طاقت اور حق کی کش مکش… عالمی تناظر میں

Print Friendly, PDF & Email

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی نظام کا برقرار رہنا ناممکن ہے۔ انہوں نے بیرونِ ملک متعین سفیروں کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی نظام کے خلاف فردِ جرم عائد کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جو نظام حق کے بجائے طاقتور کا ساتھ دیتا ہو اُس کا برقرار رہنا ممکن نہیں ہے۔ موجودہ عالمی نظام کی اصل حقیقت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’برحق کی جگہ طاقتور کا، اکثریت کے بجائے مٹھی بھر اقلیت کا، غریب کے بجائے امیر کا ساتھ دینے والے اس عالمی نظام کا برقرار رہنا ناممکن ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں کثیر المراکز رجحان اور علاقائیت بتدریج اہمیت حاصل کرتی جارہی ہے، اس وقت ہم ایک ایسے موڑ پر ہیں جہاں رسد کی زنجیر کی تقسیمِ نو ہورہی ہے، پیداوار اور لاجسٹک کے مراکز کا دوبارہ سے تعین ہورہا ہے، نئے علاقائی اتحاد قائم ہورہے ہیں اور سیاسی و اقتصادی پلیٹ فارم ایک نئی شکل اختیار کررہے ہیں‘‘۔
انہوں نے اس خطاب میں دیگر موضوعات کا بھی احاطہ کیا ہے جن میں کورونا کی وبا کے خلاف جدوجہد، یورپی یونین سے تعلقات کی پے چیدگی، اور اسلام دشمنی کی لہر کے خلاف جدوجہد جیسے موضوعات بھی شامل ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں ترکی کے مؤقف کی نمائندگی کے فرائض ادا کرنے والے سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے عالمی نظام کی حقیقت بیان کرنا خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ مسلم ممالک کے داخلی اور خارجی مسائل کی کلید عالمی نظام ہے جو نوآبادیاتی دور کا ورثہ ہے۔ اس نظام نے آزادی، مساوات اور جمہوریت کے نام پر ایک ایسا جابرانہ اور استبدادی نظام مسلط کیا ہوا ہے جس نے روئے زمین کے ایک ایک حصے کو جنگ کی آگ میں جھونکا ہوا ہے۔ موجودہ عالمی نظام انسانوں پر انسانوںکی غلامی کی بدترین شکل میں مسلط ہے، لیکن اس کے باوجود اس کا دعویٰ یہ ہے کہ انسانیت تاریخ میں پہلی بار آزادی کے ذائقے سے ہم کنار ہوئی ہے۔ عالمی سطح پر انسانی مسائل کا حل اسی لیے حاصل نہیں ہورہا ہے کہ موجودہ عالمی نظام کی بنیادوں کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ رجب طیب اردوان نے یہ بات صحیح کہی ہے کہ جو نظام حق کے خلاف طاقتور کا ساتھ دیتا ہو وہ قائم نہیں رہ سکتا۔ عالمی نظام کی قیادت اور حکمرانی فی الحال امریکہ کے ہاتھ میں ہے، اسے یہ قیادت اور سربراہی دوسری جنگِ عظیم میں اتحادی ممالک کی فتح کے نتیجے میں حاصل ہوئی، اور اس نے قوموں کو اقوام متحدہ کے ذریعے زنجیر میں جکڑ لیا ہے۔ دنیاکے 5 ممالک کو فیصلوں کی تنسیخ کا حق حاصل ہے۔ اسی ادارے کے ذریعے ظالمانہ اور غاصبانہ قبضہ کرکے اسرائیل جیسی ریاست قائم کی گئی۔ اسی اقوام متحدہ نے اسرائیل کے مظالم کی بنیاد پر جب اُسے نسل پرست ریاست قرار دینے کی قرارداد منظور کی تو امریکہ نے حقِ تنسیخ (ویٹو) استعمال کرتے ہوئے اس قرارداد کو غیر مؤثر کردیا۔ جدید عالمی نظام اور ماضی کے جابرانہ اور استبدادی نظام میں فرق یہ ہے کہ فرعون اور نمرود کی حکومتیں ایک محدود خطۂ ارضی میں قائم تھیں، اس کے باوجود انہوں نے اپنے اقتدار کی طاقت کی بنا پر خدائی کا دعویٰ کرنے کی حماقت کی، جبکہ موجودہ عالمی نظام نے پورے کرۂ ارض کو اپنے کنٹرول میں کیا ہوا ہے، اس لیے ہر مسئلے کی جڑ موجودہ عالمی نظام ہے جو اپنے عالمی اداروں کے ذریعے دنیا کو اپنا غلام بنائے ہوئے ہے۔ رجب طیب اردوان نے مرض کی درست تشخیص کی ہے، اور وہ یہ ہے کہ موجودہ عالمی نظام حق کے خلاف اور طاقتور کا ساتھی ہے۔ حق کی بنیاد قلت و کثرت میں نہیں، حق اپنی نہاد میں حق ہے، اس لیے مسئلہ اکثریت اور اقلیت کا نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ عالمی نظام جمہوریت کا علَم بردار ہے، لیکن اقوام متحدہ میں سیاسی فیصلے اور عالمی مالیاتی اداروں میں اقتصادی فیصلے اکثریت کی بنیاد پر نہیں ہوتے۔ یہ جمہوری ادارے پوری انسانیت کو اپنا غلام رکھنے کے آلے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عالمی سیاست میں حق اور باطل کی بنیاد پر تقسیم و تفریق کی صدا بلند کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ ایک زمانے میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر اور غریب و مفلس ممالک کی تقسیم کی کش مکش تھی، لیکن ان ممالک کے حکمرانوں نے بھی اپنے اپنے ممالک میں جبرو استبداد کو مسلط کیا ہوا تھا۔ جبر و استبداد اور طاقت کی حکمرانی اصل مسئلہ ہے جس نے دنیا بھر کو فساد اور بگاڑ سے بھر دیا ہے۔ اس کا تعلق اکثریت اور اقلیت سے بھی نہیں ہے۔ اگر باطل کو انسانوںکی اکثریت قبول کرلے تو وہ حق نہیں بن جاتا۔ اسی وجہ سے اگر عالمی سطح پر یک قطبی عالمی نظام کثیر المراکز حیثیت اختیار کرلے تو بھی اس سے حالات کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔ رجب طیب اردوان نے جس تبدیلی کا اشارہ کیا ہے اُس سے یہ تو ہوسکتا ہے کہ فرعون کی جگہ نمرود لے، نمرود کی جگہ ابوجہل۔ اصل سوال یہ ہے کہ باطل کی جگہ حق لے رہا ہے یا نہیں؟ عالمی نظام پر مسلم دنیا کے حکمران بھی تزویراتی تناظر میں اپنا مؤقف بیان کرتے ہیں اور یہ جملہ ’’روزمرہ‘‘ بن گیا ہے کہ ہر قوم اپنے ’’مفاد‘‘ کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے۔ جبکہ مسلمان کا فرض یہ ہے کہ وہ ’’حق‘‘ کا پرچم لے کر کھڑا ہو۔ حق کا علَم بردار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کائنات اور اس میں موجود انسان کا خالق، مالک، حاکم صرف اللہ ہے، اور اس کے مستند نمائندوں یعنی انبیا کے ذریعے لائی گئی شریعت کے نفاذ کے ذریعے عدل قائم کیا جائے۔ ختمِ نبوت کے تصور کا تقاضا یہ ہے کہ محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری مستند نمائندے اور حقیقی پیغامبر ہیں، اور جو ان کی پیروی نہیں کرے گا وہ ظالم کا ساتھی ہے۔ جس طرح ایک فردِ مسلم پر حق کے اعلان کا فرض ہے، اسی طرح مسلم حکومت کا بھی یہی فرض ہے کہ وہ ’’حق‘‘ پر قائم ہو۔

Share this: