قائداعظم کا نظریۂ پاکستان

Print Friendly, PDF & Email

قائداعظم کو سیکولرلیڈر اور پاکستان کوسیکولر ملک بنائے جانے کا پروپیگنڈا دراصل بھارت کے ’ہندوتوا‘ اورپاکستان دشمنوں کی ایک دیرینہ چال ہے

یہ حقیقت ہر پاکستانی فرد کے پیش ِ نظر رہنی چاہیے، چاہے وہ پاکستان میں آباد ہو یا کبھی یہاں یا جنوبی ایشیاکے کسی خطے کا باشندہ رہا ہو، اور اب دنیا کے کسی بھی مغربی یا مشرقی ملک میں جابسا ہو کہ پاکستان ان کے لیے ایسا ملک ہے جو مغربی استعمار سے آزادی کے نتیجے میں استوار ہونے والی تحریک کے نتیجے میں قائم ہوا ہے، جو بظاہر چند دہائیوں میں سرگرم رہ کر حصول ِ پاکستان کے مقصد میں کامیاب ہوئی ہے۔ لیکن یہ تحریک صرف چند دہائیوں کا کامیاب نتیجہ نہ تھی، بلکہ یہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی ہزارسالہ جدوجہد کا ثمر ہے جن میں یہ احساس ابتدا ہی سے موجود رہا ہے کہ وہ یہاں کی آبادی کی اکثریت، یعنی ہندوئوں کے مقابلے میں ہر اعتبار سے قطعی طور پر ایک علیحدہ قوم ہیں۔ یہ دو قومی نظریہ اپنا ایک طویل تاریخی پس منظر رکھتا ہے کہ جب اس سرزمین پر پہلا مسلمان وارد ہوا تو اس نے اپنے آپ کو یہاں کی ہر قوم کے فرد سے بالکل علیحدہ محسوس کیا۔ چناں چہ قائداعظم محمد علی جناح نے ایک بار کھلے لفظوں میں کہا تھا کہ ’’جب ہندوستان کا پہلا فرد مسلمان ہوا تو وہ اپنی قوم کا فرد نہ رہا، وہ ایک دوسری قوم کا فرد بن گیا‘‘۔ پاکستان کا قیام دراصل مسلمانوں کی اس طویل ہزار سالہ جدوجہد کا نتیجہ ہے، جس کے تحت مسلمان ہندوستان میں یہاں کی ہندو اکثریت یا ’ہندوتوا‘کے مقابلے میں ہر زمانے میں اپنی جداگانہ ہستی کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان کی اس انفرادیت کو مٹانے اور انھیں اپنے اندر ضم کرنے کی غرض سے ہندوئوں نے ’ہندوتوا‘ کے نام پر ان پر مختلف محاذوں سے حملہ کیا۔
مسلمانوں نے اس صورتِ حال کا ہر موقع پر پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔ ان کے لیے یہ مسئلہ نوآبادیاتی عہد میں زیادہ شدید صورت اختیار کر گیا تھا، کہ انگریز مسلمانوں سے ان کا اقتدار چھیننے کے بعد یہاں کی اکثریت یا ہندوؤں کو اپنا بنانے کے لیے یہ ضروری سمجھتے تھے کہ مسلمان اپنے زوال کی انتہا تک پہنچ جائیں۔ چناں چہ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ ہندوستان میں اسلام ایک مقتدر قوت نہ بن سکے۔ مسلمانوں کے سامنے ہندوئوں اور انگریزوں کے مشترکہ مقاصد پوری طرح نمایاں تھے۔ وہ محض ہندوستان میں بسنے والی ایک قوم کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنے قومی وجود کو زندہ رکھنا چاہتے تھے۔ اس خیال کے تحت انھوں نے اولاً1857ء کی جنگِ آزادی میں بھرپور حصہ لیا، اور پھر انگریز مخالف دیگر مختلف وقتی تحریکوں میں شرکت کی، اور پھر مارچ 1940ء میں قراردادِ پاکستان پیش کیے جانے تک، بلکہ مارچ 1949ئء میں قراردادِ مقاصد کے متفقہ طور پر منظور ہونے تک، ایک ہی رویہ اور ایک ہی نظریہ مختلف صورتوں اور مختلف تحریکوں میں کارفرما رہا۔ لیکن جنوبی ایشیاکے مسلمانوں کے لیے صرف ایک آزاد اسلامی مملکت کا حصول ہی حتمی اور آخری مقصد نہیں تھا، بلکہ اس کا حصول اس سرزمین پر ایک اسلامی معاشرے کے قیام، شریعتِ اسلامی کے نفاذ اور عدل و انصاف کی ترویج کا ذریعہ تھا۔ پاکستان کی بنیادیں واضح اور ٹھوس نظریاتی اساس پر رکھی گئی تھیں۔ قراردادِ پاکستان سے ان بنیادوں کی نشان دہی ہوتی تھی۔ لیکن قیام ِ پاکستان کے بعد پاکستان کی قومی سیاسیات کو بالکل ابتدا ہی میں بڑے دشوار حالات کا سامنا تھا۔ اس لیے قوم کے دردمند طبقے نے نظریۂ پاکستان اور عام قومی احساسات سے ہم آہنگ آئین مرتب کرنے کے لیے فوری طور پر، قیام پاکستان کے صرف تین ہفتوں بعد ہی، ایک نئی دستور ساز اسمبلی تشکیل دی، جس نے اپنا فریضہ انجام دینا شروع کردیا۔ اس دوران ملک کے اندرونی مسائل اور بیرونی خطرات نے قومی جذبات کو مسلسل مضطرب اور منتشر رکھا، اور اس دوران قوم کو قائداعظم کی رحلت کے شدید اور المناک سانحے سے بھی دوچار ہونا پڑا۔ چناں چہ آئین سازی کا فریضہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خان (1895ء۔1951ء) کے ذمے آیا، جو قراردادِ پاکستان اور قراردادِ مقاصد کی روح کے مطابق تھا۔
لیکن ’ہندوتوا‘ کے نظریے سے ہمیشہ سرشار بھارت کو یہ سب کچھ پسند نہ تھا، اور اس کے ہمنوائوں، اس سے فیض یافتہ اور سوشلزم کے نام لیواؤں نے قراردادِ مقاصد، قائداعظم اور دیگر اکابر کے نظریات کو تسلیم نہ کرنا اور ان کی غلط تعبیر کرنا اپنا مقصد بناکر قیام پاکستان کی بنیادوں کو رد کرنا اپنا شعار بنالیا اور مخالفت میں طرح طرح کی تاویلیں گھڑنی شروع کردیں۔ بحالتِ مجبوری اور بادلِ ناخواستہ اُنہوں نے پاکستان کے قیام کو قبول تو کیا لیکن کبھی برداشت نہ کیا۔ چناں چہ روزِ اوّل سے ان سب کی کوشش اس کی مخالفت میں صرف ہورہی ہے۔ ان سب کے پسِ پشت دراصل بھارت ہی ہے جس نے تمام اخلاقی اور بین الاقوامی اصولوں کو نظرانداز کیا۔ کشمیر پر اس کا قبضہ، اور اس قبضے کے لیے کشمیر یا پاکستان پر حملہ، پاکستان کے خلاف اس کا اوّلین قدم تھا۔ پھر سیاسی ریشہ دوانیوں، بیرونی اثرات اور خاموش دراندازی کے ذریعے اس نے سندھ طاس معاہدے کے جال میں پھنساکر پاکستان کو معاشی طور پر کھوکھلا کرنے کی کوششوں میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کرلی، اور اس کی خاموش دراندازی نے یہاں وہ صورتِ حال پیدا کردی کہ مشرقی پاکستان الگ ہوجائے، اور اب کراچی سے بلوچستان کی آخری شمال مغربی سرحدوں اور گوادر تک کا علاقہ پاکستان سے الگ ہوجائے، کہ جس کے بعد نہ پنجاب آزاد و خودمختار رہ سکتا ہے نہ صوبۂ خیبر پختون خوا۔ یہاں کی ہر بدامنی کے پیچھے اصل ہاتھ بھارت کا تلاش کیا جاسکتا ہے جو یہاں اپنے پیدا کردہ گماشتوںکے ذریعے ویسی ہی کامیابیاں حاصل کررہا ہے جیسی کامیابی اسے مشرقی پاکستان میں میسر آئی تھی۔
پاکستان کو ایک اسلامی مملکت کے قیام کے تصور اور مقصد سے مختلف سمجھنا اور خصوصاً قائداعظم کو سیکولر نظریات کا حامل سمجھنا محتاط سے محتاط لفظوں میں شدید غلط فہمی، کم علمی یا ارادۃً ہندو سیاسی نظریات کی پیروی کا عمل ہے۔ ایسے افراد کو ان دستاویزات کو بغور پڑھ لینا چاہیے اور اس ضمن میں اگر کہیں قائداعظم کے تعلق سے ایسے بیانات نقل ہوئے ہوں جن میں اُن کے سیکولر خیالات کا اظہار ہوتا ہو، یا اُن کی جانب سے پاکستان کو ایک سیکولر مملکت بنائے جانے کا ارادہ ظاہر ہوتا ہو تو ان بیانات کو ان کے سیاق و سباق میں رکھ کر اور ان کی پوری جدوجہد اور ان کے مجموعی افکارکی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ اس ضمن میں مذکورہ دستاویزات نایاب یا کمیاب نہیں، بآسانی دستیاب ہوجاتی ہیں۔ یہی صورت قائداعظم کے خیالات اور بیانات کی بھی ہے، جو ان کی تقاریر، بیانات اور فرمودات کے مجموعوں میں دستیاب ہیں، جن کے متعدد مستند نسخے یا ایڈیشن موجود ہیں۔ چوں کہ ان مجموعوں میں قائداعظم کے متعلقہ بیانات و خیالات مکمل طور پر یکجا صورت میں کسی ایک عنوان کے تحت مرتب نہیں ہیں، اس لیے یہ مناسب ہوگا کہ محض نمونۃً یہاں چند ایسے اقتباسات پیش کردیے جائیں جن سے قائداعظم کے وہ خیالات سامنے آئیں جن سے ان غلط بیانیوں کی تردید ہوسکے جو اس سلسلے میں الزام کی صورت میں قائداعظم سے منسوب کی جاتی ہیں۔ نظریۂ پاکستان کو سمجھنے اور متعین کرنے کے لیے قائداعظم کے یہ خیالات بنیادی مآخذ میں شمار ہوسکتے ہیں۔ درج ذیل تمام خیالات، قائداعظم کی تقاریر و بیانات کے مستند ترین مجموعے: Speeches and writings of Mr. Muhammad Ali Jinnah. مرتبہ: جمیل الدین احمد، جلد اوّل، لاہور، 1960ء، سے ماخوذ ہیں۔
بقول قائد اعظم:۔
’’ہمارے لیے بس ایک ہی راستہ ہے، اور وہ یہ کہ ہم اپنی قوم کو منظم کریں۔ یہ اُس وقت ہوسکتا ہے کہ جب ہم طاقت ور ہوں اور اپنی قوم کی مدد کریں۔ نہ صرف استقلال و آزادی کے لیے، بلکہ اس کو برقرار رکھنے کے لیے اور اسلامی تصورات اور اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے۔ پاکستان کا مقصد صرف آزادی و خودمختاری ہی نہیں، بلکہ اسلامی نظریہ ہے، جو ایک بیش قیمت عطیے اور خزانے کی حیثیت میں ہم تک پہنچا ہے…‘‘ (ص366۔ 367)۔
………
’’مسلمان پاکستان کا مطالبہ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اپنے ضابطۂ حیات، اپنی روایات اور اسلامی قوانین کے مطابق حکومت کر سکیں۔ ہمارا مذہب، ہمارا کلچر اور ہماریٍٍ اسلامی نظریات ہی وہ محرکات ہیں جو ہمیں خودمختاری حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھاتے ہیں۔‘‘ (ص 437۔ 442)۔
………
’’آل انڈیا مسلم لیگ کا مطالبہ ہے کہ ہندوستان کے اُن علاقوں میں جہاں مسلمان تعداد کے لحاظ سے اکثریت میں ہیں، ایسی مملکت قائم کریں جہاں وہ اسلامی شریعت کے تحت حکومت کر سکیں۔‘‘(ص 405)۔
ان کے علاوہ:۔
’’ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ آزادی، اخوت اورمساوات کے اس تصور کو بروئے کار لائیں جو اسلام نے پپش کیا ہے۔‘‘ (ص28)۔
………
’’میرا یہ ایمان ہے کہ ہماری نجات اس میں مضمر ہے کہ ہم ان بیش بہا اصولوں کی پیروی کریں جو ہمارے عظیم المرتبت قانون دہندہ پیغمبرِ اسلام نے ہمارے لیے واضح کردیے ہیں۔ آئیے ہم اپنی مملکت کی اساس سچے اسلامی تصورات اور اصولوں پر قائم کریں۔‘‘ (ص89)۔
………
’’میں ان لوگوں کو نہیں سمجھ سکا ہوں جو جان بوجھ کر فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہیں اور پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ پاکستان کا دستور شریعت کے مطابق نہیں بنایا جائے گا۔ اسلامی اصول بے مثال ہیں۔ یہ اصول آج بھی زندگی میں اسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح چودہ سو سال پہلے تھے۔‘‘(Quaid-e-Azam Speeches,،مرتبہ پبلی کیشن ڈویژن، کراچی۔ص 12)۔
ان واضح الفاظ میں وہ سب کچھ موجود ہے جو قیام پاکستان اور اس کے ایک اسلامی مملکت قرار دیے جانے کے بارے میں کسی بھی قسم کی مخالفت کا جواب دینے کے لیے کافی ہے۔ لیکن ایک ایسی منظم کوشش کو جو مصلحتاً اور ارادۃً نظریۂ پاکستان کی غلط تعبیرو تشریح پر مبنی ہے، پاکستان کے ان حالات میں، جب باہمی اتحاد و اتفاق خطرے کی حدود میں داخل ہوچکا ہے اور ملک مزید تقسیم در تقسیم کے مرحلے تک پہنچ چکا ہے، انتہائی تشویش ناک ہے۔ افسوس کہ ہمارے متعلقہ قومی ادارے ایسی منظم تدابیر اختیار کرنے سے قاصر رہے ہیں جو اس منفی صورتِ حال اور ایسے ناروا پروپیگنڈے کا مؤثر اور مناسب تدارک کرسکیں۔ چناں چہ نظریۂ پاکستان کی تعبیر و تشریح کی اب تک جو مناسب کوششیں ہوئی ہیں وہ بہت سرسری اور تشنہ ہیں، یا غیر معیاری اور غیر صحت مند محرکات و عوامل کی نشان دہی کرتی ہیں۔

Share this: