اورماڑہ میں دہشت گردی

Print Friendly, PDF & Email

سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت 15 افراد شہید

جس دن (15اکتوبر2020ء) بلوچستان کے ساحلی علاقے اورماڑہ میں بلوچ عسکریت پسندوں کے حملے میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت 15افراد جاں بحق ہوئے، اُسی روز شمالی وزیرستان میں رزمک کے مقام پر شرپسندوں کی جانب سے آئی ای ڈی حملے میں24 سالہ کیپٹن عمر فاروق، 37 سالہ نائب صوبیدار ریاض احمد، 44 سالہ نائب صوبیدار شکیل آزاد اور 30سالہ لانس نائیک عصمت اللہ جان سے گئے۔ بم سڑک کنارے نصب کیا گیا تھا۔
ریاست عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کا برسوں سے سامنا کررہی ہے۔ جنرل پرویزمشرف کے اقتدار پر قبضے اور افغانستان پر حملے میں امریکہ اور نیٹو کا اتحادی بننے کے بعد مسلح تنظیمیں منظرعام پر آئیں، ساتھ ہی قبائلی علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کے اثرات پھیلتے گئے، یہاں تک کہ اس نے سوات اپنے قبضے میں لے لیا۔ بلوچ عسکریت پسندوں کے لیے افغانستان پناہ گاہ و تربیت گاہ ٹھیرا۔ افغانستان میں بھارت کو نفوذ و رسوخ حاصل ہوا۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کا حصہ بن کر بھی افغانستان سے بے دخل کردیا گیا۔ یقیناً پرویزمشرف رجیم افغانوں کے قتلِ عام میں شریک اور برادرکُشی کی مرتکب ہوئی، چناں چہ پاکستان کو مکافاتِ عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ اب اگر افغانستان میں امن نہیں تو پاکستان بھی پُرسکون نہیں۔ تحریک طالبان پاکستان اور دوسرے مسلح گروہوں نے آپریشن کے بعد افغانستان کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنایا، جن کو بھارت کی انٹیلی جنس اور افغان این ڈی ایس کی مدد حاصل ہے۔ اگست2020ء کے وسط میں افغانستان کے اندر تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار اور حزب الاحرار کے درمیان انضمام ہوا۔ آخرالذکر گروہوں کے کمانڈروں عمر خالد خراسانی اور عمر خراسانی اور ان کے دوسرے نمائندوں نے تحرک طالبان پاکستان کے سربراہ ابوعاصم منصور کے ہاتھوں بیعت کرلی، پاکستان مخالف عزم کا اظہار کیا گیا۔ متوازی طور پر دولتِ اسلامیہ پاکستان کے نام سے افغانستان میں موجود گروہ نے بھی پاکستان مخالف عزائم پر مبنی اعلامیہ جاری کیا۔ پچھلے مہینوں میں بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کے اتحاد بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) اور سندھو دیش ریوولیوشنری آرمی (ایس آر اے) نے مشترکہ محاذ کے قیام کا اعلان کیا۔ براس بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے)، بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)، بلوچ ری پبلکن آرمی (بی آر اے) اور بلوچ ری پبلکن گارڈز (بی آر جی) پر مشتمل ہے۔ متذکرہ بالا اورماڑہ حملے کی ذمہ داری اس تنظیم نے قبول کرلی۔ درحقیقت بلوچ عسکریت پسندوں پر کلی قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔ نہ ہی سیاسی میدان میں ہم آہنگی اور افہام و تفہیم کا ماحول پیدا کیا جاسکا ہے۔ اس سے کچھ حاصل نہ ہوگا کہ ملک کے کسی رہنما پر بھارت نوازی یا مودی کی دوستی کا بہتان دھرا جائے۔ خصوصاً پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حالیہ تحریک کے تناظر میں حکومتی لوگوں کا بیانیہ صائب نہیں۔ تخریب و دہشت گردی کے واقعات کا پاکستان کو برسوں سے سامنا ہے۔ یقیناً ملک بھاری نقصان اُٹھا چکا ہے۔ عوام اور فورسز کی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔ لہٰذا کوئی اگر کسی منصب دار پر تنقید کرتا ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بحیثیت ادارہ فوج کو ہدفِ تنقید بنایا جارہا ہے۔ نہ ہی اس کا مطلب ملک دشمن عناصر کی مدد کرنا ہے۔ البتہ حکومت مخالف اتحاد میں شامل بعض سرکردہ رہنمائوں کے کچھ ارشادات بھی ریاست کے مفادات سے متصادم ہیں، جس سے گریز کی ضرورت ہے، وگرنہ پی ڈی ایم متنازع ہوجائے گا۔ چوں کہ ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے، اس لیے یہ اتحاد کالعدم گروہوں سے متعلق واضح مؤقف پیش کرے خواہ یہ گروہ بلوچستان کے ہوں، سندھ کے یا سابقہ فاٹا کے۔
الغرض اورماڑہ کا واقعہ غیر معمولی ہے جس میں تیل اور گیس کی تلاش کرنے والی سرکاری کمپنی او جی ڈی سی ایل کے کانوائے کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کانوائے گوادر سے او جی ڈی سی ایل کے ملازمین کو ایف سی اور کمپنی کے اپنے نجی سیکورٹی گارڈز کی حفاظت میں کراچی لے جارہا تھا، جسے گوادر کے علاقے اورماڑہ سے پچاس کلومیٹر دور مکران کوسٹل ہائی وے پر’’سربٹ‘‘کے مقام پر عسکریت پسندوں نے گھیر لیا، خودکار اسلحہ سے اندھا دھند فائرنگ کی، راکٹ کے گولے بھی داغے۔ او جی ڈی سی ایل کے ملازمین کی گاڑی تو بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئی، مگر ان کی حفاظت پر مامور اہلکار گولیوں کا نشانہ بنے۔ ایک گاڑی کا فیول ٹینک پھٹنے سے آگ لگ گئی، جس میں سوار اہلکار جھلس گئے۔ ایف سی کے حوالدار سمیت سات اہلکار اور اتنی ہی تعداد میں او جی ڈی سی ایل کے نجی محافظ بھی جاں بحق ہوگئے۔ حملے کے بعد قریبی علاقوں اور پہاڑوں میں آپریشن شروع کیا گیا، جو غالباً تین دن تک جاری رہا۔ تاہم آپریشن کس قدر نتیجہ خیز تھا، اس بارے میں اب تک معلوم نہیں ہوسکا ہے۔ حملہ آور مشکل پہاڑی سلسلوں میں کئی کلومیٹر پیدل سفر کرکے ہدف کے لیے آتے ہیں، اس بنا پر ان کا تعاقب مشکل ہوتا ہے۔ اسی مقام پر اپریل2019ء میں بھی عسکریت پسندوں کے اسی اتحاد ’براس‘ نے رات کے اندھیرے میں مکران کوسٹل ہائی وے پر مسافر بسوں کو روکا تھا اور شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد پنجاب اور دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے 14غیر بلوچستانیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ ان میں 11پاک بحریہ اور کوسٹ گارڈز کے اہلکار تھے۔ پاکستان نے اس واقعے پر باقاعدہ ہمسایہ ملک ایران کی حکومت سے احتجاج کیا تھا،کہ تیس سے چالیس کی تعداد میں یہ حملہ آور ایران کی حدود سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے اور حملہ کرکے واپس وہیں چلے گئے۔ اور یہ بھی کہ ان تنظیموں کے کارندوں نے پاکستانی سرحد کے قریب ایرانی حدود میں پناہ لے رکھی ہے۔ یقیناً اس نوع کے واقعات آئندہ بھی ہوتے رہیں گے، لہٰذا کسی قسم کے اغراض و مقاصد سے ہٹ کر بات چیت کی راہ ہموار کرنے کی ضرورت ہے۔
nn

Share this: