سید سعود ساحر

Print Friendly, PDF & Email

جرات مند صحافت کے ایک باب کا خاتمہ

راولپنڈی اسلام آباد میں روزنامہ جسارت اور ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کے طویل عرصے تک بیوروچیف رہنے والے ملک گیر شہرت کے حامل صحافی جناب سعود ساحر منگل کی صبح اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ وہ دوروز سے سی ایم ایچ راولپنڈی میں زیر علاج تھے، اور آج کل راولپنڈی اسلام آباد میں روزنامہ امت کے زیذیڈنٹ ایڈیٹر کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ سید سعود ساحر گزشتہ کئی سال سے مختلف قسم کی بیماریوں سے لڑ رہے تھے۔ تقریباً دس سال قبل انہوں نے شوکت خانم ہسپتال لاہور میں اپنے مثانہ کا آپریشن بھی کرایا تھا، جس کے بعد سے ان کی اہلیہ اور بچوں نے ان کی نقل وحرکت کو محدود کردیا تھا۔ وہ اپنے مزاج کے اعتبار سے نچلے بیٹھنے والے شخص نہیں تھے، اس لیے اُن کے قریبی دوستوں کا خیال تھاکہ اس پابندی نے جو اُن کے اہلِ خانہ نے ان ہی کی بہتری کے لیے اور ڈاکٹروں کی ہدایت پرلگائی تھی، اُن کو مزید بیمار کردیا تھا۔ اگرچہ وہ ٹیلی فون پر دوستوں سے رابطے میں رہتے تھے اور اکثر احباب اور انہیں استاد کا درجہ دینے والے، وفاقی دارالحکومت کے درجنوں صحافی ان کے گھر پر ملاقات کے لیے آتے رہتے تھے، لیکن تمام عمر مجلس سجائے رکھنے والے جہاں دیدہ صحافی کی اس سے تسلی نہیں ہوتی تھی۔ وہ خبر اور خبر کے سورس تک تمام زندگی خود پہنچتے رہے تھے، پھر وہ وقت بھی آیا جب خبریں خود چل کر ان کے پاس آنے لگیں اور بڑی خبروں کے سورسز خود آکر انہیں خبریں دیتے رہے۔ لیکن اس سہولت کے باوجود وہ کوشش کرتے کہ ہر خبر کی تصدیق اپنے ذرائع سے کریں، اور اس کے لیے وہ خود ’’جائے وقوعہ‘‘، ’’متاثرہ فریق‘‘، یا ’’زیر الزام فریق‘‘ تک پہنچیں۔ اور پھر جو خبر وہ دیتے وہ نہ صرف صحافت کے ہر معیار پر پورا اترتی، بلکہ تہلکہ بھی مچا دیتی۔ تاہم اس میں سنسنی خیزی کے بجائے حقائق اور واقعات کی پرتیںکھلتی ہوئی نظر آتی تھیں۔
سعود ساحر جتنے جان دار اور جرأت مندانہ انداز میں لکھتے، اس سے کہیں زیادہ خوبصورت بولتے تھے۔ وہ جس مجلس میں شریک ہوتے، چند منٹ بعد ہی اس پر چھا جاتے۔ پھر وہ گھنٹوں بولتے اور لوگ پہروں اُن کی گفتگو میں کھوئے رہتے۔ ہر مجلس کے شرکاء کی خواہش ہوتی کہ وہ بولتے رہیں اور ہم سنتے رہیں۔ مگر وہ ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری مجلس میں اپنی گفتگوکا سحر قائم کرکے اپنے دفتر یا گھر کی راہ لیتے۔ پریس کلب راولپنڈی کے کھلے لان اور بند کمروں میں ان کی مجلسیں اور غیر رسمی نشستیں پریس کلب کی رونق میں اضافے کا باعث تھیں۔ راولپنڈی اسلام آباد کے کئی چائے خانے اور قہوہ خانے ان کے قہقہوں اور لچھے دار گفتگو سے آباد تھے۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد اور شہر کے اخباری دفاتر میں ان کا انتظار رہتا۔ وہ جہاں پہنچتے کسی دعوت کے بغیر اپنی یہ رضاکارانہ ذمہ داری سنبھال لیتے۔ سیاسی جماعتوں کے دفاتر، وزراء اورسیاسی رہنماؤں کے ڈیرے ان کے محبوب ٹھکانے تھے، جہاں وہ اپنا بے لاگ تبصرہ کرتے، طنز کے تیر برساتے، تنقید کی دھول اڑاتے، اور ماضی وحال کے واقعات کی خوشبو بکھیرتے ہوئے ماحول پر چھا جاتے۔ ان کا حافظہ بہت زبردست اور شعری ذوق بہت اعلیٰ تھا۔ ان کا یہ مقولہ بہت مشہور تھا کہ جنہیں تین کام نہ آتے ہوں انہیں اگلے تین کام نہیں کرنے چاہئیں… جن کو تاریخ، جغرافیہ اور ادب پر عبور حاصل نہ ہو انہیں سیاست، صحافت اور تدریس کاکام نہیں کرنا چاہیے۔ مگر وہ اپنے ماتھے پر ہاتھ مار کر کہتے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں یہ تینوں علوم نہ جاننے والے لوگ ہی ان تینوں پیشوں اور شعبوں پر چھائے ہوئے ہیں۔
سعود ساحر کی پیدائش بھارتی صوبہ اتر پردیش کے شہر سہارنپور میں قیام پاکستان سے کچھ عرصہ قبل ہوئی تھی۔ ان کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد والد کا انتقال ہوگیا۔ چنانچہ تقسیم کے وقت وہ والدہ، بھائی حکیم سروسہارنپوری اور بعض دیگر عزیزوں کے ساتھ خالی ہاتھ پاکستان پہنچے اور راولپنڈی میں آباد ہوگئے تھے۔ اور پھر وہ اس شہرکی محبتوں کے ایسے اسیر ہوئے کہ بلخ اور بخارا بھی اس شہرکے سامنے انہیں ہیچ لگنے لگے۔ اس بے سر و سامانی اور کم سنی میں وہ ایک نیک دل سیٹلمنٹ کمشنر سے ایک گھر الاٹ کرانے میں کامیاب ہوگئے تھے جہاں وہ اپنی شادی تک آباد رہے۔ ان کے بڑے بھائی حکیم سرو سہارنپوری بہت عمدہ شاعر اور جماعت اسلامی کے مقبول رہنما تھے۔ سعود ساحر بڑے بھائی کو مرتے دم تک احتراماً ابا کہہ کر پکارتے تھے، جنہوں نے واقعی انہیں باپ کی طرح پالا تھا۔ اسکول اور کالج سے ہوتے ہوئے سعود ساحر نے اپنی عملی زندگی کا آغاز روزنامہ ’تعمیر‘ میں پروف ریڈر کے طور پر کیا جہاں منو بھائی بھی اسی حیثیت میں کام کرتے تھے۔ اُس زمانے میں سعود ساحر اور منو بھائی دونوں تلہ گنگ اسکول آف تھاٹ سے وابستہ تھے اور ڈاکٹر غلام جیلانی برق، پروفیسر عثمان اور فتح محمد ملک سے متاثر تھے۔ مگر بہت جلد مولانا مودودیؒ اور ان کی تحریر و تقریر کے ایسے اسیر ہوئے کہ پھر مڑ کر نہیں دیکھا۔ روزنامہ تعمیر سے وہ بطور اپرنٹس سب ایڈیٹر روزنامہ ’نوائے وقت‘ راولپنڈی میں آگئے۔ یہاں لطیف آذر کے ساتھ مل کر انہوں نے کارکنوں کے حقوق کی جدوجہد شروع کردی، جو مالکان کو پسند نہ آئی، چنانچہ لطیف آذر اور سعود ساحر نے اپنی ملازمت کی قربانی دے کر باقی کارکنوں کے روزگار کو محفوظ بنادیا۔ 1969ء میں ہفت روزہ ’زندگی‘ کے اجرا کے ساتھ ہی وہ اس اعلیٰ پائے کے سیاسی جریدے سے وابستہ ہوگئے۔ یہیں ان کی صلاحیتوں کو کھل کر سامنے آنے کا موقع ملا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں جب ہفت روزہ زندگی اپوزیشن کی سب سے توانا آواز تھا، سعود ساحر وفاقی دارالحکومت میں حکومتی جبر کے خلاف شمیشیر برہنہ تھے۔ اس دوران انہیں دھمکیوں کے علاوہ مشکلات اور مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مگر وہ ڈٹے رہے۔ اس دور میں ’زندگی‘ کے بار بار بند ہونے کے بعد سعود ساحر جسارت کراچی سے وابستہ ہوگئے اور اسی تندی و تیزی کے ساتھ اپنی صحافت جاری رکھی۔ لیکن کچھ عرصے بعد جسارت انتظامیہ نے بعض اختلافات پر انہیں فارغ کردیا، جس کے خلاف بطور احتجاج انہوں نے پاکیزہ ہوٹل راولپنڈی کے باہر اخبار فروشی شروع کردی اور پوری اخباری دنیا کو پیغام دیا کہ وہ زیادتی اور جبر کے معاملے میں حکومت ہی نہیں اپنے اخبار کے خلاف بھی جنگ کرسکتے ہیں۔ کچھ عرصے کی عدالتی اور صحافتی لڑائی کے بعد معاملات طے پاگئے اور وہ اسی شہر میں روزنامہ جسارت کے بیوروچیف مقرر ہوئے۔ انہوں نے طویل عرصے تک یہ ذمہ داری نبھائی۔ محمد صلاح الدین شہید کی محبت میں وہ پہلے ہفت روزہ ’تکبیر‘ اور پھر روزنامہ ’امت‘ میں چلے گئے، اور یہیں سے بطور ریذیڈنٹ ایڈیٹر وہ اپنے اللہ کے حضور پیش ہوگئے۔
سعودساحر ایک نڈر اخبار نویس، جرأت مند صحافی، ایثار کیش ٹریڈ یونین لیڈر، منفرد اسلوب کے کالم نگار اور مجالس میں چھا جانے والے داستان گو صحافی تھے۔ تاریخ اور ادب پر انہیںایسا ملکہ تھا جو کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔1984ء میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) بنانے میں ان کا کلیدی کردار تھا۔ وہ دوبار اس یونین کے مرکزی صدر بھی رہے۔ وہ راولپنڈی پریس کلب کے صدر اور نیشنل اسمبلی پریس گیلری کمیٹی کے صدر منتخب ہوئے۔ وہ دھڑے کے آدمی تھے لیکن مخالفین کے حقوق کے لیے بھی جان لڑا دیتے تھے۔ دھان پان سعود ساحر کے جسم میں بجلیاں بھری ہوئی تھیں۔ صبح دس گیارہ بجے سے رات ایک بجے تک وہ متحرک اور سرگرم رہتے، لیکن نہ صرف اپنے اہلِِ خانہ کا ہر طرح سے خیال رکھتے بلکہ دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ اُن کے دوستوں کا حلقہ انتہائی وسیع تھا۔ سیاست دانوں، سیاسی کارکنوں، ادیبوں، شاعروں اور سماجی و رفاہی کارکنوں سب میں وہ یکساں مقبول تھے۔ 1970ءکے بعد کے تمام حکمران اور اپوزیشن رہنما ان سے دوستوں کی طرح پیش آتے۔ اُن کا مطالعہ اورمشاہدہ دونوں وسیع تھے۔ بڑے بڑے حکمرانوں کی مخالفت کے باوجود وہ حکمرانوں کے ساتھ درجنوں غیر ملکی دوروں میں شریک ہوئے۔ اُن کی ذاتی زندگی میں چائے اور سگریٹ کے سوا کوئی عیاشی نہیں تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی موت پاکستان کی صحافت میں جرأت، صداقت، پروفیشنل ازم کے ایک باب کا خاتمہ ہے۔ ان کی موت صحافت کے ایک روایتی کردار کی بھی موت ہے۔ اہلِ صحافت ، اہلِ سیاست اور اہلِ راولپنڈی انہیں تادیر بھلا نہیں سکیں گے۔ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین

ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کا انتقال

تحریک پاکستان کے کارکن ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ انہیں دو روز قبل طبیعت ناساز ہونے پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا، لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے اور خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ وہ چیئرمین اردو ڈائجسٹ، کاروانِ علم فائونڈیشن کے بانی تھے۔ وہ 1928ء میں بھارت کے ضلع کرنال میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں پر حاصل کی۔ ایف ایس سی علی گڑھ سے کی، تقسیم کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔ انہوں نے بیرونِ ملک جرمنی سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور وطن واپس آکر کچھ عرصے پنجاب یونیورسٹی میں بطور لیکچرر اپنے فرائض سرانجام دیئے۔ انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی الطاف حسن قریشی کے ساتھ مل کر 1960ء میں ماہنامہ اردو ڈائجسٹ جاری کیا جسے پاکستان کی تاریخ صحافت کا موثر جریدہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی مغفرت فرمائے اور غمزدہ خاندان کو صبر جمیل عطا کرے۔

Share this: