سیاسی کشیدگی اور خطے کا منظرنامہ

Print Friendly, PDF & Email

حکومت اور حزب اختلاف عوامی مسائل سے بے پروا

جلد بازی میں اور سوچ بچار کے بغیر فیصلوں کا وہی حشر ہوتا ہے جو حکومت کے خلاف پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک اور سینیٹ کے قبل از وقت انتخابات کے لیے حکومت کے فیصلے کا ہوا ہے۔ الیکشن کمیشن نے آئین کے تابع رہ کر سینیٹ انتخابات کرانے کا فیصلہ سنا دیا ہے، سینیٹ انتخابات اب 11فروری سے 10 مارچ تک کسی بھی وقت ہوسکتے ہیں۔ پی ڈی ایم کے بیانیے میں بھی چھید ہونا شروع ہوگئے ہیں، اس کا پہلا بیانیہ تھا کہ عمران خان کو وزیراعظم نہیں مانتے، ان سے مذاکرات ہوسکتے ہیں اور نہ انہیں اس منصب پر برداشت کیا جاسکتا ہے۔ پھر اچانک نیا اعلامیہ جاری کردیا اور انہیں اس منصب پر مزید ایک ماہ رہنے کی مہلت دے دی کہ 31جنوری تک وزیراعظم مستعفی نہ ہوئے تو یکم فروری 2021ء کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ہوگا اور دھرنا بھی دیا جائے گا۔ پی ڈی ایم اور حکومت دونوں ڈنگ ٹپائو حکمت عملی کے ساتھ چل رہے ہیں، اور اپنے کمزور فیصلوں سے بے نقاب بھی ہورہے ہیں۔ سینیٹ کے انتخابات کی تاریخ اب الیکشن کمیشن دے گا اور یہ انتخابی سرگرمی آئین کے تابع ہوگی۔ حکومت کا خیال تھا کہ سینیٹ الیکشن کے لیے شیڈول جاری کرکے پی ڈی ایم کو لانگ مارچ اور دھرنا مؤخر کرنے پر مجبور کیا جائے۔ سینیٹ انتخابات کے باعث اب یہ بھی ممکن ہے کہ لانگ مارچ کی تاریخ کچھ اور آگے چلی جائے، ہوسکتا ہے حکومت اسے اپنے لیے ریلیف یا کامیابی سمجھے، بہرحال یہ ایک عارضی اور محدود مدت کی ریلیف ہوگی۔ پی ڈی ایم آہستہ آہستہ چلنا چاہتا ہے، لیکن جے یو آئی کے اندر پیدا ہونے والا ارتعاش سیاسی اشتعال کا باعث بھی بن سکتا ہے، اور اس کا ردعمل بھی آسکتا ہے، دونوں صورتوں میں اپوزیشن حکومت مذاکرات کی راہ فی الحال ناہموار رہے گی، ملک میں سیاسی تصادم کی صورت میں جمہوریت کے اپاہج ہوجانے کا خدشہ ہے، یہ مرحلہ آن پہنچا تو ملک میں جمہوریت تاریک راہوں میں ماری جاسکتی ہے، یا سب پرانی تنخواہ پر کام کریں گے۔ جہاں تک سینیٹ انتخابات کا تعلق ہے سینیٹ آئینی ادارہ ہے جس کے نصف ارکان ہر چھے سال کے بعد ریٹائر ہوجاتے ہیں اور ان خالی نشستوں پر نیا انتخاب ہوتا ہے۔ اِس بار سینیٹ کے انتخابات میں فاٹا سے کسی رکن کا انتخاب نہیں ہوگا، یہ علاقے کے پی کے میں شامل ہوچکے ہیں، اب صرف اسلام آباد اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے ارکان اسمبلی سینیٹرز کا انتخاب کریں گے اور یہ معرکہ دلچسپ بھی ہوگا۔ سینیٹ میں چونکہ ووٹ پہلی، دوسری اور تیسری ترجیح کے ساتھ دیا جاتا ہے اس لیے سینیٹ انتخاب میں حیران کن نتائج بھی آسکتے ہیں۔ پہلی ترجیح کا ووٹ تو پارٹی کو مل جاتا ہے، تاہم ووٹ کی زیادہ تر خرید و فروخت دوسری اور تیسری ترجیح کے لیے ہوتی ہے۔ اسی گنجائش کے باعث تحریک انصاف کے بیس کے قریب ایم پی اے خیبرپختون خوا میں ووٹ بیچ کر پارٹی رکنیت سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ لہٰذا پارلیمانی جماعتیں بہت سوچ سمجھ کر سینیٹ انتخابات کے میدان میں اتریں گی۔ سینیٹ کے انتخابات ایک عرصہ ہوا کھیل بنے ہوئے ہیں، اس میں پیسہ خوب چلتا ہے۔ وفاق کی علامت اور وفاقی اکائیوں کا منتخب ادارہ صرف سینیٹ ہے جو محض ایک مجہول ادارہ بن کے رہ گیا ہے، یا پھر موقع پرستوں، خوشامدیوں اور ارب پتیوں کا اجتماع۔ ایک حقیقی اور شراکتی وفاق میں سینیٹ کو بہت ہی طاقتور اور قومی اکائیوں کی منشاء کا پرتو ہونا چاہیے۔ بہت سے انتخابی ماہرین کی رائے میں سینیٹ کے براہِ راست انتخاب کا طریقہ لانے کی ضرورت ہے۔ اگر سینیٹ کو حقیقی اور وفاقی اعتبار سے مقتدر ادارہ بنانا ہے تو اس کا براہِ راست انتخاب ہونا چاہیے، اِس کے لیے بھی ایک بڑی آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حکومت کسی ریفرنس کی شکل میں عدلیہ سے رہنمائی حاصل کرے۔ مگر عدلیہ پارلیمنٹ کے اختیار میں کیوں دخل دے گی؟ اس وقت ملکی سیاست کا بڑا معرکہ سینیٹ کے انتخابات ہی ہیں اور دوسری صف بندی حکومت اور پی ڈی ایم کے مابین ہے۔ حکومت اس ملاکھڑے میں اسی صورت کامیاب ہوسکتی ہے کہ اگر مہنگائی کنٹرول میں رکھی جائے اور شدید سردی میں صارفین کے لیے گیس کی وافر فراہمی ممکن رہے اور آئی ایم ایف کے حکم پر بجلی کے نرخ بڑھانے سے گریز کیا جائے۔ مگر ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔
پیٹرولیم سیکٹر میں غلط حکومتی فیصلوں اور ان فیصلوں میں تاخیر سے قومی خزانے کو پہنچنے والے122ارب روپے کے نقصان کی تحقیقات اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ 2018ء سے 2020ء تک تین سال ایل این جی ٹرمینل کو پورا استعمال نہیں کیا جا سکا جس سے 25ارب روپے ڈوبے۔ فرنس آئل سے بجلی بنانے پر سردیوں میں 30ارب کا نقصان ہوگا۔ 10ارب کا نقصان 2018ء کی سردیوں میں، اور 35ارب کا نقصان گرمیوں میں سستی ایل این جی خریدنے میں تاخیر سے ہوا۔ ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان اگست اور ستمبر میں وقت پر سستی ایل این جی نہ خریدنے کی وجہ سے ہوا۔ یہ سب نقصان اس کے علاوہ ہے جو اس دوران غلط فیصلوں کی وجہ سے کبھی بجلی اور کبھی گیس نہ ہونے کی وجہ سے ملک، عوام اور انڈسٹری کو ہوا۔ یہ ایسے معاملات ہیں جن پر متعلقہ محکموں کو مسلسل نظر رکھنی چاہیے تھی، مگر بیوروکریسی کی سست روی اور اس پر کمزور حکومتی کنٹرول کی وجہ سے یہ معاملات بروقت حل نہیں ہوسکے۔ قومی سطح پر ایسی کمزوریاں بڑے اقدامات کی ضرورت کا احساس دلا رہی ہیں۔ یہاں معاملہ ایسا ہے کہ حکومت، پی ڈی ایم اور اپوزیشن کی دیگر جماعتیں عوام کی نبض پر ہاتھ رکھنے کے بجائے کسی احتجاج اور تحریک کے لیے سازگار ماحول کی منتظر ہیں، کیونکہ فیصلے کی لگام ان کے ہاتھ میں نہیں ہے، بلکہ مصلحت اور سیاسی مجبوریاں آکاس بیل کی طرح انہیں چمٹی ہوئی ہیں۔ فیصلہ سازوں کی حکمت عملی یہی ہے کہ حکومت کے لیے میدان کھلا نہ چھوڑا جائے۔ پی ڈی ایم اور حکومت مخالف ہر سیاسی جماعت کے راستے کے کانٹے صاف نہیں کیے جارہے، اس وقت اولین ترجیح یہ ہے کہ اس خطے میں ہر بڑی قوت اپنے مفادات کا تحفظ چاہتی ہے تو پاکستان کو کیا فیصلہ کرنا چاہیے؟ پاکستان کے لیے سی پیک ایک اہم ایشو ہے، اسے کسی بھی قیمت پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، امریکی چاہتے ہیں کہ یہ منصوبہ امریکی مفادات کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے، اسی لیے امریکہ بھارت کو استعمال کررہا ہے اور افغانستان میں اپنا کلہ مضبوط رکھنا چاہتا ہے۔ جوبائیڈن کی ترجیحات ابھی سامنے آنا باقی ہیں مگر بھارت کی جانب سے پاکستان کو ٹرمپ کے اوول آفس سے رخصت ہوجانے تک شدید خطرات ہیں، اور دہلی کی جانب سے کسی بھی مکروہ منصوبہ بندی پر عمل ہونے کا امکان ہے، اسی لیے جنوری تک ہائی الرٹ رہے گا۔ صورت حال پاکستان کے لیے خطرے کے نشان کی جانب بڑھ رہی ہے، ان خطرات کے مقابلے کے لیے پاکستان نے چین کے ساتھ گرم جوشی دکھائی ہے اور غیر معمولی حد تک ایک دوسرے کے قریب ہوئے ہیں۔ چین کی جانب سے لداخ کا حالیہ واقعہ بھارت پر دبائو ڈالنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ وہ اس خطے میں امریکی ہاتھوں میں کھیلنے کے بجائے امن کے صحن میں کھلے ہوئے پھول مسلنے کی کوشش نہ کرے۔ ان خطرات کے مقابلے کے لیے جس قومی یک جہتی کی ضرورت ہے پارلیمنٹ کی سطح پر اس کے لیے کوئی کوشش نظر نہیں آرہی، ایسی صورت حال میں ہمیشہ حکومت کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے کہ وہ پارلیمنٹ اور قومی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لے، لیکن سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے حکومت سنجیدہ ہی نہیں ہے۔ کوشش ہورہی ہے کہ اس خطے میں امریکیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے ایسی حکمت عملی بنائی جائے کہ اپوزیشن جماعتیں اپنے سیاسی مفاد کے لیے واشنگٹن کی جانب نہ دیکھیں۔ اسی لیے پاکستان افغان امن کے لیے کوشاں ہے۔ امریکہ طالبان معاہدے کے بعد بین الافغان امن مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے بھی پاکستان، افغان حکومت اور تحریکِ طالبان کی قیادت سے مستقل رابطے میں ہے۔ جبکہ دوسری طرف بھارت امن دشمنی میں تمام حدوں کو پھلانگتا چلا جارہا ہے۔ اِس کا ایک بدترین مظاہرہ کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے مبصرین کی گاڑی پر حملے کی شکل میں دیکھا گیا ہے۔ دفتر خارجہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے اِس واقعے کو بجا طور پر اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مبصرین کو نشانہ بنانے کی کوشش کرکے تنازع کشمیر کے حل کی کوششوں کو بھی برملا بھارت کی جانب سے چیلنج کیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کی تیاری کررہا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے بھی بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کے حوالے سے قابلِ اعتماد معلومات کی موجودگی کا دعویٰ کیا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو خطے میں عدم استحکام کی کوششوں سے روکے۔ ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چودھری نے معتبر شواہد کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کے لیے بھارتی تیاریوں کی تصدیق کی ہے۔ اب عالمی برادری کو بہرحال اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ جنوبی ایشیا کی ایٹمی طاقتوں میں تصادم پوری دنیا کے امن کے لیے آخری حد تک خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اسی صورت حال کے پیش نظر یو اے ای گئے تھے جہاں انہوں نے اپنے ہم منصب شیخ عبداللہ بن زید النہیان سے ملاقات کی۔ اماراتی حکام سے شاہ محمود قریشی کی بات چیت نہایت مثبت رہی، اس دورے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یو ای اے نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملے میں اپنا نکتہ نظر پاکستان پر واضح کردیا ہے اور پاکستان کا نکتہ نظر سن لیا ہے، اس سے زیادہ اس دورے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن آرڈی نینس کا اجرا

پمز اسپتال کے ملازمین کا احتجاج،میاں اسلم کا اظہار یکجہتی

تحریک انصاف کے اقتدار میں آجانے کے بعد ادویہ کی قیمتوں میں اب تک دو بار اضافہ ہوچکا ہے۔ ادویہ کی قیمتوں کو ایک حد تک رکھنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی دلیل ہے اور نہ حکمت عملی۔ ابھی حال ہی میں ایک نیا فیصلہ سامنے آیا ہے کہ حکومت نے میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن آرڈی نینس جاری کیا ہے، اس فیصلے کے خلاف اسپتال کے ملازمین سراپا احتجاج ہیں اور پمز اسپتال کے طبی عملے نے کورونا وارڈ میں بھی کام بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ آرڈی نینس کے خلاف پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ملازمین کا احتجاج 24 ویں روز میں داخل ہوچکا ہے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر میاں محمد اسلم ہی شہر کی واحد ایسی سیاسی شخصیت ہیں جو ان کی دل جوئی کے لیے ان کے پاس پہنچے ہیں۔ ہڑتال اور احتجاج سے متعلق گرینڈ ہیلتھ الائنس کے چیئرمین اسفندر یار نے بتایا کہ ایم ٹی آئی آرڈی نینس کی وجہ سے کورونا وارڈ میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹر بہت زیادہ ذہنی دباؤ محسوس کرتے ہیں، اگر حکومت کی طرف سے پمز اسپتال میں اصلاحات کے سلسلے میں جاری کیا گیا آرڈی نینس فوری واپس نہ لیا گیا تو کورونا وارڈ میں کام بند کردیا جائے گا جہاں اس وقت 130 مریض زیر علاج ہیں جن میں سے 20 کی حالت تشویش ناک ہے، ایسے میں اگر ایک بھی مریض جان سے گیا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی، حکومت کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہمیں یہ انتہائی قدم اٹھانے پرمجبور نہ کیا جائے۔ حال ہی میں صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے ایم ٹی آئی آرڈی نینس جاری کیا جس کے تحت پمز کو میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس حکومتی فیصلے کے خلاف اسپتال ملازمین کی طرف سے پچھلے 20روز سے احتجاج کیا جارہا ہے۔ تین ہفتے قبل پمز اسپتال کے عملے میں سے 181 افراد کورونا کا شکار ہوگئے تھے، جس کی بناء پر او پی ڈی بند کردی گئی تھی۔ بڑی تعداد میں اسپتال کے ہیلتھ پروفیشنلز میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد انتظامیہ کی طرف سے خدمات کو محدود کرنے کا اعلان کردیا گیا، اس کے ساتھ ہی پمز اسپتال کی مرکزی او پی ڈی سروس بھی بند کردی گئی۔ اسپتال ترجمان ڈاکٹر وسیم خواجہ کا مؤقف ہے کہ مرکزی او پی ڈی کو بند کرنے کا فیصلہ کورونا کی صورت حال کے باعث کیا گیا، اس دوران اسپتال میں ایمرجنسی کے سوا کوئی سرجری نہیں ہوگی، تاہم کورونا صورت حال میں بہتری آنے پر او پی ڈی سروس کو ایک بار پھر بحال کیا جائے گا، جب کہ بندش کے دوران اسپتال کے شعبہ زچہ بچہ، چلڈرن اسپتال کی او پی ڈیز کھلی رہیں گی اور موجودہ حالات میں پمزکا شعبہ ایمرجنسی بھی فعال رہے گا۔

Share this: