بگٹی ہاؤس کا نواب

Print Friendly, PDF & Email

ایک بھیانک حادثہ … پر سکون زندگی میں بھونچال

نواب بگٹی کو رَت جگے کی عادت تھی، اس لیے محفل جمی رہتی جس میں کافی اور چائے کا دور چلتا تھا۔ ایسی ہی ایک محفل جمی ہوئی تھی، رات بھیگتی جارہی تھی۔ ضیاء الدین اور میں نے ان سے رخصت لی اور ہوٹل پہنچ گئے۔ صبح نکاح کی تقریب انٹرکانٹی نینٹل میں تھی جہاں نواب صاحب اپنی فیملی کے ساتھ قیام پذیر تھے۔ صبح عام سا ناشتا کیا، اس کے بعد سوگئے۔ ضیا الدین نے کہا کہ تقریبِ نکاح میں چلتے ہیں۔ میں نے کہا نیند پوری نہیں ہوئی ہے اس لیے ولیمہ کے وقت آجائوں گا۔ جب پہنچا تو نواب کے مہمان باری باری ان کے ساتھ کھڑے ہوکر تصویریں بنوا رہے تھے۔ یہ ایک شاندار محفل تھی۔ بھٹو بھی مدعو تھے لیکن وہ بیرونی دورے پر گئے ہوئے تھے، اُن کی جگہ بیگم نصرت بھٹو موجود تھیں، سندھ اور پنجاب کے گورنر بھی تھے۔ چودھری ظہور الٰہی بھی شریک تھے۔ یہ بڑی خوبصورت اورپُروقار تقریب تھی۔
تقریب اختتام کو پہنچی تو ہم کوئٹہ کے مہمان نواب صاحب کے کمرے میں جمع ہوگئے اور انہیں مبارک باد دی۔ وہ بہت خوش تھے۔ جیسا کہ پچھلی قسط میں لکھا تھا نواب بگٹی اس رشتے پر راضی نہ تھے۔ ان کی بیگم نے دبائو ڈالا تو مان گئے اور طلال کی یہاں شادی ہوگئی۔ چند دن بعد تمام مہمان مع نواب کے خاندان کے، کوئٹہ لوٹ گئے۔ مستقبل میں کیا ہونا ہے اور کیا ہونے والا ہوتا ہے انسان اس سے بے خبر ہوتا ہے۔ ایک ایسے ہی لمحے ایک بھیانک حادثہ ہو گیا جس نے نواب کی پُرسکون زندگی میں ایسا بھونچال پیدا کیا کہ جس سے نواب کے خاندان کا نکلنا مشکل ہوگیا۔ نواب صاحب سے ملنے شام کو جاتا تو بہت دیر تک ان کی محفل میں رہتا تھا۔ اُن دنوں میری شادی نہیں ہوئی تھی اس لیے راتیں اس طرح گزرتی تھیں۔ ایک دن صبح سویرے سابق سینیٹر جمہوری وطن پارٹی خدائے نور نے فون کیا کہ نواب زادہ طلال بگٹی نے اسلام آباد کے ہوٹل میں اپنی بیوی کو قتل کردیا ہے۔ یہ ایک المناک اور خطرناک خبر تھی۔ میں فوراً بگٹی ہائوس پہنچ گیا۔ نواب صاحب اُس وقت بہت زیادہ پریشان اور بے چین تھے۔ ان سے اظہارِ افسوس کیا۔ قریبی لوگ بھی نواب صاحب کے پاس آگئے تھے، جن میں سیف الرحمان مزاری (مرحوم) بھی شامل تھے۔ نواب صاحب اُس وقت شاید کسی کے بے چینی سے منتظر تھے۔ کچھ دیر بعد ایک کار نواب صاحب کے گھر کے قریب آکر رکی۔ نواب کی نظر اسی کار پر تھی۔ اس میں سے نواب زادہ طلال بگٹی اترے۔ نواب انہیں دیکھ کر غصے میں کھڑے ہوگئے اور اپنے قریبی ملازم سے کہا کہ دیکھو یہ طلال ہی ہے؟ پھر کہا کہ اس سے کہو فوراً گھر سے چلا جائے۔ نواب غصے میں بپھرے ہوئے تھے اور گھر کے اندر جانا چاہتے تھے۔ اس وقت سیف الرحمان مزاری اور دیگر قریبی احباب کھڑے ہوگئے اور نواب سے بلوچی میں کہا کہ آپ اندر نہ جائیں۔ نواب نے کہا میں اس کو مار دوں گا، اس سے کہو گھر سے فوراً چلا جائے۔ طلال کی والدہ اور بہن نے اسے نواب صاحب کا پیغام پہنچایا، اور وہ فوراً گھر سے نکل گیا۔ نواب صاحب بیٹھ گئے اور بہت افسوس کررہے تھے، انہوں نے کہا کہ طلال کے سسر اے بی اعوان میرے کلاس فیلو تھے۔ وہ اے بی اعوان کا ذکر بڑے اچھے الفاظ میں کررہے تھے۔ کچھ عرصے بعد طلال بگٹی گرفتار ہوگئے اور انہیں سزائے موت کا حکم ہوا۔ نواب بگٹی ان تمام مراحل کا تجزیہ بھی کرتے تھے۔ ایک دن کہا کہ بھٹو چاہتا ہے کہ میں طلال کے لیے اُس سے معافی کی درخواست کروں۔ بھٹو کو غلط فہمی ہے کہ میں درخواست کروں گا۔ میں یہ ہرگز نہیں کروں گا چاہے بیٹے کو پھانسی دے دی جائے۔ مقدمہ چلتا رہا، بعد میں طلال بگٹی جیل سے رہا ہوگئے۔ لیکن نواب بگٹی نے طلال بگٹی کا داخلہ ڈیرہ بگٹی میں بند کردیا تھا۔ نواب بعض معاملات میں اپنے اصولوں سے انحراف نہیں کرتے تھے۔ طلال بگٹی کا داخلہ کوئٹہ میں بھی بند تھا، لیکن وہ چوری چھپے آجاتے تھے۔ نواب کی ایک بیٹی فوت ہوگئی تو طلال بگٹی نے فون کیا کہ میں اپنی بہن کی تعزیت کے لیے آنا چاہتا ہوں، نواب نے انکار کردیا اور اس سے کہا کہ آپ ڈیرہ بگٹی نہیں آسکتے۔
نواب بہت حد تک بااصول تھے، اس لیے بعض احباب اُن سے ناراض ہی رہتے۔ الیکشن کا مرحلہ تھا، سندھ سے ایک پیر صاحب کے نمائندے الیکشن میں کھڑے ہوگئے تو نواب صاحب کو پیغام بھیجا کہ اس کی حمایت کریں۔ یہ نمائندہ پیر بھرچونڈی کے حمایت یافتہ تھے۔ مغرب کا وقت تھا، وہ نواب بگٹی سے ملنے آیا، سندھی میں بات کررہا تھا۔ نواب صاحب نے کہا کہ اس نشست پر میں نے فلاں شخص کی حمایت کردی ہے، اس لیے پیر صاحب سے میری طرف سے معذرت کردیں۔ اس شخص نے دوبارہ حمایت کے لیے کہا تو نواب صاحب بپھر گئے اور سندھی میں انتہائی سخت جملے کہے۔ وہ خاموش ہوگیا۔ اس لمحے فضا کشیدہ ہوگئی تھی۔ کچھ دیر بعد ماحول خوشگوار ہوگیا اور کھانا لگ گیا۔
1992ء کے انتخابات کے موقع پر قومی اسمبلی کی کوئٹہ چاغی نشست پر نواب صاحب نے نوتیزئی کی حمایت کا اعلان کیا، اُن کا تعلق جمہوری وطن پارٹی سے تھا۔ اس نشست پر سردار فتح محمد حسنی بھی کھڑے ہوگئے تھے۔ وہ ایک دن نواب صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ اگر آپ نے میری حمایت نہیں کی تو محمود خان اچکزئی یہ نشست جیت لے گا اور پشتونستان کے مؤقف کو مضبوطی حاصل ہوجائے گی۔ نواب مرحوم نے بتایا کہ فتتح محمد حسنی نے اپنا دامن پھیلا دیا اور اپیل کہ میری حمایت کریں اور نوتیزئی کو بٹھا دیں۔ نواب بگٹی نے ان سے کہاکہ اگر تمہاری ایک نشست کے جیتنے سے پشتونستان بن سکتا ہے تو بن جائے تمہاری حمایت نہیں کروں گا۔ بلوچستان کی تقسیم اتنی آسان نہیں ہے اور نہ بلوچوں کو اس کا خوف ہے۔ لیکن بعد میں جب محمود خان نے NA-197 کی نشست جیت لی تو بلوچ قوم پرستوں نے نواب کے خلاف مہم چلائی اور انہیں بلوچ دشمن قرار دیا۔ حالانکہ پیپلزپارٹی کا دورِ حکومت تھا، بھٹو وزیراعظم تھے جنہوں نے بلوچستان پر بدترین فوج کشی کی اور بلوچوں نے ایک طویل عرصے کے بعد افغانستان کا رخ کیا۔ یوں بلوچوں کی اکثریت مہاجر بن گئی۔ اس فوج کشی میں چنیوک ہیلی کاپٹر استعمال ہوئے جوشاہ ایران نے بھٹوکو فراہم کیے تھے۔ 1972-73ء کا دور تھا۔ افغانستان ہجرت کرنے والوں میں مری قبیلے کے لوگ بہت زیادہ تھے۔ محمود خان بھی ایک فائرنگ کے نتیجے میں افغانستان چلے گئے تھے۔ یہ سب لوگ جنرل نجیب کے مہمان تھے۔ طالبان نے افغانستان پر قبضہ کر لیا تو یہ سب لوٹ آئے اور طالبان نے جنرل نجیب کو قتل کر کے اس کی لاش کابل کے چوراہے پر لٹکا دی جو کئی دن تک لٹکی رہی۔
(جاری ہے)

Share this: