ہمہ جہت شخصیت مفتی جمیل احمد نعیمی

Print Friendly, PDF & Email

عبدالصمد تاجیؔ

مفتی جمیل احمد نعیمی سے ایک یادگار ملاقات دارالعلوم نعیمیہ میں ’’سفیر کتب‘‘ صوفی مقصود حسین اویسی کی خدمات پر لکھی گئی پروفیسر ڈاکٹر سید محمد عارف مظہری کی مختصر کتاب ’’جہانیاں جہاں گشت‘‘ کی تقریبِ رونمائی میں ہوئی۔ صوفی صاحب برسوں سے اہلِ علم اصحاب تک مفت دینی کتب پہنچانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، یہ مختصر کتابچہ اس خدمت کا اعتراف ہے۔ صوفی صاحب کو مخیر حضرات، مصنف اور ادارے اپنی کتب فراہم کرتے ہیں اور یہ ان کتابوں کو اپنے کاندھے پر رکھ کر ملک بھر میں موجود اربابِ علم و دانش تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ مفتی صاحب نے ان کے کام کو بڑی اہمیت دیتے ہوئے کہاکہ علم پھیلانا بڑی عبادت ہے، یہ قابلِ تحسین ہیں جو گرم، سرد ہوائوں میں ملک کے دور دراز علاقوں، گائوں، دیہات تک میں جاتے ہیں۔ ’’جہانیاں جہاں گشت‘‘ کا لقب ان پر سجتا ہے۔
تقریب کے اختتام پر مفتی صاحب نے تمام شرکا کے لیے ضیافت کا اہتمام کیا۔ فرداً فرداً سب سے پہلے راقم نے بتایا کہ اس کا تعلق فرائیڈے اسپیشل (جسارت) سے ہے تو گلے لگا کر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ’’میاں وہاں بڑے قابل لوگ ہیں، آپ اُن سے کچھ حاصل کیجیے اور کچھ بن کر دکھایئے‘‘۔ انہوں نے ازراہِ شفقت میری پلیٹ میں کچھ بسکٹ بھی رکھے اور حاضرین سے مخاطب ہوکر کہا ’’پڑھنے لکھنے والے لوگوں کی زیادہ عزت و تکریم کرنی چاہیے، علم کی شمع یہی لوگ آگے لے کر چلیںگے‘‘۔
آج مفتی صاحب پر لکھ رہا ہوں تو ان کی ترجمانی کے لیے چند اشعار یاد آگئے ؎
دوستو! کرب کا احساس بھلا دو کہ تمہیں
روز ان گنت مراحل سے گزرنا ہو گا
وقت کا زہر اگر تم سے سہارا نہ گیا
مسکراتے ہوئے یہ گھونٹ اتارا نہ گیا
سُکھ تو کیا سُکھ کی رمق کو بھی ترس جائو گے
جبرِ بے نام کی زنجیر میں کس جائو گے
دن وہ دوزخ ہے کہ ہر لمحہ جلائے گا تمہیں
رات آسیب ہے، آسیب ستائے گا تمہیں
لمحہ لمحہ عملی دیپ جلائے رکھنا
جس طرح ہو سکے ماحول بنائے رکھنا
(حکیم انجم فوقیؔ)
اور ماحول بنانے کے لیے آپ نے 1968ء میں طلبہ کی تنظیم ’’انجمن طلبہ اسلام‘‘ کی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم کے بانی آپ ہیں۔ تدریسی و علمی مشاغل کی وجہ سے آپ اس کے صدر نہیں بنے بلکہ اُس وقت کے سرگرم اور متحرک طالب علم حاجی محمد حنیف کا نام پیش کردیا، اور انہیں اپنے ساتھ لے کر مختلف شہروں میں پہنچے اور ان کا تعارف کرایا۔ نئی نسل کی تربیت کا اس سے اچھا انداز اور کیا ہوگا! مفتی صاحب کی ہمہ جہت شخصیت سے قدرت نے بڑے کام لیے، آپ ایک مدت تک ماہنامہ ’’ترجمانِ اہلسنت‘‘ کراچی کے مدیر رہے، مگر سوائے پرنٹ لائن کے اس کا کہیں اظہار نہیں فرمایا۔ آپ کے زمانے میں ترجمانِ اہلسنت کے متعدد خصوصی نمبر شائع ہوئے جن میں ضخیم ’’قرآن نمبر‘‘ اور ’’نظام مصطفیؐ نمبر‘‘، ’’سنی کانفرنس نمبر‘‘ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ ’’پیغمبراعظم‘‘، ’’سیرتِ پیغمبر انقلابؐؐ‘‘ آپ کی تصانیف ہیں۔ ’’روشن دریچے‘‘، ’’عظیم دین عظیم راتیں‘‘، ’’اسلام کا تصورِ قومیت‘‘، ’’اساتذہ کرام کی ذمہ داریاں‘‘، ’’فلسفہ مسائل نماز‘‘ معروف ہیں۔ آپ کی ایک اور بڑی خصوصیت یہ تھی کہ آپ تحریری اور تحقیقی کام کرنے والے مصنفین اور مؤلفین کی بڑی حوصلہ افزائی فرماتے، خصوصاً نئے قلم کاروں کی… اور جہاں تک ممکن ہوتا ان کی دامے، درمے، قدمے، سخنے مدد فرماتے۔ مفتی صاحب نے سیکڑوں کتابوں، رسالوں پر اپنے تاثرات، تقاریظ اور پیش لفظ لکھے جو آپ کی علم دوستی کا بڑا ثبوت ہیں۔
مفتی جمیل احمد نعیمی 1937ء میں انبالہ چھائونی مشرقی پنجاب (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ مڈل تک اردو کی تعلیم حاصل کی۔ فارسی کی ابتدائی کتب مولانا ارشاد احمد اور مولانا قاضی زین العابدین سے پڑھیں۔ ’’بہار شریعت‘‘ کے کچھ حصے شاہ مسعود احمد دہلوی سے سبقاً سبقاً پڑھے۔ باقی تمام کتب فنون اور علم حدیث حضرت تاج العلماء مولانا محمد عمر نعیمی سے پڑھ کر 1960ء میں سندِ فراغت حاصل کی۔
آپ دارالعلوم نعیمیہ کے بانیوں میں سے ہیں۔ یہ ادارہ معروف دینی جامعات میں سے ایک ہے۔ دارالعلوم میں تعلیم کے ساتھ تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ایک ایسے دور میں جب کہ قوم کے اربوں روپے کے زرِکثیر سے قائم اسکول، کالج و جامعات شدید ترین اخلاقی بحران سے دوچار ہیں، جبکہ دینی اداروں کے طلبہ کو دیکھ کر کچھ امید بڑھتی ہے کہ یہ ان خرافات سے دور ہیں۔
آپ کو علامہ شاہ احمد نورانی سے دلی محبت تھی اور آپ ان کے مخلص ساتھیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ علامہ شاہ احمد نورانی کے بارے میں رقم طراز ہیں: ’’علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی کی پوری زندگی امت ِمسلمہ کے اتحاد و اتفاق کے لیے وقف تھی، مگر صد افسوس کہ بعض مفاد پرست عناصر نے اقتدار کی ہوس میں قائدِ ملتِ اسلامیہ کے مشن اور منشور سے روگردانی کی، جبکہ ان کی خواہش تھی کہ ملتِ اسلامیہ متحد ہوکر مقابلہ کرے‘‘۔
کراچی میں چند روزہ بیماری کے بعد آپ نے بھی آنکھیں موندلیں اور اہلِ خانہ کے ساتھ اپنے سیکڑوں شاگردوں کو بھی سوگوار کرگئے، مگر علمی، ادبی حلقے ہمیشہ آپ کی تحاریر و تقاریر سے مستفید ہوتے رہیں گے۔
الفاظ و صوت و رنگ و تصور کے روپ میں
زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنے کے باوجود
nn

Share this: