چراغ راہ اور سید ابوالاعلی مودودی ؒ

Print Friendly, PDF & Email

ماہنامہ ’’چراغِ راہ‘‘ کا آغاز بنیادی طور پر ادب کی اقدار کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پروان چڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس رسالے کے بنیادی مقاصد میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو ادبی انداز میں پیش کرنا اور اسلامی نظریہ ادب کو عام و خاص کے سامنے لانا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی ترجیحات میں بھی اضافہ ہوتا رہا ہے اور یہ رسالہ ادب کو اسلامی روح کے مطابق پیش کرنے کے علاوہ اس نے اسلامی نظریہ حیات کے مختلف پہلوئوں پر جامع کلام کرنے کے علاوہ عملی تعبیر بھی پیش کرنے میں کوئی فروگذاشت نہ چھوڑی۔
ماہنامہ ’’چراغ راہ‘‘ نے ادبی محاذ پر اسلام کے نظریہ ادب کی تفہیم و تشریح پیش کرنے کے علاوہ تخلیقی اور تنقیدی ادب بھی پیش کیا۔ وقت کی ضرورت کے مطابق اُمتِ مسلمہ کے حالات سے قارئین کو واقفیت بہم پہنچانے کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کے مابین ربط و تعلق بڑھانے میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ قدیم وجدید مسائل کا شرعی حل پیش کرنے کے علاوہ عہدِ حاضر میں مختلف طاغوتی تحریکوں جن میں اشتراکیت، سرمایہ داری، قوم پرستی وغیرہ شامل ہیں، ان فتنوں سے آگاہ کرنے کے علاوہ ان کے اعتراضات کا مؤثر جواب دینے میں بھی اس رسالہ کا اہم کردار رہا ہے۔
’’چراغِ راہ‘‘ عوام الناس کو تاریخ اسلام کے روشن پہلوئوں سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ تاریخ پاکستان اور نظریہ پاکستان کے حقیقی معنوں سے روشناس کراتا رہا ۔ فتنہ استشراق اور مغربی تہذیب کے اعتراضات کے علاوہ ان فتنوں کے قوم و ملت پر خطرناک اثرات اور نتائج سے آگاہ کرنے میں ماہنامہ ’’چراغِ راہ‘‘ کا کردار ایک روشن چراغ ہی کی مانند رہا ہے۔ اس کے بنیادی چار مقاصد جو شمارہ جنوری ۱۹۴۸ء کے سرورق پر درج کیے گئے ہیں وہ یہ تھے:

نمبر ایک: اسلامی اُصولوں پر ادب کی تعمیرِ جدید
نمبردو: مکمل اسلامی انقلاب کی تحریک
نمبر تین: اسلام کے سیاسی و معاشی نظام کی توضیح
نمبر چار: ملکی اور بین الاقومی مسائل کا تعارف
ماہنامہ ’’چراغ راہ‘‘ کا آغاز جولائی ۱۹۴۷ء میں کیا گیا۔ قیامِ پاکستان کے وقت برصغیر کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ اس وقت کسی رسالے کی اشاعت جان جوکھوں میں ڈالنا تھا۔ایسے ہی نامساعد حالات میں پہلا پرچہ شائع کیا گیا۔ اللہ ربّ العزت نے جن شخصیات سے جو کام لینا ہوتا ہے، وہ ذات بابرکت اُن کو توفیق سے نوازتی ہے۔
چودھری غلام محمد [پ: یکم اکتوبر ۱۹۱۶ء، ضلع جالندھر-م: ۲۹؍جنوری ۱۹۷۰ء، کراچی، جماعت اسلامی کے فعال رکن، صوبہ سندھ کے امیر] نے برصغیر پاک و ہند کی دگرگوں صورتِ حال اور قیامِ پاکستان سے ایک ماہ قبل جولائی ۱۹۴۷ء میں ابتدا میں ذاتی طور پر اس پرچہ کا آغاز کیا اور ابتدا میں اس کی ادارت کی ذمہ داری سیّد نذیر الحق میرٹھی [پ:دسمبر ۱۹۰۳ء-م:یکم جون ۱۹۸۲ء، جماعت اسلامی کی پہلی مجلسِ شوریٰ کے رکن ،لاہور کی ایک معروف مسجد ’’شاہ چراغ‘‘ کے خطیب، مصنف] کے سپرد کی۔ اس ادبی، علمی اور تحقیقی رسالے کا پہلا شمارہ جولائی ۱۹۴۷ء میں منصہ شہود پر آیا۔ اس پہلے شمارے کے مدیر سیّد نذیر الحق میرٹھی اور اور نائب مدیر نذر محمد خان بی-اے تھے۔
پہلے شمارے میں حسبِ روایت اس کی اشاعت کے حوالے سے مدیر شمارہ اوّل سیّد نذیر الحق میرٹھی اپنے اداریہ (شذرات) میں لکھتے ہیں:
’’کہ ہم نے اپنے کام کا آغاز کرچی سے کیا۔ جہاں قدم قدم پر طباعتی مشکلات حائل ہیں۔ اچھے اور عمدہ کاغذ کی نایابی ہے۔ اور ہم اپنی پسند کے مطابق رسالہ کو دیدہ زیب اور جاذبِ توجہ نہیں بنا سکتے۔ پھر یہ پہلا نمبر انتہائی عجلت میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس لیے اس میں ناظرین کوئی ظاہری کشش وجاذبیت نہ پائیں تو دل برداشتہ نہ ہوں۔ ان شاء اللہ آہستہ آہستہ ہم اس کو اچھے معیار پر لے آئیں گے۔ اپنی انتہائی کوشش صَرف کریں گے کہ رسالہ معنوی خوبیوں کے ساتھ ساتھ صوری محاسن اور خوبیوں کا بھی جامع ہو۔ سرِدست تو یہ جیسا کچھ بھی ہے اسی کو قبول کیا جائے۔؎ ’’گر قبول افتد ز ہے عزو شرف‘‘
’’چراغِ راہ‘‘ کے اس ابتدائی دور جس کوہم ’’دورِ اوّل‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں، صرف دو شمارے [جولائی ۱۹۴۷ء (صفحات:۴۲) اور اگست ۱۹۴۷ء (صفحات:۴۸)] مدیر سیّد نذیر الحق میرٹھی اور نائب مدیر نذر محمد خان بی-اے کی زیر ادارت شائع ہوسکے۔
ماہنامہ ’’چراغِ راہ‘‘ کا دورِ دوم جو کہ جنوری ۱۹۴۸ء سے شروع ہوا،۔ اس میں مسئول چودھری غلام محمد اور مرتب: نعیم صدیقی [پ:۴؍جون ۱۹۱۶ء، بمقام خان پور چکوال-م: ۲۵؍ستمبر ۲۰۰۲ء]جو کہ سیرت نگار، ادیب، شاعر اور مقرر تھے۔ ان کی زیر ادارت یہ سلسلہ (بطور مسئول و مرتب) مارچ ۱۹۴۹ء تک چلا۔ اس دور کے پہلے شمارے جنوری ۱۹۴۸ء کے اداریہ بعنوان ’’چراغِ راہ کا نیا دور‘‘ میں نعیم صدیقی لکھتے ہیں:
’’دو مقاصد…… اولاً یہ کہ اردو ادب غیر اسلامی افکارو نظریات کا آلہ کار بنا چلا جارہا ہے اور سیاست و تمدن میں اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ ادب کے ماحول کو بدلا جائے۔ چنانچہ میں اپنے رفقا کی قوتوں کو سمیٹ کر جدید اسلامی ادب کی تخلیق کا ایک پروگرام عمل میں لانا چاہتا ہوں۔ ثانیاً یہ کہ موجودہ حالات میں جس طرح ارتقا کررہے ہیں ان میں اسلام کے انقلابی تصور کو نمایاں کرنے کے ساتھ ساتھ سیاست اور معیشت کے مسائل اور بین الاقوامی گتھیوں پر اسلامی زاویہ نگاہ سے زیادہ سے زیادہ روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ’’چراغِ راہ‘‘کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
ستمبر ۱۹۴۹ء تا اپریل ۱۹۵۳ء کے شمارے صرف ’’مرتب: نعیم صدیقی ‘‘ کی زیرنگرانی اشاعت پذیر ہوئے۔ مئی تا جولائی ۱۹۵۳ء ، تین شمارے’’مرتب: چودھری غلام محمد‘‘ کی زیر نگرانی میں جبکہ اگست ۱۹۵۳ء تا نومبر ۱۹۵۴ء کے شمارے ’’مرتب: جیلانی بی اے+ غلام محمد‘‘ دو افراد کی زیر ادارت شائع ہوئے۔
دسمبر ۱۹۵۴ء سے نعیم صدیقی نے بطور مرتب اس پرچے کی ادارت کی ذمہ داری سنبھالی اور نومبر+دسمبر ۱۹۵۶ء کے یکجا شمارے تک وہ مرتب رہے۔ جنوری اور فروری ۱۹۵۷ء کے دوشماروں پر باوجوہ کسی کا نام طبع نہیں ہوا۔ اور مارچ تا مئی ۱۹۵۷ء، تین شماروں میں بعنوان ’’ادارۂ تحریر: نعیم صدیقی‘‘ کا نام بطور مدیر شائع ہوا۔
جناب نعیم صدیقی کے دورِ ادارت جنوری ۱۹۴۸ء تا مئی ۱۹۵۷ء میں عمومی شماروں کے علاوہ درج ذیل چھ خاص نمبر۱- ’’قیادت‘‘ نمبر (ستمبر۱۹۴۹ء، ص۱۳۶)، ۲-’’خاص نمبر‘‘ (جنوری ۱۹۵۳ء، ص۳۳۶)، ۳-’’احتجاج‘‘ نمبر (اکتوبر+ نومبر۱۹۵۳ء ص۱۲۰)، ۴-’’اسیران کی رہائی‘‘ نمبر (جنوری ۱۹۵۴ء ص۱۱۲)، ۵-’’قادیانی اقلیت‘‘ نمبر (مارچ ۱۹۵۴ء ص۹۶) ۶-’’مسعود عالم ندوی‘‘ نمبر (مارچ ۱۹۵۵ء ص۲۱۰)… بھی شائع ہوئے۔ نعیم صدیقی کے اس دورِ ادارت میں ناگزیر وجوہات اور آپ کے قید و بند کے دوران جیلانی بی-اے اور چودھری غلام محمد کی زیر ادارت چند شمارے شائع ہوئے۔
جون ۱۹۵۷ء کے شمارے میں صرف خالد احمد صدیقی کا نام بطور ’’مینجنگ ایڈیٹر:‘‘ شائع ہوا۔ جب کہ جولائی ۱۹۵۷ء میں ’’مینجنگ ایڈیٹر: خالد احمد صدیقی‘‘ اور ایڈیٹر جیلانی بی-اے (پ: اکتوبر ۱۹۲۱ء، بمقام گوجرانوالہ-م: جنوری ۱۹۹۰ء، لاہور) کا نام اشاعت پذیر ہوا۔ اگست ۱۹۵۷ء کے شمارہ سے صرف ’’ایڈیٹر: جیلانی بی-اے‘‘ کا نام دسمبر ۱۹۵۷ء کے شمارے تک شائع ہوا۔ اُس کے بعد جیلانی بی -اے کی زیر ادارت (’’ایڈیٹر اور بہ ادارات‘‘) اگست ۱۹۵۷ء تا جون ۱۹۵۸ء گیارہ شمارے شائع ہوئے۔
ماہنامہ ’’چراغِ راہ‘‘ کے جس دور کو ہم ’’دورِ سوم‘‘ سے موسوم کرسکتے ہیں، یہ اس ادبی مجلہ کا وہ دور ہے جس دور کے شمارے ادبی، تخلیقی ہونے کے علاوہ تحقیقی ہوگئے تھے۔ اس دور میں یہ شمارہ تحقیق کی دنیا میں نامور نام جناب پروفیسر خورشید احمد جن کا شمار نہ صرف جماعت اسلامی بلکہ پوری دنیا کے اہل علم و قلم میں بطور ماہر معاشیات، ماہر پاکستانیات، ماہر تعلیم ہونے کے علاوہ عالمی سیاست پر گہری نظر رکھنے والی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ بہت زیادہ کتب کے مصنف ہونے کے علاوہ کئی علمی، تحقیقی رسالوں کے مدیر بھی رہے ہیں اور آج کل بھی ’’عالمی ترجمان القرآن‘‘ آپ کی زیر ادارت ہی شائع ہوتا ہے۔ مزید برآں دنیا بھر کے بہت سے علمی تحقیقی اداروں کے رکن اور چیئرمین بھی رہے ہیں۔
ماہنامہ ’’چراغِ راہ‘‘ اپنے ’’دورِ سوم‘‘ یعنی جولائی ۱۹۵۸ء سے اشاعت کے آخری دو ماہ کے یکجا شمارے جنوری+ فروری ۱۹۷۰ء تک بنیادی طور پروفیسر خورشید احمد کی زیرادارت ہی شائع ہوا ہے۔ بعض شماروں میں گوناگوں وجوہات کی بنا پر ان کا نام شائع نہیں ہوا۔ لیکن عمومی طور پر تمام شمارے ان کی رہنمائی و مشاورت سے ہی شائع ہوتے رہے۔ اس عرصہ اشاعت یعنی جولائی ۱۹۵۸ء تا فروری ۱۹۷۰ء میں کل ۹۳ شمارے اشاعت پذیر ہوئے جن میں نو اہم علمی، تحقیقی موضوعات پر خاص نمبر بھی شامل ہیں، جن کی تفیصل یوں ہیں:
۱- ’’اسلامی قانون‘‘ نمبر‘ اوّل (جون ۱۹۵۸ء، ص۴۵۴)، ۲-’’اسلامی قانون‘‘ نمبر‘ دوم (جولائی+اگست ۱۹۵۸ء، ص ۳۵۰)، ۳-’’خاص نمبر‘‘ (مارچ۱۹۶۰ء، ص۱۶۰)، ۴-’’سالنامہ‘‘ ۱۹۶۱ء (جلد۱۵ شمارہ۱تا۳، ص۲۵۶)، ۵-’’نظریہ پاکستان نمبر ‘‘ (دسمبر ۱۹۶۰ء، ص۵۵۶)، ۶-’’خاص نمبر‘‘ (اپریل+مئی۱۹۶۳ء، ص۱۰۰)، ۷-’’تحریک اسلامی‘‘ نمبر (نومبر۱۹۶۳ء، ص۴۵۰)، ۸-’’خاص نمبر‘‘ (جنوری ۱۹۶۶ء، ص۱۶۸)۹-’’شرقِ اوسط نمبر ‘‘ (جون ۱۹۶۸، ص۱۹۶)
پروفیسر خورشید احمد کی زیرادارت شائع ہونے والے ان شماروں کی مجلس ادارت میں منظور احمد، محمد عزیر، محمود فاروقی، سیّد کاظم علی، احمد انس (مسلم سجاد)، ممتاز احمد، مصباح الاسلام]فاروقی[، حسن یاسر اور چودھری غلام محمد بھی شامل رہے ، جن کی محنتوں اور کاوشوں سے یہ علمی، ادبی، تحقیقی اور تخلیقی پرچہ منصہ شہود پر آتا رہا۔
ماہنامہ ’’چراغِ راہ‘‘ کے اپنے مکمل دورِ اشاعت (جولائی ۱۹۴۷ء تا فروری ۱۹۷۰ء تک) میں کل ۲۰۲ شمارے شائع ہوئے جن میں پندرہ اہم موضوعات پر علمی، ادبی اور تحقیقی خاص نمبر بھی شامل ہیں جو اپنے اہم موضوعات اور تحقیقی ہونے کی بنا پر آج بھی ایک اہم علمی و تحقیقی دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مجلہ کی ابتدا تا جون ۱۹۵۵ء اس کے پبلشر و ناشر چودھری غلام محمد اورجولائی ۱۹۵۵ء تا فروری ۱۹۷۰ء اس کے پبلشر و ناشر سیّد کاظم علی رہے۔
سرکاری پابندیوں اور بعض ادارتی ناگزیر وجوہات کی بنا پر جنوری ۱۹۴۹ء، اپریل تا اگست ۱۹۴۹ء، دسمبر ۱۹۵۹ء، ۱۹۶۱ء میں سالنامہ اشاعت کے بعد ڈیڑھ سال بند رہا اور دوبارہ اگست ۱۹۶۲ء میں شائع ہوا۔ اس کے بعد جنوری تا مئی ۱۹۶۴ء، جولائی تا دسمبر ۱۹۶۴ء، دسمبر ۱۹۶۵ء، اکتوبر ۱۹۶۷ء کے شمارے بھی شائع نہ ہوسکے۔مزید برآں بعض شمارے دو یا تین ماہ کی مشترکہ اشاعت کے طور پر بھی اشاعت پذیر ہوئے۔
ماہنامہ ’’چراغِ راہ‘‘ میں بہت سے مصنّفین کے مقالات و نگارشات شائع ہوتے رہے ہیں جن کا مکمل شمارہ وار، مصنف وار اور موضوع وار اشاریہ کے ساتھ ساتھ تمام شماروں کی مکمل سیکننگ اور بذریعہ سوفٹ وئیر ان شماروں کے مقالات تک رسائی کا پراجیکٹ تکمیلی مراحل میں ہے جوکہ جناب خرم مراد کے صاحبزادے پروفیسر حسن صہیب مراد کی سرپرستی اور جناب پروفیسر سلیم منصور خالد کی زیرنگرانی میں راقم نے کیا ہے۔
مفکر اسلام مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کی جو تحریریں ماہنامہ ’’چراغِ راہ‘‘ کی زینت بنی، ان سے استفادہ اور محفوظ کرنے کے لیے ان کی فہرست اس علمی، ادبی مجلہ کے اس ابتدائی تعارفی مضمون میں شامل کی جارہی ہے۔ سیّد مودودی کے ان مضامین کو اُن کے عنوانات کے تحت حروفِ تہجی سے ترتیب دیا گیا ہے، مضمون کے عنوان کے شمارہ کا مہینہ و سال اور اُس کے بعد متعلقہ صفحات درج کیے گئے ہیں:
mاسلام اور دورِ جدید، اپریل ۱۹۶۳/ ۳۱-۳۸
mاسلام اورجدید قانون [عائلی قوانین کا تقابلی مطالعہ]، جون ۱۹۵۸/ ۲۴۵-۲۵۵
mاسلام پسند ادیب اور اسلامی اَدب [مرتب: محمد حمیداللہ صدیقی]، ستمبر ۱۹۵۸/ ۲۱-۲۳
mاسلام میں انسان کے بنیادی حقوق، دسمبر ۱۹۶۳/ ۵
mاسلام میں قانون سازی اور اجتہاد [مع ضمیمہ’’قانون سازی، شوریٰ اور اجماع‘‘]، جولائی ۱۹۵۸/ ۱۳۲-۱۴۰
mاسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات، دسمبر ۱۹۶۰/ ۷۶-۸۹
mاسلامی قانون کی تدوینِ جدید [خطاب سے اقتباس]، جولائی ۱۹۵۸/ الف
mاسلامی قانون، جون ۱۹۵۸/ ۹۶-۱۰۹
mاشتراکیت کا میزانیہ نفع و نقصان، مارچ ۱۹۵۰/ ۲۳-۲۸
mایک خط [بسلسلہ ’’مسعود عالم ندوی‘‘ نمبر]، مارچ ۱۹۵۵/ ۱۲
mایک خط [علامہ اقبال کے بارے میں]، جون ۱۹۵۵/ ۲۴
mپاکستان اور اسلامی نظریہ [مذاکرہ]، دسمبر ۱۹۶۰/ ۳۴۹-۳۵۷
mپاکستان میں اسلامی قانون کے نفاذ کی عملی تدابیر، جولائی ۱۹۵۸/ ۲۴۴-۲۵۸
mتجاویز تقسیمِ ہند، دسمبر ۱۹۶۰/ ۵۰۸-۵۱۷
mتحریکی زندگی کے یادگار واقعات، نومبر ۱۹۶۳/ ۲۹۷-۲۹۸
mتحریکِ اسلامی اور اس کے مخالفین، نومبر ۱۹۶۳/ ۲۴۰-۲۴۶
mتحریکِ اسلامی کا مستقبل، نومبر ۱۹۶۳/ ۴۱۷-۴۱۸
mتحریکِ اسلامی… ایک داستان، ایک تاریخ [جماعت اسلامی کا آغاز و ارتقا/ مرتب:ـ خورشید احمد]، نومبر ۱۹۶۳/ ۸۸-۱۲۰
mتحریکِ نفاذ شریعتِ اسلامی، دسمبر ۱۹۶۰/ ۴۸۹
mتدوینِ جدید اور اس کے تقاضے، جولائی ۱۹۵۸/ ۱۱-۱۹
mتنہا آپ ہی نہیں! [مکتوب]، اپریل ۱۹۵۱/ ۳۳
mٹیپو سلطان، اگست ۱۹۶۲/ ۱۷۷-۱۸۱
mجماعت اسلامی کیسے قائم ہوئی؟ [انٹرویو]، نومبر ۱۹۶۳/ ۸۵-۸۷
mچلو تم اِدھر کو ہوا ہو جدھر کی! [ماخوذ/ تنقیحات، ص۳۰۷]، ستمبر ۱۹۶۲/ ۴-۵
mچند اہم مسائل [اداریہ]، اکتوبر ۱۹۶۸/ ۳-۱۰
mرابطہ عالم اسلام کا چوتھا ششماہی اجلاس [رپورتاژ]، دسمبر ۱۹۶۳/ ۲۰-۲۲
mزمانہ باتو نہ ساز و تو بازمانہ ستیز [تحریکِ آزادی]، دسمبر ۱۹۶۰/ ۴۷۰-۴۷۱
mسامنے بھیڑئیے- پیچھے اژدھا! [نہر سویز کو قومی ملکیت قرار دینے کا اقدام]، ستمبر ۱۹۵۶/ ۴
mشعر! [سوال کا جواب]، اکتوبر ۱۹۵۱/ ۱۲
mعلمی تحقیقات، کیوں اور کس طرح؟ [خطاب/ اداریہ]، جون ۱۹۶۷/ ۵-۱۶
mغیر مطبوعہ خطوط، فروری ۱۹۶۰/ ۷۰-۸۱
mقانون اور تعمیرِ نو [سوالات کے جوابات]، جولائی ۱۹۵۸/ ۳۰۱-۳۰۴
mمسلمان اور اخلاق، مئی ۱۹۶۵/ ۱۱۸
mمسئلہ فلسطین، جون ۱۹۶۸/ ۱۹۵-۱۹۶
mمعاشی زندگی کے رہنما اُصول، جون ۱۹۶۹/ ۶۹-۷۰
mمکتوبات [ ’’دورانِ قیدو بند‘‘ …دعوت، تحریکِ اسلامی، تربیت کے حوالے سے لکھے گئے ۳۶ ؍خطوط]، نومبر ۱۹۶۳/ ۳۹۰-۴۱۴
mمکتوب، اپریل ۱۹۶۸/ ۷۱
mمنشورِ پاکستان، نومبر ۱۹۶۲/ ۳
mمیرا پیغام [انٹرویو جو الاستاذ عبداللہ عباس نے جدہ میں لیا]، فروری ۱۹۶۰/ ۹-۱۳
mنظریۂ اَدب [مکتوب]، جنوری ۱۹۵۰/ ۹
mوارداتِ حج [سفرنامہ حج سے اقتباس]، اپریل ۱۹۶۵/ ۱۱-۱۲
mہمارا حقیقی محسن [جنگِ ستمبر / ماخوذ]، جنوری ۱۹۶۶/ ۸۳
مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریروں کی فہرست کے بعد نیچے اُن مضامین و مقالات کی نشاندھی کی گئی جو کہ مولانا کے حوالے سے مدیران کی طرف سے اُن کی سوانح، خدمات اور فکر کے حوالے سے اس علمی مجلہ میں شائع ہوئی اور اُن کا انٹرویو بھی یہاں شامل کیا گیا ہے۔
mتحریکی زندگی کے یادگار واقعات، نومبر ۱۹۶۳/ ۲۹۷-۲۹۸
mسوچ بچار: مولانا مودودی کو سزائے موت پھر چودہ سال قید…؟ [اداریہ]، اکتوبر ۱۹۵۳/ ۳-۶
mسوچ بچار [مولانا مودودی کی گرفتاری و سزا کے بارے میں چند باتیں/ اداریہ]، جون ۱۹۵۴/ ۵-۶
mغبارِ پریشاں [مولانا مودودی اور جماعت اسلامی پر اعتراضات کیوں؟/ اداریہ]، جولائی ۱۹۵۶/ ۶-۲۴
mمولانا مودودی اور جماعت اسلامی کے خلاف…؟ [قندونمک]، اپریل ۱۹۵۰/ ۱۵-۱۶
mمولانا مودودی کے خلاف اصل چارج شیٹ [قندونمک]، دسمبر ۱۹۴۹/ ۶
mمولانا مودودی [اداریہ]، فروری ۱۹۵۴/ ۴
m’’تحریکِ اسلامی…چہ معنی دارد‘‘[مولانا مودودی اور جماعت پر اعتراضات کیوں؟/ اداریہ]، جنوری ۱۹۵۷/ ۲-۱۷
mعظیم مظاہرہ: کراچی میں مولانا مودودی کی سزا کے خلاف، اکتوبر ۱۹۵۳/ ۱۷-۲۱
mمولانا مودودی، دنیا کی نظر میں [۲؍اقساط] اگست ۱۹۵۴/ ۲۴-۲۸، ستمبر ۱۹۵۴/ ۱۷-۲۰،
mمولانا مودودی، اپنی نظر میں، جولائی ۱۹۵۳/ ۲۲-۳۱
mکیا وہ نمرود کی خدائی تھی؟ [مولانا مودودی کو سزائے موت اور ہمارے حکمران؟]، جون ۱۹۵۳/ ۱۰-۱۹
mسعودی عربیہ میں چار دن‘ مولانا مودودی کے ساتھ، فروری ۱۹۶۳/ ۱۴-۲۷
mمودودی[نظم]، اکتوبر ۱۹۵۳/ ۴۹
mمسٹر مودودی اور ان کی جادوئی تحریر، جولائی ۱۹۵۴/ ۶
mبیان پریس کانفرنس [سیّد مودودی کی سزا کے خلاف کراچی میں پریس کانفرنس]، اکتوبر ۱۹۵۳/ ۵۵-۵۸
mمولانا مودودی: جمہوریت اور اسلام [محمد نواز کے مکتوب کا جواب]، جون ۱۹۶۷/ ۷۹-۸۰
mپاکستان کے عظیم ترین قیدی (مولانا مودددی) سے ایک ملاقات، اپریل ۱۹۵۵/ ۱۹-۲۱
mمدیر فلمیشیا مولانا ابوالاعلیٰ مودودی سے ایک انٹرویو، دسمبر ۱۹۵۳/ ۱۰-۱۲
mمولانامودودی خود اپنی نظر میں، مئی ۱۹۵۰/ ۱۵-۲۲
mگذرگاہِ شوق [سیّد مودودی کے ہمراہ دیارِ عرب کا سفر/ مکتوبات ]، فروری ۱۹۶۰/ ۹۶-۱۰۸
mمعرکہ حق و باطل [مولانا مودودی کو ’’سزائے موت‘‘]، اگست ۱۹۵۵/ ۲۹-۳۸
mسیّد مولانا مودودی[نظم]، اکتوبر ۱۹۵۳/ ۴۴
mمولانا مودودی: جمہوریت اور اسلام [مکتوب بسلسلہ کتاب خلافت و ملوکیت پر تبصرہ]، جون ۱۹۶۷/ ۷۹
mکیا اسیری ہے کیا رہائی ہے؟ [اداریہ]، جون ۱۹۵۳/ ۲
mمولانا مودودی: آزمائش کی کسوٹی پر [روزنامچہ زنداں/ ۲؍اقساط] مارچ ۱۹۵۴/ ۶۱-۸۴، اپریل ۱۹۵۴/ ۳۷-۴۹،
m’’طلع البدر علینا!‘‘ [فَلَقَ الصُّبْحُ لَنَا…مولانا مودودی کی رہائی/ اداریہ]، جون ۱۹۵۵/ ۲-۳
mانگلستان میں زیر تعلیم طلبا کا احتجاج [سیّدمودودی کی سزا کے خلاف]، اکتوبر ۱۹۵۳/ ۲۴
mانگلستان میں مقیم مسلمانوں کا میمورنڈم [سیّدمودودی کی سزا کے خلاف]، اکتوبر ۱۹۵۳/ ۲۵
mبیانات [علمائِ کرام، اکابر اور حکمرانوں کے سیّد مودودی کی سزا کے خلاف]، اکتوبر ۱۹۵۳/ ۵۰-۵۴
mپاکستان کے مدیرانِ جرائد کا میمورنڈم [سیّدمودودی کی سزا کے خلاف]، اکتوبر ۱۹۵۳/ ۲۲-۲۳
mتحریکِ اسلامی کے داعی: سیّد مودودی، جون ۱۹۵۳/ ۲۳-۲۴
mعالمِ اسلام کا احتجاج [سیّدمودودی کی سزا کے خلاف پوری دنیا سے تار و بیانات اور مظاہرے]، اکتوبر ۱۹۵۳/ ۲۶-۴۱
mمولانا مودودی اور اُن کے رفقا کی نظربندی میں توسیع پر صدائے احتجاج، ستمبر ۱۹۴۹/ ۷۳-۸۴
ماہنامہ ’’چراغِ راہ‘‘ میں سیّد مودودی کی اپنی اور اُن پر لکھی گئی جن کتب پر تعارف و تبصرہ شائع ہوا، اُن کی تفصیل یوں ہے:
mایک نیا ’تحقیقی کارنامہ‘ [ مولانا مودودی کی تحریکِ اسلامی از محمد سرور کا جائزہ / ۲؍اقساط]، جولائی ۱۹۵۶/ ۲۹-۴۴، اگست ۱۹۵۶/ ۲۲-۳۱
mمودودیات (تاریخ اسلام کے خلاف اور جماعت کے خلاف ملغوبہ) از فیروزالدین منصور، اپریل ۱۹۵۱/ ۶۳
mمولانا مودودی‘ اپنی اور دوسروں کی نظر میں [مرتب: محمد یوسف(لاہور)]، فروری ۱۹۵۶/ ۴۶
nn

Share this: