برق النساء ہماری

Print Friendly, PDF & Email

نازک مزاج ہے یہ برق النساء ہماری
جاتے ہی اس کے چلنے لگتی ہے دل پہ آری
ہم فون پر برس لیں یا دیں کہیں پہ دھرنا
بے سُود ہے ہماری جتنی ہو آہ و زاری
کر لیجیے خوشامد یا منت و سماجت
اک بے حسی ہے رکھتی خود پر سدا یہ طاری
اس کے ہی دَم سے جاری ہے کاروبارِ دنیا
اور اس کا روٹھ جانا، پڑتا ہے سب کو بھاری
کوشش تو کی بہت ہے دل اس کا جیتنے کی
لیکن کسی بھی حیلے سے ہو سکی نہ یاری
طوفان ہو یا آندھی یا خوشگوار موسم
رکھتی ہے سلسلہ یہ ناز و ادا کا جاری
اس سے بنا کے رکھنے کا ہے بس اک طریقہ
ہو برق کے محکمے میں اپنی رشتہ داری
بل اس کا ہے بظاہر کاغذ کا ایک ٹکڑا
کر جاتا یہ ہڑپ ہے تن خواہ اب تو ساری
ہے یوں تو نور افشاں، کام اس کا ہے مبارک
لیکن ہے یہ عفیفہ فطرت میں اپنی ناری

Share this: