بالآخر جاگنے والا بھی سوگیا

Print Friendly, PDF & Email

روزنامہ ’جسارت‘ کے مدیرِاعلیٰ اوراُردو زبان کے ممتاز کالم نگار محترم اطہر ہاشمی کی یاد میں

ہاشمی صاحب سے ہماری ملاقات لاہور سے شروع ہوئی۔ ہم اپنے خالو مفتی جمیل احمد صاحب تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کی کوٹھی میں رہا کرتے تھے۔ ہاشمی صاحب کے والد(جن کا نام اب یاد نہیں رہا)مفتی صاحب سے عقیدت رکھتے تھے۔ اُن کا وہاں ہر روز کا آنا جانا تھا۔ وہ دونوں تو دین کی دنیا میں محو ہوجاتے اور ہم لوگ کھیل کی دنیا میں کھو جاتے۔ اس دوران میں ہمارے خالہ زاد خلیل احمد تھانوی، محمد میاں تھانوی، ہاشمی صاحب کے چھوٹے بھائی راحت ہاشمی اور ہم ایک ساتھ کھیلا کرتے تھے (یہ سب ہماری صحبت میں رہنے کے باوجود عالمِ دین بن گئے اور اَب ’حضرت مولانا… دامتِ برکاتہم‘ کہلاتے ہیں)۔ اطہر ہاشمی صاحب ہمارے بڑے بھائی مسرور احمد علوی اور مفتی صاحب کے صاحبزادے قاری احمد میاں تھانوی صاحب کے ساتھ ہوا کرتے تھے۔ ہم تو کھیلا کرتے تھے، یہ کیا کیاکرتے تھے، اب یاد نہیں۔پھر ہم لوگ والد کا تبادلہ ہوجانے کے باعث بے بس ہوکر راولپنڈی میں بس گئے اور یہ لوگ پتا نہیں کب آکرکراچی میں آباد ہوگئے۔پھر تقریباً تینتیس برس بعدکراچی یونیورسٹی کے احاطے میں واقع معروف مؤرخ اور افسانہ نگار ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر کے گھر پر منعقد ہونے والی ایک ادبی تقریب میں اچانک ہمارا اور اطہر صاحب کا آمنا سامنا ہوا۔ ہم تو اُن سے ہاتھ ملا کر الگ ہوگئے، لیکن اُنہوں نے ہمیں پہچان لیا۔ کہنے لگے ’’آپ مجھے نہیں جانتے، لیکن میں آپ کو جانتا ہوں۔ آپ کے چھوٹے بھائی معین نے جدہ میں مجھے آپ کی کتاب ’جملہ حقوق غیرمحفوظ‘ دی تھی‘‘۔ ہاشمی صاحب اُن دنوں ’اُردو نیوز‘ جدہ سے وابستہ تھے۔ یوں یہاں سے ہمارے تعلقات کی نشاۃ ثانیہ ہوئی۔
اِس تقریب میں ہمیں پہلی بار اُن کی برجستہ گوئی سننے کا موقع ملا۔ تقریب زوروں پر تھی۔ معروف شاعر اور نقاد عشرت رومانی صاحب کی باری آئی۔ اُنہوں نے بلند آواز میں اپنی نظم پڑھنی شروع کی اور خوب داد سمیٹی۔ وہ جیسے ہی نظم کا بند مکمل کرتے تواُن کی گرج دار آواز سن کر کھڑکی سے بندھا ہوا کتا زور زور سے بھونکنے لگتا۔ نظم ختم ہوئی اور سب بھونک چکے، ہمارا مطلب ہے مزید داد دے چکے تو ہاشمی صاحب کہنے لگے ’’عشرت صاحب کو ’ قلبی داد‘ توملی ہی ہے، مگر ’کلبی داد‘ بھی کچھ کم نہیں ملی!‘‘ چوں کہ اِس تقریب میں ہاشمی صاحب نے اپناکوئی مضمون وغیرہ نہیں پڑھا تھا، اُن کی دلچسپ گفتگو سن کر ہم نے اُن سے کہا کہ آپ لکھتے کیوں نہیں؟ وہ مسکرا کر خاموش ہورہے۔لیکن اِس کے بعد جب مختلف تقریبات میں اُن کی دلچسپ تحریریں سنیں تو اپنی کم علمی پر سخت ندامت ہوئی۔ ہاشمی صاحب رات کو دیر سے سونے کے باوجود ہماری بزم ’یارانِ بذلہ سنج‘ کی تقاریب میں باقاعدگی سے شریک ہوا کرتے تھے، اس شرط کے ساتھ کہ وہ راتوں کو جاگنے والے لوگ ہیں، صبح کو کوئی اُنہیں اُٹھادیا کرے، کیوں کہ ہماری یہ تقاریب صبح کے ناشتے پر منعقد ہوا کرتی تھیں۔ اس کام کے لیے اُن کے ایک دیرینہ ساتھی کو ذمہ داری سونپی جاتی تھی کہ وہ ہاشمی صاحب کو اُٹھائیںگے۔ چوں کہ صحافی ہونے کے ناتے اُن کے ساتھی کا شمار بھی ’جاگنے والوں‘ میں ہوتا تھا،اس لیے اُن کو اُٹھانے کے لیے اُن کے قریبی ساتھی کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں، جو سحر خیز تو تھے، مگر بھول جاتے تھے۔ اس لیے جس کے گھر پر تقریب منعقد ہوتی تھی، وہ صبح ہوتے ہی اُن صاحب کو یاد کروا دیا کرتا تھا۔اس تمام بندوبست کی وجہ یہ تھی کہ تقریب کی رونق ہاشمی صاحب کے دم سے تھی،اُن کے بغیر محفل سونی سونی اور بے کیف سی رہتی تھی، جس کا اندازہ اِن دو تین واقعات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے:
٭ایک بار ہاشمی صاحب کی رہائش گاہ پر ’یارانِ بذلہ سنج‘ کی تقریب جاری تھی۔ لوگ زیادہ تھے، کمرے میں کچھ دیر بعد گھٹن سی محسوس ہو نے لگی توہاشمی صاحب نے ایک نوجوان سے کھڑکی کھولنے کو کہا۔ اُنہوں نے بہت کوشش کی، مگر کھڑکی اُن سے کھل نہ پائی۔ ہاشمی صاحب بھلا کہاں خاموش رہنے والے تھے! ہنستے ہوئے بولے ’’دو گھڑی کی چاہت میں ’کھڑکیاں‘ نہیں کھلتیں‘‘۔
٭ایک تقریب میں سعودی عرب سے آئے ہوئے ایک شاعر موجود تھے۔ کسی نے اُن سے پوچھا کہ آپ ہاشمی صاحب کے ہوتے ہوئے سعودی عرب گئے تھے؟ وہ کہنے لگے’’نہیں، میں اِن کے وہاں سے آنے کے بعد گیاہوں‘‘۔ ہاشمی صاحب چھوٹتے ہی بولے ’’یہ میرے ہوتے ہوئے وہاں نہیں آسکے!‘‘
٭ایک بار کسی صاحب نے اُن سے پوچھا ’’وہ پچھلے مہینے آپ کے فلاں دوست کو کیوں اُٹھا لیا گیا تھا؟‘‘ ہاشمی صاحب انتہائی سنجیدگی سے بولے’’گھر پر چھاپے کے دوران اُن کی دراز سے ’نورانی قاعدہ‘ برآمد ہوا تھا۔ ایجنسی والوں کو شک گزرا کہ کہیں اِن کا تعلق ’القاعدہ‘ سے تو نہیں ہے!‘‘
دراصل آج کل ہمارے ہاںکسی کا شرعی حلیہ ہونا ہی شکوک و شبہات کا اصل سرچشمہ ہے، اسی لیے ہر قاعدے کا آدمی ’القاعدہ‘ کا لگتا ہے!
ایک مرتبہ ہم نے عید کے موقع پر ایک ادیب کو فون کیا۔ وہ گھر پر موجود تھے نہیں۔ اُن کی اہلیہ نے فون اُٹھایا تو ہم نے اُن کو عید کی مبارک باد دی۔کہنے لگیں ’’میری طرف سے اپنی اہلیہ کو بھی مبارک باد دیجیے گا۔‘‘ پھر اچانک اُنہیں نجانے کیا خیال آیا اور چونک کر بولیں’’اہلیہ ابھی ہیں ناں؟‘‘ کبھی کبھی ہمیں ہاشمی صاحب کے بارے میں بھی یہی شک ہوجایا کرتا تھا، کیوں کہ مصروفیت کے باعث وہ اچانک عدت میں چلے جاتے اور مدت تک ہر قسم کا رابطہ منقطع کردیتے تھے۔ بقول اُن کے’’کسی صحافی کو پکڑنا مینڈک کو ترازو میں رکھ کر تولنے کے مترادف تھا۔‘‘
ہاشمی صاحب اللہ کی رضا پر راضی رہنے والے سچے اور کھرے مسلمان تھے۔ کرائے کے گھر میں رہتے ہوئے بھی ہنستے رہتے تھے۔ لگی لپٹی نہیں رکھتے تھے، جو دل میں ہوتا تھا، برملا کہہ دیا کرتے تھے۔ انتہائی سنگین موقعوں پر بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنے دیتے تھے۔ اُن کے چھوٹے بھائی حیدر ہاشمی کا انتقال ہوا تو ایک صاحب نے فون کیا اورغلط فہمی میں ’حیدر‘ کے بجائی کسی دوسرے بھائی کی تعزیت کرڈالی۔ نام سنتے ہی ہاشمی صاحب بولے’’وہ تومیرے سامنے بیٹھا ہوا ہے، سنے گا تو ناراض ہوگا!‘‘اسی طرح ایک بار اُن کی خیریت معلوم کرنے کے لیے فون کیا توکہنے لگے ’’سب خیریت ہے، بس وہ پچھلے دنوں میری دل کی تکلیف بڑھ گئی تھی اور اہلیہ کو ذرا کینسر ہوگیا ہے۔ آج کل اُن کی کیمو ہورہی ہے۔‘‘پچھلے سال فالج کا حملہ ہوا تو ہم اُن کی عیادت کو گئے۔ ہاشمی صاحب ٹھیک سے بول نہیں پارہے تھے، مگر اِس حال میں بھی اُن کی بذلہ سنجی میں کوئی فرق نہ آیا تھا۔ ہفت روزہ ’فرائیڈے اسپیشل‘ میں اُن کے کالم ’خبر لیجے زباں بگڑی‘ کی دھوم تو تھی ہی، ہنستے ہوئے بولے ’’آخر زبان بگڑ ہی گئی!‘‘
ہاشمی صاحب کا بچپن مشائخ سے تربیت یافتہ علماء کی صحبت میں گزرا۔ وہ تعلیم اور تربیت کے فرق کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ ایک بار اُنہوں نے اپنے مذکورہ بالا کالم میں ایک کالم نگار کی بڑی لسانی غلطی کی نشاندہی کردی۔ وہ صاحب تو غلطی پر نادم ہونے کے بجائے ہتھے سے اُکھڑ گئے اور اپنی صفائی میں خود پورا ایک کالم لکھ مارا۔ ہاشمی صاحب نے پڑھا تو نہ صرف یہ کہ حق پر ہونے کے باوجود پیچھے ہٹ گئے، بلکہ اُن صاحب کی بڑائی اور بزرگی کو تسلیم کرتے ہوئے معاملے کو وہیںختم کردیا۔ اپنا آپ ختم کرنا کسی معمولی استعداد کے انسان کا کام نہیں۔ اُن کی جگہ ’گل پاشی‘ کو ’پتھرائو‘ کہنے والے کسی ’بحران چینل‘ کاکوئی ٹی وی اینکر ہوتا تو موضوع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اپنی مشہوری کے لیے پانچ سات ٹاک شو تو کروا ہی دیتا!
اب ایک عجیب اتفاق ملاحظہ ہو۔ لاہور سے نکلنے کے بعد ہاشمی صاحب سے ہماری ملاقات تینتیس برس کے بعد کراچی میں مذکورہ تقریب میں ہوئی۔ اس کے بعد اِن کے دیگر بھائیوں سے ملاقات میں گیارہ گیارہ برس کا وقفہ رہا۔ اُن کے ایک چھوٹے بھائی حیدرہاشمی سے،جو ہمارے بچپن کے ساتھیوں میں سے تھے، ہماری ملاقات ایک شادی میں ’چوالیس‘ برس کے بعد ہوئی۔ حضرت مولانا راحت ہاشمی صاحب برکاتہم اور ایک چھوٹے بھائی سے (جن کا نام اظہر سننے میں آیا) ’پچپن برس‘ کے بعد ہاشمی صاحب کے جنازے میں ملاقات ہوئی، جن کا نام ’اظہر‘ سننے میں آیا۔ اظہر من الشمس یہ ہمیں بعد کی پیدائش معلوم ہوتے ہیں۔ ہاشمی صاحب کا کوئی اور بھائی ہوتا تو ’چھیاسٹھ برس‘ بعد اُس سے بھی ملاقات ہوجاتی! اتفاق دیکھیں کہ جب لاہور میں ہماری اِن لوگوں سے پہلی ملاقات ہوئی تو اُس وقت ہم گیارہ برس ہی کے تھے۔
شہرت کے معاملے میں ہاشمی صاحب ستائش اور صلے کی تمنا سے آگے کے مسافر تھے۔ اُنہوں نے اپنے مضامین کی اشاعت کی طرف کبھی کوئی توجہ نہیں دی، اس لیے کسی کے لیے اُن کے فن پر کچھ کہنا، اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک اُن کا کوئی کام کتابی شکل میں سامنے نہ آجائے۔ بے نیازی میں احمد جمال پاشا بھی اُن سے کچھ کم نہ تھے۔ وہ اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے کئی مضامین ماہنامہ ’نیرنگِ خیال ‘کے مدیر محترم سلطان رشک ؔ کو دے گئے۔ بندۂ خدا نے فوٹو کاپی کروانے کی بھی زحمت نہیں کی۔ لیکن احمد جمال پاشا کی خوش قسمتی یہ تھی کہ ایک تو اُس زمانے میں لکھنے پڑھنے کا رجحان تھا، اوردوسرے اُن کے مضامین اپنے وقت کے موقر ادبی رسائل وجرائد میں شائع ہوتے رہے اور کتابی شکل میں دستیاب ہیں۔ یوں اُن کا شمار اُردو کے بڑے مزاح نگاروں میں ہوگیا۔ ہمارے ہاشمی صاحب کا بھی کوئی کام کتابی شکل میں آگیا ہوتا تو تحریر کے معیار کے پس منظر میںآج اُن کا شمار ابن انشا، ابراہیم جلیس اور مشفق خواجہ کی قبیل کے شہرت یافتہ کالم نگاروں میں ہورہا ہوتا۔

Share this: