فرانس میں توہین رسالت پر احتجاج

Print Friendly, PDF & Email

گوجرنوالہ جہاں صنعتی اور پہلوانوں کا شہر ہے، وہیں یہ عاشقانِ رسولؐ کا بھی شہر ہے، یہاں ابھی تک عوام میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے، شہر کی مساجد میں شانِ رسولؐ بیان کی جارہی ہے۔ علماء کہتے ہیں کہ فرانسیسی صدر کی جانب سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، فرانس کے بدبخت صدر کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے کی جرأت اس لیے ہوئی کہ عالم اسلام کے غیرت وحمیت سے عاری حکمران بے حسی کی چادر اوڑھ کر سوئے ہوئے ہیں۔ اسلام امن کا داعی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امن کی دعوت دی ہے۔ مرکزی صدر جمعیت اہلحدیث پاکستان و چیئرمین قرآن و سنہ موومنٹ پاکستان علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے ایک تقریب سے خطاب کیا اور کہاکہ آئے دن یہود ونصاریٰ شریعتِ محمدیؐ کے خلاف زبان درازی کرتے رہتے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے خلاف بولنے والی زبان کاٹ دی جائے۔ ہم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کسی صورت بھی برداشت نہیں کریں گے، کیونکہ آپؐ سے محبت ہی ہمارا ایمان ہے، فرانسیسی صدر اپنے الفاظ واپس لیں اور پھر پوری امتِ مسلمہ سے معافی مانگیں۔ خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا ہر پہلو روشن و تابناک اور مینارۂ نور ہے جو اپنی نورانی کرنوں سے تاقیامت اہلِ ایمان کے دلوں کو منور کرتا رہے گا۔ اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تعلیماتِ نبوی پر عمل ضروری ہے اور انسانیت کو درپیش مسائل و چیلنجزکا حل صرف قرآن وسنت میں ہے۔ فرانس میں توہینِ اسلام اور توہینِ رسالت پر شدید غم وغصے کا اظہارِ کرتے ہوئے کہاکہ آئین کی اسلامی دفعات،قانون تحفظ ِناموسِ رسالت اور تحفظ ِختم ِنبوت کا ہر حال میں دفاع کیا جائے گا۔
پاکستان سنی تحریک کے سٹی صدر عطاء الرحمٰن خان صافی نے کہا ہے کہ مغرب نے شانِ رسالتؐ میںگستاخی کو اپنا وتیرہ بنا لیا ہے، آزادی اظہارِ رائے کا بہانہ بناکر کسی کو مسلمانوں کے ایمانی جذبات سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، عاشقانِ رسولؐ تحفظ ناموسِ رسالت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، ملتِ اسلامیہ اپنے تمام تر اختلافات کو بھلا کر اور تمام تر مفادات کو قربان کرکے ناموسِ رسالتؐ کے تحفظ کے لیے متحد ہوجائے۔ عشقِ رسولؐ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے فرانس کے سفیر کو ملک بدرکرے اورپاکستانی سفیرکو احتجاجاًواپس بلائے،پاکستانی حکومت پہل کرتے ہوئے گستاخانہ خاکوں کے خلاف عالمی اسلامی کانفرنس منعقدکرنے کا اعلان کرے،شعائراسلامی کے تحفظ کے لیے ایک الگ خودمختارمسلم بلاک تشکیل دیاجائے،حکومت فرانس کے ساتھ تمام تجارتی معاہدے ختم کرتے ہوئے اس کی تما م ترمصنوعات پرمکمل پابندی عائدکرے۔ جلسے میں علامہ محمد اشرف قادری، آصف مغل، آصف انصاری، فائق قادری، قاری احمد رضاکیلانی، قاری عدیل احمد رضوی سمیت دیگر علماء ومشائخ نے بھی خطاب کیا۔
گوجرانوالہ میں کورونا وائرس سے احتیاط کے لیے حکومت کی جانب سے تلقین کی جارہی ہے مگر حالات یہ ہیں کہ شہر میں تمام میڈیکل اسٹورز سے ماسک اور سینی ٹائزر غائب ہیں، عوام دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگئے ہیں، میڈیکل اسٹورز کے باہر باقاعدہ طور پر لکھ کر لگایا گیا ہے کہ ماسک دستیاب ہے، مگر جب صارف طلب کرے تو ٹال دیتے ہیں کہ ماسک ختم ہوگئے ہیں۔ 5 روپے میں فروخت ہونے والا ماسک مخصوص افراد کو 30 سے50روپے میں خفیہ طور پر فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ 100روپے میں فروخت ہونے والا سینی ٹائزر بھی اسی طرح 300سے 500 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔ عوامی حلقوں نے اربابِ اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ میڈیکل اسٹورز پر ماسک اور سینی ٹائزرکی وافر مقدار میں فراہمی اور ارزاں نرخوں پر فروخت کو یقینی بنایا جائے۔

Share this: