بی جے پی کی ذہنیت اور مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز قیادت

Print Friendly, PDF & Email

عالمی تنظیم جینو سائیڈ واچ کے سربراہ ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن نے بھارت میں مسلمانوں کی نسل کُشی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ گریگوری کا کہنا ہے کہ بھارت میں انسانیت کے خلاف منظم جرائم جاری ہیں

بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقبوضہ جموں وکشمیر کے صدر رویندر رینا کا ایک وڈیو کلپ ان دنوں عام ہے، جس میں انہوں نے وادی سے تعلق رکھنے والے پیپلزالائنس فار گپکار ڈیکلریشن کے راہنمائوں فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی وغیرہ کے بارے میں کہا کہ آپ دیکھیں ان کے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے، یہ سب ’’جے شری رام‘‘ کہنے پر مجبور ہوں گے۔ اخبار نویس حیرت سے سوال کرتا ہے کہ گپکار ڈیکلریشن والے جے شری رام کہیں گے؟ تو رویندر رینا کہتے ہیں: بالکل، یہ جے شری رام کہنے پر مجبور ہوں گے۔
بظاہر تو یہ ایک سیاسی بیان ہے، مگر اس کے پیچھے ایک ذہنیت جھلک رہی ہے۔ اس سوچ کی سنگینی ان حالات میں مزید بڑھ جاتی ہے جب بھارت ایک منظم حکمت عملی کے تحت کشمیر کے مسلم تشخص اور شناخت کو تبدیل کرنے کی راہ پر گامزن ہے، اور وہ تیزی سے اس راہ پر سفر بھی کررہا ہے۔ 5 اگست2019ء کے فیصلے کے بعد قوانین کو اس انداز سے تبدیل اور ترتیب دیا جارہا ہے کہ بھارت کے لیے کشمیر کی زمنیوں پر قبضہ کرنا اور یہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنا آسان ہوجائے۔ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن کی 6 جماعتیں بھارت کی حامی اور بھارتی دھارے میں سیاست پر یقین رکھتی ہیں۔ ان میں فاروق عبداللہ کی نیشنل کانفرنس، محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، سجاد لون کی پیپلز کانفرنس شامل ہیں۔ان جماعتوں کی قیادت مسلمان ہے اور وادی سے تعلق رکھتی ہے۔ گوکہ کشمیر کا آزادی پسند کیمپ ان شخصیات اور جماعتوں کو بھارت کا مقامی چہرہ قرار دیتا ہے اور کشمیریوں کو ان سے دور رہنے کا کہتا ہے، مگر یہ جماعتیں بھی زمینی حقیقت کے طور پر موجود ہیں۔ سید علی گیلانی نے بسترِ علالت سے ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کشمیری عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آنے والے پنچایتی انتخابات میں پیپلزالائنس کی جماعتوں سے دور رہیں، کیونکہ ان میں اور بھارتیہ جنتا پارٹی میں کوئی فرق نہیں۔
کچھ ہی دن بعد کشمیر میں ضلعی انتخابات منعقد ہورہے ہیں۔ بی جے پی ان انتخابات کو جیتنے کی ہر ممکن منصوبہ بندی کررہی ہے تاکہ مسلم اکثریتی وادی میں بلدیاتی اداروں کے ذریعے اپنا پاور بیس بناکر اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد کیا جائے، جس کے بعد بی جے پی کو کشمیر میں اپنا ایجنڈا لاگو کرنے میں آسانی رہے گی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی اس حکمت عملی کو ناکام بنانے کے لیے پیپلزالائنس نے بھی ان انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ان جماعتوں کے سیاسی نظریات سے اختلاف اپنی جگہ، مگر ان سے ’’جے شری رام‘‘ کہلوانے کی خواہش میں مودی ذہنیت جھلک رہی ہے۔ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور دہلی کے منصوبہ سازوں کے مستقبل کے ارادوں اور عزائم کا اظہار ہے۔ ایسے میں جب عملی طور پر بھی اس جانب تیزی سے پیش رفت ہورہی ہو تو صورتِ حال مزید خطرناک ہوجاتی ہے۔کشمیر کی زمینیں بھارت کے نشانے پر ہیں۔کسی بھی قطعہ ٔ زمین کو سرکار کی ملکیت قرار دے کر قبضے میں لیا جا سکتا ہے اور اسے کسی قومی مقصد کے لیے وقف کیا جا سکتا ہے۔کشمیر کی تہذیب کا اہم حصہ بکروال کمیونٹی ہے۔ یہ خانہ بدوش اپنے مال مویشی کو لے کر موسم کے ساتھ ساتھ محوِ سفر رہتے ہیں۔ موسم کے ساتھ ان کی منزل اور راستے بھی بدلتے جاتے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں یہ لوگ پہاڑی چوٹیوں پر بسیرا کرتے ہیں، اور موسم کی کروٹ کے ساتھ ہی آبادیوں کا رخ کرتے ہیں۔ اب بھارتی حکومت گرمیوں میں بکروالوں کے زیر استعمال زمینوں کو سرکار کی ملکیت قرار دے کر اپنے قبضے میں لے رہی ہے۔
ایسے ہی ایک کیس پر قطری ٹی وی الجزیرہ نے بھی تفصیلی رپورٹ نشر کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے بکروالوں کی زمینوں کو جنگلات کی ملکیت قرار دے کر ان کے گھروں کو مسمار کرنا شروع کردیا ہے۔ ان خالی کردہ زمینوں کو فوجی مقاصد کے ساتھ ساتھ سیاحتی مقاصد کے نام پر بھارتی سرمایہ کاروں کو منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ یہ فلسطین ماڈل ہے جس کے تحت پہلے بھاری سرمایہ کاری کرکے مقامی آبادیوں کی زمینیں خریدنا اور اس کے بعد یہاں غیر مقامی لوگوں کو قابض کرنا ہے۔
یہ تمام اشارے اور اقدامات کشمیر کے اسلامی تشخص اور آبادی کے تناسب کی تبدیلی کے منصوبوں اور عزائم کے عکاس ہیں۔ اس ساری صورتِ حال کا مقابلہ بیان بازی سے نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے منظم حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ اسپین، فلسطین اور بوسنیا سمیت کئی لزرہ خیز کہانیاں تاریخ کا حصہ ہیں جب نفرت بھرے ذہنوں نے مسلمانوں کا لہو پانی کی طرح بہاکر اپنی آتشِ انتقام سرد کی۔ المیہ یہ ہے کہ کشمیر آج اسی خوفناک اور نفرت بھرے مائنڈ سیٹ کے اژدھے کے حصار میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ یہ اژدھا متعصب بھی ہے، نفرت کے جذبات سے لبریز بھی ہے اور تاریخ کے پہیّے کو اُلٹا گھمانے پر یقین بھی رکھتا ہے۔ اس ساری صورتِ حال کو یہ خدشات مزید گمبھیر بنارہے ہیں جو بھارت اور کشمیریوں کی نسل کشی کے حوالے سے ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ عالمی تنظیم جینو سائیڈ واچ کے سربراہ ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن نے بھارت میں مسلمانوں کی نسل کُشی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ گریگوری کا کہنا ہے کہ بھارت میں انسانیت کے خلاف منظم جرائم جاری ہیں۔ آسام اور کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم نسل کُشی سے پہلے کا مرحلہ ہے۔ بابری مسجد کو گرانا اور مندر کی تعمیر اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ جینوسائیڈ واچ کا یہ خدشہ حقیقت میں آنے والے دنوں کے حوالے سے ایک سنگین انتباہ ہے۔


بھارت میں برسوں کی مسلسل محنت سے انتہا پسندوں نے اپنے لیے ایک ایسا لیڈر ڈھونڈ نکالا ہے جو آج پورے بھارت کا حکمران ہے۔ بھارت کے اندر اُسے قوم پرستی کا نشان اور ہندو مت کے احیاء کا علَم بردار سمجھا اور جانا جاتا ہے۔ بین الاقوامی برادری میں اس کی حرکتوں پر کوئی بڑا ردعمل ظاہر نہیں کیا جارہا، کیونکہ اس شخص کا نشانہ اور ہدف مسلمان ہیں جو عالمی سطح پر اس وقت اچھوت بنا دئیے گئے ہیں، جن کا خون پانی سے زیادہ سستا اور ارزاں ہے۔ اس لیے بھارتی انتہا پسندوں کا قائد نریندر مودی مسلمانوں سے جو سلوک روا رکھے ہوئے ہے دنیا اس پر منہ میں گھنگنیاں ڈالے تماشائی بنی ہوئی ہے۔ بھارت میں ایک منظم منصوبہ بندی کے ساتھ ہندو توا کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ہندوتوا مذہبی قوم پرستی اور نسل پرستی کا بدترین نمونہ ہے۔ یہ نظریہ ’’ہندو ہندی ہندوستان‘‘ کے قدیم نعرے اور تصور کے گرد گھومتا ہے، جس کا آغاز انگریزوں کے زمانے سے ہی ہوگیا تھا۔ اس نعرے کا دوسرا حصہ ’’مسلم جائے عربستان‘‘ ہوتا تھا۔ ابتدائی مرحلے میں بھارت کو ہندو ہندی ہندوستان کے نعرے کی تصویر بنایا جارہا ہے۔ نسل کشی کا منظم دور شروع ہونے کے بعد مسلمانوں سے اپنی اصل یعنی عرب جانے کی بات کی جائے گی۔ کروڑوں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جائے گا تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ یہ بالکل وہی صورتِ حال ہے جو نازی جرمنی میں مرحلہ وار پیدا ہوئی تھی، جس کا نتیجہ انسانیت کی بدترین تباہی کی صورت میں برآمد ہوا۔ بھارت میں نریندر مودی جیسے شخص کو ایک منصوبے کے تحت برسرِ اقتدار لایا گیا تھا۔ اس کے پیچھے بھارت کو مکمل ہندو ریاست بنانا، مسلمانوں کو سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر برباد کرنا، اور بھارت کے اوپر سے مسلمان حکمرانوں اور تہذیب کے تمام اثرات کھرچ کر پھینکنا تھا۔ مودی کو گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کا انعام وزیراعظم بناکر دیا گیا۔ اس کے بعد مودی نے مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کے لیے تمام توانائیاں صرف کرنا شروع کردیں۔ مودی نے کشمیر میں قتلِ عام کے لیے گجرات کے تمام تجربات استعمال کیے۔ مودی کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں تھا، اُلٹا مسلمان حکمرانوں نے اسے مالائیں پہنا کر اور گرم جوش معانقوں کے ذریعے انعام واکرام سے نواز دیا۔ مودی نے بھارت کو جس راہ پر ڈال دیا ہے اب یہ اس راہ سے ہٹتا ہوا نظر نہیں آرہا، کیونکہ مسلمان دشمنی اب ریاست کا مائنڈ سیٹ بن گئی ہے۔ دنیا نے کشمیر میں ہونے والے قتلِ عام اور مظالم پر بھارت کا ہاتھ روکا ہوتا تو آج بیس کروڑ بھارتی مسلمانوں کا وجود اور مستقبل یوں دائو پر لگا نہ ہوتا۔

Share this: