گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاجی ریلی

Print Friendly, PDF & Email

اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ سی پیک منصوبہ ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگا۔ تاجروں کے وفد نے گزشتہ ہفتے انڈسٹریل زون کا دورہ کیا، یہ زون اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ سی پیک کے ذریعے جو لنک شاہراہیں تعمیر ہونی ہیں، ان میں ایک بہت ہی اہم شاہراہ واخان کی پٹی سے ہوتی ہوئی، مظفر آباد سے گزرتی ہوئی کھاریاں اور جہلم کے بعد موٹر وے کا حصہ بنے گی۔ اس کی تعمیر سے گوجرانوالہ جیسے صنعتی شہر کی قسمت بدل جائے گی۔
گوجرانوالہ میں گزشتہ ہفتے پاکستان شریعت کونسل کی کانفرنس ہوئی جس سے اس کے مرکزی سیکرٹری جنرل شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہدالراشدی نے خطاب کیا۔ مولانا راشدی ملک کی نہایت قابلِ احترام دینی شخصیت ہیں، انہوں نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ توہینِ رسالت کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی سطح پر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور او آئی سی کو عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سفارتی محاذ پر متحرک ہو۔ تقریروں اور بیانات سے توہینِ رسالت کے سلسلے کو روکا نہیں جا سکتا، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرے، حکومتِ پاکستان فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرے۔
جمعیت اہلِ سنت والجماعت کے زیراہتمام آل مسالک کا مشترکہ اجلاس بھی ہوا جس میں علامہ خالد حسن مجددی نے خطاب کیا۔ اجلاس میں مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے رہنما حکیم محمد افضل جمال، جمعیت علمائے اسلام کے رہنما حاجی بابررضوان باجوہ، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے رہنما مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے رہنما مولانا مفتی غلام نبی ضیا، پاکستان شریعت کونسل گوجرانوالہ کے امیر مولانا امجد محمود معاویہ، جنرل سیکرٹری مولانا نصرالدین خان عمر، جمعیت اساتذہ کے ڈویژنل رہنما سید احمد حسین زید، جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مفتی زاہد اللہ خاں اور دیگر نے شرکت کی۔
جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے زیراہتمام فرانس میں گستاخانہ خاکوں اور فرانس کے صدرکی طرف سے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت ضلعی ناظمہ تہمینہ عارف اور نائب ناظمہ نازیہ عبدالستار نے کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مطالبہ کیا کہ فرانس کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات فوری ختم کیے جائیں اور فرانس کے سفیر کو فوری طور پر واپس بھیجا جائے، اور اسلامی سربراہی کانفرنس کا اجلاس بلاکر ایسی حکمت عملی تشکیل دی جائے کہ آئندہ کسی کو سازش کرنے کی جرأت نہ ہو، اقوام متحدہ تماشا دیکھنے کے بجائے قانون سازی کرے جس میں تمام انبیائے کرام کی شان میں گستاخی کو جرم قرار دیا جائے، اور سزا، موت مقرر کی جائے۔ ضلعی ناظمہ تہمینہ عارف نے کہاکہ ناموسِ رسالت کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض ہے، تمام مسلمانوں کو ہر سطح پر اس گھٹیا حرکت پر احتجاج کرنا چاہیے۔ ریلی سے یوسی ناظمہ کشور امین، ناظمہ پی پی 53 اسما ساجد، حمیرا اسحاق، ارم ذیشان و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

Share this: