ترکی کی پہلی فلائنگ کار نے اوّلین تجرباتی پرواز کامیابی سے مکمل کر لی

Print Friendly, PDF & Email

ترکی کی قومی ڈرون کمپنی بائیکار کی ملّی امکانات سے تیار کردہ اور ترکی کی پہلی فلائنگ کار ”جزیری“ نے ابتدائی تجرباتی پروازیں کامیابی سے مکمل کرلی ہیں۔ جزیری کی تجرباتی پروازیں 11 ستمبر بروز جمعہ شروع ہوئیں۔ یہ کار ترک انجینئروں کی ڈیزائن کردہ ہے اور 230 کلو گرام کے اوّلین پروٹوٹائپ کے ساتھ تجرباتی پروازوں میں کار نے 10 میٹر کی بلندی پر پرواز کی۔ فلائنگ کار کے بارے میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بائیکار کے تکنیک منیجر سلجوق بائراکتار نے کہا ہے کہ آئندہ دنوں میں ہم زیادہ ترقی یافتہ پروٹوٹائپ تیار کریں گے اور انسان کے ساتھ پرواز کریں گے۔ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ مستقبل میں جزیری فلائنگ کار فضائی رسل و رسائل میں بنیادی تبدیلیاں لائے گی۔ گاڑی کا ڈیزائن مسافر اور کارگو رسل و رسائل میں فعال کردار ادا کرسکنے سے ہم آہنگ شکل میں تیار کیا گیا ہے۔
بجلی سے اڑنے والی اور تین اسمارٹ فلائنگ سسٹمز کی حامل جزیری کو آرٹی فیشل انٹیلی جنس سسٹمز سے لیس کیا جائے گا۔گاڑی کے 100 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑنے ، 200 میٹر کی بلندی تک جانے اور ایک گھنٹے تک فضا میں رہ کر 70 سے 80 کلو میٹر تک کا فاصلہ طے کرنے کا ہدف رکھا کیا گیا ہے۔

واٹس ایپ کا بڑا فیچر دستیابی کے لیے تیار

واٹس ایپ میں اس فیچر کی آزمائش ایک سال سے زیادہ عرصے سے ہورہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بہت جلد صارفین کو بیک وقت کئی ڈیوائسز پر اپنے اکاؤنٹ کو استعمال کرنے کی سہولت مل سکے گی۔
واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والی سائٹ WABetaInfo نے اس حوالے سے مزید تفصیلات شیئر کی ہیں جس کے مطابق یہ فیچر آزمائش کے حتمی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ اس فیچر میں مین ڈیوائس کو واٹس ایپ ویب کی طرح متحرک انٹرنیٹ کنکشن کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔ آسان الفاظ میں اگر فون آپ کے پاس موجود نہ ہو تو بھی واٹس ایپ اکاؤنٹ کو ویب یا دیگر ڈیوائسز میں استعمال کرنا ممکن ہوگا بالکل فیس بک میسنجر کی طرح۔ اس فیچر کو لنکڈ ڈیوائسز کا نام دیا جائے گا اور واٹس ایپ کی جانب سے ملٹی ڈیوائس سپورٹ کے لیے ڈیسک ٹاپ ورژن کا نیا یوزر انٹرفیس بھی متعارف کرایا جائے گا۔ ایپ میں یہ فیچر صارف اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ سے نئی ڈیوائس سے منسلک کرسکیں گے جبکہ لنکڈ ڈیوائسز کی فہرست بھی دیکھ سکیں گے۔ یہ فیچر اس وقت اینڈرائیڈ کے بیٹا ورژن میں موجود ہے جس میں یہ ملٹی ڈیوائس بیٹا کے نام سے ہے۔تاہم ملٹی ڈیوائس سپورٹ فیچر کے دوران سب فیچرز لنکڈ ڈیوائسز میں دستیاب نہیں ہوں گے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق چیٹ ہسٹری syncing، اسٹارنگ/ ڈیلیورنگ میسجز اور میوٹنگ چیٹس جیسے فیچر دستیاب ہوں گے۔ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ اس فیچر کو کب تک متعارف کرایا جاسکتا ہے، اس میں چند دن یا مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔ بیٹا ورژن میں فیچر کی آزمائش کے بعد اسے متعدد تبدیلیوں کے ساتھ عام صارفین کے لیے جاری کیے جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اس وقت صارف صرف ایک موبائل فون میں لاگ ان ہوسکتا ہے اور کمپیوٹر ویب براؤز پر ویب ورژن پر استعمال کرسکتا ہے، مگر اس کے لیے موبائل ڈیوائس کا قریب ہونا ضروری ہے۔ اگر صارف کسی دوسرے فون میں اپنا اکاؤنٹ استعمال کرنا چاہے تو نئے سرے سے سائن اِن کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔

کورونا :عالمی ادارہ صحت نے جڑی بوٹیوں سے علاج کی آزمائش منظور کرلی

عالمی ادارئہ صحت میں ماہرین کے ایک پینل نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ روایتی افریقی دواؤں کی آزمائش شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اعلان ہفتے کے روز اس ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت میں روایتی طب (ٹریڈیشنل میڈیسن) کی علاقائی کمیٹی نے یہ منظوری دی ہے جس کے تحت ان روایتی نباتاتی ادویہ (ہربل میڈیسنز) کے ’’فیز تھری کلینکل ٹرائلز‘‘ یعنی تیسرے مرحلے کی طبّی آزمائشوں کا طریقہ کار (پروٹوکول) بھی طے کرلیا گیا ہے۔ امید ہے کہ ان آزمائشوں کا سلسلہ بھی جلد ہی شروع ہوجائے گا۔
نہ صرف افریقہ بلکہ ایشیا میں بھی ایسی درجنوں روایتی ادویہ ہیں جنہیں کووِڈ 19 کے علاوہ دوسری کئی بیماریوں کا مؤثر توڑ سمجھا جارہا ہے۔ تاہم جب تک ان دواؤں کی افادیت باقاعدہ سائنسی آزمائشوں (فیز تھری کلینکل ٹرائلز) سے ثابت نہ ہوجائے، تب تک انہیں کووِڈ 19 کے علاج کے لیے تجویز نہیں کیا جاسکتا۔ خود عالمی ادارہ صحت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ میڈیکل سائنس میں حالیہ انقلابی ترقی کے باوجود آج بھی دنیا میں 60 فیصد افراد علاج معالجے کے لیے قدیم و روایتی طریقوں پر ہی انحصار کرتے ہیں۔

Share this: