۔’’دی گریٹ ری سیٹ‘‘ کا غلغلہ

Print Friendly, PDF & Email

۔2030ء میں بھی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ خوفزدہ رکھنے کے لیے وائرس سے بچاؤ کا بیانیہ استعمال کیا جارہا ہوگا

ڈھائی تین عشروں سے نئے عالمی نظام کی بات کی جارہی ہے۔ جو کچھ کل تک باتوں میں تھا وہ اب عمل کی دنیا میں بھی دکھائی دے رہا ہے، اور حقیقت تو یہ ہے کہ ایک نئے عالمی نظام کے خدوخال اب واضح ہوچلے ہیں۔ بڑی طاقتوں نے متعدد خطوں کو جنگوں اور خانہ جنگیوں کے ذریعے پامال کرنے کے بعد اب رہی سہی کسر پوری کرنے کے لیے ’’نیو نارمل‘‘ اور ’’دی گریٹ ری سیٹ‘‘ کا غلغلہ بلند کیا ہے۔ امریکہ اور یورپ نے اپنی کم ہوتی ہوئی طاقت سے گھبراکر دنیا بھر میں خرابیاں پیدا کرنے کی راہ ہموار کرنے کی سمت سفر شروع کردیا ہے۔ معاملات کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھانے پر توجہ دی جارہی ہے۔ کمزور ممالک اور خطے شدید افلاس، بے روزگاری اور علمی و فنی ابتری کی حالت میں جی رہے ہیں۔ ترقی یافتہ اور پس ماندہ دنیا کے درمیان فرق کتنا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب ترقی پذیر دنیا بھی بہت پیچھے رہ گئی ہے۔
زیر نظر مضمون میں امریکہ اور یورپ کے ہاتھوں تشکیل کے مراحل سے گزرتی ہوئی ایسی دنیا کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جس پر غور کرکے بہت سے ممالک اب بھی اپنے لیے کوئی بہتر راہ منتخب کرنے کی سمت جاسکتے ہیں۔ پاکستان جیسے پس ماندہ ممالک کے لیے نئی ابھرتی ہوئی دنیا میں امکانات کس حد تک ہوں گے اس کے بارے میں اب تک پورے یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ کہا بھی کیسے جاسکتا ہے؟ اب تک ہم نے خود کو آنے والے دور کے لیے ڈھنگ سے تیار کرنے پر توجہ ہی نہیں دی۔)
……٭……٭……٭……

جنوری کے اواخر میں سوئس شہر ڈیووس میں دی ورلڈ اکنامک فورم کا سالانہ اجلاس بین الاقوامی سیاسی و کاروباری قائدین، ماہرینِ معاشیات اور دیگر ہائی پروفائل شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر لاتا ہے جہاں وہ دنیا کو درپیش مسائل پر غور و فکر اور تبادلۂ خیالات کرتے ہیں۔ اپنے بااثر سی ای او کلاز شوئیب (Klaus Schwab) کے وژن کے تحت کام کرنے والا دی ورلڈ اکنامک فورم نئے گریٹ ری سیٹ کے لیے مرکزی قوتِ متحرکہ ہے، یعنی یہ کہ ہم کس طور جئیں گے، کس طور کام کریں گے اور کس طور معاشرتی تفاعل و تعلقات کے حامل ہوں گے۔
دی گریٹ ری سیٹ کا مقصد ایک ایسے عالمی ماحول کو معرضِ وجود میں لانا ہے جس میں شخصی آزادیوں پر غیر معمولی حد تک قدغن لگائی جائے، دوا سازی اور ہائی ٹیک کے ادارے زیادہ سے زیادہ پروان چڑھیں، آن لائن ادائیگی کا کلچر پنپتا جائے۔ بگ ڈیٹا اداروں (یاہو، گوگل، امیزون وغیرہ) اور خوردہ فروشی کے عالمگیر اداروں کے لیے بھی پنپنے کی زیادہ سے زیادہ گنجائش رکھی جائے گی۔
کورونا وائرس کی روک تھام کے نام پر لگائے جانے والے لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاکر ایک ایسی دنیا معرضِ وجود میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے جسے چوتھے صنعتی انقلاب کا نام دیا جارہا ہے۔ پرانے معاشی نظام کے بیشتر اداروں کو دیوالیہ قرار دے کر ختم کردیا جائے گا، یا پھر انہیں کسی نہ کسی طور بڑے اداروں میں ضم کرکے اجارہ داریاں قائم کی جائیں گی۔ اس کا بنیادی مقصد کورونا وائرس سے پہلے کی معیشت کو بہت حد تک ختم کرنا ہے۔ دنیا بھر میں معیشتوں کی تشکیلِ نو کی جارہی ہے جس میں بیشتر کام مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر کام کرنے والی مشینیں انجام دیا کریں گی۔
دی ورلڈ اکنامک فورم نے پیش گوئی کی ہے کہ 2030ء تک لوگوں کی ملکیت میں کچھ بھی نہ ہوگا مگر اس کے باوجود وہ خوش ہوں گے۔ اس حوالے سے جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک گھر میں ڈرون کے ذریعے کوئی پارسل اتارا جارہا ہے جو یقیناً روبوٹ نے پیک کیا ہوگا۔ ویڈیو کے مطابق جو کچھ پہنچایا کیا گیا ہے اس کی تیاری، پیکیجنگ اور ڈلیوری میں کسی انسان کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اور یہ کہ یہ پیکیج وائرس اور بیکٹیریا فری ہے۔ گویا 2030ء میں بھی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ خوفزدہ رکھنے کے لیے وائرس سے بچاؤ کا بیانیہ استعمال کیا جارہا ہوگا۔
لاک ڈاؤنز اور دیگر پابندیوں کے نتیجے میں معاشی سرگرمیوں کی بساط تو لپٹ جائے گی۔ اس کے نتیجے میں غیر معمولی، بلکہ تباہ کن نوعیت کی بے روزگاری پیدا ہوگی۔ ہوسکتا ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں سے کہا جائے کہ وہ دیوالیہ ہونے کی صورت میں اپنے تمام اثاثے ریاستی مشینری کے حوالے کردیں اور اس کے عوض انہیں بنیادی تنخواہ ادا کرنے کی یقین دہانی کرادی جائے گی، یعنی اتنا دیا جاتا رہے گا کہ وہ جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوسکیں۔ اس بڑی تبدیلی کے لیے خصوصی مالیاتی ادارے قائم کیے جاسکتے ہیں۔ دی ورلڈ اکنامک فورم کہتا ہے کہ لوگوں کو جس چیز کی ضرورت ہوا کرے گی انہیں کرائے پر مل جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں اپنی ملکیت میں کچھ بھی رکھنے کی ضرورت نہیں۔ اور یہ سب کچھ ’’پائیدار صَرف‘‘ اور سیارے یعنی زمین کو بچانے کے نام پر ہوگا۔ چند با اثر شخصیات پر مشتمل اشرافیہ پوری دنیا کے وسائل پر قابض و متصرف ہوگی۔ اس وقت دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو ضرورت سے زیادہ سمجھ لیا گیا ہے اور ان سے روزگار چھینا جارہا ہے۔ ہماری تمام تجارتی اور مالیاتی ڈیلنگز آن لائن ہوں گی، یعنی اچھی طرح مانیٹر کیا جائے گا کہ ہم کیا حاصل کررہے ہیں اور کیا خرچ یا صرف کررہے ہیں۔
جو کچھ انفرادی سطح پر ہوگا وہی کچھ اجتماعی یا ملکی سطح پر بھی ہوگا۔ لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیوں کے باعث جو ممالک شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہوکر معاشی توازن کھو بیٹھیں گے اُن کی ’’مدد‘‘ کی جائے گی۔ یہ مدد اس شرط پر ہوگی کہ نیو لبرل اصلاحات نافذ کی جائیں گی، سرکاری شعبے کی خدمات کا دائرہ چھوٹا کردیا جائے گا۔
20 اپریل کو وال اسٹریٹ جرنل نے ایک خبر شایع کی جس کے مطابق آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے درجنوں پس ماندہ اور ترقی پذیر ممالک نے فوری امداد کی اپیل کی ہے اور بیل آؤٹ پیکیج مانگے ہیں۔ جو کچھ مانگا جارہا ہے اس کی مجموعی مالیت 1200 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ امداد دینے کے عوض بل گیٹس اور اِسی حیثیت کی دیگر شخصیات اور اداروں کو کمزور ممالک کی قومی پالیسیوں پر مزید تصرف حاصل ہوجائے گا اور وہ کھل کر اپنی بات منوا سکیں گے۔

۔٭ شناخت اور مفہوم و مقصدِ حیات

ایک بڑا سوال یہ ہے کہ انفرادی اور سماجی شناخت کا کیا بنے گا؟ کیا انسان کے پورے وجود کو مالِ تجارت میں تبدیل کرنے کے عمل میں انفرادی اور سماجی شناخت کو یکسر مٹادیا جائے گا؟ جو انتہائی مالدار افراد اور ادارے دی گریٹ ری سیٹ کے ایجنڈے پر عمل کررہے ہیں اُن کا دعویٰ ہے کہ وہ فطری ماحول کے ساتھ ساتھ انسانوں کو بھی مکمل طور پر کنٹرول کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے وہ ماحول کو بدلنے کی خاطر جیو انجینئرنگ سے کام لے سکتے ہیں، مثلاً زرعی زمین کی ساخت تبدیل کرنے کا عمل، یا پھر فطرت کی طرف سے عطا کی جانے والی بہت سی اشیاء لیب میں تیار کی جاسکتی ہیں۔
عالمی اشرافیہ یہ سمجھتی ہے کہ وہ تاریخ کے سفر کو ختم کرکے وقت کا پہیہ الٹا گھما سکتی ہے، یعنی یہ کہ دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق چلایا جاسکتا ہے، انسانوں کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ ایک ہوتی ہے خیالوں کی جنت، اور ایک ہوتا ہے خیالوں کا جہنم۔ عالمی اشرافیہ اس دنیا کو ایسے مقام تک پہنچانا چاہتی ہے جہاں اِسے دیکھنے کے تصور سے بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔ دنیا کو اس مقام تک پہنچانے کے لیے ہزاروں سال کے ثقافتی ورثے اور روایات کو بیک جنبشِ قلم ختم کرنا ہوگا۔ ان روایات میں سے بیشتر کا تعلق اشیائے خور و نوش سے ہے، اور یہ کہ ہم فطرت سے اپنا تعلق کس طور استوار رکھتے ہیں۔ ہم ہزاروں سال سے جن اقدار و روایات کی پاس داری کرتے آئے ہیں ان کا تعلق اصلاً اس بات سے ہے کہ ہمارا فطرت سے تعلق کس نوعیت کا ہے۔ اگر فطرت کو زندگی سے نکال دیا جائے تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ بہت سے تہواروں اور مذہی رسوم کا تعلق فطرت سے بہت گہرا ہے۔ سب کچھ زمین اور ماحول سے جُڑا ہوا ہے۔ ہم یہ سب کچھ کسی طور نظرانداز نہیں کرسکتے۔ بہت کچھ ہے جس کا تعلق سورج اور چاند سے ہے، اور دوسرا بہت کچھ ہے جو موسموں سے منسلک ہے۔ یہ سب کچھ ہماری کہنہ و پختہ روایات کا حصہ ہے۔
پروفیسر رابرٹ ڈبلیو نکولز کہتے ہیں کہ انسان اور ماحول کے تعلق کو سمجھنے کے لیے بھارت کو دیکھیے۔ وہاں بیشتر بنیادی اقدار ماحول سے جڑی ہوئی ہیں۔ سبھی کچھ موسم کے مطابق ہے، اور یہ سب کچھ محض دیہی ماحول کا حصہ نہیں بلکہ شہری ماحول بھی لازمی جُز ہے۔
کیمیکلز کی بنیاد پر قائم صنعتی اداروں نے خود کو خدا کا نمائندہ قرار دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔ 1950ء کے عشرے میں یونین کاربائڈ نے اپنے بروشر اور پوسٹر کے ذریعے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ وہ ادارہ نہیں بلکہ خدا کا ہاتھ ہے جو دنیا کے مسائل حل کرنے آیا ہے۔ ایک پوسٹر میں ہاتھ دکھائی دیا جس میں ایگرو کیمیکلز کی مصنوعات ہیں۔ گویا یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی تھی کہ زراعت کے قدرتی طریقے فرسودہ و ناکارہ ہیں۔
جو لوگ دنیا کو بدلنے کے لیے بے تاب ہیں اور اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنا چاہتے ہیں اُن کے ارادوں کے بارے میں لکھنے والوں کی کمی کبھی نہیں رہی۔ پروفیسر گلین اسٹون نے اپنے مقالے ’’نیو ہسٹریز آف دی گرین ریوولیوشن‘‘ میں لکھا ہے کہ بڑے صنعتی اداروں نے بلند بانگ دعوے کیے تھے کہ کیمیائی مواد پر مبنی کھاد اور دیگر اشیا سے زمین کی پیداواری صلاحیت کئی گنا بڑھائی جاسکے گی اور کم رقبے میں غیر معمولی پیداوار حاصل ہوا کرے گی۔ یہ دعوے مجموعی طور پر بے بنیاد ثابت ہوئے۔ زمین کی پیداواری صلاحیت غیر معمولی حد تک بڑھانا تو ممکن نہ ہوسکا، ہاں کیمیائی کھاد اور کیڑے مار ادویہ کے مستقل اسپرے کے نتیجے میں ماحول، معاشرے اور معیشت کو طویل المیعاد نقصان ضرور پہنچا۔ اسی حوالے سے وندنا شِوا کی کتاب ’’دی وایولنس آف دی گرین ریوولیوشن‘‘ اور بھاسکر ساوے کے ’’اوپن لیٹر ٹو انڈین آفیشلز‘‘ سے بہت کچھ سمجھا اور سیکھا جاسکتا ہے۔
دنیا بھر میں زرعی شعبے کو ہتھیانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بھارت جیسے ملک کو زیادہ مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ آبادی بہت زیادہ ہونے کے باعث وہ بڑے عالمی کیمیائی اداروں کی طرف سے بڑھائے جانے والے دباؤ کا سامنا مشکل ہی سے کرپائے گا۔ بھارت اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے کروڑوں کسانوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ وہ اب تک اس حالت میں نہیں کہ اپنے تمام فیصلے خود کرسکیں۔ قرضے لے کر فصلیں اگانے والے کسان خراب موسمی حالات کے باعث فصلیں تلف ہونے سے قرضوں تلے دبے رہتے ہیں۔ بھارت میں یہ مسئلہ بہت سنگین ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے زرعی صنعتی ادارے کھاد اور بیج کے معاملے میں اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جینیاتی تبدیلی والے بیج متعارف کراکے یہ ادارے اپنے لیے زیادہ سے زیادہ فوائد یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب مجبور کسان اپنی زمینیں گروی رکھ کر بیج، کھاد اور کیڑے مار دوائیں حاصل کرپائیں گے۔ اور یوں پس ماندہ و ترقی پذیر ممالک کے زرعی شعبے سرمایہ داروں کی نذر ہوجائیں گے۔

Share this: