بگٹی ہاؤس کا نواب

Print Friendly, PDF & Email

کہاں سے بات شروع کی جائے! یہ میرے اسکول کا زمانہ تھا اور اخبارات میں ٹارزن کی کہانیاں پڑھنے کا دور تھا۔ میرے گھر کے سامنے ایک حمام تھا۔ حمام میں چونکہ جنگ اور انجام اخبار آتے تھے، اس لیے اخبار سے دلچسپی ٹارزن کی کہانی تک محدود تھی۔ چھوٹی چھوٹی کہانیاں پڑھتا تھا۔ ماہانہ رسالہ تعلیم و تربیت، بچوں کی دنیا وغیرہ باقاعدہ پڑھتا تھا۔ اسلامیہ ہائی اسکول گھر کے بہت قریب تھا، اس لیے والدین نے اس اسکول میں داخل کیا تھا۔ میرے گھر کے سامنے حمام تھا، اس کے مالک سردار فیض محمد زئی تھے جن کا تعلق افغانستان کے بادشاہ امان اللہ خان کے قریبی رشتے داروں سے تھا۔ میرا ان کے گھر پر آنا جانا تھا۔ سردار صاحب کے بیٹے اسلامیہ اسکول میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔ رحمان اور فیض احمد اسکول فیلو تھے۔ 1958ء میں ایوب خان نے تختہ الٹ دیا اور حکومت پر قبضہ کرلیا۔ اس خبر نے سردار فیض محمد زئی کو خوف زدہ کردیا اور انہوں نے اپنے تین ساتھیوں سمیت افغانستان فرار ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ ان کے ہمراہ آغا سلطان ابراہیم احمد زئی تھے۔ آغا سلطان ابراہیم کا سردار فیض محمد کے گھر آنا جانا روز کا معمول تھا۔ وہ جب بھی آتے تو اپنے چہرے کو پگڑی کے ایک پلو سے ڈھانکے رہتے تھے، اور ان کے ہاتھ میں ایک چھڑی ہوتی تھی۔ وہ ایک قدآور شخصیت کے مالک تھے۔ آغا سلطان ابراہیم بلوچستان کے سابق ڈپٹی اسپیکر آغا حیدر مظاہر اور آغا عبدالخالق کے والد تھے۔ سردار فیض محمد آغا سلطان احمد زئی اور ایک ساتھی کے ہمراہ افغانستان کے لیے ایک ٹیکسی میں فرار ہورہے تھے، یہ ٹیکسی جب چمن کے قریب پہنچی تو الٹ گئی، اس حادثے میں آغا سلطان احمد زئی زندگی کی بازی ہار گئے، باقی دو ساتھی زخمی تھے، جنہیں گرفتار کرلیا گیا۔ سردار فیض محمد پر مقدمہ چلا اور انہیں 14 سال کی سزا ہوگئی۔ وہ کچھ عرصہ جیل میں رہے اور بعد میں رہا کردیے گئے۔ جیل سے رہا ہوئے تو راسپورٹین کی طرح لمبی داڑھی تھی اور نمازی تھے۔ ان سے روزانہ حمام میں ملاقات ہوتی تھی۔ بعد میں انہوں نے داڑھی صاف کردی۔ وہ بہت خوش مزاج اور خوش لباس شخصیت کے مالک تھے اور خوبصورت بھی تھے۔ یہ میرے اسکول کا زمانہ تھا، ایک دن اخبار جنگ میں ایک اشتہار شائع ہوا، ایک تصویر بھی تھی اور اس کی سرخی تھی ’’ہبت خان گم ہوگئے ہیں، اطلاع دینے والے کو انعام بھی دیا جائے گا‘‘۔ یہ شاید 1959ء کا واقعہ تھا۔ ہبت خان کون تھا یہ میرے علم میں نہیں ہے۔ چونکہ اخبار پڑھتا تھا تو اس اشتہار پر نظر پڑ گئی تھی اس لیے یاد رہا۔
میٹرک میں پاس ہوگیا تھا اس لیے کالج میں داخلہ لے لیا۔ 1962ء کا سال تھا، یہ بڑے خوبصورت اور یادگار لمحات تھے جو ناقابلِ فراموش ہیں، یہ لمحات جب یاد آتے ہیں تو کھو سا جاتا ہوں۔ سیکنڈ ایئر میں تھا تو ایک دن پروفیسر رئیس احمد (مرحوم) نے اعلان کیا کہ کوئٹہ اور مچھ جیل کا وزٹ کرنا ہے۔ یہ ہمارے مضمون کا حصہ تھا۔ اپنے تمام کلاس فیلوز کے ہمراہ بس میں سوار ہوکر کوئٹہ جیل پہنچ گیا۔ سپرنٹنڈنٹ جیل نے تفصیل بتائی اور استادِ محترم سے کہا کہ طالب علموں کو قیدیوں سے زیادہ بات چیت نہ کرنے کی ہدایت کردیں۔ اس کے بعد ہم جیل کے اندر داخل ہوگئے۔ یہ موسم بہار تھا، ہم نے دائیں طرف سے قیدیوں کو دیکھنا شروع کیا۔ اس رو میں احاطہ خوبصورت جنگلہ میں گھرا ہوا تھا، پھول لگے ہوئے تھے۔ یہ کوئی 10 یا 11 بجے کا وقت تھا، ہم ایک ایک کرکے احاطہ سے گزر رہے تھے۔ ایک احاطہ کے قریب پہنچے تو ہمیں کہا گیا کہ یہ ایک سیاسی قیدی ہے اس سے بات چیت نہیں کریں گے۔ یہ قیدی سفید کھردرے لباس میں ایک آرام دہ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ ہم سب نے دور سے اشاروں سے سلام کیا اور ہاتھ اٹھائے تو اس نے بھی ہاتھ اٹھائے اور مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ یہ قیدی نواب محمد اکبر خان بگٹی تھے۔ وہ جس احاطہ میں تھے وہ وہائٹ ہائوس کہلاتا تھا۔ یہ احاطہ صدرِ پاکستان اسکندر مرزا نے وزیراعظم سہروردی کے لیے بنوایا تھا جو چند دنوں میں تیار ہوگیا تھا۔ بعد میں انہیں ملک بدر کردیا گیا اور سابق وزیراعظم بیروت میں ہی فوت ہوگئے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ انہیں زہر دیا گیا۔ سہروردی نے اپنی داستانِ حیات بیروت ہی میں لکھی جو بڑی دلچسپ ہے۔ قدرت کا نظام دیکھیں کہ ایوب خان نے اسکندر مرزا کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تو اسکندر مرزا کو کوئٹہ جیل میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن بعد میں ایوب خان نے ارادہ بدل دیا اور انہیں ملک بدر کردیا۔
نواب بگٹی شہید سے میرا پہلا تعارف جیل میں ہوا۔ میں جیل میں جس احاطہ میں نواب بگٹی کو دیکھ رہا تھا میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس احاطہ میں مجھے بھی قیدی کے طور پر رہنا پڑے گا، اور وہ بھی اکبر خان بگٹی کی حکومت کا قیدی۔ مجھ پر نواب کی حکومت نے بغاوت کا مقدمہ قائم کیا تھا۔ یہ 1973ء کا زمانہ تھا۔ بھٹو نے نیپ کی حکومت کا خاتمہ کردیا تھا اور اس اقدام کے خلاف تقریر کی تو مقدمہ بنادیا گیا، اور میں وائٹ ہائوس کا قیدی تھا۔ بات سے بات نکلتی چلی جارہی ہے۔ اسی احاطہ میں جہاں نواب صاحب تھے، یہ نواب بگٹی سے پہلا تعارف جیل کے قیدی کے طور تھا۔ پھر دوسرا تعارف اور بالمشافہ ملاقات اُس وقت ہوئی جب میں زخمی ہوکر سول اسپتال میں داخل تھا۔ یہ ایوب خان کا دور تھا اور ہم طالب علم احتجاج کرتے تھے اور جلسہ و جلوس نکالتے تھے۔ پولیس سے تصادم میں مجھے آنسو گیس کا شیل لگا جس سے میں زخمی ہو گیا اور اسپتال پہنچ گیا۔ یہ فروری یا مارچ کا مہینہ تھا۔ جنرل ایوب خان کا تختہ جنرل یحییٰ خان نے الٹ دیا اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کردیا تو نواب بگٹی بھی رہا ہوگئے۔ وہ گھر پہنچے۔ اس کے بعد اسپتال آئے تو اُن کے ساتھ ایک جم غفیر تھا۔ وہ میرے بیڈ کے پاس آئے، ان کا شکریہ ادا کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں نے زیادہ جدوجہد کی ہے، ہم تو صرف جیل میں تھے، آپ طالب علم زیادہ قابلِ احترام ہیں۔ یہ نواب بگٹی سے دوسری ملاقات تھی۔ پولیس سے تصادم میں میری دائیں آنکھ زخمی ہوگئی تھی جس کی وجہ سے بینائی ختم ہوگئی تھی۔ کوئی4 ماہ اسپتال میں رہا، آپریشن کامیاب ہوا تو بینائی لوٹ آئی۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔ اپنے دوست اور غمگسار ضیا الدین ضیائی کو کہا کہ چلیں نواب بگٹی کے پاس چلتے ہیں تاکہ ان کا شکریہ ادا کریں۔ وہ تمام نشیب و فراز میری نگاہوں میں ہیں، حیرت انگیز اور تاریخی لمحات تھے جس میں بلوچستان کی تاریخ کے مدو جزر شامل ہیں۔ جو کچھ دیکھا اور سنا اس سب کو تحریر کی شکل دینا چاہتا ہوں، کسی کو خوشگوار لگے یا ناگوار گزرے، سب کوتاریخ کے حوالے کرنا چاہتا ہوں۔ بہت سے سربستہ راز ہیں جو حیرت انگیز اور ہوش ربا ہیں۔ یہ طلسماتی دنیا کی طرح ہیں۔
نواب بگٹی شہید کی خواہش تھی کہ ان کی زندگی کے لمحات کو قلمبند کروں۔ وہ کہتے تھے کہ تمہاری تحریر مجھے پسند ہے، تم میری سوانح حیات لکھو، تم کو سب کچھ بتائوں گا، تم میرے پاس ڈیرہ بگٹی آجائو، وہیں رہو اور میری کہانی قلمبند کرو۔ نواب کا کہنا مجھے اب بہت مضطرب کردیتا ہے کہ کیوں اُن کی داستان اُن کی زندگی میں مرتب نہ کی؟ اُن سے میری آخری گفتگو دسمبر 1995ء میں شام ڈھلے ہوئی۔ امان اللہ کنرانی سے ملنے گیا تو وہ نواب سے فون پر بات کررہے تھے۔ ان سے اشاروں میں کہا کہ میری بات نواب صاحب سے کرائیں اور میرا سلام کہیں۔ امان نے فون پر بتایا کہ شادیزئی سلام کہہ رہا ہے، اس کے بعد اس نے مجھے فون تھما دیا تو اُن کا پہلا جملہ یہ تھا کہ تم نے تو میری خبر بھی نہیں لی اور جو کچھ میرے ساتھ ہورہا ہے تم نے لکھا ہے؟ ان سے کہا لکھ رہا ہوں سعودی عرب کے میگزین میں۔ انہوں نے کہا: اس کو کون پڑھتا ہے؟ پاکستان کے اخبارات میں لکھو۔ ان سے کہا: ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل میں لکھ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: قلم چھوڑو، میرے پاس لڑنے کے لیے آجائو۔ ان سے کہا: آجائوں گا، ابھی حج پر جارہا ہوں۔ پوچھا کہ تمہارے 100 چوہے پورے ہو گئے ہیں؟ ان سے کہا: نہیں۔ وہ خوب ہنسے اور آواز آئی: تم حج کرکے میرے پاس آجائو تم کو سب کچھ بتلا دوں گا، کوئی راز نہیں رکھوں گا۔ یہ جملہ انہوں نے اُس وقت کہا جب میں نے اُن سے کہا کہ نواب صاحب آپ کے سینے میں بہت سے راز ہیں، اس سے پہلے کہ آپ دنیا سے رخصت ہوجائیں مجھے بتلائیں، کوئی اور نہیں لکھے گا میں لکھ دوں گا۔ انہوں نے کہا: سب کچھ بتلا دوں گا، تمہارا انتظار کروں گا۔
(جاری ہے)

Share this: