انسداد غیر قانونی پیوندکاری اجلاس

Print Friendly, PDF & Email

ریڈکاتن بک سے بچائو کے لیے تحقیقی عمل میں تیزی

حکومت ٹیکسٹائل کی صنعت پر توجہ دے کر معیشت بحال کرنے کی کوشش میں ہے، اسی لیے حکومتی ہدایات کی روشنی میں زرعی تحقیق کے اداروں، ماہرینِ زراعت اور زرعی سائنس دانوں نے مستقبل میں کپاس کے لیے خطرہ بننے والے ریڈ کاٹن بگ سے بچائو کے لیے تحقیقی عمل تیز کردیا ہے، اور وائٹ گولڈ کو اس کیڑے کے شدید نقصانات سے بچانے اور اس کے بروقت سدباب کے لیے جدوجہد شروع کردی ہے جس کے جلد مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ محکمہ زراعت کے ترجمان نے بتایاکہ ہمارے زرعی سائنس دانوں اور ماہرین زراعت نے ترقی یافتہ قوموں کے مقابلے میں کم وسائل ہونے کے باوجود بہترین کوششوں کا آغاز کرکے احسن قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں ریڈ کاٹن بگ کے حملے کے بعد اس پر تحقیق کا عمل شروع کیا گیا ہے اور مربوط طریقے اور انسداد کی حکمت عملی اپناکر اس کے تدارک کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق ہمارے زرعی سائنس دان اور ماہرینِ زراعت ریڈکاٹن بگ پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کپاس کی فصل پر تحقیق کو بہت اہمیت دے رہی ہے اور بی ٹی کاٹن کے آنے سے چونکہ فصل پر اسپرے کم کیا جاتا ہے، اس لیے وہ کیڑے جو پہلے کم اہمیت کے حامل تھے اب نقصان دہ کیڑوں میں شامل ہورہے ہیں جن میں ریڈ کاٹن بگ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت زرعی تحقیق کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے تاکہ ملک میں سرسبز زرعی انقلاب لانے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکے۔
فیصل آباد میں بازاروں کو تجاوزات سے پاک کرنے کا فیصلہ ہوا ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد شروع ہوگیا ہے۔ پہلے مرحلے میں اسسٹنٹ کمشنر سٹی سید ایوب بخاری نے تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن کرتے ہوئے منٹگمری بازار میں بھاری مشینری کی مدد سے 50 سے زائد دکانوں کے باہر قائم تجاوزات کو مسمار کرادیا جو سرکاری زمین پرقائم کی گئی تھیں، جن کے مالکان کو اس سے قبل بھی تجاوزات ازخود ختم کرنے کا نوٹس دیا گیا تھا، لیکن عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں کارروائی کی گئی۔
’’ضلع میں انسانی اعضاء کی پیوند کاری کے غیر قانونی فعل کی روک تھام کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں نگرانی کریں تاکہ اس گھنائونے کاروبار میں ملوث عناصر کو شکنجے میں لاکر قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکے‘‘۔ ڈپٹی کمشنر محمد علی نے یہ ہدایت ڈسٹرکٹ ویجیلنس کمیٹی برائے انسدادِ غیر قانونی پیوند کاری انسانی اعضاء کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر IV ڈاکٹر عدنان، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ڈاکٹر آصف حمید سلیمی، انچارج شعبہ نفرالوجی فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر بلال جاوید، ڈاکٹر محمد اکمل ودیگر ڈاکٹر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کڈنی ٹرانسپلانٹ کے حوالے سے متعلقہ قوانین اور شرائط کو یقینی بنایا جائے، اس ضمن میں گردے کے عطیہ کی وصولی کے لیے کسی قسم کی خرید وفروخت یا غیر قانونی فعل کی شکایت سامنے نہیں آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید وسیع کرتے ہوئے گردے کی پیوند کاری کے غیر قانونی فعل کی کھوج لگانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے، اس سلسلے میں ایسے خفیہ مقامات کا سراغ لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پنجاب کی ہدایات پر انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوند کاری کو روکنے کے لیے متعلقہ انتظامی مشینری کو متحرک کررکھا ہے تاکہ انسانی گردوں کی خریدوفروخت کے غیر قانونی فعل کا قلع قمع ہوسکے، گردے کے امراض کے نجی کلینکس کی بھی نگرانی ہونی چاہیے۔ اجلاس کے دوران ارکان نے بعض تجاویز بھی پیش کیں۔

Share this: