اطہر علی ہاشمی مردِ درویش

Print Friendly, PDF & Email

تحریر اور گفتگو دونوں میں اپنے قارئین اور سامعین کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دینے والے سید اطہر ہاشمی زندگی کی سرحد اتنی سرعت سے عبور کرگئے کہ تاحال یقین نہیں آرہا۔ بظاہر اُن کی صحت مناسب تھی، زندگی کے معمولات بھی اپنی فطری رفتار سے چل رہے تھے۔ وہ جسارت جیسے قومی اخبار کے چیف ایڈیٹر کے طور پر اپنے فرائض بھی اس انداز میں ادا کررہے تھے کہ روزانہ باقاعدگی سے دفترآتے، کئی گھنٹے یہاں رک کر اپنے منصبی فرائض ادا کرتے، اپنا منفرد اندازکا کالم ’’خبر لیجے زباں بگڑی‘‘ تحریر کرتے، اور چائے کی چسکیاں لیتے اور آنے جانے والوں پر خوبصورت مزاحیہ جملوں کی پھوار کرتے ہوئے گھر لوٹ جاتے۔ اُن کے بڑے بیٹے حماد ہاشمی کے بقول وہ پیر کے روز ڈیوٹی کرکے رات دیر گئے گھر لوٹے۔ منگل کے روز طبیعت میں کچھ بے چینی تھی چنانچہ دفتر سے دو روز کی چھٹی لے لی۔ دفتر کے ساتھی انور صاحب نے خیر خیریت معلوم کرنے کے لیے فون کیا تو انہیں کہہ دیا کہ اِن شاء اللہ دو دن بعد یعنی جمعرات کو دفتر آجائیں گے۔ یہ کراچی میں طوفانی بارشوں کے دن تھے، حبس بھی زیادہ تھا، اس لیے دل کی تکلیف کے باعث طبیعت میں بے چینی بڑھ گئی۔ چنانچہ انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں جمعرات کی صبح وہ اُس دفتر کے لیے روانہ ہوگئے جہاں سب کو پہنچ کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ البتہ روزنامہ جسارت کے ساتھی انتظار ہی کرتے رہ گئے۔
جناب اطہر ہاشمی اپنی وضع قطع، شکل و شباہت اور چال ڈھال سے بوڑھے تو ہرگز نہیں لگتے تھے، 74 سال کی عمر میں بھی اُن کے ظاہری خدوخال بوڑھوں جیسے بالکل نہیں تھے۔ کام کا انداز بھی اعتماد کے ساتھ جوانوں جیسی توانائی کی چغلی کھاتا تھا۔ صرف سر اور داڑھی کے سفید بال انہیں جوان ماننے میں مانع رہتے۔ تاہم جب وہ اداکار لہری کی طرح اپنے چہرے پر کوئی مزاحیہ تاثر دیے بغیر ہلکے پھلکے جملے اچھالتے، مزاح اور ظرافت سے پُر باتیں کرتے اور اہلِ مجلس پر طنز و مزاح کی پھوار پھینکتے تو جوانِ رعنا لگتے۔ سب کی خواہش ہوتی کہ وہ بولتے رہیں اور سب سنتے رہیں۔ مگر وہ سمجھدار انسان تھے، کم بولتے اور تشنگی چھوڑ کر آگے بڑھ جاتے۔ اس عارضی زندگی کے معاملے میں بھی انہوں نے ایسا ہی کیا۔ زندگی کی جلتی ہوئی سگریٹ کا ایش اچانک ایک جھٹکے سے جھاڑا اور موت کی وادی میں نکل گئے۔
اطہر ہاشمی صاحب سے میری ملاقاتیں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے دو سالہ مندوبین کے اجلاس میں ہوتیں۔ غالباً 2016ء میں بی ڈی ایم کے لیے وہ اسلام آباد تشریف لائے تو جمعہ کا دن تھا۔ سینیٹ میں قائدِ ایوان راجا ظفرالحق نے مہمان صحافیوں کے اعزاز میں ظہرانہ دے رکھا تھا۔ کھانے کے بعد سب لوگ سینیٹ کے دفاتر دیکھنے میں مصروف تھے، جبکہ مرکزی ہال کے باہر اطہر ہاشمی بے نیازی سے کھڑے تھے۔ چند منٹ میں ہی صحافیوں کا جھرمٹ اُن کے گرد جمع ہوگیا۔ وہ تھوڑے تھوڑے وقفے سے ایک آدھ جملہ پھینکتے توسب لوٹ پوٹ ہوجاتے۔ ان تین روزہ اجلاسوں کے دوران انھوں نے کارروائی میں تو زیادہ مداخلت نہ کی البتہ اپنے دائیں بازو بیٹھے مندوبین کو طنزومزاح کے تیروں سے گھائل ضرور کرتے رہے۔
میری کبھی کبھار فون پر بات ہوتی تو نہایت شفقت اور محبت سے فون سنتے۔ مصروفیت کے باوجود دلچسپی اور اپنائیت کے ساتھ گفتگو کرتے۔ بہت سے معاملات خصوصاً زبان و بیان کے معاملے میںکمال مہربانی سے رہنمائی کرتے۔ ہر بار اپنے ہلکے پھلکے مزاحیہ جملوں سے ماحول خوشگوار رکھتے۔ اُن کی گفتگو میں ہمیشہ علمیت اور بزلہ سنجی موجود ہوتی۔ ان ہی ملاقاتوں سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ بھارتی صوبہ یوپی کے مردم خیز ضلع مظفر نگر کے کسی قصبے سے والدین کے ہمراہ ہجرت کرکے پہلے بھاولپور اور پھر لاہور آئے۔ (تاہم ان کی اہلیہ محترمہ نے وضاحت کی ہے کہ مرحوم کا آبائی وطن رسیلے آموں کی سرزمین سہارنپور کا قصبہ راجو پور تھا، شاید آموں کا یہی رسیلا پن ان کی گفتگو اور تحریر دونوں میں آگیا تھا) لاہور سے انہوں نے میٹرک کیا، اور گلبرگ میں رہتے ہوئے ایف سی کالج سے انٹر اور بی اے پاس کیا۔ جس کے بعد ان کا خاندان کراچی منتقل ہوگیا، جہاں کراچی یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم اے کرنے کے بعد ہاشمی صاحب ایم فل کے لیے اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد چلے گئے۔ یہاں قیام کے دوران وہ شعبۂ تدریس سے وابستہ رہے اور 1978ء میں واپس کراچی آکر روزنامہ جسارت سے وابستہ ہوگئے۔ اسی دوران اُن کی شادی ہوگئی اور اللہ نے انہیں تین بچے حماد، فواد اور صارم عطا کیے۔
اطہر ہاشمی اپنی بزلہ سنج طبیعت کے ساتھ مزاجاً درویش منش انسان تھے۔ نہ انہیں مال و زر کی خواہش تھی اور نہ شہرت کی ہوس۔ چنانچہ زندگی بے نیازی کے ساتھ گزار دی۔ نجانے وہ جدہ جانے پر کیسے راضی ہوگئے تھے جہاں وہ اردو نیوز جدہ کے بانیوں میں شامل تھے۔ پاکستان واپس آئے تو پھر جسارت اور فرائیڈے اسپیشل میں آبیٹھے۔ لیکن اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور محنت کے باعث اس قومی اخبار کے ایڈیٹر انچیف کے عہدے پر اپنی آخری سانس تک فائز رہے۔ اُن کی موت پر قومی رہنمائوں، صحافتی کارکنوں، صحافی تنظیموں کے علاوہ کونسل آف نیوز پیپرز ایڈیٹرز نے جس انداز میں تعزیت کی ہے وہ یقیناً اُن کی بخشش کا ذریعہ بنے گی۔ وہ کسی اخبار کے مالک نہیں تھے لیکن مالکانِ اخبارات کی تنظیم اے پی این ایس نے اُن کے انتقال پر مختلف قومی اخبارات میں جو تعزیتی اشتہارات شائع کیے ہیں وہ عامل صحافیوں کے حصے میں کم کم ہی آتے ہیں۔
اطہر ہاشمی کی ذات میں کچھ خوبیاں ایسی اکٹھی ہوگئی تھیں جن کی وجہ سے وہ حلقۂ یاراں اور گروہِ دشمناں دونوں میں بہت مقبول اور قابلِ قبول تھے۔ وہ نظریاتی طور پر ایک کمٹڈ انسان تھے لیکن ان کی پیشہ ورانہ دیانت اور صحافتی اخلاقیات کی پاسداری ان کے احترام میں اضافے کا باعث بنی۔ ان کی بزلہ سنجی، حسِ مزاح اور ظریفانہ طنز ان کی گفتگو اور تحریر دونوں میں نمایاں تھے۔ ان کی بے نیازی کا یہ عالم تھا کہ پاکستان کے کئی قومی اخبارات کے مالکان نے انہیں بار بار پُرکشش آفرز کیں، مگر وہ اپنے ہی کھونٹے سے جڑے رہے۔ صحافت میں اردو زبان کے لیے فکرمند رہنے والے وہ آخری لوگوں میں شامل تھے۔ زبان و بیان کے درست استعمال، زبان کی اصلاح، تذکیروتانیث اور محاوروں کی درستی پر وہ اتھارٹی کا درجہ رکھتے تھے۔ یہ مشکل اور جاں گسل کام وہ طویل عرصے سے ہلکے پھلکے انداز میں کررہے تھے اور آخری وقت تک کرتے رہے۔ بقول محمد طاہر لفظوں کے جسموں میں اتر کر گنجینۂ معانی تلاش کرنا کوئی آسان کام تو نہیں۔ مگر یہ کام وہ پوری ذمہ داری اور انہماک سے مسلسل کرتے رہے۔ اس کھردرے کام میں انہوں نے مزاح کی آمیزش کرکے اسے پڑھنے والوں کے لیے آسان اور دلچسپ بنادیا تھا۔ اردو زبان سے دلچسپی رکھنے، خصوصاً صحافت میں درست زبان کے استعمال پر زور دینے والے انہیں استاد کا درجہ دیتے تھے۔ ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کے آخری صفحے پر شائع ہونے والا اُن کا کالم مجھ جیسے بہت سے لوگ سب سے پہلے پڑھتے تھے۔ فرائیڈے اسپیشل 31 جولائی تا 6 اگست کے شمارہ نمبر 31 میں اُن کے آخری کالم کا ایک پیرا ملاحظہ فرمائیے۔
پیر 27 جولائی کے ایک اخبار کے اداریے میں ’’معمول کی گشت‘‘ پڑھا۔ یعنی اداریہ نویس کے خیال میں گشت مونث ہے۔ ہم تو اسے مذکر ہی کہتے اور لکھتے رہے ہیں۔ مونث تو گشتی ہوتی ہے جو اچھی نہیں سمجھی جاتی۔ اور پنجاب میں بطور گالی استعمال ہوتی ہے۔ دوسری طرف گشتی مراسلہ اور گشتی سفیر بھی عام ہے۔ اداریہ نویس نے گشت کو مونث لکھا ہے تو خیال آیا کہ شاید یہی صحیح ہو چنانچہ لغات سے رجوع کیا۔ یہ فارسی کا لفظ ہے اور فیروز اللغات نے اسے مطلق مونث لکھا ہے۔ تاہم نوراللغات نے وضاحت سے کام لیا ہے اور مونث، مذکر دونوں کو صحیح قرار دیا ہے۔ اس لغت کے مطابق گشت بول چال میں تذکیر کے ساتھ ہے لیکن جلال اور جلیل مانکپوری نے مونث لکھا ہے۔ بطور مذکر شوق قدوائی کا شعر ہے:

دیا ہے گشت اس نے دھوم سے میرے جنازے کو
غرض یہ ہے کہ سارے شہر میں تشہیر ہوجائے

(حوالہ: فرائیڈے اسپیشل)

اللہ اس مردِ درویش کی مغفرت فرمائے جوصحافت میں دیانت کے علاوہ صحافتی اور معاشرتی اخلاقیات پر ساری زندگی قائم رہا۔ زبان کی اصلاح کے لیے آخری دم تک کوششیں کرتا رہا اور دوستوں اور قارئین کے حلقوں کو اپنی آخری سانسوں تک ذہنی و فکری غذا ظریفانہ وقار کے ساتھ فراہم کرتا رہا۔ کل من علیہافان

Share this: