عبدالقادر بلوچ کا مسلم لیگ (ن) سے استعفیٰ

Print Friendly, PDF & Email

حافظ حسین احمد کی اپنی جماعت پر تنقید

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سربراہ میاں محمد نوازشریف اور ان کی صاحب زادی مریم نواز کا لب و لہجہ بلاشبہ سخت ہے۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے گوجرانوالہ جلسے کے بعد کوئٹہ کے جلسہ عام میں بھی میاں محمد نوازشریف اور مریم نواز نے جن پر برسنا تھا، ان پر غصہ اتار دیا۔ چناں چہ مسلم لیگ (ن) کے باپ، بیٹی اور دوسرے قائدین کی حالیہ پُرخار سیاست سے نباہ کئی لیگیوں کے لیے آسان نہیں ہے۔ بلوچستان کے اندر جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ کو سابق وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کو 25 اکتوبر کے پی ڈی ایم کے جلسے میں مدعو نہ کرنے اور میاں نوازشریف اور مریم نواز کی جانب سے فوج اور اداروں کے بعض حکام کے خلاف لب کشائی کرنے پر حیلہ مل گیا ہے کہ نواز لیگ سے مزید وابستہ نہ رہیں۔ نواز لیگ سے علیحدگی ان کی مصلحت کوشی کہی جاتی ہے۔ معلوم نہیں کہ اس عمر میں اُن کی آئندہ کی سیاسی عاقبت کا کیا ہوگا؟ اس کے برعکس شیخ جعفر خان مندوخیل کٹھن اور پُرخار ایام میں مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ہوگئے۔ شیخ جعفر خان مندوخیل پرانے لیگی ہیں۔ نواز لیگ کا ساتھ تب چھوڑا تھا جب میاں نوازشریف اور ان کا خاندان زیرِ عتاب تھا۔ پرویزمشرف کی آمریت کے زیر سایہ بننے والی مسلم لیگ قائداعظم کا حصہ بن گئے تھے اور اس کے صوبائی صدر تھے۔ سینئر پارلیمنٹیرین ہیں۔ بدعنوانی کے دھبے سے لباس صاف رہا ہے۔ جولائی2018ء کے عام انتخابات میں ژوب سے ہروائے گئے۔ وجہ یہ تھی کہ شیخ جعفر مندوخیل اپنے اختیار کے حامل تھے۔ بعض ان سے مارچ2018ء کے سینیٹ انتخابات، اور بعض دیگر حوالوں سے اپنی بات منوانا چاہتے تھے۔ قاف لیگ بلوچستان پوری کی پوری بلوچستان عوامی پارٹی کا حصہ بن گئی مگر جعفر مندوخیل خود نہ گئے۔ یوں انہیں اسمبلی سے باہر رکھا گیا، اور ان کی جگہ ایک عام اور سطحی شخص کو کامیاب کرواکر BAP پارٹی کا حصہ بناکر وزارت دی گئی۔
نواب ثناء اللہ زہری کا تعلق نون لیگ سے ویسے بھی رہا۔ ان کا صوبے کا وزیراعلیٰ بنایا جانا بلاشک نواز لیگ کی عطا ہے۔ نواز لیگ ہی کے طفیل ان کے بھائی نعمت اللہ زہری اور سالے شہباز درانی کو مارچ2015ء کے سینیٹ انتخابات میں کامیاب کرایا گیا۔ اس الیکشن میں جان جمالی نے ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلاف کیا، اپنی بیٹی کو آزاد حیثیت سے امیدوار پیش کیا، وہ کامیاب نہ ہوسکیں مگر ووٹ زبردست حاصل کیے۔ جان جمالی اور مرکزی قیادت کے درمیان بداعتمادی بھی پیدا ہوگئی۔ گویا تب مرکزی جماعت نے نواب زہری کی بات اور فیصلے کو فوقیت دی۔ جان جمالی بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر کے عہدے سے الگ ہونے پر مجبور کیے گئے۔ ایک قابل پارلیمنٹیرین جو صوبے کے وزیراعلیٰ اور سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین بھی رہے تھے، ان کی جگہ راحیلہ درانی کو اسپیکر کے اہم منصب پر بٹھایا گیا۔ اس طرح بعد کے دنوں میں جان جمالی بلوچستان عوامی پارٹی والے جتھے سے منسلک ہوگئے۔ نواب زہری کی قیادت میں صوبے کے لیگی اراکین اسمبلی نے نوازشریف کے دیرینہ ساتھی سردار یعقوب خان ناصر کو اسی سینیٹ الیکشن میں ہروایا، جنہیں بعد میں 2017ء میں ضمنی انتخاب میں میاں نوازشریف نے اسلام آباد سے سینیٹرمنتخب کرایا۔ صوبے میں عدم اعتماد کی تحریک فی الحقیقت نوازشریف پر وار تھا، نہ کہ نواب ثناء اللہ زہری کی صوبائی حکومت کے خلاف۔ عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی تو نواب زہری نے اس کا سامنا نہ کیا، حالاں کہ اتحادی پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی ڈٹ کر ساتھ دے رہے تھے۔ چناں چہ نواب زہری اسمبلی اجلاس سے قبل ہی وزارتِ اعلیٰ سے مستعفی ہوگئے۔ نواب زہری 2018ء کے عام انتخابات میں خود نواز لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے جبکہ بھائی نعمت زہری کو آزاد حیثیت سے انتخاب لڑوایا۔ وہ کامیاب ہوئے تو نواز لیگ کی دی ہوئی سینیٹ کی نشست سے مستعفی ہوکر تحریک انصاف میں شامل کرائے گئے۔ شہباز درانی کی وفات کے بعد ان کے چھوٹے بھائی شاہ زیب درانی نواز لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹر بنے، مگر انہوں نے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب سمیت کسی بھی مرحلے میں نواز لیگ کے فیصلوں کی پاسداری نہ کی۔ شہباز درانی کے ایک اور بھائی شکیل درانی کو بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) میں شامل کرایا گیا، یعنی مصلحت کی راہ اپنائی۔ نواب زہری اسٹیبلشمنٹ کی تاب نہیں رکھتے ہیں اس لیے آدھے یہاں تو آدھے وہاں رہے۔ سردار یعقوب ناصر کے بارے میں بھی رائے یہی ہے کہ انہوں نے اپنے بھانجے در محمد ناصرکو ’باپ‘ پارٹی سے وابستہ کیا تاکہ نواز لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رہتے ہوئے توازن قائم رکھا جائے۔ غرض نواب زہری پی ڈی ایم جلسے میں شرکت کے لیے دبئی سے کوئٹہ پہنچے، جلسے سے قبل کوئٹہ آنے والے مرکزی قائدین سے ملاقاتیں کیں۔ مریم نواز کو جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ ایئرپورٹ سے سرینا ہوٹل لے کر آئے، اگلے دن اپنی گاڑی میں ایوب اسٹیڈیم کی جلسہ گاہ پہنچایا۔ ثناء اللہ زہری بھی سرینا ہوٹل میں موجود تھے، اور شیخ جعفر خان مندوخیل کی شمولیت کی تقریب میں بھی شریک رہے۔ چوں کہ سردار اختر مینگل اور نواب زہری کے درمیان سیاسی قبائلی رنجش موجود ہے، اس لیے سردار اختر مینگل نے لیگی قیادت سے انہیں اسٹیج پر نہ بلانے کی درخواست کی تھی۔ یہ خود سردار اختر مینگل کہہ چکے ہیں۔ نواب ثناء اللہ زہری کے بیٹے سکندر زہری، بھائی اور بھتیجے کو کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے نے جب بم دھماکے میں قتل کیا تو نواب زہری نے مقدمے میں سردار اختر مینگل، ان کے بزرگ والد سردار عطاء اللہ مینگل، بھائی جاوید مینگل اور نواب امان اللہ زرکزئی زہری کو نامزد کیا تھا۔ جب وزیراعلیٰ بنے تو ان کے خلاف ایف آئی آر واپس لے لی۔ 2019ء میں بی این پی کے مرکزی رہنماء نواب امان اللہ زرکزئی زہری قتل ہوئے تو نواب زہری کے خلاف پرچہ کاٹا گیا۔ تب سردار اختر مینگل اور نواب زہری ایک دوسرے کے خلاف بولتے رہے۔ سردار اختر مینگل کی جانب سے نواب زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا ساتھ دینے کی ایک وجہ یہ تنازع بھی ہے۔ یعنی ایسی صورت میں نواب زہری کا جلسہ گاہ نہ جانا درست تھا۔ دوسری صورت میں کسی ناخوشگوار صورت حال کا اندیشہ موجود تھا۔ لیگی قیادت نے بھی اسی مصلحت کے تحت انہیں نہ بلایا۔ اب جب بات استعفوں تک پہنچ گئی ہے تو نواز لیگ کے مرکزی جنرل سیکریٹری احسن اقبال نے دوٹوک کہہ دیا ہے کہ اگر جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ مستعفی ہونا چاہتے ہیں تو ہوجائیں۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی اسی لہجے میں بولے کہ عبدالقادر بلوچ آئینی اور جمہوری بیانیے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے تو گھر بیٹھ جائیں۔ یہاں اختلافی نکتہ نظر جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات حافظ حسین احمد کا بھی سامنے آیا۔ حافظ حسین احمد پیش ازیں جمعیت علمائے اسلام کے لانگ مارچ اور حکومت مخالف تحریک میں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کی عدم دلچسپی پر سخت رائے زنی کرچکے ہیں۔ چناں چہ اب انہوں نے موجودہ صورتِ حال میں اپنی جماعت اور مولانا فضل الرحمٰن سے بھی اختلاف ظاہر کیا ہے۔ حافظ حسین احمد نے قومی اسمبلی میں ایاز صادق کی تقریر کے بعد مولانا فضل الرحمٰن کے اُن کے گھر جانے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ حافظ حسین احمد کے بقول انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن سے براہِ راست رابطہ کرکے بتایا کہ ایاز صادق کی تقریر کے بعد آپ کا اُن کے گھر جانا جماعتی پالیسی نہیں، کیونکہ جے یو آئی نے پی ڈی ایم کے اعلامیے پر جو دستخط کیے ہیں اس میں نوازشریف کا وہ مؤقف شامل نہیں جو انہوں نے کوئٹہ جلسے میں پاک فوج کے حوالے سے دیا۔ نہ ہی اس اعلامیے میں وہ بات شامل ہے جو ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران کہی۔ مولانا فضل الرحمٰن کا یہ کہنا نہیں بنتا تھا کہ ایاز صادق کو مزید سخت باتیں کرنی چاہیے تھیں۔ ملک احمد خان، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال نے ایاز صادق کی مذمت کی، مریم نواز اس بات پر خاموش ہیں، جبکہ مولانا فضل الرحمٰن ان کے گھر جارہے ہیں۔ میں اپنی جماعت کی ترجمانی کرسکتا ہوں لیکن کسی اور جماعت کے ایسے لیڈر کی ترجمانی نہیں کرسکتا جس کے مؤقف کا بوجھ خود اُس کی اپنی جماعت نہیں اٹھا رہی۔ نوازشریف کو اگر یہ بات کرنا ہی ہے تو پاکستان آکر کریں۔ اگر آرمی چیف جنرل باجوہ پر نوازشریف کو اتنے تحفظات تھے تو انہوں نے ان کی مدت ملازمت میں توسیع کے وقت اپنے ایک ایک رکن قومی اسمبلی کو حق میں ووٹ دینے کا پابند کیوں کیا؟ مسلم لیگ (ن) کی صورتِ حال یہ ہے کہ میاں شہبازشریف نے رضا کارانہ گرفتاری دی اور ڈی جی نیب کو سہولت کار بناکر اپنے معاملات طے کررہے ہیں۔(روزنامہ جنگ 2نومبر2020ء)۔
حافظ حسین احمد کا نکتہ نظر اپنی جگہ ٹھیک ہے۔مگر جے یوآئی کا المیہ یہ ہے کہ ان کی اپنی جماعت کے بعض سرکردہ افراد جمعیت کے لانگ مارچ میں اپنے حلقہ اثر کے کارکنوں کو مارچ میں شرکت سے منع کرتے رہے۔

Share this: