کوئٹہ: پی ڈی ایم کا جلسہ

Print Friendly, PDF & Email

وفاقی اور صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار

اتوار 25اکتوبر کو بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم کے فٹبال گرائونڈ میں سبوتاژ کے تمام حکومتی ہتھکنڈوں کے باوجود پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے زبردست عوامی قوت کا مظاہرہ کر دکھایا۔ وفاقی اور بلوچستان حکومت کھسیانی دکھائی دی ۔کہا دہشت گردی کا خطرہ ہے ۔ نیکٹا نے تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا تھریٹ الرٹ جاری کیا۔ البتہ اس کالعدم گروہ نے ایسی کسی بھی منصوبہ بندی کی نفی کردی۔24اکتوبر کو شہر کے نواح و مضافات میں موبائل فون سروس بند کرنے پر غور ہوا۔ پھر بتایا گیا کہ موبائل سروس بند نہیں کی جائے گی۔ مگر25اکتوبر کی صبح نہ صرف موبائل سروس بند تھی بلکہ انٹرنیٹ حتیٰ کہ لینڈ لائنز یعنی پی ٹی سی ایل بھی منقطع کردی گئی۔ مگر ان تمام حربوں ہتھکنڈوں کے باوجود لوگ جوق در جوق اسٹیڈیم میں داخل ہوتے رہیں۔ فٹبال گرائونڈ لوگوں سے بھر گیا۔ اسٹیڈیم کا غالب حصہ بھی لوگوں سے پر ہوا یہاں تک اسٹیڈیم کے باہر بھی دور تک ہجوم رہا۔ ازیں پیش کوئٹہ کے کھیل کے میدانوں و شاہراہوں پر اس قدر بڑا جلسہ نہ دیکھا گیا ہے۔ یقینا یہ پی ڈی ایم میں شریک جماعتوں کے کارکنوں کی مسلسل محنت کا ثمر ہے۔ کوئٹہ کا جلسہ وفاقی اور بلوچستان حکومت، حکمرانوں کے اعصاب پر حاوی رہا جو مسلسل اس کی ناکامی ، عوام کی عدم دلچسپی کا واویلا کرتے رہیں ۔ جہاں پی ڈی ایم کی جماعتیں تشہیری مہم کے تحت شاہراہوں پر اپنے قائدین کے پوسٹرآوایزاں کرتے رہے وہیں برابر بلوچستان عوامی پارٹی( باپ ) بھی نقالی کرتی رہیں۔کسی نے کہا کہ اداروں کے خلاف بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو کسی نے اداروں کے خلاف بولنے کی صورت میں قانون حرکت میں آنے کی تڑی دے دی۔ اس ذیل میںبلوچستان اسمبلی میں حکومتی جماعت اور اتحادی اراکین نے26اکتوبر کو پی ڈی ایم کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرالی۔ حزب اختلاف اور ان کے درمیان ایوان کے اندر ماحول تلخ رہا۔ بہر حال صوبائی حکومت نے کچھ نہ کچھ کرنا ہی تھا۔ اس جلسے سے میاں محمدنواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ مریم نواز نے مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی ، سردار اختر مینگل، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ، امیر حیدر ہوتی، آفتاب احمد شیر پائو ، انس نورانی اور پروفیسر ساجد میر نے خطاب کیا۔ مریم نواز کا لہجہ تلخ رہا۔ ان سے اسٹیج پر لاپتہ افراد کی خواتین نے بھی لاقات کی ۔مریم نواز نے اپنی تقریر میں بھی اس مسئلے پر بات کی۔ نواز شریف کے خطاب کے امکانات مسدود کردیئے گئے تھے ۔ لیکن اپنی بات پہنچانے میں کامیاب ہو ہی گئے۔ کوئٹہ میں تقریر نے بھی سب کو مضطرب کئے رکھا۔ میاں نواز شریف نے میر حاصل بزنجو کو یاد کیا۔ ان کی جدوجہد کو سراہا،مغفرت کیلئے دعا کی۔کراچی میں مریم نواز کے ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑنے کے بارے ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ اب بھی حکومت کا حصہ ہیں جو بیٹیو ں کی عزت کی بات کرتے ہیں۔ اس واقعہ نے ثابت کردیا کہ ریاست کے اوپر ایک اور ریاست قائم ہوچکی ہے۔ ریاست کو غیر قانونی شکنجے سے جڑ رکھا گیا ہے۔ جب تک غیر قانونی شکنجہ قائم رہے گا حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔ نواز شریف نے آئی جی سندھ کے ساتھ ہونے والے سلوک کے باب میں کہا کہ سندھ وفاق کی اکائی ہے۔ وہاں منتخب حکومت ہے آئینی اتھارٹی ہے لیکن کسی کو خبر نہیں کہ کس نے آئی جی سندھ کو اغواء کیا۔ نواز شریف نے سوال کیا کہ سیکٹر کمانڈر کون ہے اور وہ کس کی طاقت سے ایف آئی آر کٹواتا ہے ۔کس کے حکم پر چادر اور چار دیواری ، تقدس پامال کیا جاتا ہے ۔ اگر وزیراعلیٰ کو بھی خبر نہیں پھر اس سے بڑا حکمران ہے جو حکم دیتا ہے۔ اپنی تقریر میں نواز شریف نے اس امر کو بھی واضح کیا کہ پی ڈی ایم کی تحریک کسی ادارے کے خلاف نہیں ہے بلکہ ان کے خلاف جو پاک فوج کے مقدس ادارے کی طاقت کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کرنے والے کردار ہیں۔ بقول نواز شریف کے اوپر سے نیچے تک فوج کے بہادر فرزندوں کو ان کے کرداروں کے مقاصد کا علم نہیں ہوتا۔ وہ اپنے ڈسپلن کے پابند ہوتے ہیں اور وہ دن رات ملک و قوم کی حفاظت کی لگن میں مصروف ہوتے ہیں مگر ان کی مصومیت سے ایسے کام لئے جاتے ہیں جس کا قوم کو نتیجہ نقصانات کی شکل میں بھگتنا پڑٹاہے ۔چند لوگ گھنائونے مقاصد پورے کرنے کیلئے قانون و آئین توڑتے ہیں۔ ملک و قوم کو جبکہ حقیقت میں فوج کا اس سے دور دور کا واسطہ نہیں ہوتا۔ اور بدنامی ادارے کی ہوتی ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ وہ اس خاطر نام لے کر ان کرداروں کو بے نقاب کرتا ہے کہ ان کے سیاہ کارناموں کا دھبہ ملک کے اداروں پر نہ لگے اور ملک کے فوج کی وردی پر نہ لگے۔ نواز شریف نے کارگل جنگ کا ذکر بھی کیا کہ کارگل میں سینکڑوں جانبازوں کو شہید کروانے اور فوج کو رسوا کرنے کا فیصلہ فوج کا نہیں چند مفاد پرست جرنیلوں کا تھا جنہوں نے فوج کو ہی نہیں بلکہ ملک کو ایسی جنگ میں جھونک دیا جس سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا تھا۔ ہمارے بچارے سپاہی دہائی دیتے رہے کہ چوٹیوں پر خوراک نہ پہنچائیں لیکن اسلحہ تو پہنچائیں۔ کارگل آپریشن کے پیچھے وہی کردار تھے جنہوں نے اپنے جرائم پردہ ڈالنے کیلئے 12اکتوبر 1999 کو مارشل لاء نافذ کیا۔ پرویز مشرف نے پوری فوج کو بدنام کیا۔ انہی لوگوں نے محب وطن اکبر بگٹی کو شہید کیا۔ انہیں لوگوں کو محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی قیادت سے قبل خط میں مورد الزام ٹھہرایا۔ بلوچستان اور سندھ میں فضائی اڈے غیروں کو دیئے گئے۔ کراچی اور لال مسجد میں قتل عام کرایا۔ پرویز مشرف کے ذاتی اکائونٹس میں اربوں روپے ہیں، ثبوت موجود ہیں، نیب اور عمران خان میں جرأت نہیں کہ کارروائی کریں۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ ان کی منتخب حکومت کے خلاف سازشوں کا جال بنایا گیا ، نا اہل شخص کو ملک پر مسلط کرنے کا فیصلہ فوج کا نہیں چند کرداروں کا تھا اسی لئے ان کا نام لیتا ہوں۔ ان تمام سوالوں کے جواب فوج کو نہیں بلکہ جنرل قمرباجوہ اور جنرل فیض حمید کو دینے ہیں۔2008ء کے الیکشن میں پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی دھاندلی اور مینڈیٹ چوری کرنے اور ارکان پارلیمنٹ کی ہارس ٹریڈنگ کا حساب دینا ہوگا۔ آپ کو مہنگائی، غربت، فاقہ کشی کا جواب دینا ہے۔ حاضر سروس جج کے گھر جاکر ان پر آئین وقانون کے خلاف فیصلہ کرنے کیلئے دبائو ڈالا گیا کیوں وقت سے پہلے ہی ان کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بنوانے کی پیشکش کی گئی۔ آپ نے اپنے حلف کے ساتھ بے وفائی کی ہے۔ نواز شریف نے تین پیغامات دیئے ۔فوجی جوانوں اور افسران کو مخاطب کرتے ہوئے بولے کہ یہ آپ کا ملک ہے جس کیلئے آپ جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔ آپ نے جہاں حفاظت کا حلف اٹھایا وہاں اتنا ہی اہم آئین کی تابعداری ہے ۔ جہاں آئین شکنی شروع ہوجائے وہاں ظلم کا دور شروع ہوجاتا ہے ۔ جب کسی فرد واحد کیلئے آئین توڑتے ہیں وہاں آپ خود اپنی قوم و ملک کو آئین شکنوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں ۔
، آئین کی حفاظت ، سول سروس کے نام پیغام میں کہا کہ زمانہ بدل رہا ہے کسی کیلئے قانون اور آئین توڑ کر بچ نکلنا مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ آپ نے دیکھا کہ سندھ پولیس افسران نے چند لوگوں کے غیر قانونی رویوں پر احتجاج کرکے نہ صرف ان کے عزائم پورے نہ ہونے دیئے بلکہ اپنے لئے عزت بھی کمائی۔ افسران صاحبان کو سلوٹ کرتا ہوں ۔آپ کو بلا خوف اپنی ذمہ داریاں قانون کے مطابق ادا کرنی چاہیے ۔ عوام سے کہا کہ پاکستانی فوج آپ کی اپنی ہے ، ان کو عزت دیجئے ، انہیں محبت دیجئے لیکن معاملہ جب آئین کی بالادستی کی ہو، انون کی حکمرانی کی ہو تو وہاں کوئی سمجھوتہ نہ کریں اور جو آپ کا حال اور مستقبل چھیننے کا مرتکب ہوتا ہے وہ آمر ہے وہ غاصب ہے اور آئین شکن ہے ۔ عوام سے کہاکہ کسی مفاد پرست ٹولے یا مٹھی بھر لوگوں کو اپنے آنے والی نسلوں کی تقدیر کے ساتھ کھلواڑ کی اجازت مت دیجیے۔ مولانا فضل الرحمان نے بھی کہا کہ وہ اداروں کے دشمن نہیں ادارے ملک کے لئے ناگریز ہوتے ہیں۔ اداروں کا احترام کرتے ہیں ان کے ذمے داروں کا احترام کرتے ہیں ۔ نیز کہا کہ 18ویں ترمیم میں تبدیلی اور این ایف سی ایوارڈ کوئی مائی کا لعل ختم نہیں کرسکتا۔ سندھ ہو یا بلوچستان اس کے جزائر پر وہاں کے عوام اور ان کے بچوں کا حق ہے ۔ کسی نادیدہ قوت کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ عوام کا حق اور حق ملکیت پر ڈاکہ ڈالیں۔ حزب اختلاف کے احتجاج سے سرکار پر بوکھلاہٹ کی کیفیت ہے ۔ ان کے خلاف کوئی نہ کوئی مسئلہ اٹھا دیتی ہے ۔ مریم نواز کے شوہر ک گرفتاری، گجرانوالہ جلسہ کے بعد کا منظر نامہ۔ چناں چہ کوئٹہ میں اویس نورانی کے آزاد بلوچستان کے جملے کو پکڑ کر طرح طرح کے جملے کسے گئے۔ ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر نے تو کوئٹہ کے جلسے کو بھارتیہ جنتا پارٹی کا احتجاج کہہ دیا۔ حالاں کہ اویس نورانی نے اس وقت وضاحت کردی کہ انہوں نے طنزیہ اور سوالیہ جملہ کیا اور پھر زبان کی پھسلن بھی تو ہوسکتی ہے۔ ویسے بھی کیا مولانا شاہ احمد نورانی کے بیٹے سے اس مؤقف کی توقع کی جاسکتی ہے ؟یقینا نہیں ۔ البتہ پی ڈی ایم کے بعض رہنمائوں کے بعض خیالات بھی درست تسلیم نہیں کئے جاسکتے۔ جیسے محمود خان اچکزئی نے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنمائوں و وابستگان پر حملوں، مولانا فضل الرحمان پر خودکش حملوں اسی طرح سابقہ قبائلی علاقوں میں قبائلی ملکان و خوا نین کی ٹارگٹ کلنگ و بم حملوں میں ہلاکتوں کیلئے مورد الزام فوج یا ملک کی انٹیلی جنس اداروں کو ٹھہرایا۔ حالاں کہ یہ امر محمود خان اچکزئی پر پوری طرح واضح ہے کہ ان تمام وارداتوں میں پاکستان مخالف مذہبی گروہ شریک رہے ہیں اور ہیں۔ اور یہ تمام گروہ اس وقت بھارتی ’’ ر‘‘ا اور کابل کی’’ این ڈی ایس‘‘ کی کمک سے افغانستان میں محفوظ رکھے گئے ہیں۔ لہٰذا الزام افغان حکومت کو دینا چاہیے تھا کہ ان گروہوں کی ان کی سرزمین پر پشت پناہی کیوں ہورہی ہے۔ مگر محمود خان اچکزئی ایسی بات اور تقریر پر کبھی نہیں کرینگے۔ وہ اس لئے کہ ان کی کابل حکومت سے گہرے مراسم ہیں جو بھارت کی رکھیل بنی ہوئی ہے۔

Share this: