’’آرٹس فورم‘‘ کایادِ رفتگاں سیمینار

Print Friendly, PDF & Email

شفیق الرحمٰن پراچہ، ڈاکٹر شاداب احسانی، رضوان صدیقی، کرنل مختار بٹ و دیگر کا اظہار ِخیال

شکرِ ربی، ادبی سرگرمیاں بحال ہونے لگیں۔ گزشتہ دنوں آنکھیں بند کرجانے والے دانشوروں، ادبا، شعرا، قلم کاروں، فن کاروں کی یادیں، باتیں اور ان کے ساتھ گزارے حسین لمحات کا تذکرہ دی آرٹس فورم کراچی نے امریکن کلچرل سینٹر میں ’’یادِرفتگاں‘‘ سیمینار کی صورت میں کیا، جہاں مقررین نے دل کھول کر اپنی حسین یادوں کے ساتھ انہیں یاد کیا۔

ہم کچھ اس انداز سے رخصت ہوئے دنیا سے شمسؔ
موت کو بھی زندگی کا سلسلہ مانا گیا

(شمسؔ طالب)

قابلِ مبارک باد ہیں ’دی آرٹس فورم‘ کے اراکین، جنہوں نے یہ محفل سجائی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ یہ تقریری سلسلہ تحریری صورت بھی اختیار کرلے اور بھارت میں ندیم صدیقی کی کتاب ’’پرسہ‘‘ جس کا پاکستانی ایڈیشن کراچی سے پروفیسر غازی علم الدین کے تعاون سے معراج جامیؔ نے شائع کیا ہے، کا سلسلہ آگے بڑھ سکے۔

آنکھوں میں کچھ سمیٹ کے رکھ لو رُتیں امامؔ
پھر اس کے بعد دن یہ سہانے نہ آئیں گے

(نعمان امامؔ)

شفیق الرحمٰن پراچہ سہانے دنوں کا احوال یوں سناتے ہیں: ’’جب ہم آنکھیں بند کرجانے والوں کی بات کرتے ہیں تو ہمارا دل بھر آتا ہے، اور وہ لوگ ہماری نظروں کے سامنے آجاتے ہیں۔ نثار احمد صدیقی ہمارے درمیان ہی رہتے تھے اور انہوں نے سکھر سندھ میں تعلیم کا رخ موڑ دیا تھا۔ سکھر کے دو تاریخی واقعات آپ نہیں بھول سکتے، ایک سکھر بیراج کی تعمیر، اور دوسرا IBA کا قیام۔ ایک نے زمینوں کو سیراب کیا اور دوسرے نے ذہنوں کو‘‘۔ معروف مقرر، سماجی و سیاسی شخصیت دوست محمد فیضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، عمدہ اور نفیس ذہن کے مالک اور اپنی زمین سے جڑے ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ آج کا دن بڑا جذباتی دن ہے، مجھے ظہورالحسن بھوپالی بھی یاد آرہے ہیں اور احد یوسف بھی، جو سادگی کا پیکر تھے۔ ان کی خدمات کو بھلایا نہیں جاسکتا۔ تعلیمی خدمات کا جب بھی ذکر ہوگا پروفیسر انوار احمد زئی کا ذکر ضرور ہوگا۔ یہ سب بڑے لوگ تھے، جو ان سے ملتا ان کا گرویدہ ہوجاتا، اور وہ سمجھتا کہ وہ سب سے زیادہ اس سے محبت کرتے ہیں، حالانکہ ان کا رویہ سب کے ساتھ ایک جیسا ہوتا۔
ڈاکٹر شاداب احسانی نے سینئر صحافی احفاظ الرحمٰن کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ان کی طرح کے سچے اور کھرے صحافی آج کم ہی دکھائی دیتے ہیں جو اپنے اصولوں پر پہاڑ کی طرح ڈٹ جاتے ہیں۔ پروفیسر منظر ایوبی نے زندگی کے لیے بہت جدوجہد کی، ہم ان کا نام لینے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
حقیقتاً منظر ایوبی نہ صرف بڑے انسان تھے بلکہ زمانہ شناس بھی۔ ایک واقعہ راقم سے بھی سن لیجیے: مرحوم آزاد بن حیدر ایڈووکیٹ پیرانہ سالی کے باوجود گاہِ بگاہِ محفلیں سجاتے تھے۔ انہوں نے ایک بڑی تقریب میں تین نعت گو شعرا کو مدعو کیا، ایک بڑے نعت گو شاعر نے اپنے کلام کے ساتھ تبصرہ بھی شروع کردیا۔ تبصرے سے محفل میں کچھ کدورت پیدا ہوگئی اور کئی سامعین ایک ساتھ کھڑے ہوگئے۔ راقم ناظمِ تقریب تھا، میں نے منظر بھائی کی جانب دیکھا، اور منظر بھائی فوراً صدارتی نشست چھوڑ کر ڈائس پر تشریف لائے اور بلند آہنگ میں کہا: سنیے! میں بتاتا ہوں کہ حقیقت کیا ہے۔ اور فوراً اپنی نعت ترنم سے پڑھنا شروع کردی:۔

کسی مقام سے گزرو کسی نگر سے چلو
ہر اک رستہ انؐ کی گلی سے ملتا ہے

مجمع پر سناٹا چھا گیا اور چند لمحوں پہلے والی کدورت ختم ہوگئی۔ ڈاکٹر صاحب نے اطہر شاہ خان جیدی کے بارے میں کہاکہ جو مقام انہوں نے شاعری اور ڈراما نویسی میں بنایا ہے اُس مقام تک پہنچنے میں لوگوں کو بہت محنت کرنا پڑے گی۔ انہوں نے آصف فرخی، سرور جاوید، عنایت علی خان، دوست محمد فیضی کے بارے میں کہاکہ ان لوگوں نے اچھی طرح معاشرے کی عکاسی کی ہے، ان سب کا کام اور خدمت ہمیشہ یاد رہے گی۔
رضوان صدیقی نے کہاکہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کی خدمات کو اُن کی زندگی میں نہیں سراہتے، اور ان کی قدر ان کے جانے کے بعد کرتے ہیں۔ انوار احمد زئی کے بارے میں کہاکہ تعلیم کے لیے ان کی خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ انسان کچھ ایسا کام کر جائے کہ لوگ اسے یاد رکھیں، چنانچہ انہوں نے اپنے بچوں اور بہن بھائیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرکے ایک قیمتی اثاثہ چھوڑا ہے۔
کرنل مختار بٹ نے کہاکہ ہم جس معاشرے میں زندہ ہیں یہاں لوگوں کے پاس کسی کو یاد کرنے کا وقت نہیں، مگر ان شخصیات نے اپنے کارناموں سے مجبور کردیا ہے کہ ہم آج ان کو خراجِ عقیدت پیش کررہے ہیں۔
اویس ادیب انصاری نے سرور جاوید کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایک الگ مزاج کے آدمی تھے، تنقید نگاروں میں انہیں اہم مقام حاصل ہے، وہ اتنی اچھی تنقید کرتے کہ جواب دینا مشکل ہوجاتا۔ افسوس کہ ان کی پوری فیملی کورونا وائرس کا شکار ہوئی۔ یہاں مجھے جمیل ادیب سید کا شعر یاد آگیا:۔

سرور جاوید کو مرحوم نہ بولے کوئی
وہ ذرا ملنے گئے ہیں ابھی آتے ہوں گے

تابندہ لاری نے اپنے مرحوم بھائی عمران لاری کے بارے میں کہا کہ ان کا پورا خاندان ان پر فخر محسوس کرتا ہے۔ انوار احمد زئی کے صاحبزادے عزیز سید نے کہاکہ میرے والد نے کم عمری ہی میں دادا جان کے ساتھ مل کر مسلم اسکول کی بنیاد رکھی جس سے لوگ فیض یاب ہوئے۔ انہوں نے بہت سے معلم اور مقرر پیدا کیے جو ان کی جلائی ہوئی شمع کو روشن رکھیں گے۔
مبشر میر نے کہاکہ آج اتنے زیادہ لوگوں کو تقریب میں دیکھ کر اندازہ ہورہا ہے کہ لوگ دنیا سے رخصت ہوجانے والوں سے کتنی محبت رکھتے ہیں، یہ وہ شخصیات تھیں جو انسٹی ٹیوشن کا درجہ رکھتی تھیں۔
تقریب سے ڈاکٹر عالیہ امام، اسلم خان، لیلیٰ پروین، خرم شیخ، نسیم شاہ ایڈووکیٹ، حمید بھٹو، علی چانڈیو، عبدالباسط و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ بڑی تعداد میں اربابِ علم و دانش کے ساتھ نوشابہ صدیقی، زین حسن، ملک محمد اختر نے بھی شرکت کی۔ نجم الدین شیخ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کی نظامت آغا شیرانی نے کی۔
یہ سطور لکھ رہا تھا کہ مرحوم مجاہد محمود برکاتی یاد آگئے۔ لانڈھی میں محفل چہار بیت کا اہتمام اختر سعیدی نے کیا تھا، برکاتی صاحب مہمانِ خصوصی تھے۔ چہار بیت دف کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور سننے والوں پر وجدانی کیفیت طاری کردیتا ہے۔ راقم پر بھی یہ کیفیت طاری ہوئی تو برکاتی صاحب نے کہاکہ تاجی صاحب آج تو آپ کا نیا رنگ دیکھا۔ میں نے کہاکہ دل تو چاہ رہا تھا کہ آپ کو بھی اٹھالوں۔ کہنے لگے: تاجی صاحب ہاتھ تو بڑھاتے، برکاتی نہ اٹھتا تو پھر کہتے۔

ہمیں مٹائو نہ دنیا سے اے ستم گارو
ہمارے بعد تمہارا زوال رکھا ہے

(شکیب بنارسی)

Share this: