کشمیر پالیسی… پاکستانی حکومتوں کی کوتاہیاں

Print Friendly, PDF & Email

مقبوضہ کشمیر کے دانشور اور صحافی مرتضیٰ شبلی کے خیالات

کشمیر حکمرانوں کے لیے تو سفارتی، سیاسی یا اخلاقی مسئلہ ہوسکتا ہے لیکن پاکستانی اور کشمیری عوام کے لیے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، ان کی اس سے جذباتی وابستگی میں بہت سی درپردہ کوششوں کے باوجود کوئی کمی نہیں آسکی ہے، کشمیر میں جب بھی مظالم بڑھتے ہیں پاکستانی عوام تڑپ اٹھتے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی تازہ لہر، بھارتی حکومت کے غیر انسانی اقدامات، انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور ان پر پاکستان کے سابق اور موجودہ حکمرانوں کی پالیسیاں 5 اگست 2019 ء سے مسلسل زیر بحث ہیں، چنانچہ اس گمبھیر، نازک اور سلگتے ہوئے موضوع پر گفتگو کے لیے مولانا ظفر علی خان فکری فورم نے کشمیری نژاد دانشور اور صحافی جناب مرتضیٰ شبلی کو اظہارِ خیال کی دعوت دی۔ صحافیوں، دانشوروں اور ماہر اساتذہ کے اس فورم میں گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ شبلی کا کہنا تھا کہ پاکستانی سیاست دان اور صحافی بھارت کی پالیسیوں کو ایک شخص کی پالیسی کے تناظر میں دیکھتے ہیں، جبکہ بھارت مسلسل ایک ہی پالیسی پر گامزن ہے، وہ پورے کشمیر پر قبضے کے بعد پاکستان کے لیے پانی کے مسائل پیدا کرنا چاہتا ہے۔ مرتضیٰ شبلی جنھوں نے ابتدائی تعلیم مقبوضہ کشمیر میں حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم لندن سے حاصل کی، اور جدوجہدِ آزادی سے وابستہ رہے، پھر برطانیہ کی شہریت حاصل کرلی، لاہور میں شادی ہوئی۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ کے وقت ان کی والدہ سری نگر میں تھیں، بہت کوشش کرکے ان کے لیے ویزا حاصل کیا، آج کل وہ بھی لاہور میں ہیں۔ انھوں نے کشمیر کی موجودہ صورت حال اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا جائزہ لیتے ہوئے اسے غیر مستحکم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر میں اور بھارتی مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کررہا ہے، اپنی سوچی سمجھی پالیسی کے مطابق کررہا ہے، لیکن پاکستان کی طرف سے اس سب کچھ کو پہلے سے جا ننے کے باوجود بروقت مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔ عام لوگوں کے علاوہ کشمیر کے معاملے میں پاکستانی اداروں کی یادداشت بھی کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔ یہاں حکومتی ذمہ دار اداروں کو بھی حقائق کا پورا ادراک نہیں ہے۔کم از کم حکومتی اداروں کو سب معلوم ہونا چاہیے کہ کشمیر میں اِس وقت کیا ہورہا ہے۔ جب مودی وزیراعظم بنا تو اُس نے کھل کر بتایا کہ وہ کشمیر کے سلسلے میں کیا کرنا چاہتا ہے، لیکن اُس کی بات کا پاکستان میں کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ بھارتی انتخابات کے دنوں میں عمران خان کہتے تھے کہ مودی آئے گا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا، لیکن مودی نے اپنے اقدامات سے عمران خان کی خوش فہمی دور کردی۔ انھوں نے کہا کہ میں پرویزمشرف کی تعریف کروں گا کہ انھوں نے کم از کم کارگل سے انڈین قبضہ چھڑانے کے لیے کوشش کی تھی، لیکن پھر پاکستانی حکومت نے لائن آف کنٹرول پر بھارت کو جنگلا لگانے کا موقع فراہم کردیا۔ بھارتی حکومت اس طرح موجودہ تقسیم کا جواز فراہم کررہی تھی۔ اسے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ ابھی تک کشمیر میں پامال ہونے والے انسانی حقوق کے واقعات میں سے ایک بھی کیس پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ میں نہیں لے جایا گیا۔ یہ پاکستانی اداروں کی کوتاہیاں ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان ہمارے ساتھ نہیں۔ اگر پاکستان نہ ہوتا تو آج ہماری حالت بوسنیا کے مسلمانوں جیسی ہوچکی ہوتی۔ تاہم پاکستان میں جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی انڈیا کے ساتھ دوستی ہوسکتی ہے وہ احمقوں کی جنت میں آباد ہیں۔ بی جے پی ہی نہیں بلکہ انڈیا کی تمام جماعتوں کی یہی پالیسی رہی ہے۔ اب بھارت کی طرف سے آزاد کشمیر پر بھی قبضہ کرلینے کی جو دھمکی دی جارہی ہے میرا خیال ہے کہ پاکستان کو اسے بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ آپ کو جنگ کی تیاری کرنا چاہیے۔ اسی ایک آدھ سال میں ایک بڑی جنگ ہوسکتی ہے۔ انڈیا ایسا ضرورکرے گا۔ اس کے پاس دولت بہت ہے، وہ جدید ترین جہاز خرید رہا ہے، وہ جنگ سے نہیں رکے گا۔ موجودہ صورت حال میں پاکستان بین الاقوامی دبائو کی وجہ سے اپنے ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کرسکے گا۔
مرتضیٰ شبلی کا کہنا تھا کہ کسی ملک کا اقوام متحدہ پر انحصار کرنا سادگی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ گزشتہ پچاس برس میں اقوام متحدہ نے کسی ایک عالمی تنازعے کے سلسلے میں بھی مداخلت نہیں کی۔ اقوام متحدہ کی تنظیم محض خانہ پری کے لیے ہے۔ سوچنا یہ بھی ہے کہ جنگ کی صورت میں کوئی پاکستان کا کس لیے ساتھ دے گا؟ اس لیے کہ آپ کے ملک کی کوئی خارجہ پالیسی ہی نہیں ہے۔ ایران کی یہ خوبی ہے کہ اس نے اپنا سرمایہ سمجھ کر حزب اللہ کو ہمیشہ اون کیا ہے، جبکہ یہاں آج جسے مجاہد تسلیم کیا گیا کل اسے دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح مسلمان ہونے کی وجہ سے ہرشخص آپ کا دوست نہیں ہوسکتا، اسی طرح ہر اسلامی ملک بھی آپ کا دوست نہیں ہوسکتا۔ ایران آپ سے زیادہ بھارت کا دوست ہے۔ وہ اگر یمن اور عراق میں شیعہ کمیونٹی کی حمایت کرتا ہے تو آذربائیجان میں اپنے مفادکے لیے شیعہ کمیونٹی کی مخالفت کرتا ہے۔ اسی طرح ترکی اگر سنی ملک ہے تو وہ سنی کردوں کی مخالفت کرتا ہے۔ آپ کے سعودیہ کے ساتھ مفادات ہیں۔ بھارت کے ایک بڑا ملک ہونے کی وجہ سے دنیا کے بہت سے ممالک کے ساتھ مفادات ہیں، تاہم بھارت اس وقت ایک متعصب ملک کی حیثیت سے پہلی بار دنیا کے سامنے ایکسپوز ہوا ہے۔ کانگریس حکومت کے زمانے میں برہمن، انڈین ایلیٹ کو Manageکرتا تھا، کشمیر کے علاوہ بھی بھارت میں آزادی کی سولہ سترہ تحریکیں تھیں، کانگریس نے ان سب کو مینج کیا۔ لیکن اب پہلی بار وہاں اسٹریٹ تشدد ہورہا ہے۔
مرتضیٰ شبلی کا کہنا تھا کہ ایک امکان یہ بھی ہے کہ بھارت کشمیر میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت کرے ۔ شام میں بمباری کے ذریعے قتل و غارت گری کی گئی تو وہاں کی آدھی آبادی بھاگ گئی اور ان کی جائدادوں پر قبضہ کرلیا گیا، اسی طرح آزاد کشمیر کی طرف مسلم آبادی کو دھکیل دینے کا امکان ہے۔ انڈین فوج لائن آف کنٹرول پر کئی جگہوں سے باڑ اٹھا رہی ہے، جس کی اِس کے سوا کوئی دوسری وجہ نہیں ہوسکتی۔ اگر مقبوضہ کشمیر سے تیس لاکھ کشمیری آزاد کشمیر کی طرف دھکیل دئیے گئے تو کیا ہوگا؟ اس پر ہمیں ابھی سے سوچ بچار کرلینا چاہیے۔ اس وقت یوپی اور بہار میں مسلمانوں پر بے پناہ ظلم و ستم ہورہا ہے۔ ہندوکھلم کھلا مسلمانوں کو بھارت سے نکالنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ بھارتی وسائل اور تجربے کے باعث دنیا میں کسی کو کشمیر میں ہونے والی تباہی اور یوپی اور بہارکی انسان دشمنی نظر نہیں آتی۔
اس سوال پر کہ جہاں بھی آزادی کی حقیقی تحریک چلی ہے اصل کام عوام ہی نے کیا ہے، مقبوضہ کشمیر کے لوگ پاکستان کی حمایت کے بغیر اپنی آزادی کی جنگ نہیں لڑسکتے؟ مرتضیٰ شبلی کا کہنا تھا کہ کشمیرکی موجودہ صورت حال بھیانک نتائج کی حامل ہوسکتی ہے۔ کشمیریوں نے آزادی کی بہت بڑی تحریک شروع کررکھی ہے۔ 2016ء کی تحریک کا جواب نہیں تھا، اُس وقت کشمیریوں میں کسی قسم کا کوئی خوف نہیں تھا۔ اب وہ نفسیاتی طور پر پژمردہ ہیں، لاک ڈائون کے دوران وہ گھروں میں قید تھے جس کی وجہ سے انڈیا کو بڑے پیمانے پر قتل و غارت کا موقع نہیں ملا۔ انڈین حکومت کم از کم دس ہزار افراد کو قتل کرنا چاہتی تھی۔ کشمیریوں نے اپنی طاقت محفوظ رکھی ہے۔ انڈیا طویل وقت تک فوج کو کشمیر میں Engageنہیں رکھ سکتا۔ انڈیا میں چین سے لڑنے کا دم خم نہیں۔ بدقسمتی سے نوازشریف جب انڈیا گئے تو انہیں وہاں پروٹوکول دیا گیا، اسی کو انڈیا کی پالیسی سمجھ لیا گیا۔
اب بھی کشمیریوں کی پاکستان سے توقعات وہی ہیں۔ ہم نے جلسے بھی کیے، مظاہرے بھی کیے اور سیمینار بھی، لیکن پھر خاموش ہوگئے۔ لیکن کیا اس کے بعد وہاں کے حالات بہتر ہوگئے ہیں؟ وہاں تو سب کام بند ہیں، ہمارا جذبہ اب ٹھنڈا ہوگیا ہے۔ وہاں بزنس ٹھپ ہے۔ ہم ان کی کیا بات کررہے ہیں! کیا عمران خان نے اقوام متحدہ کی تقریر کے بعد اس سلسلے میں کچھ کیا؟ تاہم کشمیر کے لوگ کبھی مایوس نہیں ہوئے۔ کشمیریوں نے ثابت کردیا کہ وہ کسی بھی طرح بھارت کے ساتھ نہیں۔ وہاں لوگوں نے شہادتیں دی ہیں اور پاکستان سے بہت کچھ چاہتے ہیں۔ پاکستان اگر اور کچھ نہیں کرسکتا تو اسے کم از کم بھارت سے سفارتی تعلقات ختم کردینے چاہئیں۔ اگر پاکستان مضبوط ہوتا ہے تو اس سے کشمیریوں کی ڈھارس بندھ جاتی ہے۔ اگر یہاں سیاسی استحکام اور اقتصادی خوشحالی آتی ہے تو اس سے کشمیری وہاں خوش ہوتے ہیں۔ دنیا میں کمزور ملک کے جیتنے کا حادثہ بہت ہی کم ہوا ہے۔ قوموں کی تقدیر دعائوں سے نہیں بدلتی، نہ ہی رنگ و نسل سے کامیابی کا کوئی تعلق ہے۔ اللہ کا نظام ہے کہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتی جس کو خود اپنی حالت بدلنے کا احساس نہ ہو۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ پاکستانی عمرہ اور حج وغیرہ کرنے کے سلسلے میں تو نمبر ایک قوم ہیں لیکن دیانت داری کے سلسلے میں دنیا کے ممالک میں ہمارا نمبر ڈیڑھ سو سے بھی نیچے ہے۔
چیئرمین مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ جناب خالد محمود نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ ہم نے یہ ملک بہت مشکلات سے گزر کر حاصل کیا ہے۔ اس کے حصول کو ناممکن سمجھا جارہا تھا۔ ہم نے قوم سے یہاں اسلامی نظام رائج کرنے کے وعدے پر ملک کے حصول میں ان کی تائید و حمایت حاصل کی۔ اسی لیے ہم خطرات میں گھرے ہوئے ہیں۔ دراصل سچائی اور تلخ حقائق کا سامنا کرنا بہت مشکل بات ہے۔ اسلامی ممالک کی جو حالت ہورہی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ معزز مہمان کی گفتگو ان کے مشاہدات و تجربات کے علاوہ ان کے جذبات پر بھی مشتمل تھی۔ انہیں کشمیر کا درد ہے۔ ہمیں اپنے گریبانوں کے بٹن بند کرنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے ۔کشمیر کے سلسلے میں ہماری پالیسی میں تواتر نہیں رہا۔ ہم آج تک یہ طے نہیں کرپائے کہ ہم کو کشمیریوں کے لیے لڑنا ہے یا نہیں لڑنا۔ گومگو کی پالیسی رہی ہے۔ مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے اُس وقت دھرنا دیا تھا جب وہ اقتدار میں نہیں تھا۔ اُس کے اقتدار میں آنے کے بعد اُس کے ان ارادوں سے بے خبر رہنا حماقت تھی۔ اس سلسلے میں ہمیں ہر پہلو پر پوری طرح سوچنا چاہیے۔ ہر بات قوم پر واضح ہونی چاہیے ۔ انسانی حقوق کی جتنی خلاف ورزیاں کشمیر میں ہورہی ہیں، اتنی دنیا میں اور کہیں نہیں ہورہیں۔ ہم جو کرسکتے تھے ہم نے وہ بھی نہیں کیا۔ آپ کے سفارت خانوں کو اس سلسلے میں سیمینار وغیرہ کرانے کا اہم کام بہت پہلے کرنا چاہیے تھا۔ آگ لگنے کے بعد اسے بجھانے کے لیے کنواں نہیں کھودا جاتا۔ ہم نے کشمیریوں کو مایوس ہونے کا موقع دیا ہے۔ ہمیں کشمیر پر اسلامی ممالک کی تنظیم کا اجلاس بلانا چاہیے۔ مہمان نے ہمیں بہت اچھا نسخہ دیا ہے۔ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، اقتصادی اور سیاسی استحکام حاصل کریں۔ خود کو ہر طرح سے مضبوط بنائیں۔ اس طرح کشمیریوں کی حالت خودبخود بہتر ہوجائے گی۔ قائداعظم نے کہا تھا کہ بھارت کے مسلمانوں کی سلامتی کا ضامن پاکستان ہوگا۔ ہمارے عوام اور حکومت کو اخلاص اور محنت سے کام لے کر مشکل مراحل طے کرنا ہوں گے۔

Share this: