اردو کے قابلِ ذکر ناولوں کی فہرست

Akhbar Nama اخبار نامہ
Akhbar Nama اخبار نامہ
Print Friendly, PDF & Email

اردو میں ناولوں کی تعداد کچھ زیادہ نہیں، ان میں سے اچھے، قابلِ ذکر ناولوں کی فہرست ایک درجن سے کم ہی ہوگی۔ اپنے پسندیدہ ناولوں کی فہرست پر بات کرتا رہتا ہوں، چند ایک ہی قابلِ ذکر ناول نگار ہیں… قرۃ العین حیدر، عبداللہ حسین، مستنصر حسین تارڑ، جمیلہ ہاشمی، آپا بانو قدسیہ۔ پچھلے بیس برسوں یعنی اس صدی میں چھپنے والے اردو ناولوں کی بات کریں تو یہ فہرست مزید مختصر ہوجائے گی۔ عبداللہ حسین اور قرۃ العین حیدر کے ناول اس میں سے نکل جائیں گے، جمیلہ ہاشمی کا ’’دشتِ سوس‘‘ اور ’’تلاشِ بہاراں‘‘ بھی شامل نہیں ہوسکے گا، بانو آپا کا ’’راجہ گدھ‘‘ بھی نہیں آسکے گا۔ بعض بڑے اچھے ناول ان برسوں میں شائع ہوئے ہیں، ان میں مرزا اطہر بیگ کا ناول ’’غلام باغ‘‘ قابلِ ذکر ہے۔ یہ ناول ضخیم ہونے کی وجہ سے ناقدین کی زیادہ توجہ نہیں لے سکا، مگر بڑا ناول ہے۔ مرزا صاحب کا دوسرا ناول ’’سائبر اسپیس کا منشی‘‘ بھی مجھے اچھا لگا، اس پر لکھا بھی تھا۔ ان کا تیسرا ناول ’’حسن کی صورت حال‘‘ البتہ کچھ زیادہ ہی پوسٹ ماڈرنسٹ ناول لگا۔ عاصم بٹ کا پہلا ناول ’’دائرہ‘‘ مجھے اچھا لگا تھا، سال ڈیڑھ پہلے دوسرا ناول ’’بھید‘‘ چھپا۔ یہ بہت مختلف ذائقے اور مزاج کا ناول ہے، اس میں تکنیک کے تجربے کیے گئے۔ کہانی موجود ہے بلکہ کئی زوردار کہانیاں… مگر وہ کہاں مل رہی ہیں، کہاں جدا، یہ ہر کوئی اپنے انداز سے سمجھے گا۔ اختر رضا سلیمی کے ناول ’’جندر‘‘ نے تارڑ صاحب جیسے مہان ادیب کی توجہ حاصل کی۔ ان کا پہلا ناول بھی پوٹھوہار کے حسن کو بیان کرتا ہے۔ نیلوفر اقبال کے ناول کی تعریف سنی، مگر پڑھ نہیں سکا، ماجھے کے طوفانی جذبات کا عکاس ناول ہے۔ ان دو عشروں کے سرفہرست ناولوں میں علی اکبر ناطق کا ناول ’’نولکھی کوٹھی‘‘ شامل ہے۔ علی اکبر ناطق عجب انداز کا تخلیق کار ہے… شاعر، ناول نگار، افسانہ نگار، مترجم… ہر میدان میں اس نے خود کو منوایا۔ ناطق کی نثر بڑی خوبصورت ہے۔ بقول پروفیسر شمس الرحمٰن فاروقی وہ اس وقت اردو کی سب سے دلکش نثر لکھنے والا ادیب ہے۔ ’’نولکھی کوٹھی‘‘ میں پنجاب کے ماحول کی کمال عکاسی کی ہے۔ ناطق کا فن اپنے عروج پر ہے، اس نے دیہی پنجاب کو زندہ کردیا ہے۔ تارڑ صاحب کے ناول ’’خس وخاشاک زمانے‘‘ کے بعد کسی ناول میں تقسیم سے پہلے کے پنجاب کی ایسی عمدہ عکاسی دیکھی۔ ’’نولکھی کوٹھی‘‘ چند سال پہلے شائع ہوا تھا، اب اسے جہلم بک کارنر نے بڑے خوبصورت انداز میں شائع کیا ہے۔ اردو کے چند بہترین ناولوں میں سے ایک ’’نولکھی کوٹھی‘‘ کو ایسے دیدہ زیب انداز میں شائع ہونا چاہیے تھا۔ علی اکبر ناطق بلا کا تخلیق کار ہے، مگر اس کا مزاج بھی آرٹسٹک ہے، اپنی تحریروں کی طرح تیکھا، منہ زور اور سربلند۔ عرب شاعر تیز دھار ہندی تلوار کی تعریف کچھ یوں کہہ کر کرتے تھے کہ ان کی تیز دھار خود ان کی نیام کو کھا جاتی ہے۔ بعض تخلیق کار بھی ایسے ہوتے ہیں۔ علی اکبر ناطق کا نیا ناول بھی شائع ہونے والا ہے، اس کی خاصی تعریف سنی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ وہ سوشل میڈیا سے توجہ ہٹاکر اپنا فوکس تخلیق پر لگائیںاور اردو کے دامن کو نت نئی تخلیقات سے بھر دیں۔ اوپر ذکر ہوا کہ ایک دوست نے مجھ سے اردو کے بہترین ناول کا پوچھا۔ میرے ذہن میں فوراً مشہور بھارتی محقق، نقاد اور ادیب پروفیسر شمس الرحمٰن فاروقی کا ناول ’’کئی چاند تھے سرِآسماں‘‘ آیا۔ بلاشبہ یہ اردو کا سب سے عمدہ نہیں تو ٹاپ کے تین ناولوں میں سے ایک ضرور ہے۔ یہ بات سوشل میڈیا پر ایک بار لکھی تو کئی کمنٹس میں پوچھا گیا کہ باقی کے دونوں ناول کون سے ہیں؟ میرا جواب تھا کہ ہر ایک کی ٹاپ تھری کی فہرست مختلف ہوسکتی ہے، کوئی ’’آگ کا دریا‘‘، ’’اداس نسلیں‘‘ کے نام لے گا، کسی کے خیال میں ’’بہائو‘‘ اور ’’آگ کا دریا‘‘ ہونا چاہیے، ممکن ہے ’’راجہ گدھ‘‘ کا بھی نام لے لیا جائے، تارڑ صاحب کا ناول ’’راکھ‘‘ بھی گنوایا جا سکتا ہے، عینی آپا کا’’آخر شب کے ہم سفر‘‘ بھی قابلِ ذکر ناول ہے۔ عبداللہ حسین اپنے ناول ’’باگھ‘‘ کو ہائی ریٹ کرتے تھے۔ تارڑ صاحب کے ’’خس وخاشاک زمانے‘‘ کا ذکر ہوسکتا ہے، اشرف شاد نے بڑے عمدہ ناول لکھے ہیں، ’’بے وطن‘‘ کو تو وزیراعظم ادبی ایوارڈ بھی ملا۔ ٹاپ تھری کی فہرست مختلف ہوسکتی ہے، دنیا بھر میں لکھنے والے، پڑھنے والے اپنے ذوق اور پسند کے مطابق فہرستیں بناتے رہتے ہیں، ان میں ردوبدل بھی ہوتا رہتا ہے۔ میری طالب علمانہ عرض یہ ہے کہ ایسی بیشتر فہرستوں میں ’’کئی چاند تھے سرِآسماں‘‘ مشترک ہوگا۔ شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کی وجۂ شہرت اُن کا تنقیدی کام اور ادبی رسالہ ’’شب خون‘‘ رہا ہے۔ انہوں نے میرؔ پر شاندار کام کیا ہے۔ ان کی کتاب’’شعر شورانگیز‘‘ غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ فاروقی صاحب کا ادبی، تنقیدی کام وقیع ہے، وہ فکشن کی طرف تاخیر سے آئے، مگر انگریزی محاورے کے مطابق سب دیر نکال دی۔ ’’کئی چاند تھے سرآسماں‘‘ کا مرکزی کردار وزیر بیگم اردو کے مشہور شاعر مرزا داغ دہلوی کی والدہ ہیں۔ وزیربیگم کی زندگی میں چار مرد آئے، پہلا ایک انگریز، دوسرے نواب شمس الملک والی لوہارو و فیروز پورجھروکہ، تیسرے ایک رام پوری پٹھان، اور چوتھے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے ولی عہد مرزا فتح الملک بہادر عرف مرزا فخرو۔ اس شادی کے بعد وزیر بیگم دلی کے لال قلعے میں منتقل ہوگئی تھیں، داغ کو بھی چند برس قلعے میں گزارنے کا موقع ملا، وہاں سے جو استفادہ کیا، وہ ان کی شاعری میں جھلکتا رہا۔ فاروقی صاحب نے کیا شاندار انداز میں یہ کہانی لکھی ہے۔ انتہائی خوبصورت، رواں نثر، حیران کن کردار نگاری، چھوٹی چھوٹی جزئیات کو اتنی عمدگی سے بیان کیا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ وزیر بیگم جب نواب شمس الملک سے پہلی بار ملنے گئیں یا جب مرزا فخرو کے ساتھ شادی ہوئی تو ان کے ملبوسات کی ایسی خوبصورت اور باریک بینی کے ساتھ تفصیل بیان کی کہ پڑھنے والا مبہوت رہ جاتا ہے۔ ناول کے بہت سے مناظر ایسے ہیں کہ آپ انہیں کبھی بھلا نہیں سکتے۔اس ناول میں غالب کا زمانہ ہے، مرزا نوشہ کے کئی مناظر اس میں ہیں، آپ انہیں ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ اس زمانے کی دلی میںکون سے الفاظ کیسے بولے جاتے تھے، ان سب کا خیال رکھا گیا۔ ایک شکوہ البتہ عام قاری کے طور پر دل میں ابھرتا ہے کہ وزیر بیگم اور ان سے تعلق رکھنے والے جگہ جگہ فارسی اشعار بے تکلف پڑھتے ہیں، اساتذہ کے اشعار، مگر کہانی کے بیانیے میں ان کا ترجمہ دینا ممکن نہیں تھا۔ اگر کسی طریقے سے حاشیے میں یا آخر میں ان کا ترجمہ دیا جاتا تو ہم جیسے فارسی سے نابلد لوگ حظ اٹھا سکتے۔ ’’کئی چاند تھے سرِآسماں‘‘ جیسے ناول کو نہ پڑھنا محرومی ہے اور اسے صرف ایک بار پڑھ کر چھوڑ دینا بے ذوقی۔ اس ناول کو تین چا ر مرتبہ پڑھ چکا ہوں، اس کے باوجود جب کبھی اسے اٹھایا، پچاس، سو صفحات فوری پڑھے جاتے ہیں۔ فاروقی صاحب نے ناول لکھنے سے پہلے ہاتھ صاف کرنے کے لیے کچھ تاریخی افسانے لکھے، وہ سوار اور دیگر کہانیوں کے نام سے شائع ہوئے، ان میں بھی کمال کی کہانیاں ہیں۔ یہ افسانے غالباً کسی ہندو کے قلمی نام سے لکھے تھے، مگر کہتے ہیں یار لوگ تاڑ گئے تھے کہ ان کے پیچھے کوئی اہلِ زبان تخلیق کار ہے۔ فاروقی صاحب کا یہ ناول مرحوم ڈاکٹر آصف فرخی نے اپنے ادارے دنیا زاد سے شائع کیا تھا۔ اب اسے بڑے تزک واحتشام سے جہلم بک کارنر کے گگن شاہد، امر شاہد نے شائع کیا ہے۔ فاروقی صاحب کا دوسرا ناول قبض زماں بھی شائع ہوا، مگروہ ضخامت میں خاصا کم ہے۔ اپنے دوست کو تحفہ میں دینے کے لیے ’’کئی چاند تھے سرآسماں‘‘ کا مشورہ دیا۔
۔( روزنامہ 92،11اکتوبر2020ء)۔

Share this: