پی ڈی ایم کا بارہ نکاتی میثاق

Print Friendly, PDF & Email

سیاسی و جمہوری تحریک میں حقائق سے منہ موڑنا جائز نہیں
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے 17نومبر کو بارہ نکاتی میثاق پر اتفاق کیا ہے۔ میثاق میں وفاقی، اسلامی، جمہوری، پارلیمانی، آئین پاکستان کی بالادستی اور عمل داری یقینی بنانا، تمام اسلامی شقوں کا تحفظ، پارلیمنٹ کی خودمختاری، سیاست سے اسٹیبلشمنٹ اور انٹیلی جنس اداروں کے کردار کا خاتمہ، آزاد عدلیہ کا قیام،آزادانہ، غیر جانب دارانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے اصلاحات، عوام کے بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق کا تحفظ، صوبوں کے حقوق اور اٹھارہویں ترمیم کا تحفظ، مقامی حکومتوں کا مؤثر نظام اور اس کا قیام، اظہارِ رائے اور میڈیا کی آزادی کا تحفظ، انتہاپسندی اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ (نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد)، مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کے لیے ہنگامی معاشی پلان کا قیام شامل ہے۔ چناں چہ موضوع یہ میثاق ہی رہنا چاہیے۔ حزبِ اختلاف کی جماعتیں جن کے اب پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ میں اکٹھ کے بعض اظہارات سے بھی اتفاق نہیں کیا جاسکتا، بغض میں ان کی جانب سے اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں تو لامحالہ ان کی تحریک منتشر ہوگی۔ جیسے مولانا فضل الرحمان کے بھائی سینیٹر مولانا عطا الرحمان کا اشاروں،کنایوں میں یہ فرمانا کہ بھارت، افغانستان اور دوسرے ہمسایہ ممالک کے اندر ہمارے پائوں کے نشانات جاتے ہیں۔ مولانا کا یہ اظہار کشمیر کے مؤقف پر کاری وار ہے، جس کے لیے ان کی اپنی جماعت کی برسوں جدوجہد رہی ہے۔ افغانستان کے اندر روس کی فوجی و سیاسی مداخلت، بھارت کے ہمراہ لابی، پھر شمالی اتحاد کی کفالت و نشوونما جس میں بھارت کے ساتھ ایران بھی افرادی، عسکری سازو سامان اور مالی طور پر ان کے سروں پرموجود رہا۔ نائن الیون کے ناخوشگوار سانحات کے بعد افغانستان پر امریکہ کی قیادت میں نیٹو کے تحت دنیا کے 40ممالک کا حملہ، طالبان کی حکومت کو تاراج کرنا، اور کھیتوں،کھلیانوں، باغات، شہری و دیہی آبادیوں، اسکولوں، مدارس، اسپتالوں اور نظام زندگی کی تباہی میں ہمسایہ ملک بھارت اور بالخصوص ایران پوری طرح شریک تھے۔ چناں چہ اس پورے منظرنامے میں جمعیت علمائے اسلام منطقی رائے کی حامل ہے کہ ان ہمسایوں نے انتہائی گھنائونی اور انسان کُش پالیسیاں اپنا رکھی ہیں۔ تسلیم کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں جنرل پرویزمشرف رجیم ان استعماری ممالک کے کندھے سے کندھا ملا کر افغانوں کی بربادی میں شامل رہی، جس کے خلاف جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور دوسری دینی جماعتوں نے پاک افغان دفاع کونسل اور بعد ازاں متحدہ مجلس عمل کے تحت زبردست تحریک چلائی، اور یقیناً جنرل پرویزمشرف رجیم کی اس برادر کُش پالیسی نے ملک پاکستان کو بھی طرح طرح کی آزمائشوں اور مصائب سے دوچار کیا۔ گویا پرویزمشرف رجیم کی افغان پالیسی اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ثابت ہوئی۔ کابل کے اسٹیج پر سجائی گئی نئی سامراجی بازی میں پاکستان کے لیے کوئی جگہ نہ رہنے دی گئی۔ امریکہ نے بھارت کو پہلو میں بٹھایا۔ نتیجتاً افغانستان کی اس نئی صورت حال کے باعث پاکستان عسکری گروہوں کی آماج گاہ میں تبدیل ہوا، جس کا خمیازہ ستّر ہزار سے زائد جانوں کے ضیاع کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ اس ناسور سے اب بھی چھٹکارا نہیں پایا جاسکا ہے۔ چناں چہ جب اس نوع کا مؤقف سامنے آئے گا تو بادی النظر میں اس کا مضر اثر افغان عوام، افغان طالبان اور حزبِ اسلامی کی بے پناہ قربانیوں پر مشتمل آزادی کی طویل تحریک پر پڑے گا۔ علی الخصوص افغان طالبان نے افغان عوام کی حمایت سے امریکہ کو افغانستان سے نکلنے اور مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کررکھا ہے۔ لہٰذا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے سیاسی جنگ کے لمحے میں اپنے اصولی مؤقف سے انحراف نہیں کرنا چاہیے۔
کشمیری عوام پر نریندر مودی کی فاشسٹ حکومت نے ظلم کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں۔ یہی وتیرہ بھارت کی بزعمِ خویش سیکولر کانگریسی حکومتوں میں بھی رہا ہے، اور حیرت انگیز طور پر نئی دہلی پر حکمران ان دو جماعتوں کا نقطہ نظر کشمیر اور پاکستان کے بارے میں یکساں ہے۔ افغانستان کے اندر استعماری قبضہ گیر ممالک کی معاونت میں بھارت کی مداخلت اور معاونت یکسانیت اور واضح لائن رکھتی ہے۔ حیرت انگیز امر یہ بھی ہے کہ پاکستان کے اندر بعض سیاسی حلقے کانگریس کی طرح بی جے پی کی حکومت سے بھی قطعی موافقت رکھتے ہیں۔ امریکی نمائندۂ خصوصی زلمے خلیل زاد نے اپنے دورۂ بھارت کے دوران کہا تھا کہ بھارت افغان طالبان سے تعلقات بہتر بنائے، ان سے مذاکرات کرے۔ جس پر طالبان کی مثبت رائے سامنے آئی۔ البتہ انہوں نے یہ واضح کرنا ضروری سمجھا کہ بھارت نے ہمیشہ افغان دشمنوں کا ساتھ دیا ہے۔ افغان طالبان ہوں یا حزبِ اسلامی، دونوں سمجھتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان اپنے تنازعات باہمی طور پر حل کریں۔ خصوصاً کشمیری عوام کی اخلاقی حمایت کرتے ہوئے دونوں ممالک کو قضیہ بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔
جے یو آئی کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کا پچھلے دنوں یہ الزام کہ اتوار25 اکتوبر کو کوئٹہ کے نواح ’’ہزار گنجی‘‘ میں دھماکا پی ڈی ایم جلسہ ناکام بنانے کی غرض سے کرایا گیا، درست نہیں ہے۔ یعنی مولانا یہ کہتے ہیں کہ یہ دھماکا پاکستان کے اداروں کا کیا کرایا تھا۔ یا 27 اکتوبر کو پشاور کے اندر مدرسے میں دھماکا ملک کے اداروں پر تھوپنا کسی صورت تسلیم کرنے کے لائق نہیں۔ مولانا اگر معروضی حقائق نہیں جانتے تو ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ہزار گنجی دھماکا،کالعدم بی ایل اے کی گروہی جنگ کا شاخسانہ تھا، جس میں اپنے منحرف مخالف افراد کو بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ مزید برآں پشاور مدرسہ دھماکا کرنے والے بھی شناخت کے لحاظ سے مخفی عنوان نہیں ہیں، جنہیں بدیہی طورپر بھارت اور کابل کے خفیہ اداروں نے پاکستان کے خلاف محفوظ کررکھا ہے۔ یہ گروہ ہی عوامی نیشنل پارٹی پر حملہ آور تھے۔ انہوں نے ہی مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا فضل الرحمان، مولانا محمد خان شیرانی پر خودکش حملے کرائے تھے۔ اور جدا ان سے داعش بھی نہیں ہے، جس نے کابل یونیورسٹی کو طلبہ و طالبات کے خون سے سرخ کردیا، کابل شہر پر راکٹ باری کی۔ گویا اس حقیقت کو جھٹلانا نہیں چاہیے کہ قدموں کے نشان کابل ہو یا بھارت، یہاں تک کہ ایران…پاکستان کی طرف آتے ہیں۔
بہرکیف ملک میں سول و جمہوری معاملات میں مداخلت بلاشبہ ہورہی ہے۔ آئین کے وقار، پارلیمنٹ کی بالادستی اور حاکمیت کا سوال درپیش ہے۔ لہٰذا اس باب میں سیاسی و جمہوری احتجاج و تحریک بہرطور جاری رکھنی چاہیے، البتہ سیاسی جنگ میں حقائق سے منہ موڑنے کی سعی جائز نہیں۔

Share this: