تعلیم اور ہم

Akhbar Nama اخبار نامہ
Akhbar Nama اخبار نامہ
Print Friendly, PDF & Email

(1) تعلیم:۔ ملک میں بہت سے لوگ تعلیم کے گرو بن بیٹھے ہیں۔ ہر روز نئی ایجاد، نئی منفرد یونیورسٹی کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں پڑھانے والے ہارورڈ، اسٹینفورڈ، آکسفورڈ اور کیمبرج سے بہترین پڑھانے والوں کے استادوں کے بھی استاد ہیں جبکہ بین الاقوامی اچھی یونیورسٹیوں کی فہرست میں ہماری یونیورسٹیوں کی پوزیشن اُن کے دعووں کا پول کھول دیتی ہے اور ہمارے تعلیمی نظام کا اسٹینڈرڈ صفر کے برابر ہے۔ اساتذہ کی کارکردگی بہت خراب ہے اور جو چند اعلیٰ کارکردگی والے اور باہر سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے آئے ہیں اُن کو نظرانداز کردیا جاتا ہے، ٹی وی پر تعلیم کے معیار کی ڈینگیں ماری جاتی ہیں۔ پچھلے دنوں کراچی میں مشہور امریکی فلاسفر اور سائنس دان نے صاف صاف کہا ہے کہ پاکستان سے سائنس ناپید ہوگئی ہے۔ روز ٹی وی پر ڈینگیں مارنے والوں اور اخباروں میں آسمان پر تیر مارنے والوں کے لیے یہ باعثِ شرم ہے، یہ لوگ ملک کو تباہ کررہے ہیں۔
اس پروپیگنڈے کے مقابلے میں ذرا ہندوستان کا تعلیمی معیار دیکھیے۔ ہندوستان میں پہلا وزیراعظم نہرو کیمبرج کا تعلیم یافتہ تھا، اُس نے بھارت بنتے ہی مولانا ابوالکلام کو وزیر تعلیم بنا دیا۔ اُس کو مولانا ابوالکلام کی صلاحیتوں کا علم تھا، جنہوں نے تعلیم کے معیار کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ ہندوستان میں Indian Institute of Technology (IIT) بنائے گئے جو پوری دنیا میں اعلیٰ تعلیمی ادارے مانے جاتے ہیں، اور اُن کے تعلیم یافتہ باہر کی یونیورسٹیوں میں ترجیحی بنیادوں پر لیے جاتے ہیں۔ جبکہ ہمارے یہاں جو پیپر شائع کیا جاتا ہے اُس کی صداقت پر سوالیہ نشان ہوتا ہے۔ اتنے بڑے ملک میں اگر چند اچھے ذی فہم لوگ ہیں تو اُنہیں اہمیت نہیں دی جاتی۔ میں نے GIKI بنایا تھا اور وہ ایشیا میں فوراً ہی نویں نمبر پر تھا، آج بین الاقوامی سطح پر اُس کو کوئی نہیں جانتا۔ کراچی یونیورسٹی میں کیمسٹری کا ادارہ HEJانسٹی ٹیوٹ اچھا معیاری ادارہ ہے مگر اُسے دنیا کی اعلیٰ ترین، ناقابلِ مثال، 15 یونیورسٹیاں بناتے بناتے ایک معمولی سا پولی ٹیکنک بنادیا گیا۔
(2)ہمارے یہاں اعلیٰ نظام مملکت کے دعویدار گرو پچھلے دس سال سے نظام مملکت ٹھیک کررہے ہیں اور دعوے بھی کررہے ہیں، مگرملک کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، رشوت ستانی، کاموں میں بلاضرورت تاخیر… یہ سب چیزیں عوام پر عیاں ہیں۔ کوئی بھی چیز صحیح نہیں چل رہی۔ پچھلی حکومتیں خراب تھیں، یہ مزید خراب ہے۔ ایک مجمع مشیروں کا ہے جن کو سوائے پروپیگنڈے کے اور کوئی کام نہیں ہے۔ بڑی تنخواہیں، مراعات اور دورے جاری ہیں۔ کہیں بھی بہتری نظر نہیں آرہی بلکہ ہر جگہ بدتری ہی نظر آرہی ہے، اور پھر ہم ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں۔ بتلائیں کیا وہاں معصوم بچوں کے ساتھ جسمانی زیادتی کی جاتی تھی؟ کیا عورتوں کی زبردستی عصمت دری کی جاتی تھی؟ کیا فقیر بھوکے فٹ پاتھ پر سوتے تھے؟ کیا کوئی بے روزگار تھا؟ کیا بدانتظامی اور رشوت خوری تھی؟ نہیں! بالکل نہیں۔ وہاں زکوٰۃ لینے والا نہیں ملتا تھا۔ اِن خود ساختہ ماہرین کے بجائے خود مولانا شبلی کی کتاب عمرفاروقؓ پڑھ لو۔کسی پر ذمّہ داری نہ ڈالو۔
(3)خارجہ پالیسی کا مقابلہ ہندوستان سے کرکے دیکھ لو۔ اُس نے مشرق وسطیٰ میں اپنی دھاک بٹھا دی۔ مندر کھول کر حکمرانوں کو بٹھاکر پوجا کروائی۔ کشمیر کے معاملے میں دنیا کے ایک ملک سے نہ سفارتی تعلقات توڑے، نہ تجارت ختم کی، اور نہ کھلی تنقید کی۔ ہندوستان G-20، OIC اور شنگھائی معاہدے کا ممبر ہے، پوری دنیا میں اُس کی سنی جاتی ہے۔ اس نے چند محکمے ہماری سرکوبی کے لیے اور دہشت گردی کے لیے بنائے ہیں۔ خدا کا خوف کرو، اللہ کے ہاں جھوٹ اور الزام بازی پر بہت سخت پکڑ ہوگی۔ بغیر جرم ثابت ہوئے لوگوں کو جیل میں ڈالنا، یہ کون سا انصاف ہے؟
(4)پاکستانی سرزمین پر تقریباً روز ہی غریب کشمیری، پاکستانی فوج کے جوان شہید ہورہے ہیں۔ یہ کیسی خارجہ پالیسی ہے اور کیسی حکمت عملی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جنگوں کے سوا ان 70سال میں کبھی ہم نے ایسی قتل و غارت گری اپنے جوانوں اور شہریوں کی نہیں دیکھی۔
(5)بے روزگاری عروج پر ہے، 800کے قریب Ph.Dبے روزگار ہیں، ان میں سے اکثریت غیرملکوں سے تعلیم یافتہ ہے۔ اس پسماندہ ملک میں یہ پڑھے لکھے لوگوں کا حال ہے۔ اب باہر سے پڑھ کر کون واپس آئے گا؟ لوکل اَن پڑھ لوگ ان کی جگہ کام کریں گے اور حال وہی ہوگا جو ہوچکا ہے، اور کسر پوری ہورہی ہے۔ یہاں کردار کے نہیں گفتار کے غازی ہیں۔
(6)قدرت نے ملک کو لاتعداد قیمتی وسائل سے نوازا ہے۔ پانی کی افراط ہے (جو نااہلی سے ہم ہر سال سمندر میں پھینک دیتے ہیں)۔ یہ ایک زرعی ملک ہے، انگریز نے اعلیٰ نہری نظام اور ریلوے سسٹم چھوڑا مگر یہاں آٹے، چینی، گھی، دودھ سے زیادہ ٹماٹر، پیاز اور ادرک مہنگے ہیں۔ جن کے پاس حرام کا پیسہ ہے وہ دس گنا اور مہنگی چیزیں خرید سکتے ہیں، مگر متوسط طبقہ اب پیاز سے روٹی کھانے کا بھی متحمل نہیں ہوسکتا۔ ٹیکس چوری کرنے والے مال دار لوگ عیاشی کررہے ہیں۔ چینی، آٹا اسمگل کرنے والے مزے کررہے ہیں۔
(7)آپ کو علم ہے کہ حضرت عمرؓ کی سلطنت کا رقبہ پاکستان سے آٹھ گنا زیادہ تھا۔ سندھ، کاشغر، آرمینیا تک ان کی حکومت تھی۔ نہ فون تھے، نہ ہوائی جہاز، نہ کاریں، نہ ٹرین، نہ ای میل… مگر مجال ہے کہ کہیں ایک شخص بھوکا رہ جائے، کسی جانور پر ظلم ہو، کسی عورت کی عصمت دری ہو، کسی بچے کو اغوا کیا جائے، کوئی گورنر، افسر ایک درہم خردبرد کرسکے۔ یہی حال حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور میں تھا۔ رمضان سے پہلے جب بیت المال کے خزانے کھول دیے گئے اور زکوٰۃ بانٹنے کا حکم دیا گیا تو نہ صرف عربی ممالک بلکہ افریقی ممالک میں بھی کوئی زکوٰۃ قبول کرنے والا نہیں ملا۔ یہاں ریاست مدینہ میں لوگ بھوکے، بے روزگار مررہے ہیں۔ اسپتالوں میں دوا نہیں ہے۔ معالج خود مریض بن کر فوت ہورہے ہیں مگر سیاست داں اور حکمراں صحت مند ہیں اور مزے کررہے ہیں۔
(8)ایسا لگتا ہے کہ لوگوں (حکمرانوں، اصحابِ اقتدار) کے دلوں سے خوفِ خدا نکل گیا ہے۔
۔(ڈاکٹر عبدالقدیر خان۔ روزنامہ جنگ،22دسمبر 2020ء)۔

سقوط ڈھاکہ: یحییٰ خان پر مقدمہ کیوں نہیں چلایا گیا؟

اکیس دسمبر 1971 کا وہ دن مجھے بخوبی یاد ہے جب ملک کے دو لخت ہونے اور بنگلا دیش کی جنگ میں فوج کی شکست پر پورے ملک میں عوام کے غم و غصہ اور مظاہروں کے نتیجے میں صدر یحییٰ خان کو استعفا دے کر اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔ یحییٰ خان فوج کے پہلے سربراہ نہیں تھے جنہیں استعفا دینا پڑا۔ ان سے پہلے 1969 میں جنرل ایوب خان کو اقتدار سے سبک دوش ہونا پڑا تھا۔ لیکن ایوب خان اور یحییٰ خان کی اقتدار سے علاحدگی میں فرق تھا۔ ایوب خان پر براہ راست ملک کو دو لخت کرنے یا جنگ ہارنے کا الزام نہیں تھا جب کہ یحییٰ خان پر نہ صرف ملک کو دو لخت کرنے بلکہ جنگ ہارنے کا بھی الزام تھا اور ان کے استعفے پر اصغر خان نے یحییٰ خان پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن ان پر کسی نے مقدمہ نہیں چلایا۔ وجہ اس کی ذوالفقار علی بھٹو نے لندن میں 1973 کی ایک طویل ملاقات میں بتائی تھی۔ میں نے بھٹو صاحب سے پوچھا تھا کہ لوگ یہ نہیں سمجھ سکے کہ آپ نے ملک کو دو لخت کرنے والے بڑے مجرم جنرل یحییٰ خان پر غداری کا مقدمہ کیوں نہیں چلایا؟ کہنے لگے کہ یہ لکھنے کی بات نہیں، اس بارے میں امریکیوں کا شدید دباؤ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یحییٰ خان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ میں نے پوچھا وہ کیوں؟ کہنے لگے کیوں کہ امریکیوں کی رائے میں یحییٰ خان نے چین کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں بے حد اہم رول ادا کیا تھا اور وہ ان کے بے حد ممنون احسان ہیں۔ ایک بڑی وجہ اس بات کا بھی بھٹو صاحب کو خوف تھا کہ اگر یحییٰ خان کے خلاف مقدمہ چلا تو وہ بھی اس میں گھسیٹے جائیں گے اور انہیں اپنے رول کے بارے میں جواب دینا پڑے گا۔ ایک اور وجہ یہ تھی کہ بھٹو صاحب کے ذہن پر فوج اور فوجی جرنیلوں کا خوف بری طرح طاری تھا۔
۔(آصف جیلانی،روزنامہ جسارت،کراچی، 22 دسمبر 2020ۓء)۔

Share this: