سردار شیر باز خان مزاری اصول پسند سیاست داں

Print Friendly, PDF & Email

۔1970ء کے عشرے میں پاکستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے والے مشہور سیاست دان سردار شیر باز خان مزاری کے انتقال سے پاکستان ایک بڑے سیاسی رہنما سے محروم ہوگیا۔ وہ پاکستان میں جمہوری روایات، شرافت، دیانت داری، نظریاتی اصولوں اور حق و صداقت کی سیاست کرنے کے حوالے سے سیاست دانوں میں بلند مقام رکھتے تھے۔ ان اصولوں کی خاطر انہوں نے اپنی جدّی پشتی قبائلی سرداری سے کنارہ کشی اختیار کی اور آبائی علاقے روجھان ڈیرہ غازی خان سے مستقل طور پر کراچی منتقل ہوگئے، اور بقیہ پوری زندگی کراچی ہی میں گزار دی۔ انہوں نے سیاست کا آغاز 1960ء کے عشرے سے کیا اور جنرل ایوب خان کے مارشل لا کے خلاف جمہوری جدوجہد کا حصہ بن گئے۔ 1965ء کے صدارتی انتخابات میں ایوب خان کے مقابلے میں قائداعظم کی ہمشیرہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا کھل کر ساتھ دیا اور ڈیرہ غازی خان اور کراچی میں ان کے حق میں زبردست مہم چلائی،جس کے نتیجے میں انہیں مغربی پاکستان میں اور خاص طور پر ڈیرہ غازی خان اور کراچی کے ڈویژنوں میں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی۔ شیرباز خان مزاری کے پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو سے دوستانہ مراسم تھے۔ انہوں نے انہیں پیپلز پارٹی میں شامل کرنے کی بڑی کوشش کی جو اُس وقت ملک کی بڑی مقبول پارٹی بن چکی تھی اور کہا جاتا تھا کہ اگر زیڈ اے بھٹو کسی کھمبے کو بھی پارٹی ٹکٹ دیں تو وہ کامیاب ہوجائے گا۔ اور عملی طور پر ایسا ہی ہوا۔ پیپلز پارٹی کے گم نام اور معمولی کارکنوں نے بڑے بڑے روایتی سیاست دانوں کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔ پارٹی کی اس مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ملک کے بڑے بڑے سیاسی خانوادوں کے نامی گرامی سیاست داں پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے تھے، لیکن سردار شیر باز خان مزاری نے بھٹو کی پیشکش کو قبول نہ کیا اور انہوں نے 1970ء کے انتخابات میں ڈیرہ غازی خان سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا اور پیپلز پارٹی کی مقبولیت کے باوجود اپنے قبیلے میں اپنی شرافت اور عدل گستری کی وجہ سے کامیابی حاصل کی۔ ڈیرہ غازی کے ایک دوسرے حلقے سے ان کے علاوہ جماعت اسلامی کے درویش صفت سائیکل سوار امیر ڈاکٹر نذیر احمد منتخب ہوئے تھے، جن کو قومی اسمبلی میں ان کی حق و صداقت پر مبنی مدلل تقریروں سے پریشان حکمرانوں نے اپنے کرائے کے غنڈوں کے ذریعے شہید کرا دیا تھا۔ سردار شیر باز مزاری کو ان کی شہادت کا بڑا صدمہ تھا، وہ ڈاکٹر نذیر کی ڈیرہ غازی خان میں دینی اور سماجی خدمات کے عینی شاہد اور معترف تھے جس کا ذکر وہ ہمیشہ اپنی تقریروں میں کرتے تھے۔ وہ قومی اسمبلی میں آزاد ارکان کے قائد بھی تھے جن میں دوسروں کے علاوہ کراچی کے مولانا ظفر احمد انصاری بھی تھے جو جماعت اسلامی کی حمایت سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے منتخب ہوئے تھے، وہ تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما اور مسلم لیگ کے اسسٹنٹ سیکریٹری بھی رہ چکے تھے اور پارلیمانی اور قانون سازی کے امور سے بڑی واقفیت رکھتے تھے۔ شیر باز مزاری 1975ء میں قائد حزبِ اختلاف کے منصب پر بھی فائز ہوئے اور اس حیثیت سے قانون سازی اور عوامی مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
پاکستان کے دولخت ہونے کا صدمہ تازہ تھا۔ بھٹو نے ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کررکھا تھا اور ملکی سالمیت کے نام پر سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں جاری تھیں، اُس وقت شیر باز خان مزاری کی استقامت قابلِ دید تھی۔ وہ اپوزیشن کے اتحاد کا اہم ستون تھے۔ سب سے اہم مسئلہ آئین سازی کا تھا جس میں انہوں نے پروفیسر عبدالغفور احمد، شاہ احمد نورانی، مفتی محمود، خان ولی خان اور مولانا ظفر احمد انصاری کی مشاورت کے ساتھ اہم کردار ادا کیا اور اگست 1973ء میں ملک کا دستور بن گیا۔ انہوں نے قادیانیوں کو قومی اسمبلی سے غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
پیپلز پارٹی کے سربراہ اور ملک کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ملک میں اپنی مقبولیت کا بڑا زعم تھا۔ وہ ملک میں بلاشرکت غیرے اقتدار چاہتے تھے۔ ان کا اقتدار پنجاب اور سندھ تک محدود تھا۔ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی مخلوط حکومتیں تھیں۔ بھٹو نے بلوچستان میں مینگل قبیلے کے سردار سردار عطا اللہ مینگل کی حکومت کو عراقی اسلحہ کی برآمدگی اور علیحدگی پسندی کے الزامات لگا کر برطرف کیا تو سرحد میں وزیراعلیٰ مفتی محمود نے بھی احتجاج کے طور پراستعفیٰ دے کر حکومت سے دست بردار ہو گئے۔ نیشنل عوامی پارٹی کو غیر قانونی قرار دیا گیا اور ولی خان سمیت ان کے لیڈروں کو جیلوں میں بند کردیا گیا، اور ان کے خلاف بغاوت کے مقدمات قائم کیے گئے۔ اس موقع پر سردار شیر باز مزاری نے نیشنل عوامی پارٹی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی کی بنیاد رکھی اور اس کے سربراہ بن گئے۔ اس طرح انہوں نے اُس سیاسی خلا کو پُر کیا جو نیشنل عوامی پارٹی کے منظرعام سے ہٹ جانے سے پیدا ہوا تھا۔ بیگم نسیم ولی خان بھی اسی جماعت کی نائب صدر کی حیثیت سے ابھر کر ملک کی اہم اور مقبول رہنما بن گئیں۔ قومی اتحاد کے عام جلسوں کی بڑے پیمانے پر کامیابی کے لیے ان کی موجودگی ضروری سمجھی جاتی تھی۔
سردار مزاری نے بلوچستان کے حقوق کے لیے ہمیشہ آواز بلند کی اور وہاں فوجی ایکشن کی مخالفت کی۔ وہ فوجی آمریت کے ہمیشہ خلاف رہے اور جمہوریت کی بحالی کی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انہیں بھٹو، ضیا الحق اور پرویزمشرف دور میں اعلیٰ عہدوں کی پیشکش بھی کی گئی، لیکن انہوں نے انہیں سختی کے ساتھ مسترد کیا اور اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔ 1970ء کا عشرہ سیاسی عروج و زوال کا دور کہلاتا ہے، اس دور میں پیپلز پارٹی کو بھٹو کی قیادت میں عروج بھی ملا اور یہی عرصہ ان کے زوال کا بھی زمانہ ہے۔ 1977ء کے شروع میں بھٹو اپنی مقبولیت کے زعم میں مبتلا تھے، اس لیے انہوں نے اس موقع سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے قریبی ساتھیوں سے مشورے کے بعد مارچ 1977ء میں وقت سے پہلے عام انتخابات کرانے کا اعلان کردیا۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے قومی اتحاد کی تشکیل کی اور مقابلے کے لیے مشترکہ امیدوار نامزد کیے۔ بھٹو سندھ کے علاوہ تین اور مقامات سے بلامقابلہ کامیاب قرار دیئے گئے۔ لاڑکانہ میں امیر جماعت اسلامی سندھ مولانا جان محمد بھٹو کو کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے سے روکنے کے لیے سرکاری سرپرستی میں باقاعدہ اغوا کیا گیا، جس کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی اور عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ قومی اتحاد نے انتخابات میں بڑے پیمانے پر منظم دھاندلی کے الزامات لگائے اور صوبائی اسمبلی کے ایک ہفتے بعد ہونے والے انتخابات کا بایئکاٹ کردیا۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ پروفیسر غفور اور شیر باز مزاری نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس میں بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے اس دھاندلی کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا، اور وہیں سے یہ دونوں رہنما ایمپریس مارکیٹ صدر پہنچے اور حکومت کی زیادتیوں اور دھاندلی کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے تقریر کی اور خود کو گرفتاری کے لیے پیش کردیا۔ ملک کے اخبارات میں حزبِ اختلاف کی خبروں پر پابندی تھی اور لوگ تحریک کے عروج کے زمانے میں چھوٹے بڑے شہروں کی خبریں ہاتھ سے لکھ کر کھمبوں پر چپکا دیا کرتے تھے۔ اس مظاہرے کی بھی ایک مختصر خبر اخبارات میں شائع ہوئی، جس سے پورے ملک میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مارچ میں شروع ہونے والی یہ تحریک نو جماعتی قومی اتحاد کی قیادت میں ملک کے کونے کونے میں پھیل گئی، پہیہ جام ہڑتالوں کا سلسلہ شدت اختیار کرتا رہا، جس کی وجہ سے حکومت کو اپوزیشن سے بات چیت پر راضی ہونا پڑا۔ حکومت اور قومی اتحاد میں مذاکرات کے کئی دور ہوئے۔ سمجھوتا طے پا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے اپوزیشن کے اتحاد میں اختلافات پیدا ہوگئے اور وہ دو حصوں میں بٹ گئی۔ مفتی محمود، پروفیسر غفور اور دوسرے رہنما سمجھوتے کی کامیابی کے حق میں اور مارشل لا کے خطرے کے خلاف تھے، جب کہ ایئر مارشل اصغر خان، مولانا شاہ احمد نورانی اور سردار شیر باز مزاری بھٹو پر عدم اعتماد کی وجہ سے ان کے وعدوں پر بھروسا کرنے کو تیار نہیں تھے۔ معاہدے پر صرف دستخط ہونا باقی تھے کہ اچانک بھٹو کئی ملکوں کے دورے پر چلے گئے جس سے یہ سمجھا گیا کہ وہ معاہدے پر دستخط کرنے سے کترا رہے ہیں۔ اس سے ایئر مارشل اصغر خان کے خدشات کو تقویت مل رہی تھی، انہوں نے فوج کے سربراہوں کو ایک کھلا خط بھی لکھ دیا تھا کہ وہ ملک کی باگ ڈور سنبھال لیں اور ملک کو خون خرابے سے بچائیں۔ جنرل ضیاالحق نے صورت حال سے فائدہ اٹھایا اور 5 جولائی 1977ء کو مارشل لا نافذ کردیا۔ سردار شیر باز مزاری کو بعد میں احساس ہوا کہ ان سے ایئر مارشل کا ساتھ دینے میں غلطی ہوئی ہے، پھر انہوں نے مارشل لا کی مخالفت کی اوربحالیِ جمہوریت تحریک میں حصہ لیا۔ انہوں نے جنرل پرویزمشرف کی پیشکش سے انکار کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ میں آپ کا ساتھ دے کر دوسری بار ہر گز غلطی نہیں کروں گا۔
سردار شیر باز مزاری کی انتقال کے وقت عمر 90 سال تھی، وہ 6 اکتوبر 1930ء کو روجھان میں پیدا ہوئے۔ وہ سابق وزیراعظم سردار میر بلخ شیر مزاری کے چھوٹے بھائی اور ان سے دو سال چھوٹے تھے۔ وہ تین بہنوں کے دو بھائی تھے۔ شیر باز مزاری کی عمر ایک سال تھی تو والدہ کا، اور دو سال کے تھے کہ والد کا بھی انتقال ہوگیا۔ اُس وقت کی برطانوی حکومت نے دونوں کو اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ ان کو پہلے لاہور کے مشہور ایچی سن کالج میں اور اس کے بعد دیرادون کے ملٹری کالج میں داخل کیا گیا، جہاں صوبہ سرحد کے سابق گورنر جنرل فضل حق، سابق وزیر اطلاعات جنرل نواب زادہ شیر علی خان اور مشہور بگٹی قبیلے کے لیجنڈ سردار محمد اکبر خان بگٹی ان کے ہم جماعت تھے۔ بگٹی بعد میں ان کے برادر نسبتی بنے۔ سردار شیر باز مزاری کو کتب بینی کا بڑا شوق تھا اور ایک لائبریری میں ہر قسم کے موضوعات پر ہزاروں نایاب کتب موجود تھیں۔ وہ اپنے مہمانوں کا استقبال اور مہمان نوازی اسی لائبریری میں کرتے تھے۔ ان کو دنیا کے بڑے لوگوں کی سوانح عمریاں پڑھنے کا اشتیاق رہتا تھا۔ انہوں اپنی زندگی کی سیاسی جدوجہد پر مشتمل انگریزی میں اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتابA journey to disillusionment (مایوسی کا سفر) اسی لائبریری میں لکھی، جسے آکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا تھا۔ انہوں نے اپنے دستخط کے ساتھ یہ کتاب فریئر ہال میں کتاب کی رونمائی کے موقع پر ہمیں دی تھی۔ سردار شیر باز مزاری شرافت اور قدیم روایات کا چلتا پھرتا نمونہ تھے، اور وہ اپنی دوستی اور تعلقات میں بھی ان کا پاس رکھتے تھے۔ ہمارا اُن کے ساتھ رابطہ اور تعلق 1972ء میں اس وقت شروع ہوا جب ہمارا تبادلہ ڈسٹرکٹ ایڈیٹر سے سیاسی رپورٹنگ ڈیسک پر کردیا گیا۔ ہمارے چیف رپورٹر حافظ اسلام تھے جو ملکی سیاسی امور کے رمز شناس تھے اور اُن کے ملک کے سارے سیاست دانوں سے اچھے مراسم تھے۔انہوں نے ہمیں سارے سیاست دانوں سے متعارف کرایا جن میں سردار شیر باز مزاری بھی شامل تھے۔ اس وقت وہ ڈیفنس فیز ٹو میں رہائش پذیر تھے اور ان کا گھر سیاسی سرگرمیوں کا مرکزو محور تھا۔اس کے بعد وہ ڈیفنس بلے وارڈ پر منتقل ہوئے۔ اسی بنگلے میں بقیہ زندگی بسر کی۔ ان کو اور ان کی اردو اسپیکنگ بیگم کو جن کا تعلق حیدرآباد دکن سے تھا، باغبانی کا بڑا شوق تھا، اور کراچی میں باغبانی کی درجہ بندی میں ان کے گھر کو ہمیشہ پہلی پوزیشن ملتی رہی۔ ان کے گھر میں قسم قسم کے پھلوں کے درخت بھی تھے۔ ان سے ہماری دوستی اور قریبی مراسم کا جو سلسلہ 1972ء میں شروع ہوا، وہ 2012ء میں ہمارے امریکہ آنے تک برقرار رہا، اور جب ہم 2012،2013 اور 2016ء میں پاکستان گئے تو بھی ان سے ملاقات ہوتی رہی۔ امریکہ سے بھی ہم ان کی خیریت دریافت کرتے رہے اور ان کے معاون ایوب ہمیشہ ان کی خیریت کی اطلاع دیتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ جگہ دے۔ ان کو پاکستان کی سیاست میں اعلیٰ اصولوں اور اقدار اور اہم سیاسی اور معاشرتی خدمات کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Share this: