بلوچستان: طالب علم حیات بلوچ کا قتل

Print Friendly, PDF & Email

قاتل کی گرفتاری، مقدمہ درج، قاتل کا اعترافِ جرم

بلوچستان کے ضلع کیچ (تربت) میں 13اگست 2020ء کو آبسر کے علاقے میں فرنٹیئر کور کے ایک اہلکار نائیک شادی اللہ نے بہیمانہ طور پر فائرنگ کرکے ایک طالب علم حیات بلوچ کو قتل کردیا۔ فرنٹیئرکور حکام نے قاتل کو چند ہی گھنٹوں میں متعلقہ پولیس تھانے کے حوالے کردیا، جس پر قتل اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔ پولیس تفتیش اور دیگر کارروائی پوری ہونے کے بعد ملزم ایف سی اہلکار کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ اب مقدمہ چلے گا، یعنی فیصلہ تربت کی سیشن کورٹ کے سپرد ہوچکا ہے۔ یقیناً مقتول حیات بلوچ کا خاندان کیس کی پیروی کرے گا۔ مقتول کے والد مرزا نے تھانے میں شناخت پریڈ میں ملزم کی شناخت بھی کرلی۔20 اگست کو ملزم نے خود بھی جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اعترافِ جرم کرلیا ہے۔ ملزم نے پولیس کو تفتیش میں بیان دیا کہ وہ دو حملوں میں پہلے بھی زخمی ہوچکا ہے۔ یاد رہے کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں بالخصوص مکران میں تعینات ایف سی اہلکاروں پر اس نوعیت کے پے درپے حملے ہورہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں مکران میں اس طرز کے حملوں میں ایک میجر سمیت درجن سے زائد اہلکار جاں بحق ہوچکے ہیں۔ چناں چہ اس واقعے کی تفصیل یہ ہے کہ 13اگست کے دن فرنٹیئر کورکی گاڑی پر بم حملہ ہوا جس کے نتیجے میں تین اہلکار زخمی ہوگئے۔ دھماکے کے بعد اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کی اور قریب کھجور کے باغ میں مشتبہ افراد کے تعاقب میں گھس گئے۔ حیات بلوچ اس وقت اپنے بوڑھے والد اور والدہ کے ساتھ باغ میں ہاتھ بٹانے میں مصروف تھا۔ اہلکار اسے پکڑ کر باغ سے باہر سڑک پر لے آئے۔ حیات بلوچ کے والدین پیچھے پیچھے فریاد و التجائیں کرتے رہے، لیکن اس اہلکار نے بوڑھے والدین کے سامنے جواں سال حیات پر گولیاں برسادیں جس سے وہ موقع پر ہی چل بسا۔
اس واقعے کے خلاف رفتہ رفتہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لوگوں نے بولنا شروع کیا۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں اور ملک کے دیگر شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ غرض یہ واقعہ افواج اور ریاست کے خلاف استعمال ہوا۔ سینیٹ آف پاکستان، بلوچستان اسمبلی اور سندھ اسمبلی میں مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین خوب بولے۔ متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے اور قاتل اہلکارکو سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ لکھاریوں نے برابر لکھا۔
حیات بلوچ کراچی یونیورسٹی میں شعبہ فزیالوجی میں بی ایس فائنل ایئر کا طالب علم تھا اور کورونا کی وجہ سے چھٹیوں پر اپنے آبائی علاقے آیا ہوا تھا۔ انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور (سائوتھ) میجر جنرل سرفراز علی اور دوسرے حکام کے ساتھ مقتول کے گھر گئے۔ پیش ازیں ایس ایس پی تربت نجیب اللہ پندرانی نے واقعے سے متعلق ذرائع ابلاغ کو تفصیلات بتائیں۔ ان کے ساتھ مقتول کے بھائی، چچا اور علاقے کے دوسرے معتبرین بھی موجود تھے۔ غرض آئی جی ایف سی نے متاثرہ خاندان کو ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ واضح رہے کہ واقعہ ذرائع ابلاغ پر رپورٹ ہونے سے پہلے ہی ایف سی نے ملزم اہلکار کو پولیس کے حوالے کردیا تھا۔ فرنٹیئر کور بلوچستان ساؤتھ کے ترجمان کی جانب سے بدھ19اگست کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے ایف سی اہلکار کو فائرنگ کے فوری بعد باقی اہلکاروں نے قابو کرلیا اور اس سے اسلحہ قبضے میں لے لیا۔ بنیادی محکمانہ تفتیش کے بعد آئی جی ایف سی کے حکم پر ملزم اہلکار کو دو گھنٹے کے اندر ہی خود پولیس کے حوالے کیا گیا۔
دیکھا جائے تو حیات بلوچ کے قاتل وہ لوگ اور گروہ بھی ہیں جن کی پُرتشدد سیاست اور کارروائیوں نے صوبے کو امن کے مسئلے سے دوچار کر رکھا ہے۔ 14اگست سے پہلے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دھماکے ہوئے۔ کہیں پاکستان کے جھنڈے فروخت کرنے والے اسٹال اور دکانیں، اور کہیں فورسز بم دھماکوں کا نشانہ بنیں۔ حیات بلوچ کے قتل کے سانحے سے ایک دن قبل (12اگست) کوئٹہ کے بروری روڈ پر جھنڈے فروخت کرنے والی دکان پر دستی بم حملہ کیا گیا جس سے پانچ افراد زخمی ہوئے، ایک دس سالہ بچے محمد مدثر مینگل کے جسم میں بھی دستی بم کے پرزے پیوست ہوئے، اور وہ خالقِ حقیقی سے جاملا۔ یہ بچہ قرآن پاک حفظ کررہا تھا، کلی حسنی بروری کا رہائشی تھا، بلوچوں کے قبیلے مینگل سے اس کا تعلق تھا۔ والد خان محمد خود بھی حافظِ قرآن ہیں۔ لیکن اس بارہ سالہ معصوم بلوچ کو کسی نے یاد نہیں کیا، نہ اس کے قاتلوں پر طعن و تشنیع ہوئی، نہ مظاہرہ ہوا، نہ پلے کارڈز پر مذمت کے الفاظ تحریر کیے گئے، نہ کسی لکھاری کو اس بم دھماکے کی بھنک پڑی، نہ کسی نے اس بچے کے قتل کے سوگ و یاد میں موم بتیاں روشن کیں۔ حالانکہ 14اگست سے پہلے صوبے میں دہشت گردی کے جتنے بھی واقعات ہوئے وہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ترجمان جیئند بلوچ نے دھڑلے سے قبول کیے۔ حتیٰ کہ 12اگست کا دھماکا بھی تسلیم کرلیا جس میںاس معصوم بلوچ بچے کی جان گئی۔
یاد رہے کہ چمن میں 10 اگست کو اینٹی نارکوٹکس فورس کی گاڑی ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کا نشانہ بنی جس میں اے این ایف کے ایک اہلکار سمیت 6افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے۔ واقعے کے خلاف چمن، کوئٹہ شہر، علی الخصوص صوبے کے مختلف پشتون علاقوں میں مظاہرے ہوئے۔ ان تمام مظاہروں میں سرے سے ایسا تاثر ملا ہی نہیں کہ دہشت گردوں کی مذمت کی جارہی ہو۔ گویا ملبہ یا الزام ریاست یا سیکورٹی فورسز پر ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ جبکہ یہ واقعہ افغانستان میں بیٹھے پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں میں سے ایک جماعت الاحرار نے قبول کیا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دراصل اس دورنگی اور تضادات کی حامل سیاست، صحافت اور انسانی حقوق کے جانب دارانہ دعووں نے بھی بلوچستان کو مسائل سے دوچار کیے رکھا ہے۔

Share this: