پی ڈی ایم کا پہلا جلسہ

Print Friendly, PDF & Email

پی ڈی ایم نے پہلا جلسہ 16اکتوبر کو گوجرانوالہ میں کیا، اور یہ اتحاد بھرپور تیاری کے ساتھ حکومت پر حملہ آور ہوا ہے۔ جلسے سے مریم نوازشریف، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمٰن کے علاوہ اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کے رہنمائوں نے بھی خطاب کیا۔ پنجاب حکومت کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ایک سو نامعلوم سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے، اب جب بھی انتظامیہ چاہے گی اپنی مرضی سے کسی کو بھی پکڑ لے گی۔ اگرچہ یہ اپوزیشن اتحاد کا مشترکہ جلسہ تھا مگر نعرے اپنے اپنے تھے، جس سے جلسے کا رنگ جم نہیں سکا۔ پہلے حکومت اس جلسے کے لیے اجازت نہیں دے رہی تھی، پھر عین آخری وقت پر اجازت بھی دے دی اور مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نوازشریف، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمٰن سمیت سب رہنمائوں کو سیکورٹی بھی دی۔ حکومت نے جلسے کو ناکام بنانے کے لیے وہی پرانے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے پی ٹی آئی اپوزیشن کے جلسوں کو کسی بھی طرح روکنے کے خلاف آواز بلند کرتی رہی، لیکن اب جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت ہے تو اپوزیشن کے جلسوں کو روکنے کے لیے سرگرم دکھائی دی۔ بتایا جاتا ہے کہ سڑکیں بند کرنے کے لیے ہر تھانے کے ایس ایچ او کو چالیس کنٹینر جمع کرنے کے احکامات دیئے گئے، بعض اہم رہنمائوں کو گھروں تک محدود رکھا گیا، بڑے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں اپوزیشن جماعتوں کے سرگرم کارکنان کو گرفتار کیا گیا۔ مختصر یہ کہ حکومت ہر طریقے سے پی ڈی ایم کا گوجرانوالہ کا جلسہ روکنے یا ناکام بنانے کے لیے سرگرم عمل رہی مگر ناکام رہی۔ پنجاب کے اس بڑے صنعتی شہر میں متحدہ حزب اختلاف پی ڈی ایم نے اپنا پہلا بڑا جلسہ کرکے اپنی تحریک کی سمت بھی متعین کردی ہے۔ گوجرانوالہ مسلم لیگ (ن) کا ایک مضبوط گڑھ ہے لیکن پارٹی صرف اسی پر انحصار نہیں کررہی، بلکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے پنجاب بھر میں اپنے ورکرز اور سپورٹرز کو متحرک کیا اور انہیں جلسے کے مقام پر پہنچنے کی ہدایت کی، اس کے علاوہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی بڑی تعداد میں اپنے چاہنے والوں کو لانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ اپوزیشن کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے گوجرانوالہ میں اپنی پہلی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اپوزیشن کی 11 جماعتوں کے اس اتحاد میں بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت دیگر جماعتیں شامل ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کارکنوںکے ہمراہ قافلوں کی صورت میں جلسہ گاہ پہنچے۔ مریم نواز قافلے کے ہمراہ رات تقریباً ساڑھے 9 بجے گوجرانوالہ کے جناح اسٹیڈیم پہنچیں، جبکہ بلاول بھٹو زرداری کا قافلہ تقریباً 10 بجے جلسہ گاہ پہنچا۔ مریم نوازگوجرانوالہ کے لیے دوپہر 2 بجے روانہ ہوئی تھیں اور شام 6 بجے تک لاہور سے نہیں نکل سکی تھیں۔ مولانا فضل الرحمٰن ان کے بعد پہنچ پائے اور کارکنان کی بڑی تعداد ان کے ہمراہ تھی۔ قبل ازیں خواجہ آصف کی قیادت میں لیگی قافلہ جلسہ گاہ میں داخل ہوا اور نون لیگ کے رہنما کارکنوں کے ہمراہ پیدل جلسہ گاہ پہنچے۔جلسے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم اورنگزیب اور ایک پولیس افسر کے درمیان جلسہ گاہ میں داخل ہونے کے معاملے پر تلخ جملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم عہدوں کے لیے نہیں بلکہ مقصد کے لیے پی ڈی ایم کا حصہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن پی ڈی ایم کے بینر تلے لوگوں کے ووٹ کی عزت بحال کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کا یہ اتحاد ان حکمرانوں کی کشتی کو غرقِ آب کرنے کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا، ہماری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں لیکن یہ محسوس ہونا چاہیے کہ پاکستان، پاکستانیوں کا ہے، مغربی آقاؤں کا نہیں۔ پاکستان عالمی اسٹیبلشمنٹ کی حکمرانی کے لیے معرضِ وجود میں نہیں آیا تھا۔ دنیا میں سازشیں ہوتی ہیں، اپنی مرضی کی حکومتیں قوموں پر مسلط کی جاتی ہیں، اپنے ایجنڈے کی تکمیل کرائی جاتی ہے، اور آج بھی آپ نے دیکھا کہ ان دو سال میں اگر کوئی قانون سازی ہوئی ہے اور 11 سے 12 قوانین بنے ہیں تو وہ بھی ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے تحت بنے ہیں، پارلیمنٹ کی بالادستی اور خودمختاری کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا، بل پر باقاعدہ اس کے اغراض و مقاصد لکھے جاتے ہیں، اس کا موضوع لکھا جاتا ہے جس میں صراحت کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر قانون سازی ہورہی ہے۔ اگر ہمیں یہ لکھنا ہے تو اس پارلیمنٹ کی نفی خود پارلیمنٹ کررہی ہے۔ہماری دلیل مضبوط ہے کہ یہ پارلیمنٹ معتبر پارلیمنٹ نہیں ہے، یہ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ نہیں ہے، یہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں اور دباؤ کے تحت لائی گئی پارلیمنٹ ہے، اور آج بھی ان کے ایجنڈے پر قانون سازی کررہی ہے۔ اس طرح کے حکمرانوں کی حکمرانی کا خاتمہ کرنے کے لیے ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر ہیں۔ آج پوری اپوزیشن متحد ہے، سلیکٹڈ کے جانے کا وقت آچکا ہے۔
گوجرانوالہ کو ماحولیاتی آلودگی اور اسموگ سے محفوظ رکھنے کے لیے 313 بھٹہ خشت 53دن کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ محکمہ ماحولیات نے 313 بھٹوں کو بند کرنے کے لیے نوٹس جاری کردئیے جبکہ بھٹہ مالکان کو پرانے بھٹوں کو نئی زگ زیگ ٹیکنالوجی پر شفٹ کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے بھٹے سیل اور مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس سے بھٹہ مالکان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اورہزاروں مزدوروں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ ابتدائی مرحلے میں 47 بھٹہ خشت کو زگ زیگ پر منتقل کردیا گیا۔ محکمہ ماحولیات کے مطابق پرانے بھٹے جب چلتے ہیں تو زیادہ مقدار میں دھواں پیدا کرتے ہیں اور کوئلے کا استعمال بھی زیادہ ہوتا ہے، جو ماحولیاتی آلودگی اور اسموگ کا باعث بنتے ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات عمر اشرف نے فرائیڈے اسپیشل کو بتایا کہ حکومتی پالیسی اور جاری کردہ ہدایات کے مطابق تمام بھٹہ خشت 7 نومبر سے 31 دسمبر تک بند رہیں گے۔

Share this: