چوہے دان

Print Friendly, PDF & Email

ایک چوہے نے دیوار میں ایک چھید میں سے کسان اور اُس کی بیوی کو ایک پیکٹ کھولتے دیکھا۔ وہ سوچنے لگا کہ خدا جانے اس میں کھانے کی کیا نعمت ہوگی؟ لیکن اس کو سخت پریشانی اُس وقت ہوئی جب اس نے دیکھا کہ وہ ایک چوہے دان تھا۔
وہ باڑے میں واپس گیا اور منادی کردی:
’’گھر میں چوہے دان آگیا ہے! گھر میں چوہے دان آگیا ہے!‘‘
مرغ نے ککڑوں کوں کہا اور اپنے پَر کھجائے، اور سر اونچا کرکے کہا:
’’چوہے صاحب، میں یہ بتا سکتا ہوں کہ آپ کے لیے یہ ایک بہت خطرناک بات ہے، مجھے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، نہ ہی یہ میرے لیے کسی پریشانی کا باعث ہے‘‘۔
چوہا بکرے کے پاس گیا اور اسے بتایا:
’’گھر میں چوہے دان آگیا ہے! گھر میں چوہے دان آگیا ہے!‘‘
بکرے نے بھی لفظی ہمدردی جتائی لیکن کہا:
’’چوہے صاحب، مجھے بہت افسوس ہے، لیکن میں اس سلسلے میں کچھ نہیں کرسکتا۔ ہاں، میں آپ کے بارے میں سوچوں گا ضرور‘‘۔
تب چوہا گائے کے پاس گیا اور کہا:
’’گھر میں چوہے دان آگیا ہے! گھر میں چوہے دان آگیا ہے!‘‘
گائے نے جواب دیا:
’’اوہ، چوہے صاحب یہ بات قابلِ افسوس ضرور ہے لیکن میرے لیے کسی پریشانی کی وجہ نہیں ہوسکتی‘‘۔
تب چوہا گھر کے اندر واپس گیا، سر جھکائے اور بے حد اداس، کسان کے چوہے دان سے اکیلے ہی نپٹنے کے لیے۔ اسی رات کو ایک زوردار آواز گھر میں سنائی دی، چوہے دان کی آواز جیسے اس میں کوئی شکار پھنس گیا ہو۔ کسان کی بیوی تیزی سے گئی یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا شکار پکڑا گیا؟ رات کے اندھیرے میں وہ یہ نہیں دیکھ سکی کہ وہ ایک زہریلا سانپ تھا جس کی دُم چوہے دان میں پکڑی گئی تھی۔ سانپ نے کسان کی بیوی کو کاٹ لیا اور کسان اسے فوراً ہی اسپتال لے گیا۔ گھر واپس لانے پر اسے بخار چڑھ گیا۔
ہر شخص جانتا ہے کہ بخار کا علاج مرغ کے تازہ بنائے ہوئے شوربے سے کیا جاتا ہے، اس لیے کسان نے چاقو لیا اور باڑے میں جاکر شوربے کے لیے مرغ کو ذبح کر ڈالا، لیکن بیوی کی بیماری جاری رہی۔ دوست، احباب اور پڑوسی عیادت اور دن و رات تیمارداری کے لیے آئے، اور اب ان کی ضیافت کے لیے اسے بکرے کو ذبح کرنا پڑا۔ کسان کی بیوی روبہ صحت نہیں ہوسکی اور فوت ہوگئی۔ اس کے جنازے پر اور تدفین کے لیے اتنے دوست، احباب اور رشتہ دار آئے کہ کسان کو ان سب کی ضیافت کے لیے گائے کو ذبح کرنا پڑا۔
چوہا اپنے چھید سے یہ سب دیکھتا رہا اور بہت زیادہ افسردہ ہوا۔
پس، اب اگر آپ کو معلوم ہو کہ کوئی شخص کسی پریشانی میں مبتلا ہوگیا ہے اور آپ سوچتے ہیں کہ وہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے تو یاد رکھیے، جب ہم میں سے کسی ایک کو خطرہ درپیش ہوگا تو ہم سب کے لیے بھی وہ خطرہ باعثِ پریشانی ہوسکتا ہے۔ ہم سب ساتھ شامل ہیں زندگی کے اس سفر میں، ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے اور ایک دوسرے کی بروقت مدد اور ہمت افزائی کے لیے کوشاں رہنا چاہیے۔ ہر اُس شخص کو جس نے آپ کی کبھی مدد کی ہے، بتایئے کہ وہ آپ کے لیے کتنا اہم ہے۔ یاد رکھیے، ہم میں سے ہر شخص ایک دوسرے کی ذات کے منقش مشجر کے ایک اہم اور قیمتی دھاگے کی مانند ہے۔ ہماری زندگیاں آپس میں گندھی ہوئی ہیں… کسی خاص وجہ سے۔ اس دنیا میں سب سے افضل شئے ہے ’’دوست‘‘ جسے ہمیشہ عزیز رکھیے۔

Share this: