اخلاقی بحران کا عروج

Print Friendly, PDF & Email

ہر گزرتا دن پاکستان کی قومی زندگی میں ایک نئے بحران کی خبر لاتا ہے۔ سیاسی بحران، اقتصادی بحران، سماجی بحران… غرض زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جہاں سے خیر کی کوئی خبر آتی ہو۔ اگر ہم غور کریں تو ہر قسم کے بحران کی جڑ اخلاقی ہے۔ ایک وقت وہ تھا کہ قومی زندگی اور اس کی قیادت کی ناکامی نے پوری قوم کو غیروں کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا تھا۔ دورِ غلامی کے بعد ایک سے زاید مفکروں نے مسلمانوں کے عروج کے، زوال میں بدل جانے کے اسباب کا جائزہ لیا اور پستی سے ابھرنے کی انفرادی اور اجتماعی جدوجہد کے مناظر سامنے آئے۔ دورِ غلامی میں سیاسی واقتصادی زوال کے باوجود اخلاقی جرائم میں مبتلا ہونے والے لوگوں کی تعداد بہت کم تھی۔ المیہ یہ ہے کہ آج جبکہ ہم آزاد ہیں اور تہتر واں یوم آزادی گزار چکے ہیں جرائم کے تناسب میں اضافہ ہورہا ہے۔ جرائم کے اضافے کی وجہ سے ملک کا کوئی خطہ ایسا نہیں ہے جو محفوظ ہو۔ مجرمانہ ذہنیت میں اضافے کا کیا سبب ہے؟ قومی، ملّی اور سیاسی بیانیے سے یہ موضوع غائب ہے۔ آخر جب وہ وقت آیا کہ برطانوی سامراج برصغیر سے نکلنے پر مجبور ہوا تو ملّی قیادت نے مسلمانوں کی الگ مملکت کا مطالبہ کیا، اس لیے کہ مسلمانوں کو اپنی تہذیب کے تحفظ اور اپنے ایمان اور عقیدے کے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے آزاد اور خودمختار ملک کی ضرورت تھی۔ اس مطالبے کے بعد پشاور سے کلکتہ تک ’’بٹ کے رہے گا ہندوستان… بن کے رہے گا پاکستان۔ پاکستان کا مطلب کیا… لاالٰہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ گونجنے لگا۔آزادی حاصل ہوگئی لیکن سیاسی نظام اور ریاستی ادارے نوآبادیاتی دور کا تسلسل تھے۔ نوآبادیاتی دور کے تعلیم یافتہ قائدین نے قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی پاکستان کے اصل نصب العین کو متنازع بنانا شروع کردیا، جس کا نتیجہ آج تک بحران در بحران کی صورت میں برآمد ہورہا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے ہی انگریزوں کے غلاموں نے قومی اور ملّی آزادی کو دوبارہ نئی غلامی میں مبتلا کرنے کے لیے اعلانیہ اقدامات اور خفیہ سازشوں کا آغاز کردیا تھا۔ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح تو قیام پاکستان کے ایک برس بعد ہی اِس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کے جانشین اور ساتھی پہلے وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خان کا قتل خفیہ سازشوں کا تسلسل تھا۔ لیاقت علی خان کو دن دہاڑے راولپنڈی میں جلسہ عام میں قتل کردیا گیا۔ پنڈی سازش کیس بھی خفیہ سازشوں کی ایک علامت ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کو اس کی اصل سمت سے دور کرنا تھا۔ اس لیے کہ دستور سازی سے قبل لیاقت علی خان کی سربراہی میں دستور ساز اسمبلی قراردادِ مقاصد کی صورت میں پاکستان کی نظریاتی سمت اور منزل کا فیصلہ کرچکی تھی، لیکن برطانوی سامراج کے پروردہ مغرب زدہ وارثوں کو ملّی نصب العین قبول نہیں تھا۔ یہاں تک کہ ایوب خان کے فوجی انقلاب نے جبرو استبداد کے سیاسی نظام کو مسلط کردیا تاکہ ملّی جذبے کو اپنی نکاسی کے لیے آزادانہ راستہ نہ مل سکے۔ جبر و استبداد کے نظام میں اقتدار پرست اور دولت پرست عناصر طاقتور ہوتے ہیں۔ مفاد پرستوں کے عروج نے پاکستانی معاشرے کو اخلاقی طور پر زیرو زبر کردیا۔ اصول پرست عناصر جو جبرو استبداد سے مفاہمت نہیں کرسکتے تھے وہ کمزور ہوگئے۔ آج اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بدعنوان اور رشوت خور عناصر ہی نہیں بلکہ جرائم پیشہ عناصر بھی طاقتور ہوگئے ہیں۔ آزادی کے تہترویں سال میں قومی منظرنامہ یہ ہے کہ جمہوری آزادی کے فریب کے پردے میں بھی جبر و استبداد کی حکمرانی ہے۔ یہ نظام نہ اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کر تا ہے، نہ ان کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرسکتا ہے، نہ مجرموں کو سزا دے سکتا ہے۔ جرائم پیشہ افراد اتنے طاقتور ہوگئے ہیں کہ آج چھوٹی چھوٹی معصوم بچیاں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ معاشرے میں ایسے سفاک عناصر کی اتنی کثرت ہوگئی ہے کہ جس کا ماضی میں تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ برطانوی سامراجی دور کے ایک افسر نے اپنی ایک تحریر میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ چوری اور قتل جیسے اخلاقی جرائم میں مسلمان بہت کم مبتلا ہوتے ہیں، لیکن آج یہ عالم ہے کہ خونیں رشتے بھی اعتماد کے قابل نہیں رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال نظام کی ناکامی بھی ہے، سیاسی اور ذہنی قیادت کی ناکامی بھی ہے، ریاست اور اس کے اداروں کی بھی ناکامی ہے۔ حالانکہ مسلمان کا انفرادی و اجتماعی نصب العین اپنے رب کی رضا ہے۔ یہ منزل اُس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک اصلاحِ سیرت و کردار نہ ہو۔ یہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ مسلمان ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ معلوم کرے کہ اسے اِس دنیا میں کیوں بھیجا گیا ہے۔ رضائے الٰہی کی منزل دنیا میں منصفانہ نظام کے قیام کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔ اسی مقصد کے لیے نبوت کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارت دی تھی کہ ایک وقت آئے گا جب ایک عورت عراق سے تنہا سونا اچھالتے ہوئے سفر کرے گی اور اسے خدا کے سوا کسی کا خوف نہیں ہوگا۔ ایک وقت آئے گا جب لوگ زکوٰۃ دینے کے لیے نکلیں گے اور کوئی وصول کرنے والا نہیں ہوگا۔ اس مقصد کے لیے مسلمانوں کی تربیت ضروری ہے۔ یہ تربیت ایمان اور عقیدے سے حاصل ہوتی ہے، لیکن جب کسی قوم کے حکمران بگڑ جاتے ہیں تو قوم ان سے بھی زیادہ بگڑ جاتی ہے۔ ایک طرف ظالمانہ اور استحصالی نظام ہے جو طاقتوروں کا محافظ ہے، دوسری طرف بدعنوانی اور رشوت خوری ہے۔ طاقتور طبقات میں اخلاقی رول ماڈل کا فقدان ہے۔ شرافت اور نیکی کو کمزوری اور بے بسی کا عنوان قرار دے دیا گیا ہے۔ نیکی غیر منظم اور کمزور ہے جب کہ برائی اور ظلم کی طاقتیں منظم ہیں۔ اس صورتِ حال نے اجتماعی جدوجہد کرنے والے عناصر کو بھی مایوس کردیا ہے۔ حالانکہ اللہ کا حکم یہ ہے کہ ہر حالت میں اجتماعی حق اور صبر پر قائم رہو، اور دوسروں کو بھی اس پر قائم رہنے کی تلقین کرتے رہو۔ جب تک حکمرانی پر ایسے لوگ نہیں ہوں گے جو اپنے آپ کو قوم کا خادم سمجھیں اور قوم کی اخلاقی تربیت بھی اپنی ذمے داری سمجھیں اُس وقت تک حالات کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔ لیکن ظاہر ہے جو خود بدعنوان اور مجرموں کے سرپرست ہوں وہ اخلاقی اصلاح کیسے کرسکتے ہیں!

Share this: