افغانستان پر سوویت یونین کا قبضہ

Print Friendly, PDF & Email

نواب اکبر بگٹی سے یادگار مکالمہ

۔27دسمبر 1978ء کی ایک یخ بستہ رات تھی، میں ممتاز صحافی مرحوم عزیز بھٹی (نمائندہ نوائے وقت)کے ساتھ پریس کلب کوئٹہ میں سیاسی گپ شپ کررہا تھا اور چائے کا دور چل رہا تھا۔ اُن دنوں پریس کلب میں عصر کے بعد سینئر صحافی آجاتے تھے، ایک کمرے میں تاش کی بازی اور دوسرے کمرے میں شطرنج کا کھیل چل رہا ہوتا تھا۔ یہ ماضی کا خوبصورت پریس کلب تھا۔ بھٹی مرحوم سے جب ملاقات ہوتی تو وہ چائے ضرور پلاتے تھے اور پھر بعض سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال ہوتا۔ اُس رات ہم خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ ٹی وی میں دھماکہ خیز خبر جاری ہوئی کہ سوویت یونین افغانستان میں داخل ہوگیا ہے۔ سرخ فوج بگرام ائیرپورٹ پر اترنا شروع ہوگئی تھی اور درہ سالانگ سے ٹینک اور بھاری اسلحہ کابل میں داخل ہورہا تھا۔ اُس وقت افغانستان کا صدر حفیظ اللہ امین تھا، جس کا تعلق پرچم پارٹی سے تھا۔ اُس نے اپنے استاد نور محمد ترہ کئی کو موت کے گھاٹ اتار کر صدارتی محل پر قبضہ کرلیا تھا۔ نور محمد ترہ کئی کا تعلق خلق پارٹی سے تھا۔ خلق اور پرچم کی کشمکش شخصیات اور نظریات کے حوالے سے چل رہی تھی۔ اس کشمکش اور تصادم نے افغانستان کو تباہ کردیا تھا اور یہ دونوں سوویت یونین کے لیے دردِ سر بنے ہوئے تھے، اس لیے برژنیف نے افغانستان میں مداخلت کا فیصلہ کرلیا۔ یوں سرخ فوج افغانستان میں داخل ہورہی تھی اور ماسکو میں سردار دائود اور برژنیف کے درمیان مذاکرات ہورہے تھے کہ دونوں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ اور شدید جھڑپ ہوئی، جس کا نتیجہ افغانستان میں سردار دائود کا تختہ الٹنے کی صورت میں نکلا، انہیں کمیونسٹوں نے بڑی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا اور جیل سے نور محمد ترکئی کو نکال کر تختِ کابل پر بٹھا دیا۔
جب یہ خبر سنی تو دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ بے شمار خدشات ذہن میں اٹھ رہے تھے۔ طبیعت بے چین ہوگئی تھی۔ بھٹی مرحوم سے اجازت لی اور پیدل گھر کی جانب چل پڑا۔ خیالات کا ایک ہجوم تھا جو ذہن کو گھیرے ہوئے تھا۔ گھر انسٹی ٹیوٹ روڈ پر تھا۔ محمد خان مری میرے پیچھے آرہا تھا، اُس نے قریب آکر آواز دی اور مجھے رکنا پڑا۔ اس نے کہا کہ آپ کو خبر ہوگئی کہ روس افغانستان میں داخل ہوگیا ہے اور یہ بہت بری خبرہے۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ ایک اچھی خبر ہے۔ وہ حیرت سے میری طرف دیکھنے لگے اور کہا کہ شادیزئی صاحب یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں! ان سے کہا کہ روس کو افغانستان میں شکست ہوگی۔ اس پر وہ حیران ہوگئے اور میری طرف دیکھنے لگے۔ ان سے مکرر کہا کہ روس کو شکست ہوگی۔ محمد خان نے کہا آپ سنجیدہ ہیں؟ ان سے کہا کہ ہاں۔ پھر انہوں نے کہا کہ امان صاحب آپ سیاسی شخص ہیں، آپ اچھے تجزیہ نگار ہیں، لیکن آپ کی یہ بات میری سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ روس کو شکست ہوگی۔ ان سے کہا کہ انتظار کریں۔ وہ حیرت سے مجھے دیکھتے ہوئے رخصت ہوگئے۔ وہ رات میرے لیے بہت بھاری تھی۔ پریشان تھا، کمیونسٹوں کے طریقہ واردات سے واقف بھی تھا کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ دوسرے دن کے اخبارات اس خبر سے بھرے پڑے تھے۔ افغانستان اور سوویت یونین کی دوستی کا یہ ڈراپ سین تھا۔
29 دسمبر کو نواب بگٹی سے ملنے چلاگیا۔ اُس وقت رات کے 8 بجے ہوں گے۔ زندگی بھی عجب حادثات اور اتفاقات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ نواب کے خلاف 1973ء میں تقریر کی اور مجھ پر بغاوت کا مقدمہ بنا۔ پھر دسمبر 1973ء میں نواب سے سیاسی تعلقات بن گئے اس لیے ان سے بے تکلفی تھی۔ نواب کا قیدی تھا اور دسمبر تک ان سے سیاسی یارانہ بن گیا۔
افغانستان میں سرخ فوج کا داخل ہونا اور قبضہ کرنا بہت بڑی خبر تھی۔ پاکستان میں سرخ مداخلت کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔ میں اس ذہنی کشمکش میں بگٹی ہائوس پہنچا تھا۔ ملازم نے نواب کو اطلاع دی، کچھ دیر بعد بگٹی ہائوس کا دروازہ کھلا اور میں اندر داخل ہوگیا۔ چند لمحوں بعد نواب بگٹی کمرے میں داخل ہوئے۔ وہ سفید کھدر کا لباس پہنے ہوئے تھے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی انہوں نے مجھ سے کہا ’’ملاّ مبارک ہو، آپ کے دوست افغانستان میں داخل ہوگئے، آپ تیاری کرلیں۔‘‘ یہ گفتگو ابھی کھڑے کھڑے ہورہی تھی، ان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی اور خوشی ان کے چہرے سے ٹپک رہی تھی۔ میں نے ان سے کہا: نواب صاحب میں تو فٹ پاتھ کا آدمی ہوں، روس کو ڈھونڈنے میں کچھ وقت لگے گا اور مقابلہ کروں گا، لیکن آپ اپنا بتائیں، آپ نواب ہیں، کمیونسٹ انقلاب آیا تو آپ مجھ سے پہلے مارے جائیں گے، آپ اپنا بندوبست کرلیں۔
ابھی ہم دونوں کے درمیان نوک جھونک چل رہی تھی کہ وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے شمال کی جانب دیوار کے ساتھ ایک بڑے گائو تکیہ پر بیٹھ گئے۔ وہ بہت زیادہ خوش تھے۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ میں اُن سے کیا کہنے والا ہوں۔ البتہ مجھے اندازہ تھا کہ نواب کا کیا ردعمل ہوگا۔ کھانے کے لیے دستر خوان بچھ گیا تھا۔ اب وہ تھوڑا پُرسکون ہوگئے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ نواب صاحب یہ افغانستان ہے، کوئی چیکوسلواکیہ اور ہنگری نہیں ہے، افغانستان میں روس کو شکست ہوگی، آپ انتظار کریں۔ میرا یہ کہنا ان کے لیے غیر متوقع تھا، ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ میں اُن سے کیا کہنے والا ہوں۔ نواب صاحب کے چہرے سے مسکراہٹ لمحوں میں غائب ہوگئی، چہرہ کھنچ گیا اور نگاہیں شعلہ بار لگ رہی تھیں۔ جوکچھ کہا تھا اُسے سنتے ہی وہ پھٹ پڑے اور انتہائی غصے سے میری طرف دیکھا اور کہا:۔
۔’’تم پاگل ہو، مذہبی آدمی ہو، جنونی ہو، تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے۔‘‘۔
اس دوران کھانا لگ گیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کھانا کھائو۔ میں نے دوبارہ پھر کہا کہ نواب صاحب روس کو افغانستان میں شکست ہوگی۔ اُن کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا اور انہیں الفاظ نہیں مل رہے تھے۔ مجھ سے کہا کھانا کھائیں۔ اب انہوں نے انگریزی میں کہا RUBBISH، کھانا کھائو باتیں مت کرو۔ فضا سخت کشیدہ ہوگئی تھی۔ انہوں نے بھی خاموشی اختیار کرلی اور میں بھی خاموش ہوگیا۔ کچھ دیر بعد نواب صاحب پُرسکون ہوگئے تھے، انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ انہوں نے کیا کچھ کہہ دیا تھا۔ کھانے کے بعد کہا کہ چائے پیو گے یا کافی؟ ان سے کہا: کافی۔ کافی پینے کے بعد میں وہاں سے رخصت ہوگیا۔
کوئی 5 سال بعد ان کے پوتے براہمداغ کی ایک تقریب میں ان سے ملاقات ہوئی۔ ان کے قریب گیا اور کہا: نواب صاحب اب آپ کی کیا رائے ہے؟ تو وہ خاموش ہوگئے۔ نواب بگٹی شہید سے پورے دس سال اس مسئلے پر بحث ہوتی رہی۔ نواب صاحب کو اندازہ ہوگیا تھا کہ روس بازی ہار رہا ہے۔ اس طرح ان کے خیالات بھی بدلنا شروع ہوگئے تھے۔
کوئی 10 سال بعد امریکی صدر ریگن اور روسی صدر برژنیف کی ملاقات مشرقی یورپ میں ہوئی اور جنگ اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر شائع ہوئی کہ دونوں نے ملاقات کی ہے اور واپسی کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ یہ بڑی اہم خبر تھی۔ موسم سرما تھا، بگٹی ہائوس پہنچا۔ مہمان خانے کا دروازہ کھول دیا گیا اور نواب صاحب کمرے میں داخل ہوگئے۔ اب ان کے چہرے پر نہ شوخی تھی اور نہ آب و تاب۔ وہ دروازے میں کھڑے تھے، میں بھی ان کے احترام میں کھڑا ہوگیا اور ان سے کہا کہ نواب صاحب خبر پڑھی ہے؟ انہوں نے چھوٹتے ہی کہا کہ روس بھاڑی ہوگیا ہے، بے غیرت ہوگیا ہے۔ ان سے کہا کہ آپ مانتے ہیں کہ روس کو شکست ہوگئی ہے؟ انہوں نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ مانتا ہوں روس کو شکست ہوگئی ہے۔ کل میں پریس کانفرنس کروںگا۔ اور دوسرے دن انہوں نے پریس کانفرنس کی۔
جب سوویت یونین بکھرنا شروع ہوا تو نواب نے ایک دن مجھ سے کہا کہ ہمارا خیال تھا کہ ضیاء الحق پاکستان کو توڑ دے گا، لیکن اس نے روس کو توڑ دیا۔
جب سوویت یونین افغانستان میں داخل ہوگیا تھا تو بھارت کے ممتاز صحافی ’’راجندر سین‘‘ نے پاکستان کے ممتاز سیاست دانوں اور جنرل ضیاء الحق سے انٹرویو لیے اور انہیں کتابی شکل میں شائع کیا۔ کتاب کا نام تھا PAKISTAN- The Indian Factor۔ اس میں 24 ممتاز سیاست دانوں کے انٹرویو ہیں۔ ان سب نے افغانستان کے حوالے سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ ان میں جنرل ضیا الحق صدر پاکستان، وزیر خارجہ جنرل یعقوب خان، صاحب زادہ کے ایچ خورشید، غوث بخش بزنجو، ولی خان، نواب محمد اکبر خان بگٹی، جنرل نصیر اللہ بابر، میاں ممتاز دولتانہ، میاں محمود علی قصوری، سردار شیرباز مزاری، ممتاز علی بھٹو، پروفیسر غفور احمد، حمیدہ کھوڑو، معراج محمد خان، جنرل ٹکا خان، جے اے رحیم، سردار شوکت حیات خان و دیگر شامل تھے۔ اس کتاب میں قوم پرست اور بائیں بازو کے لیڈروں کے انٹرویوز کو ضرور پڑھنا چاہیے کہ وہ کس طرح سوویت یونین کے حوالے سے تجزیہ کررہے تھے۔ افغانستان میں مجاہدین کے ہاتھوں سوویت یونین کی شکست کا تصور ان کے وہم و گمان اور خواب و خیال میں بھی نہیں تھا، لیکن سرخ استعمار کو شکست ہوگئی تو ان کے سارے خیالات اور خواب خزاں کے پتوں کی طرح بکھر گئے اور ان کا کیمپ بھی بدل گیا۔ ان کا یہ ایک تاریخی یوٹرن تھا ۔
یہ ایسا موضوع ہے جس پر تجزیہ ہونا چاہیے، لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہوا۔ اس مضمون میں مختصر سا جائزہ لیا ہے۔ نواب بگٹی کا حوالہ اس لیے دیا کہ ان سے گفتگو اب ریکارڈ کا حصہ ہے۔

Share this: