عبدالقادر بلوچ اور نواب ثناء اللہ زہری کی بغاوت

Print Friendly, PDF & Email

ورکرز کنونشن کا انعقاد
میاں نواز شریف اور اختر مینگل کے خلاف چارج شیٹ

۔7 نومبر2020ء کو مسلم لیگ نواز بلوچستان کے صدر جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ اور سابق وزیراعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری نے باضابطہ طور پر مسلم لیگ نواز سے وابستگی ختم کرلی۔ کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سبزہ زار پر، ورکرز کنونشن کے نام سے تقریب منعقد کی گئی۔ یہاں ذرائع ابلاغ سے گفتگو بھی ہوئی، پیش ازیں تقاریر ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ 20 اضلاع کے صدور اور دیگر عہدے دار پارٹی قیادت کے رویّے سے نالاں ہوکر مستعفی ہوئے ہیں۔ جنرل(ر) عبدالقادر نے بہت سے پہلوئوں پر نکتہ چینی کی جس سے لگاکہ وجہ نواب زہری کو پی ڈی ایم جلسے میں نہ بلانا نہ تھی۔ نواب ثنا اللہ زہری بھی تلخ لہجے میں بولے۔ انہوں نے نوازشریف کو دھوکے باز وغیرہ کہہ کر مخاطب کیا۔ انہوں نے اتنی تلخی اس سے پہلے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے والوں کے لیے بھی نہ دکھائی تھی۔ ظاہر ہے عدم اعتماد کی تحریک جن کی ایما اور شہہ پر لائی گئی وہ بہت طاقتور ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ نواب زہری تب ہی مسلم لیگ (ن) سے کنارہ کش ہوگئے تھے۔
بہرکیف جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ اور نواب زہری کی زقند پر مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنمائوں نے اسی دن ٹی وی چینلز پر مؤقف پیش کیا۔ پارٹی کے مرکزی نائب صدر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نوازشریف کا بیانیہ یہ ہے کہ پاکستانی آئین کے مطابق چلنے سے سارا پاکستان اور جمہوری جماعتیں اتفاق کرتی ہیں۔ مسلم لیگ(ن) نے عبدالقادر بلوچ کو وقار اور عزت دی ہے، انہوں نے اس عزت کی بھی لاج نہ رکھی۔ بیانیے پر اعتراض ہوتا تو پارٹی کے اندر بات کرتے۔ وہ لوگ جو ملک میں آئین کی بالادستی نہیں چاہتے تھے آج اپنے اصل گھر پہنچ گئے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) نے عبدالقادر کو عزت و وقار سے نوازا تھا لیکن انہیں وقار راس نہ آیا۔ حقیقت کیا ہے یہ مجھے بھی اور عبدالقادر کو بھی معلوم ہے، اور جلسے میں نواب زہری کو مدعو نہ کرنے کو پی ڈی ایم کے بیانیے سے جوڑنا باعثِ افسوس ہے۔
احسن اقبال نے بھی کہا کہ بلوچستان کی تنظیم مکمل اپنی جگہ پر کھڑی ہے۔ دو اشخاص کے نکلنے سے کسی قسم کا نقصان اس لیے نہیں ہوگا کیونکہ ثنا اللہ زہری دو سال سے غیر فعال ہوگئے تھے۔ وہ پارٹی کے سامنے خود شرمندہ تھے کہ اپنی صوبائی حکومت کا دفاع نہیں کرسکے۔ ان کے ہاتھوں ان کی صوبائی حکومت ٹوٹ گئی تھی، جس پر پارٹی نے ان کی سرزنش کی تھی کہ وہ کامیاب حکومت کیوں نہ چلا سکے؟ کیونکہ ان کے ایم پی ایز ساتھ چھوڑ گئے تھے، وہ پارٹی سے شرمندہ تھے۔ آج جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ اور زہری نے بات سب کے سامنے رکھ دی ہے کہ اصل جھگڑا کوئٹہ جلسے میں اسٹیج پر کرسی نہ ملنے کا تھا۔ مسلم لیگ(ن) کی تحریک کسی ایک نواب اور سردار کی اسٹیج پر کرسی سے بڑی تحریک ہے، لہٰذا محض اسٹیج پر ایک کرسی کا بہانہ بناکر کوئی راہیں جدا کرتا ہے تو یہ اُس کا اپنا فیصلہ ہے، یہ اُس کی تنگ نظری ہے، مسلم لیگ(ن) کو اس رویّے سے فرق نہیں پڑے گا۔ طلال چودھری نے جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ کے مؤقف پر کہا کہ انہوں نے سچ نہیں بولا۔ طلال چودھری کہتے ہیں کہ وہ کوئٹہ کی میٹنگ میں موجود تھے، قادر بلوچ نے دو گھنٹے تک اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، جو باتیں کی گئیں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ ان میں نوازشریف کے بیانیے کی بات نہیں ہوئی، صرف ایک بات ہوئی کہ ثنا اللہ زہری جنرل(ر) قادر بلوچ کے قبیلے کے سربراہ ہیں اور وہ خاص طور پر دبئی سے آئے ہیں، ان کا جلسے میں جانا ضروری ہے، اور دوسری طرف صورت حال یہ تھی کہ ثنا اللہ زہری اور سردار مینگل کے قریبی لوگوں کی دشمنی تھی اور قیادت کی طرف سے پیغام آیا کہ ذاتی مسئلہ نہ بنائیں، ہم ایک بڑے مقصد کے لیے لڑرہے ہیں، اس معاملے کو نظر میں رکھیں، اور ہم نہیں چاہتے کہ سردار اختر مینگل جلسے میں نہ آئیں۔ اس معاملے کو قیادت کی سطح پر حل کرنے کی کوشش کی جاتی۔ طلال چودھری کہہ چکے ہیں کہ انہیں افسوس ہے کہ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ نے پارٹی چھوڑتے ہوئے سچ نہیں بولا اور سی ڈبلیو سی میں نوازشریف نے اس سے زیادہ سخت باتیں کی تھیں اور سب نے ہاتھ اٹھا کر نوازشریف کی تائید کی تھی، جس میں عبدالقادر بلوچ بھی شامل تھے۔ اس تناظر میں پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر علی مدد جتک کی جانب سے فوری جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دینا بھی معیوب سمجھا گیا ہے۔ اور پھر جس مؤقف کو جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ نے عذر بناکر پارٹی چھوڑی ہے وہ تو بلاول بھٹو زرداری کا بھی ہے جنہوں نے موجودہ حکومت کے لیے سلیکٹڈ اور سلیکٹرز کی اصطلاح عام کی۔ ظاہر ہے کہ یہ سلیکٹرز وہی ہیں جن کا نوازشریف کھل کر نام لے چکے ہیں۔
اب جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ اور نواب ثنا اللہ زہری کی تقاریر کا ذکر کرتے ہیں جو انہوں نے مذکورہ کنونشن میں کیں۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ ’’مسلم لیگ (ن) سے اصولوں کی بنیاد پر راستے جدا کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پارٹی چھوڑ دی ہے، ہم نے ہمیشہ پارٹی سے وفاداری دکھائی اور بحیثیت بلوچستانی جو کچھ ہم سے ہوسکا ہم نے کیا، اور جس انداز میں پارٹی کارکنوں نے مجھے عزت دی ہے وہ میرے لیے قابلِ فخر ہے، ہم 2010ء میں مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے اور 2013ء کے انتخابات میں نواب زہری نے اپنے پیاروں کی قربانی اور اپنے خون کا نذرانہ دے کر پارٹی کو بلوچستان اسمبلی میں 22 ارکان کی اکثریت دلائی، 2013ء کے عام انتخابات کے بعد نیشنل پارٹی اور پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی نے نواب ثنا اللہ زہری کو پارلیمانی لیڈر نامزد کیا، لیکن اس کے بعد شہبازشریف اور چودھری نثار علی خان آتے ہیں اور بند کمرے میں اجلاس کے بعد ہمیں مری بلاکر کہا جاتا ہے کہ نواب زہری وزیراعلیٰ بلوچستان نہیں ہوں گے۔ نواب ثنا اللہ زہری کے بجائے نیشنل پارٹی سے وزیراعلیٰ کے انتخاب پر ہم نے شدید احتجاج بھی کیا تھا، نیشنل پارٹی کے دورِ حکومت میں ہمارے ارکان کو اپوزیشن کی طرح رکھا گیا جبکہ نواب ثنا اللہ زہری نے پشتون خواملّی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کو کئی گنا زیادہ عزت دی۔ ہم نے ہمیشہ پارٹی سے وفاداری دکھائی اور بحیثیت بلوچستانی جو کچھ ہم سے ہوسکا ہم نے کیا۔ جلسے سے ایک دن قبل ہم سے کہا گیا کہ چیف آف جھالاوان اسٹیج پر نہیں آئیں گے۔ وہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ رہے ہیں، پارٹی کے سابق صدر ہیں، موجودہ رکن صوبائی اسمبلی ہیں، اور سب سے بڑھ کر چیف آف جھالاوان ہیں، ان کے خلاف نہ کوئی نیب کیس ہے اور نہ ایف آئی اے کی انکوائری ہے، لیکن پھر بھی ایک حکم سنادیا گیا کہ یہ پارٹی کا فیصلہ ہے، تو میں نے پوچھا کہ پھر میں کون ہوں؟ نواب ثنا اللہ زہری میری درخواست پر جلسے میں شرکت کے لیے دبئی سے آئے، ان کی شرکت جلسے اور پارٹی کے لیے اہم تھی، لیکن بطور صوبائی صدر پارٹی نے میرے فیصلے کی بھی لاج نہیں رکھی، نہ ہی مجھے نواب ثنا اللہ زہری کو جلسے میں آنے سے روکنے پر اعتماد میں لیا گیا، جس پر میں نے کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ نواب ثنا اللہ زہری نہیں ہوں گے تو میں بھی جلسے میں نہیں جائوں گا، نواب زہری فاتحہ پر بیٹھے تھے، انہوں نے مجھے جو عزت دی اسے کبھی نہیں بھلایا جاسکتا۔ نواب زہری کو اسٹیج پر نہ بلانے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ سردار اختر مینگل ناراض ہو جائیں گے۔ مسلم لیگ (ن) فوج مخالف بیانیے، پارٹی قائدین کو عزت نہ دینے، بلوچستان سے متعلق فیصلوں میں اعتماد میں نہ لینے پر چھوڑ دی ہے۔ آرمی چیف کو میاں نوازشریف نے خود چیف آف آرمی اسٹاف بنایا، اب وہ ماتحت افسران اور اہلکاروں کو بغاوت پر اکسا رہے ہیں۔ فوج میں بغاوت کا بیج بویا گیا، اگر خدانخواستہ بغاوت ہوتی تو پاکستان کی حالت لیبیا، شام جیسی ہوجاتی۔ نوازشریف نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا نام لے کر کہا کہ تمام مسائل کے ذمہ دار عمران خان نہیں بلکہ یہ دونوں ہیں، اور انہوں نے پاک فوج کے ماتحت افسران اور اہلکاروں کو کہا کہ وہ ہر حکم کو اس معیار پر پرکھیں کہ یہ آئینی ہے یا نہیں، اسے ماننا ہے یا نہیں۔ ہر فوجی حلف لیتا ہے کہ وطن کے دفاع کے لیے ملنے والے ہر حکم کی تعمیل کروں گا۔ فوج میں تربیت حاصل کرتے ہوئے بھی یہ سکھایا جاتا ہے کہ ہر حکم مانا جائے چاہے اس کے لیے جان ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ حکم ماننے کے لیے وجہ جاننے اور کیوں کہنے کی تربیت نہیں دی جاتی۔ فوج کا کام آئین کی تشریح نہیں، انہیں فیصلوں کی تعمیل کرنی ہوتی ہے۔ آج تک اکیس سال سے سپریم کورٹ یہ فیصلہ نہیں کرسکی کہ جنرل پرویزمشرف کے اقدامات آئینی تھے یا نہیں۔ جب عدلیہ یہ فیصلہ نہیں کرسکی تو عام شخص کیسے کرسکتا ہے؟ پرویز رشید نے بیان دیا کہ میں نے قبائلی وجہ سے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ قبائلی حیثیت میں تنازع ہوتا تو میں اس پر نظرثانی بھی کرتا، لیکن مسلم لیگ (ن) کا ساتھ چھوڑنے کی اصل وجہ افواج پاکستان پر الزامات اور فوج میں بغاوت کرانے کی کوشش ہے۔ نوازشریف نے کوئٹہ اور گوادر کے سوا بلوچستان کے کسی حصے کا دورہ نہیں کیا، نہ پانچ سال میں اہم فیصلوں میں ہمیں اعتماد میں لیا گیا۔ میرا تعلق بلوچستان سے ہے لیکن مجھے فاٹا کا وزیر بنادیا گیا، ایسی وزارت دی گئی کہ میں اپنے صوبے کے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ میں مسنگ پرسنز کے لیے بھی بہت کچھ کرنا چاہتا تھا اور بہت کچھ کیا بھی، جو اپنے حلف کی وجہ سے سامنے نہیں لاسکتا۔ آئندہ بھی اپنے پرانے خاندان یعنی افواج جو مجھ سے ناراض ہے، اپنی مائوں، بیٹیوں، بہنوں کے لیے ان کے پاس جائوں گا اور مسنگ پرسنز کی بازیابی کے لیے کردار ادا کروں گا۔ ہم تمام تر زیادتیوں اور غلط فیصلوں کے باوجود پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے، میرے بھائی ڈاکٹر عمر کو بلوچستان بدر کرکے گریڈ 21 کے افسر کو 19 ویں گریڈ میں تعینات کیا گیا، جبکہ میرے بیٹے کو بھی صوبہ بدر رکھا گیا اور آج وہ ایک این جی او میں کام کررہا ہے۔ ہم نے کوئٹہ میں خواتین ورکرز کنونشن منعقد کیا اور مریم نواز کو کہا کہ بلوچستان کی خواتین کے مسائل کو ایڈریس کیا جائے، لیکن وہ تقریر کے بعد چلی گئیں، کسی کی بات تک نہیں سنی۔ مریم نواز وزیراعظم اور بے نظیر بھٹو بننے کے خواب دیکھ رہی ہیں، لیکن ان کی اخلاقی تربیت کا یہ عالم ہے کہ کوئٹہ میں پارٹی کی خواتین کارکنوں سے ملنا گوارا نہیں کیا اور ان کی توہین کی۔ ثنا اللہ زہری قبائلی حیثیت میں اختر مینگل سے بالاتر ہے، اختر مینگل چوتھے پانچویں نمبر پر آتے ہیں، اس کے باوجود ان پر اختر مینگل کو ترجیح دی گئی۔‘‘
چیف آف جھالاوان، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل کمیٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’2010ء میں مَیں نے اور جنرل(ر) قادر بلوچ نے ایک ساتھ مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی تھی، اور میں نے اپنی پارٹی مسلم لیگ (ن) میں ضم کردی تھی اور اُس وقت نوازشریف سے کہا تھا کہ بلوچستان کے لوگ صرف عزت چاہتے ہیں، جب میں نے اپنی جماعت مسلم لیگ (ن) میں ضم کی تھی تو میرے حلقہ احباب سمیت سب نے کہا تھا کہ نوازشریف بے وفا ہیں، وہ استعمال کرکے چھوڑ دیں گے، اسی طرح 2013ء کے انتخابات میں بھی دوستوں نے مجھے کہا تھاکہ نوازشریف بلوچستان میں اپنی حکومت نہیں بنائیں گے، وہ فوج کو برا بھلا کہنے والوں کو حکومت دیں گے۔ میں نے اپنے بیٹے، بھائی، بھتیجے سمیت ساتھیوں کی قربانی دی۔ شہداء زہری کا رتبہ کسی بھی سیاست سے بالاتر ہے۔ 2018ء میں مسلم لیگ (ن) کا بلوچستان میں ٹکٹ لینے کو کوئی تیار نہیں تھا، اُس وقت بھی ہم ہی تھے جنہوں نے پارٹی کے لیے جدوجہد کی، حالانکہ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ کو ان کی وفاداری کا صلہ ان کا حلقہ توڑنے کی شکل میں دیا گیا، اس کے باوجود ہم وفادار رہے۔ پارٹی کا صوبائی صدر بننے کے بعد میں نے صوبے بھر میں پارٹی کو فعال بنایا۔ 2013ء کے الیکشن کے بعد جب چودھری نثار کوئٹہ آئے تو انہوں نے خود تسلیم کیا کہ مسلم لیگ (ن) کو توقع سے زیادہ سیٹیں ملی ہیں۔ اسی دوران کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں نیشنل پارٹی اور پشتون خوا میپ کی جانب سے مجھے پارلیمانی لیڈر نامزد کیا گیا، اور اس سے قبل نوازشریف نے بھی یقین دلایا کہ اکثریت ملنے کی صورت میں مسلم لیگ (ن) ہی بلوچستان میں حکومت بنائے گی۔ لیکن اُس وقت بھی ظفر اللہ جمالی اور میرے دوسرے دوستوں نے کہا تھا کہ نوازشریف سے خیر نہیں شر کی توقع رکھیں، اور بعد میں یہی ہوا۔ جب ہم اسمبلی کی رکنیت کا حلف لے رہے تھے تو فون آیا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو وزارتِ اعلیٰ اور محمود خان اچکزئی کو گورنری دی جائے گی۔ میں نے چودھری نثار علی سے کہا کہ یہ جی ٹی روڈ کی سیاست ہے، ہم اس سیاست کو نہیں مانتے، ہمیں بھیڑ بکریوں کی طرح لاٹھی سے ہانکا نہیں جاسکتا۔ لیکن نوازشریف کی فطرت میں ڈسنا ہے اور انہوں نے ہمیں ڈسا۔ نوازشریف تاریخ سے نابلد ہیں، ان کو بلوچوں کی تاریخ کا علم نہیں۔ بلوچستان کے معاملات میں بولنے والے وہ کون ہوتے ہیں؟ بلوچستان یہاں بسنے والی اقوام کا ہے۔ نوازشریف نے جلسے سے ایک روز قبل لندن سے بیٹھ کر شہنشاہِ عالم کی طرح احکامات جاری کیے کہ اسٹیج پر کون بیٹھے گا اور کون نہیں بیٹھے گا۔ نوازشریف نے اپنے محسنوں کو بھی نہیں بخشا، اپنے ادوار میں تمام آرمی چیفس کے ساتھ لڑائی لڑی۔ ہم نوازشریف کے ساتھ آخری دم تک کھڑے رہے، لیکن وہ خود دوسری بار بیماری کا بہانہ بناکر لندن بھاگ گئے۔ وہاں سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرکے چیف آف آرمی اسٹاف، فوج اور آئی ایس آئی کو ٹارگٹ کررہے ہیں۔ یہ مودی کے ایجنڈے پرچل رہے رہے ہیں۔ لیڈر ایسے نہیں ہوتے جو راتوں کو بھاگ جائیں۔ لیڈر ذوالفقار علی بھٹو جیسے ہوتے ہیں جنہوں نے ضیاء الحق سے معافی مانگنے کے بجائے پھانسی کے تختے پر چڑھنے کو قبول کیا۔ آج سے جتنا ممکن ہوگا نوازشریف کی مخالفت کروںگا اور گلی گلی، گائو ں گائوں نوازشریف کا اصل روپ عوام کو بتائوں گا۔ آج کے بعد میرا نوازشریف سے کوئی واسطہ نہیں۔ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی رکنیت سے مستعفی ہوگیا ہوں، جبکہ آئندہ کا لائحہ عمل حلقہ احباب اور قوم سے مشاورت کے بعد طے کروں گا۔ اسمبلی کی رکنیت سے اس لیے استعفیٰ نہیں دے رہا کہ یہ میں نے اپنی قبائلی حیثیت میں جیتی ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) ڈی سیٹ کرنا چاہتی ہے تو وہ اپنی خواہش پوری کرلے۔ میں دوبارہ الیکشن لڑوں گا اور عوام یہ ثابت کریں گے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہیں یا میرے ساتھ ہیں۔‘‘
نواب ثنا اللہ زہری نے سردار اختر مینگل پر بھی شدید تنقید کی اور ان پر اور ان کے خاندان پر ذاتی حملے کیے۔ ثنا اللہ زہری نے کہا کہ ’’کسی عورت کی طلاق ہو یا وہ بیوہ ہوجائے تب بھی وہ عدت پوری کرتی ہے، اختر شاہی زئی (اختر مینگل) نے ابھی اپنی عدت بھی پوری نہیں کی۔ عمران خان کی گود میں بیٹھنے والے مایوس ہوکر پی ڈی ایم میں چلے گئے اور 15 ارب کے منصوبے بھی لیے، لیکن آج بھی وڈھ زبوں حالی کا شکار ہے۔ اختر شاہی زئی ڈھائی سال عمران خان کی گود میں رہا، جب کام نکل گیا تو آج نوازشریف کی گود میں بیٹھا ہے‘‘۔ ثنا اللہ زہری نے اختر مینگل کے دادا کا نام لے کر اُن پر انگریز کی خدمت و وفاداری کے الزامات لگاتے ہوئے ناشائستہ گفتگو کی۔ بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواب ثنا اللہ نے کہا کہ میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی تو نوازشریف سے رابطہ کیا، ان کی جانب سے مثبت جواب نہ ملنے پر اُس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو فون کیا، انہوں نے مجھے استعفیٰ دینے کو کہا۔ نوازشریف نے 1990ء میں اکبر بگٹی کے ساتھ بھی ایسا کیا۔ میر تاج محمد جمالی نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ مجھے نوازشریف نے کہا تھا کہ وزارتِ اعلیٰ کے لیے نواب اکبر بگٹی کے سامنے کھڑے ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ اختر مینگل اور ان کے والد نے نواب بگٹی کو بھی دھوکہ دیا۔ 5 سال کے اقتدار کے چکر میں نواب بگٹی کے بیٹے کو کابینہ سے نکالا لیکن اٹھارہ مہینے پورے کرنے سے پہلے ہی ان کی اپنی حکومت ختم کردی گئی۔ نوازشریف نے ہمارے ساتھ وہ سلوک کیا جیسے کسی کو بیچ چوراہے میں لاکر بے لباس کھڑا کیا جائے۔ میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ ’’میں کبھی فوج کے غیر آئینی کام یا انتخابات میں مداخلت کی حمایت نہیں کروں گا۔ آرمی چیف فوج کو کمانڈ کرتے ہیں، اگر کسی کو کچھ کہنا ہے تو ماتحت افسران کے بجائے آرمی چیف کو کہے۔ نواب ثنا اللہ زہری کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر جمعیت کے چار آدمیوں نے دستخط کیے جبکہ وفاقی کابینہ میں ان کے وزرا اور جام کمال بھی وزارتوں کے مزے لے رہے تھے، اس وقت ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ گوجرانوالہ اور کراچی جلسے میں براہِ راست آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا نام نہیں لیا گیا تھا اور اس طرح کی تقریر نہیں کی گئی تھی، اس لیے پہلے استعفیٰ نہیں دیا۔‘‘

Share this: