سامنے آیا کہ سرد علاقے ہوں، یا جہاں زندگی پوری آب وتاب سے موجود ہے، یا پھرآبی خطے ہوں، یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ ’’موسمی تبدیلی‘‘ کے وسیع نمونے کی مربوط وضاحت کیسے کی جائے۔ سال 2009ء کو مغربی تمدن کو بچانے کی کوششوں کے لیے ’آخری بہترین موقع‘ کے طور پر دیکھا گیا۔ کوپن ہیگن ڈنمارک میں عالمی رہنما ملے، اور موسمی تبدیلی روکنے کے لیے عالمی قوانین کے اطلاق پراتفاق کیا۔ دو سال قبل سائنس دان خبردار کرچکے تھے کہ فطری ماحول میں انسانی مداخلتیں بالکل واضح ہوچکی ہیں، اور رائے عامہ سے یہ بھی سامنے آچکا تھا کہ امریکہ سمیت دنیا بھر کے لوگ بڑی تعداد میں ’’ایکشن‘‘ چاہتے تھے۔ تاہم رہنماؤں کی ملاقات سے کچھ دیر قبل ایک بہت بڑی مہم چلائی گئی جس میں سائنس دانوں کی تحقیق تحقیر کی نذر کردی گئی۔ اس مہم پر فوسل فیول کارپوریشنز نے سرمایہ کاری کی تھی، جن کا سالانہ منافع اکثر ملکوں کی جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہے۔ چنانچہ ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف ’’ایکشن‘‘ کی عوامی خواہش ہوا میں تحلیل ہوگئی۔
اس دوران موسمی تبدیلیاں شدت اختیار کرتی چلی گئیں۔ سن 2010ء میں ریکارڈ توڑ گرمی پڑی، روس میں پچاس ہزار سے زائد لوگ گرمی کی لہر سے مرگئے، اور جنگلوں میں لگنے والی آگ سے پندرہ ارب ڈالر مالیت کے نقصانات ہوئے۔ اگلے سال آسٹریلیا میں شدید سیلابی سلسلے سے ڈھائی لاکھ سے زائد انسان متاثر ہوئے۔ سال 2012ء میں… وہ سال جسے امریکہ میں ’’بغیر سردیوں کا سال‘‘ قراردیا گیا… درجہ حرارت خاصا تشویش ناک رہا۔ اس سال گرمی کی ریکارڈ لہریں چلیں، مویشی بڑی تعداد میں ہلاک ہوئے، اور زراعت برباد ہوئی۔ اس سے بھی زیادہ سال 2023ء میں مسلسل گرمی کی پیش گوئی کی گئی ہے کہ جب دنیا بھر میں پانچ لاکھ اموات کا خدشہ ہے، اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ پانچ سو ارب ڈالر مالیت کی فصلیں اورمویشی گرمی اور جنگلوں میں آگ لگنے سے ختم ہوجائیں گے۔ تاہم سیاسی، مذہبی، اور کاروباری قیادتیں اس ممکنہ تباہی سے انکاری ہیں۔ ماحول پر زیادہ سے زیادہ گرمی کے اثرات کا مطلب زیادہ سے زیادہ توانائی کی بربادی ہے۔ بہت بڑے بڑے طوفان اور قحط ہمارے منتظر ہیں۔ یہ بہت سادہ حقیقت ہے، مگر آلِ’’عہد ِروشن خیالی‘‘ پر جہل کے سائے چھائے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہم جانتے ہیں کہ ’دور نیم تاریک‘ آچکا ہے۔
یہ بالکل واضح ہے کہ اکیسویں صدی کی ابتدا میں ہی، فوری طور پر ’’زیروکاربن‘‘ دنیا کی تخلیق کے لیے اقدامات اٹھائے جانے چاہیے تھے۔ مگرشومئی قسمت، اس کے بالکل برعکس ہوا ہے۔ اب جب کہ توانائی کے متبادل ذرائع ڈھونڈنے کی ہنگامی ضرورت ہے، دنیا بھرمیں گرین ہاؤسز آلودگی بڑھ گئی ہے۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ جو کچھ ہم اس نازک تاریخی موڑ پر جانتے ہیں، اُسے سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
حواشی
1) گو کہ یہ کتاب سن 2014ء میں لکھی گئی، لیکن لگتا یوں ہے کہ حسبِ حال ہے۔ یقیناً اس کتاب کے مصنفین کورونا وائرس کی وبا اور اُس کے عالمی اثرات سے واقف نہ تھے، مگر مغربی اقوام نے کورونا بحران کا جس بے بسی سے سامنا کیا ہے، اُس کا بخوبی اندازہ کرچکے تھے۔ اس کتاب کی موزونیت آج زیادہ متاثر کن ہے، اور ممکنہ طور پر طویل عرصہ قائم رہے گی۔
2)واضح رہے کہ فطرت میں مجموعی طور پر یا جزوی طور پر انسانی ٹیکنالوجی یا کسی بھی قسم کی مصنوعی پیداوار کے نامعلوم اور مہلک اثرات کسی بھی شعبۂ زندگی میں اچانک یوں سامنے آتے ہیں، یا آسکتے ہیں، کہ جس طرح ’بائیولوجی‘ میں کورونا وائرس وارد ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بیماریوں کی کئی ایسی اقسام ہیں جن کے اسباب اور علاج حتمی طور پر واضح نہیں ہیں۔ فطرت میں انسانی مداخلتوں (خدائی تخلیق میں بگاڑ) ہی کا نتیجہ ہے کہ پوری معلوم کائنات میں صرف ’’زمین‘‘ ہے جہاں زندگی غیر فطری، مہلک، اور نقائص سے بھرپور ہوچکی ہے، جبکہ باقی معلوم کائنات میں کہیں کوئی جھول، خرابی، یا بے ترتیبی نظر نہیں آتی، جیسا کہ اللہ رب العالمین قرآن میں بارہا توجہ دلاتا ہے کہ دیکھو کائنات کی تخلیق میں کہیں کوئی نقص نظر آتا ہے؟ جہاں تک نظر جاتی ہے، دوڑاؤ، کہیں کسی بے ترتیبی کا نشان تک نہ ملے گا۔ زمین پر ’’تباہی‘‘ کی تمام تاریخ انسانی مداخلتوں اور سرکشی کی سرگزشت ہے، اور زمین پر ’’نعمت‘‘ کی تمام تاریخ اللہ کی دین ہے، اور سب سے بڑی نعمت دینِ اسلام ہے، جس کے ساتھ ہی اللہ نے انسانوں پر اپنی ’’نعمت‘‘ تمام کردی ہے۔ انسان اس ’کامل نعمت‘‘ سے جتنا استفادہ کرے گا، ’’تباہی‘‘ کے خدشات اُتنے ہی کم ہوں گے۔

Share this: