عرب اور اسرائیل

Print Friendly, PDF & Email

المیۂ فلسطین ماضی، حال اور مستقل کے آئینے میں

(چھٹا حصہ)

اپاہج اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی حالیہ بحثوں سے یہ بھی ظاہر ہے کہ اسرائیل کی جارحانہ کامیابی کے باوجود اُس کے پرانے ساتھی یعنی فرانس اور برطانیہ بھی اُس کے رویّے سے بیزار نظر آتے ہیں، صدر ڈیگال تو باربار یہ کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کو اپنی جارحانہ کامیابیوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ 15 جون کو ایک بیان میں انہوں نے عرب اسرائیل جھگڑے کے بارے میں اپنی سرکار کی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ فرانسیسی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ کسی بھی ملک کو اس بات کی اجازت ہرگز نہیں ہونی چاہیے کہ وہ طاقت کے سہارے اپنی سرحدوں میں کوئی تبدیلی کرے۔
(گارڈین لندن اور مانچسٹر، 22 جون 1967ء)
حد تویہ ہے کہ ہر قسم کی حوصلہ افزائی کے باوجود برطانیہ بھی اسرائیل کی عریاں جارحیت پر خاموش نہیں رہ سکا۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ جارج برائون نے عام اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے منشور کی دفعہ نمبر2 کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ کوئی بھی ریاست قانون ہاتھ میں لے کر کسی بھی بہانے کسی دوسرے ملک کی علاقائی سالمیت کو مجروح کرنے والا کوئی قدم اٹھانے کا حق نہیں رکھتی۔ آگے چل کر برائون نے نہایت ہی واضح الفاظ میں اسرائیل کو تنبیہ کی کہ وہ یروشلم کے بارے میں کوئی ایسا قدم اٹھانے سے گریز کرے جس سے منشور کی اس دفعہ پر حرف آنے کا اندیشہ ہو۔ ’’میں نہایت سنجیدگی کے ساتھ اسرائیل سرکار سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر انہوں نے پرانے شہر کو اپنی مملکت میں شامل کرنے کی کوشش کی تو اس سے نہ صرف دنیا کی رائے عامہ ان کے خلاف ہوجائے گی بلکہ وہ اپنے دوستوں کی حمایت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے‘‘۔
(ہیرالڈ ٹربیون، 29 جون 1967ء)
یہی بات برائون نے عام اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے 27 ستمبر کو دہرائی تھی۔ مگر اس کے باوجود ’’دوستوں‘‘ کی حمایت بھی جاری ہے اور اسرائیلی جارحیت کا خونیں ڈراما بھی۔
اسرائیلیوں کی اسی توسیع پسندی کے خلاف اقوام متحدہ دو ریزولیوشن بھی منظور کرچکی ہے، لیکن اسرائیل پر عالمی رائے عامہ کی طرف سے کی گئی اس زبردست مذمت کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ نے جلدی سے تین نام نہاد قوانین پاس کردیئے، ان میں انضمام کے لفظ کے بجائے دوبارہ اتحاد کا پُرفریب لفظ استعمال کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی بیت المقدس میں صدیوں سے رہنے والے ہزاروں مسلمان اور عیسائی عربوں کو ان کے گھروں سے نکال کر ان کے مکانوں پر سڑکیں بنانے کے لیے بلڈوزر پھیر دیا گیا۔ ’’حالات اس قدر ناقابلِ برداشت ہوگئے کہ پوپ پال ششم کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ایک اپیل کرنے پر مجبور ہونا پڑا کہ یروشلم کی بین الاقوامی حیثیت کو برقرار رکھا جائے۔ لڑائی شروع ہونے سے کچھ ہی دن پہلے پوپ نے ایک پیغام میں زور دیا تھا کہ اگر بدقسمتی سے لڑائی ہوئی، حالانکہ ہم تہِ دل سے دعاگو ہیں کہ ایسا نہ ہو، تو یروشلم کو ایک کھلا شہر قرار دیا جائے، جسے کوئی بھی فریق متنازع نہ سمجھے‘‘۔
(گارڈین، 6 جون 1967ء)
لیکن اسرائیلی لیڈروں نے اب ایک نیا ہی نعرہ گھڑلیا ہے، وہ یہ کہ یروشلم اسرائیل ہی کا حصہ ہے۔ بڑی ہیکڑی کے ساتھ وہ کہہ رہے ہیں کہ یروشلم کو اپنا دارالحکومت بنائے رکھنے کے لیے وہ جنگ تک کرنے کو تیار ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ دو ہزار سال پہلے یروشلم اُس زمانے میں قائم مملکتِ اسرائیل کا دارالحکومت تھا۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ دلیل مان لی گئی تو پھر دنیا کا ایک نیا ہی نقشہ بنانا ہوگا جس میں ہر ایسے شہر کو متنازع سمجھا جائے گا جس پر کبھی نہ کبھی کسی دوسرے ملک کا قبضہ رہا ہو، یا ایک سے زیادہ مذہبوں کے لیے اہمیت رکھتا ہو۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اسرائیل میں موجود کُل 65 سفارت خانوں میں سے 33 نے یروشلم کو دارالحکومت کے طور پر قبول نہیں کیا‘‘۔

ہٹلر کے گرو

اسرائیل کے وزیراعظم نے صاف لفظوں میں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ دیوارِ گریہ کے آس پاس کے علاقے کو ڈھاکر وہاں پر حضرت سلیمانؑ کا وہ معبد بنوائیں گے جس کی آخری نشانی یہ دیوار ہی رہ گئی ہے۔ یاد رہے کہ یہودی راہبوں نے پرانے معبدِ سلیمانی کا جو ماڈل بنایا ہے اس میں وہ علاقے بھی آتے ہیں جہاں پر اس وقت مسجدِ اقصیٰ، گنبدِ خضریٰ اور مسجدِ عمرؓ واقع ہے۔ یہی نہیں بلکہ قدامت پسند یہودیوں کا یہ اعتقاد رہا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کے عین درمیان میں کہیں پر دنیا کا مقدس ترین مقام واقع ہے۔ اسرائیل کا ہر رہنما بار بار یہ قسم کھا چکا ہے کہ وہ اس مقدس مقام کی عظمت کو بحال کرکے رہے گا۔ اسرائیلی دعووں کے مطابق یہ ’’عظمت‘‘ مسجدِ اقصیٰ کو مسمار کیے بغیر بحال نہیں ہوسکتی۔
جناب ظفر پیامی نے اپنے ایک مضمون (9 اگست 1967ء) میں عربوں پر اسرائیلی مظالم کی تفصیلی داستان یوں بیان کی ہے:
’’اسرائیلیوں نے یہ کام یروشلم پر قبضے کے ساتھ ہی شروع کردیا تھا۔ اخبار لندن ٹائمز کے نامہ نگار کے مطابق اسرائیلی قبضے کے تین گھنٹے بعد ہی اس سارے علاقے کے عربوں کو اپنے گھروں سے نکلنے کا حکم دے دیا گیا۔ جن کے گھر مسجد اقصیٰ اور یہودی یروشلم (1948ء میں اسرائیل نے حملہ کرکے یروشلم کے بیرونی حصے پر قبضہ کرلیا تھا حالانکہ اقوام متحدہ نے اس کی بھی مناہی کی تھی) کے درمیان آتے تھے ان مکانوں کو ڈائنامائٹ سے اڑا کر اب ہموار کردیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ ہزاروں عربوں کو یہ کہہ کر گھروں سے باہر پھینک دیا گیا ہے کہ ان کے مکان 1948ء سے پہلے یہودیوں کے تھے۔ اپنی اس درندگی کے دوران عورتوں اور بچوں کو اسرائیلی حملہ آوروں نے خاص طور پر نشانہ بنایا۔ امریکی رسالہ نیوز ویک (17جون 1967ء) کے اسرائیلی نامہ نگار کے ایک خبرنامہ میں بتایا گیا ہے کہ نامہ نگار اپنے ایک امریکی ساتھی صحافی کی لاش حاصل کرنے یروشلم کے بڑے اسپتال میں گیا، یہ نامہ نگار لڑائی کے دوران اتفاقیہ مارا گیا تھا۔ وہاں پر جو منظر اُس نے دیکھا وہ اُس نے اس طرح بیان کیا ہے: ’’عیسائی مشنریوں کے اس اسپتال میں یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ انسان زیادہ ہیں یا مکھیاں۔ بستروں پر ہی کیا منحصر، برآمدے کے فرش تک زخمیوں سے بھرے ہوئے تھے، ان میں زیادہ تر غیر فوجی تھے، ان سب کو آگ لگانے والے نیپام بم کے زخم آئے تھے، مُردہ خانے میں لاشیں یوں پٹی پڑی تھیں جیسے سات منزلہ مکان کا ملبہ ہو۔ اسپتال کے انچارج نے جو ایک امریکی راہب تھا، مجھے بتایا کہ ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ مرنے والوں کے چند آخری لمحے نسبتاً آسان بنادیں، ورنہ یہ سب مر جائیں گے۔ وہیں پر میں نے ایک نوجوان لڑکی کو دیکھا جس کے گلے میں صلیب تھی اور جو چار عرب بچوں کے اوپر ’’پر‘‘ پھیلائے یوں بیٹھی ہوئی تھی جیسے ایک فاختہ چیلوں سے اپنے بچوں کی حفاظت کررہی ہو، اسپتال کے انچارج نے بتایا کہ یہ اندھی لڑکی ایک مقامی راہبہ تھی اور بچے ایک مقامی اسکول کے طالب علم۔ سب ہی عین یہیں پر اسرائیلی بموں کا شکار ہوئے تھے‘‘۔
اسرائیل نے جس اردنی علاقے پر قبضہ کیا تھا اس میں تقریباً بارہ لاکھ عرب آبادی ہے۔ اسرائیل کی اپنی یہودی آبادی ہے صرف بیس لاکھ، اور عرب آبادی ہے 3 لاکھ، گویا اگر یہ عرب آبادی بھی اسے مل جائے تو ’’نئے اسرائیل‘‘ کی عرب آبادی پندرہ لاکھ ہوجائے گی، جسے اسرائیل کے حکمراں ایک خطرناک تناسب سمجھتے ہیں، اس لیے ان کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ عربوں کو وہاں سے نکال کر یہودیوں کو بسا دیا جائے۔
اس کے لیے ہر طرح کے حیلوں، بہانوں اور مظالم کا سہارا لیا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر اسرائیلی قبضے کے فوراً بعد انہوں نے پچاس ہزار آبادی والے ایک خوب صورت قصبے قلقلیہ کو توپوں اور ڈائنامائٹ سے یہ کہہ کر اڑا دیا کہ وہاں کبھی اردنی توپ خانہ تھا۔ ڈھٹائی کی حد یہ ہے کہ اپنے اس جرم سے اسرائیل نے کبھی انکار نہیں کیا۔
اس پر دنیا کے سب سے عظیم انگریز مؤرخ پروفیسر ٹامبی کا یہ حالیہ قول یاد آتا ہے کہ ’’یہودیوں کو کبھی ہٹلر نے اپنی درندگی کا نشانہ بنایا تھا، مگر عجب ستم یہ ہے کہ وہ اس کا بدلہ اُن عربوں سے لے رہے ہیں جنہوں نے انہیں ہمیشہ باعزت طور پر رکھا ہے۔ عرب دنیا میں یہودیوں سے کبھی برا سلوک نہیں ہوا۔ لیکن یہودیوں نے عربوں پر ایسے مظالم توڑے ہیں جن کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ ان کے سامنے وہ ظلم بھی ’’انسانیت‘‘ معلوم ہوتا ہے جو ہٹلر نے یہودیوں پر کیا‘‘۔
ان ہی مظالم کی ایک داستان اسرائیلی مقبوضہ اردن کے شہر نابلس کے ایک اسکول کی طالبہ کلثوم خلیلی نے بیان کی ہے، وہ کہتی ہے: ہمارا اسکول ایک بورڈنگ اسکول تھا، جب سے لڑائی چھڑی ہم لوگ اپنی استانیوں کے ساتھ اسکول کے ساتھ جلدی سے کھودی گئی خندق ہی میں رہے، وہاں ڈھائی دن گزارنے کے بعد جب باہر نکلے تو دیکھا کہ اسکول کی عمارت اینٹوں کے ڈھیر میں بدل چکی تھی اور اسرائیلی فوجی افسر ہماری ہیڈ مسٹریس کے سامنے سنگین لیے کھڑے تھے کہ اپنی لڑکیوں کو ان کے حوالے کردے، عین اسی وقت چند غیر ملکی اخباری نمائندے ادھر آنکلے، انہیں دیکھ کر ان ظالموں کا رویہ قدرے نرم ہوگیا، انہوں نے ہم سب کو پروگرام کے مطابق قتل کرنے یا اپاہج بنانے کے بجائے (جیسا کہ وہ دوسرے اسکولوں میں کرچکے تھے) فوجی ٹرکوں میں بھر کر اردن میں ’’پھینکنے‘‘ کا حکم دے دیا۔ ہم تیس لڑکیاں تھیں، جب ہم یہاں (عمان) پہنچے تو پتا چلا کہ تین کو چھوڑ کر باقی سب کی سب یتیم ہوچکی ہیں۔
اردن میں ہر روز داخل ہونے والے یہ یتیم بچے، بیوہ عورتیں اور لاغر مرد ہر اعتبار سے بے آسرا ہیں۔ جلدی جلدی ان کے لیے خیمے لگائے جارہے ہیں، لیکن اردن کی حکومت اپنے طور پر ان کی خوراک کا بندوبست کرسکتی ہے اور نہ رہائش کا۔ جس ملک کے رقبے کے 66 فی صد حصے اور آبادی پر غیر ملکی قبضہ ہوجائے، وہ کر ہی کیا سکتا ہے! اقوام متحدہ کے کانوں پر اپنے لاڈلے اسرائیل کی خرمستیوں، اور ان بدنصیب شکاروں کے برے حال کو دیکھ کر جوں تک نہیں رینگی۔
یہی حال متحدہ عرب جمہوریہ کی طرف آنے والے مہاجروں کا ہے۔ یہاں کا مسئلہ اتنا شدید نہیں ہے کیونکہ سینائی کا صحرا خاصا غیر آباد تھا، لیکن فلسطین کے ساتھ لگنے والے چھوٹے سے علاقے غزہ میں رہنے والے تین لاکھ مہاجروں پر کیا بیتی ہے، اسے نہ قلم لکھ سکتا ہے اور نہ کان سن سکتے ہیں۔
غزہ کی یہ پٹی مرحوم فلسطین کا حصہ تھا جس کا نظم و نسق اب مصر کے پاس تھا۔ یہاں پر تقریباً پچاس ہزار مقامی لوگ اور ڈھائی لاکھ وہ مہاجر آباد تھے جو 1948ء میں اسرائیل سے نکالے گئے تھے، یہ لوگ اقوام متحدہ کی طرف سے بنائے گئے کیمپوں میں رہ کر زندگی کے دن کاٹ رہے تھے، انہی کے پاس اقوام متحدہ کی ہنگامی فوج کے ہندوستانی دستے کا کیمپ تھا، اس کیمپ کو اسرائیلی حملہ آوروں نے اپنے بزدلانہ اور وحشیانہ حملے کا شکار بناکر ہمارے تیس بہادر جوانوں اور ایک نوجوان فوجی افسر کو شہید کردیا گیا تھا۔ جن جلادوں نے اقوام متحدہ کی فوجوں کو معاف نہیں کیا، انہوں نے عربوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا ہوگا؟ سب سے پہلے انہوں نے غزہ کو پانی سے محروم کردیا۔ ’’جنہیں پانی کی پیاس ہے وہ جاکر ناصر سے مانگیں‘‘۔ اس کے ساتھ ہی سینکڑوں نوجوانوں کو توڑ پھوڑ اور دشمنانہ کارروائیوں کے الزام میں پکڑ کر سرِ بازار گولی مار دی گئی۔ ساری عرب دنیا کو خوف زدہ کرنے کے لیے اسرائیل کی یہ چال بھی تھی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ عرب علاقوں میں پہنچ کر اسرائیلی مظالم کی خوف زدہ کہانیاں بیان کریں، تاکہ آزادی کے لیے تڑپتے ہوئے عرب عوام پر اسرائیلی درندوں کا رعب بیٹھ جائے۔
اسی چال کے تحت غزہ کے ہزاروں شہریوں کو موت کی دھمکی دے کر گھروں سے نکال دیا گیا۔ صحرا کی تپتی دھوپ میں سینکڑوں معصوم بچوں، بے سہارا عورتوں اور لاغر بوڑھوں نے پانی کی ایک بوند تک لیے بغیر سینائی کے صحرا میں دم توڑ دیا۔ سینائی کے اسی راستے سے کبھی حضرت مریم بھی امن کے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے دردِزہ میں مبتلا بھوکی، پیاسی گزری تھیں۔ تاریخ بڑے ظالم طریقے سے اپنے آپ کو دہرا رہی تھی۔
اسرائیلی درندوں کی ایک خاص پالیسی یہ رہی ہے کہ بچوں کو اپاہج تو کردیا جائے لیکن حتی الامکان قتل نہ کیا جائے۔ ایک اسرائیلی نامہ نگار نے اس کی عجیب و غریب وجہ بیان کی ہے، اُس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی درندے یہ سمجھتے ہیں کہ ان بچوں کو چونکہ بڑوں کی نسبت زیادہ دیر تک زندہ رہنا ہے، لہٰذا بہتر ہے کہ وہ زندہ رہیں تاکہ سالہا سال تک عربوں کو عبرت کا سبق دیتے رہیں‘‘۔
(جاری ہے)

Share this: