او آئی سی میں نئی زندگی کے آثار؟

Print Friendly, PDF & Email

اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کا نائیجر کے دارالحکومت نیامے میں ہونے والا 47واں اجلاس نتائج اور کارکردگی کے لحاظ سے ماضیِ قریب کے چند اجلاسوں سے نسبتاً حوصلہ افزا ثابت ہوا۔ ماضیِ قریب کے اجلاسوں میں یوں لگ رہا تھا کہ او آئی سی ایک، یا کئی ملکوں کی ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی بن کر رہ جائے گی جسے کشمیر اور فلسطین جیسے مسائل سے اب کوئی سروکار نہیں۔ بھارت کے حوالے سے او آئی سی کی پالیسی نے اس تنظیم کے وجود کے آگے سوالیہ نشان کھڑے کردئیے تھے، یہاں تک کہ ہم خیال مسلمان ملکوں نے کوالالمپور میں ایک ایسا اجلاس منعقد کرنے کی کوشش کی تھی جسے او آئی سے کے متوازی پلیٹ فارم کے قیام کی ریہرسل کہا جانے لگا تھا۔ پاکستان نے عین وقت پر کوالالمپور کانفرنس سے باہر رہ کر او آئی سی کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ گزشتہ برس پانچ اگست کو بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر کے اسٹیٹس کی تبدیلی پر او آئی سی کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ اگر بات خاموشی تک ہی رہتی تو گوارا تھا، حد یہ ہوئی کہ او آئی سی نے اس فیصلے پر لب کشائی سے بھی گریز کیا۔ اس سے چند ماہ پہلے ابوظہبی میں منعقد ہونے والے 46ویں اجلاس میں تاریخ میں پہلی بار بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا، جس پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ یہ جہاں ایک طرف او آئی سی میں گھسنے کی بھارت کی مضبوط کوشش تھی، وہیں اس کا مقصد پاکستان کو چڑانا اور ردعمل اور مایوسی کا شکار بنانا بھی تھا۔ او آئی سی میں بھارت کی داخل ہونے کی کوشش کی کامیابی کے بعد اس کمزور پلیٹ فارم کا پاکستان اور بھارت کی مستقل آویزش کا ایک اور مرکز بن جانا یقینی تھا، جس کا منطقی نتیجہ او آئی سی میں دھڑے بندی اور رفتہ رفتہ اس کی غیر فعالیت کی صورت میں برآمد ہونا تھا۔ اس موقع پر او آئی سی کے چند ہی مسلمان ممالک تھے جنہوں نے بھارت کے پانچ اگست کے فیصلے پر کڑی تنقید کی تھی، اور یہی وہ ممالک تھے جنہوں نے او آئی سی سے مایوس ہوکر کوالالمپور میں جمع ہونے کی کوشش کی تھی۔ پاکستان نے او آئی سی وزرائے خارجہ کا اجلاس بلاکر کشمیر کے اسٹیٹس کی تبدیلی کے بھارتی فیصلے پر واضح لائن لینے کے لیے دبائو بڑھانا شروع کیا مگر او آئی سی کی انتظامیہ نے پاکستان کی ان درخواستوںکو قابلِ اعتنا نہیں سمجھا۔ جس کے بعد یہ سارا لاوہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ایک بیان سے پھٹ پڑا، اور انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر او آئی سی نے وزرائے خارجہ کا اجلاس نہ بلایا تو پاکستان ہم خیال ملکوں کا الگ اجلاس بلائے گا۔ پاکستان کی اس دھمکی کو پورے سیاق وسباق کے ساتھ سمجھا گیا اور اس کے بعد پسِ پردہ سفارت کاری شروع ہوئی جس کا مقصد پاکستان کا غصہ کم کرنے کی کوشش تھی۔ پاکستان کی معیشت اگر عرب ملکوں کے تعاون سے کھڑی ہے تو عرب ملکوں کے دفاع میں پاکستان کا کردار ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اس لیے یہ تعاون یک طرفہ اور مفت کا نہیں بلکہ اس میں لو اور دوکا کاروباری اصول بھی کہیں نہ کہیں کارفرما ہے۔ او آئی سی کی اس خاموشی کو نریندر مودی نے پانچ اگست کے اقدام کی تائید قرار دیا، اور کشمیریوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ دنیا میں ان کا مونس وغم خوار سوائے پاکستان کے کوئی مسلمان ملک نہیں، اور پاکستان میں اب کشمیریوں کی حمایت کا دم خم باقی نہیں رہا۔ اس تاثر کو رجب طیب اردوان اور مہاتیر محمد جیسے مدبر مسلمان راہنمائوں نے اپنے کردارِ عمل اور فیصلوں سے رد کرکے کشمیریوں کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان ان کی حمایت میں تنہا نہیں کھڑا بلکہ مسلمان دنیا کے کئی مؤثر ملک بھی اس کے ہم آواز اور ہم رکاب ہیں۔ مودی کے پھیلائے گئے اس غلط تاثر کے خراب ہونے کا غصہ ان ملکوں کے ساتھ معاشی تعلقات میں کمی کی صورت میں سامنے آیا۔ ترکی اور ملائشیا کو پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کی معاشی قیمت بھی چکانا پڑی۔
اب نائیجر اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور کشمیریوں کے ایک وفد نے صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان کی قیادت میں شرکت کی۔کشمیریوںکے وفد میں حریت راہنما غلام محمد صفی اور فیض نقشبندی شامل تھے۔ شاہ محمود قریشی نے کھل کر کشمیر کے حالات بیان کیے اور پاکستان کی طرف سے پیش کی گئی قراردادوں میں بھارت کی طرف سے اُٹھائے گئے قدم کی مذمت بھی کئی گئی۔ اس اقدام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توہین قرار دیا گیا۔ یہ قراردادیں متفقہ طور پر منظور ہوئیں۔ پاکستان کو آئندہ تین سال کے لیے او آئی سی کی 6 رکنی ایگزیکٹو کونسل کا رکن بھی منتخب کیا گیا۔ یہ فیصلہ بھی ہوا کہ او آئی سی وزرائے خارجہ کا اگلا اجلاس پاکستان میں منعقد ہوگا۔
یہ ساری صورتِ حال بھارت کی طرف سے کیے جانے والے پروپیگنڈے کی نفی ہے۔ نائیجر اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے او آئی سی میں زندگی کے آثار بھی پیدا ہوئے، اور اس کے مستقبل کے حوالے سے شکوک اور غیر یقنی کے بادل بھی چھٹ گئے۔
او آئی سی 56 ملکوں کا ایک ڈھیلا ڈھالا اتحاد ہے۔ یہ مسلمان اکثریتی ملکوں کی تنظیم ہے، جس کا مقصد اپنی آبادیوں کی فلاح وبہبود اور مسلمانوں کو درپیش سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ اس اتحاد کے موجودہ ڈھانچے سے کسی انقلابی فیصلے کی توقع عبث ہے، مگر اتحاد کے قیام اور وجود کا جواز باقی رہے یہ بھی غنیمت ہے۔ یہ ڈھیلا ڈھالا اتحاد بھی ختم ہوگیا تو مسلمانوں کے پاس جمع ہونے کے لیے کوئی پلیٹ فارم باقی نہیں رہے گا۔ دوبارہ اتحاد بنانے کے لیے نئے سرے سے جو محنت اور اتفاقِ رائے درکار ہے اسے موجودہ ماحول میں دوبارہ پیدا کرنا قطعی ناممکن ہے۔ اس لیے مسلمانوں کا یہ پلیٹ فارم جیسا بھی ہے اسے برقرار رہنا چاہیے۔ فی الحال یہ بھی کافی ہے کہ سارک تنظیم کی طرح او آئی سی کو ہائی جیک کرنے کی بھارتی کوشش ناکامی سے دوچار ہوچکی ہے۔ بھارت مسلمان آبادی کا سب سے بڑا خطہ ہونے کی بنیاد پر او آئی سی کے خیمے میں سر دینے کا پرانا خواہش مند ہے۔ یہ خواہش مدتوں سے ایک خواب ہی ہے اور آئندہ بھی اس کو تعبیر ملنے کی امید نہیں۔

اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کا نائیجر کے دارالحکومت نیامے میں ہونے والا 47واں اجلاس نتائج اور کارکردگی کے لحاظ سے ماضیِ قریب کے چند اجلاسوں سے نسبتاً حوصلہ افزا ثابت ہوا۔ ماضیِ قریب کے اجلاسوں میں یوں لگ رہا تھا کہ او آئی سی ایک، یا کئی ملکوں کی ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی بن کر رہ جائے گی جسے کشمیر اور فلسطین جیسے مسائل سے اب کوئی سروکار نہیں۔ بھارت کے حوالے سے او آئی سی کی پالیسی نے اس تنظیم کے وجود کے آگے سوالیہ نشان کھڑے کردئیے تھے، یہاں تک کہ ہم خیال مسلمان ملکوں نے کوالالمپور میں ایک ایسا اجلاس منعقد کرنے کی کوشش کی تھی جسے او آئی سے کے متوازی پلیٹ فارم کے قیام کی ریہرسل کہا جانے لگا تھا۔ پاکستان نے عین وقت پر کوالالمپور کانفرنس سے باہر رہ کر او آئی سی کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ گزشتہ برس پانچ اگست کو بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر کے اسٹیٹس کی تبدیلی پر او آئی سی کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ اگر بات خاموشی تک ہی رہتی تو گوارا تھا، حد یہ ہوئی کہ او آئی سی نے اس فیصلے پر لب کشائی سے بھی گریز کیا۔ اس سے چند ماہ پہلے ابوظہبی میں منعقد ہونے والے 46ویں اجلاس میں تاریخ میں پہلی بار بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا، جس پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ یہ جہاں ایک طرف او آئی سی میں گھسنے کی بھارت کی مضبوط کوشش تھی، وہیں اس کا مقصد پاکستان کو چڑانا اور ردعمل اور مایوسی کا شکار بنانا بھی تھا۔ او آئی سی میں بھارت کی داخل ہونے کی کوشش کی کامیابی کے بعد اس کمزور پلیٹ فارم کا پاکستان اور بھارت کی مستقل آویزش کا ایک اور مرکز بن جانا یقینی تھا، جس کا منطقی نتیجہ او آئی سی میں دھڑے بندی اور رفتہ رفتہ اس کی غیر فعالیت کی صورت میں برآمد ہونا تھا۔ اس موقع پر او آئی سی کے چند ہی مسلمان ممالک تھے جنہوں نے بھارت کے پانچ اگست کے فیصلے پر کڑی تنقید کی تھی، اور یہی وہ ممالک تھے جنہوں نے او آئی سی سے مایوس ہوکر کوالالمپور میں جمع ہونے کی کوشش کی تھی۔ پاکستان نے او آئی سی وزرائے خارجہ کا اجلاس بلاکر کشمیر کے اسٹیٹس کی تبدیلی کے بھارتی فیصلے پر واضح لائن لینے کے لیے دبائو بڑھانا شروع کیا مگر او آئی سی کی انتظامیہ نے پاکستان کی ان درخواستوںکو قابلِ اعتنا نہیں سمجھا۔ جس کے بعد یہ سارا لاوہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ایک بیان سے پھٹ پڑا، اور انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر او آئی سی نے وزرائے خارجہ کا اجلاس نہ بلایا تو پاکستان ہم خیال ملکوں کا الگ اجلاس بلائے گا۔ پاکستان کی اس دھمکی کو پورے سیاق وسباق کے ساتھ سمجھا گیا اور اس کے بعد پسِ پردہ سفارت کاری شروع ہوئی جس کا مقصد پاکستان کا غصہ کم کرنے کی کوشش تھی۔ پاکستان کی معیشت اگر عرب ملکوں کے تعاون سے کھڑی ہے تو عرب ملکوں کے دفاع میں پاکستان کا کردار ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اس لیے یہ تعاون یک طرفہ اور مفت کا نہیں بلکہ اس میں لو اور دوکا کاروباری اصول بھی کہیں نہ کہیں کارفرما ہے۔ او آئی سی کی اس خاموشی کو نریندر مودی نے پانچ اگست کے اقدام کی تائید قرار دیا، اور کشمیریوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ دنیا میں ان کا مونس وغم خوار سوائے پاکستان کے کوئی مسلمان ملک نہیں، اور پاکستان میں اب کشمیریوں کی حمایت کا دم خم باقی نہیں رہا۔ اس تاثر کو رجب طیب اردوان اور مہاتیر محمد جیسے مدبر مسلمان راہنمائوں نے اپنے کردارِ عمل اور فیصلوں سے رد کرکے کشمیریوں کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان ان کی حمایت میں تنہا نہیں کھڑا بلکہ مسلمان دنیا کے کئی مؤثر ملک بھی اس کے ہم آواز اور ہم رکاب ہیں۔ مودی کے پھیلائے گئے اس غلط تاثر کے خراب ہونے کا غصہ ان ملکوں کے ساتھ معاشی تعلقات میں کمی کی صورت میں سامنے آیا۔ ترکی اور ملائشیا کو پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کی معاشی قیمت بھی چکانا پڑی۔
اب نائیجر اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور کشمیریوں کے ایک وفد نے صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان کی قیادت میں شرکت کی۔کشمیریوںکے وفد میں حریت راہنما غلام محمد صفی اور فیض نقشبندی شامل تھے۔ شاہ محمود قریشی نے کھل کر کشمیر کے حالات بیان کیے اور پاکستان کی طرف سے پیش کی گئی قراردادوں میں بھارت کی طرف سے اُٹھائے گئے قدم کی مذمت بھی کئی گئی۔ اس اقدام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توہین قرار دیا گیا۔ یہ قراردادیں متفقہ طور پر منظور ہوئیں۔ پاکستان کو آئندہ تین سال کے لیے او آئی سی کی 6 رکنی ایگزیکٹو کونسل کا رکن بھی منتخب کیا گیا۔ یہ فیصلہ بھی ہوا کہ او آئی سی وزرائے خارجہ کا اگلا اجلاس پاکستان میں منعقد ہوگا۔
یہ ساری صورتِ حال بھارت کی طرف سے کیے جانے والے پروپیگنڈے کی نفی ہے۔ نائیجر اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے او آئی سی میں زندگی کے آثار بھی پیدا ہوئے، اور اس کے مستقبل کے حوالے سے شکوک اور غیر یقنی کے بادل بھی چھٹ گئے۔
او آئی سی 56 ملکوں کا ایک ڈھیلا ڈھالا اتحاد ہے۔ یہ مسلمان اکثریتی ملکوں کی تنظیم ہے، جس کا مقصد اپنی آبادیوں کی فلاح وبہبود اور مسلمانوں کو درپیش سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ اس اتحاد کے موجودہ ڈھانچے سے کسی انقلابی فیصلے کی توقع عبث ہے، مگر اتحاد کے قیام اور وجود کا جواز باقی رہے یہ بھی غنیمت ہے۔ یہ ڈھیلا ڈھالا اتحاد بھی ختم ہوگیا تو مسلمانوں کے پاس جمع ہونے کے لیے کوئی پلیٹ فارم باقی نہیں رہے گا۔ دوبارہ اتحاد بنانے کے لیے نئے سرے سے جو محنت اور اتفاقِ رائے درکار ہے اسے موجودہ ماحول میں دوبارہ پیدا کرنا قطعی ناممکن ہے۔ اس لیے مسلمانوں کا یہ پلیٹ فارم جیسا بھی ہے اسے برقرار رہنا چاہیے۔ فی الحال یہ بھی کافی ہے کہ سارک تنظیم کی طرح او آئی سی کو ہائی جیک کرنے کی بھارتی کوشش ناکامی سے دوچار ہوچکی ہے۔ بھارت مسلمان آبادی کا سب سے بڑا خطہ ہونے کی بنیاد پر او آئی سی کے خیمے میں سر دینے کا پرانا خواہش مند ہے۔ یہ خواہش مدتوں سے ایک خواب ہی ہے اور آئندہ بھی اس کو تعبیر ملنے کی امید نہیں۔

Share this: