کرپشن کی سیاست…خاتمہ کیسے؟

Print Friendly, PDF & Email

معاشرے محض سیاسی یا سماجی تقاریر یا واعظوں سے نہیں بدلتے

کرپشن ایک عالمی مسئلہ ہے۔ ہمارے جیسے معاشرے بھی اس بیماری کی لپیٹ میں ہیں۔ ملک میں احتساب اور شفافیت کے نظام کو یقینی بنانے کے لیے ہر حکومت ہمیشہ بڑے بڑے دعوے کرتی ہے، لیکن عملی طور پر اس مسئلے سے نمٹنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ یہ مسئلہ ہمارے مجموعی ریاستی، سیاسی اور انتظامی نظام سے جڑ گیا ہے۔ بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے قوانین تو موجود ہیں، مگر ان پر مؤثر عمل درآمد میں بڑی رکاوٹ سمجھوتوں کی سیاست ہے۔ خاص طور پر حکمران اور طاقت ور طبقات نے اس مرض سے نمٹنے کے بجائے اسے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔
9 دسمبر کو ’’قومی احتساب بیورو‘‘ ملک بھر میں ’’انسدادِ بدعنوانی کا دن‘‘ منارہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں کرپشن کے خلاف سیاسی و سماجی شعور بیدار کرنا ہے۔ اس وقت قومی احتساب بیورو کی جانب سے کرپشن کے خاتمے کے لیے بڑے شہروں میں مختلف بینر مختلف نعروں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ یعنی عوام کو ترغیب دی جارہی ہے کہ کرپشن سے بچنا چاہیے، اور یہ معاشرتی ناسور کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس مہم کا مقصد نوجوانوں میں یہ پیغام پہنچانا ہے کہ وہ خود کو نہ صرف کرپشن یا بدعنوانی سے دور رکھیں، بلکہ ایسے لوگوں کی بھی حوصلہ شکنی کریں جو کرپشن کی سیاست کا عملی طور پر شکار ہیں۔ اس مہم میں شاعری، اصلاحی ڈرامے، پینٹگز، تقریری مقابلے، پوسٹرز، وال پینٹنگ، سیمینارز، ورکشاپس کا انعقاد اور تعلیمی اداروں کو بنیاد بنانا حکمت عملی کا حصہ ہے۔
قومی احتساب بیورو عمومی طور پر جہاں اپنی تشہیری مہم سے اس مسئلے کو اجاگر کرنے کی کوشش کررہا ہے، وہیں وہ تعلیمی اداروں میں بھی اس فکری بیانیے کے تحت طلبہ و طالبات میں شعور کی آگاہی کے لیے مختلف پروگرام بھی کررہا ہے۔ نئی نسل کو اس اہم اور سنجیدہ مسئلے پر… جو ایک بڑے قومی بحران کو بھی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے… فکری آگاہی دینا اہمیت رکھتا ہے۔ نیب کا یہ نعرہ ہے کہ وہ ’’شفاف پاکستان ‘‘ کا حامی ہے اور عوام نیب کا ساتھ دیں۔ مسئلہ محض نیب کا نہیں، بلکہ یہ ایک قومی ایجنڈا ہے، اور ریاست یا حکومت سمیت معاشرے کی بنیادی ذمہ داری یا ترجیحات شفافیت پر مبنی پاکستان ہی ہونا چاہیے۔
وزیراعظم عمران خان کی سیاست کی بنیاد ہی بدعنوانی کی سیاست کا خاتمہ تھی۔ انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف اسی بیانیے کو بنیاد بناکر مقبولیت حاصل کی اور اقتدار کی سیاست کا حصہ بنے۔ لیکن ان ڈھائی برسوں میں ملک میں کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف شور اور ہنگامہ تو بہت سننے اور دیکھنے کو مل رہا ہے، لیکن اس کا عملی نتیجہ خاصا کمزور نظر آتا ہے۔ سیاسی اور قانونی سقم، اور ترجیحات میں کمزوری یا ادارہ جاتی مسائل کی موجودگی میں بڑے اور طاقت ور لوگوں کے خلاف احتساب کا عمل خاصا کمزور نظر آتا ہے۔ مسئلہ محض سیاست دانوں یا حکمران طبقات تک ہی محدود نہیں، بلکہ مجموعی طور پر تمام اداروں میں ہمیں کرپشن کا پھیلائو دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ایک زمانے میں بدعنوانی کا عمل پسِ پردہ یا چھپ کر ہوتا تھا، اور اس کو کوئی سماجی قبولیت بھی حاصل نہیں تھی، اور نہ ہی ایسے لوگوں کی کوئی پذیرائی یا حمایت کرتا تھا۔ لوگوں میں ڈر اور خوف ہوتا تھا۔ لیکن آج بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کرپشن کو نہ صرف سماجی قبولیت حاصل ہوگئی ہے، بلکہ اس کے مختلف جواز بھی ہمارے پاس موجود ہوتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جب حکمران طبقہ یہاں ادارہ جاتی عمل جان بوجھ کر اور اپنے مخصوص مفادات کے تحت کمزور رکھے گا تو کرپشن کا خاتمہ یا احتساب کا عمل بھی نہ صرف کمزور ہوگا بلکہ یہ ایجنڈا ہی پسِ پشت ڈال کر کرپشن کو فروغ دیا جائے گا۔
قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے خلاف بھی ایک باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے اور یہ بیانیہ پھیلایا جارہا ہے کہ نیب کو ختم کرنا ہی وقت کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں کوئی متبادل ادارہ بنانے میں بھی سیاسی ترجیحات کا فقدان نظر آتا ہے۔ حکمران طبقہ اس ادارے کو مضبوط اور خودمختار بنانے کے بجائے اسے اپنے مخصوص ایجنڈے کے تحت ہی چلانا چاہتا ہے۔ اداروں کی خودمختاری کو حکمران طبقہ اپنے لیے ایک سیاسی خطرے کے طور پر پیش کرتا ہے، اور ان جیسے اداروں کو متنازع بنانا ان کے ایجنڈے کا حصہ ہوتا ہے۔ کوئی بھی ادارہ مکمل نہیں ہوتا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بہتری پیدا کی جانی چاہیے۔ لیکن جب احتساب عدم ترجیحات کا شکار ہو تو پھر اداروں پر ہونے والی تنقید بھی سیاست کا حصہ بن جاتی ہے۔
قومی احتساب بیورو کی جانب سے کرپشن کے خلاف دن منانا اور عوام کو اس کا شعور دینا اچھی بات ہے، مگر اس سے کیا ہم اپنے ریاستی نظام کو منصفانہ اور شفاف بناسکیں گے، اور خوداحتسابی پیدا کرسکیں گے؟ معاشرے محض سیاسی یا سماجی تقاریر یا واعظوں سے نہیں بدلتے، بلکہ اس کے لیے جہاں اصلاحی تقریریں یا وعظ اہمیت رکھتے ہیں، وہیں اصل کام ادارہ جاتی عمل کی مضبوطی، اداروں کی خودمختاری اور شفافیت ہونا چاہیے۔ کیونکہ تبدیلی جہاں سماجی یا سیاسی شعور سے آتی ہے، وہیں تبدیلی کی ایک بڑی بنیاد اپنے نظام میں اداروں کی کلی طور پر خودمختاری اور سیاسی عدم مداخلت ہوتی ہے۔ جب تک ہم ملک میں مربوط، منصفانہ اور بے لاگ سطح پر احتساب کے نظام کو مضبوط نہیں بنائیں گے، کچھ نہیں ہوسکے گا۔ عوام کو عملی طور پر احتساب کا عمل واضح اور شفا ف نظر بھی آنا چاہیے۔ یہی وہ طریقہ کار ہے جس کے تحت ہم احتساب کی سیاسی، سماجی و قانونی ساکھ قائم کرسکیں گے۔
پاکستان کو شفافیت پر مبنی نظام کے لیے ایک مضبوط سیاسی بیانیے یا فکر کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے:
(1) حکمرانوں اور طاقت ور طبقات کی جانب سے ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ کا سامنے آنا۔
(2) اپنی پالیسیوں، قانون سازی اور احتساب کے نظام کو مربوط اور خودمختار بنانا، ان کو آزادانہ بنیادوں پر کام کرنے دینا اور سیاسی مداخلت سے پاک رکھنا، قانونی سقم کا خاتمہ۔
(3) ادارہ جاتی نظام میں اصلاحات اور شفافیت قائم کرنے کا ایک جامع سطح کا منصوبہ یا پروگرام۔
(4) تعلیم و تربیت کے درمیان توازن قائم کرنا اور اپنے تعلیمی اور نصابی نظام میں مؤثرتبدیلی۔
(5) نئی نسل کو کرپشن کے خاتمے میں ایک قومی سفیر کے طور پر استعمال کرنا۔
(6) کرپشن کی سماجی قبولیت کے خاتمے کے لیے مربوط بنیادوں پر سیاسی وسماجی شعور کی آگاہی مہم، جس میں رائے عامہ تشکیل دینے والے افراد اور سول سوسائٹی سے جڑے اداروں کی مؤثر شمولیت کو یقینی بنانا ہوگا۔
کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کا خاتمہ ایک قومی ایجنڈا ہونا چاہیے، اور یہ کام کسی بھی صورت میں سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا۔ اس کے لیے تمام سیاسی، انتظامی، قانونی اداروں سمیت میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا اور سول سوسائٹی کی سطح پر ایک مربوط حکمتِ عملی درکار ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہوگی جب واقعی تمام فریق ثابت کریں کہ وہ شفافیت پر مبنی نظام چاہتے ہیں، اور ایک ایسا نظام لانا چاہتے ہیں جس میں سب جواب دہ بھی ہوں اور نظام کو شفاف بنانا ان کی ترجیحات کا حصہ بھی ہو۔
nn

Share this: