ہندوستان کا ادبی افق ویران ہو گیا

Print Friendly, PDF & Email

شمس الرحمن فاروقی کی رحلت کی خبر سن کر میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ اب ہندوستان کی ادبی دنیا میں کوئی فرد ایسا نہیں ہے جس کی خاطر میں اس ملک کی طرف دیکھوں ۔ میں ان سے دوبار ملا ہوں۔ انہوں نے اردو ادب میں بہت ہی قیمتی خزانہ چھوڑا ہے۔ پہلے پہلے ان کا نام ایک کھلا ذہن رکھنے والے نقاد کے طور پر سامنے آیا، ہم جو حسن عسکری اور سلیم احمد جیسی تنقیدی بصیرت کے قائل تھے۔ ان پر توجہ دینے لگے پھر انہوں نے کچھ کام ایسے کیے جو کسی ایک شخص کے بس میں نہیں ہے۔ مثال کے طور پر کسی شاعر کا اس طرح تجزیہ کرنا جیسا ’’شعر شور انگیز‘‘ میں انہوں نے میر تقی میر کے کلام کا کیا ہے‘ کسی ایک انسان کے بس میں نہیں۔ اس انداز تنقید کی جزیات پر تو ہم جیسے بھی اعتراض کر سکتے ہیں۔ مگر اس کی چاروں جلدیں اگر پڑھنے کی ہمت ہو تو آپ کو حیران کن زاویے کھلتے نظر آئیں گے۔ اتنا مبسوط مطالعہ اس سے پہلے شاید کسی انسان کے بس میں نہیں تھا۔ کسی جن کا بلکہ جنوں کا کارنامہ محسوس ہوتا ہے۔ اس کی خبر مجھے ان کے ایک قول سے ملی جو انہوں نے داستان امیر حمزہ کے بارے میں کہا تھا۔تحسین فراقی اس کے راوی ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی نے ایک دن کہا کہ میرے سوا برصغیر پاک و ہند میں شاید ہی کوئی شخص ہو گا جس نے داستان امیر حمزہ کی 46کی 46جلدیں ‘ ساری کی ساری پڑی ہوں، انہوں نے اردوداستان پر جو لازوال کام 5جلدوں میں کیا وہ اس مغز ماری کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس نقاد نے ایک ناول بھی لکھ مارا۔ اس سے کم سے کم یہ اندازہ ہوا کہ ایک ادب فہم آدمی کی مار کہاں کہاں تک ہے۔ ناول کا نام ہی غور طلب ہے: کئی چاند تھے سرآسماں۔یہ جو میں اکھڑی اکھڑی سی باتیں کر رہا ہوں شاید اس لیے کہ شمس الرحمن کسی ایسے سرسری تذکرے کا تقاضا نہیں کرتا۔ میری ان سے پہلی ملاقات سلیم احمد کے مسکن عزیز پر ہوئی تھی۔ سلیم بھائی نے انہیں کھانے پر مدعو کر رکھا تھا۔ ہمیں تو وہاں موجود ہونا ہی تھا۔دوچار گھنٹے کی نشست بھی رہی۔ خوب نوک جھوک۔ دسترخواں پر سلیم بھائی کی آپا(والدہ) کی مرغ مسلم کی ایک خاص ترکیب سے تیار کردہ پلیٹیں دھری تھیں۔شمس الرحمن فاروقی بڑے موڈ میں بولے سلیم بھائی نے بڑے مرغے پال رکھے ہیں۔ ان کا اشارہ اس بحث کی طرف تھاجو کھانے سے پہلے برپا ہوئی تھی۔ قیام الدین صدیقی جو سلیم بھائی کے میرٹھ سے دوست تھے اور مشہور ہاکی اسٹار اصلاح الدین کے چچا تھے‘ جھٹ بولے‘ پالے نہیں ہیں‘ باہر سے آتے ہیں‘ کٹتے یہاں ہیں۔ اس کی داد جیسی شمس الرحمان فاروقی نے دی اس سے پتا چلتاتھا وہ فقرہ لگانا ہی نہیں،سہنا بھی جانتے تھے۔ آخری بار مجلس ترقی ادب کے دفتر میں برادرم تحسین فرا قی نے انہیں مدعو کر رکھا تھا۔ بس چند احباب تھے۔ مہمان اس دن خوب رواں تھے۔ سبھی نے حصہ لیا‘ مگر یوں لگتا تھا وہ ادب کے بارے میں بہت باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ان کا حق تھا، خوب محفل جمی تھی جس میں شہر لاہور کے چند چیدہ چیدہ اہل دانش موجود تھے۔ اب خبر آئی ہے تو میں ان دو ملاقاتوں کے درمیان کے وقفے میں بہت کچھ یاد کر رہا ہوں۔ ان کی کتابیں اتفاقی ہیں‘ انہیں پھر سے دیکھوں۔ ضرور دیکھوں گا‘ مگر ابھی تو میں ان کے غیر معمولی کام کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں۔ ہندوستان کا ادبی افق ویران ہو گیا ہے۔
(سجاد میر ۔”روزنامہ 92“،28دسمبر،2020)

نیپال

نیپال میں اس وقت پارلیمانی‘ وفاقی اور سیکولر جمہوری نظام رائج ہے۔ بادشاہت کے دور میں یعنی 2008ء سے پہلے نیپال سرکاری طور پر ایک ہندو ریاست تھا‘ لیکن بھارت کے مقابلے میں یہاں مذہبی امن اور رواداری زیادہ تھی اور اب بھی ہے۔ بی جے پی نے یہاں ہندو مسلم فساد کروا کے ماحول کو مکدر کرنے کی بڑی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہو سکی۔ نیپال دنیا کا واحد ملک ہے‘ جہاں جمہوری اصولوں اور طریقۂ حکومت پر مبنی کثیر جماعتی نظام ہے اور حکومت کمیونسٹ پارٹی کی ہے۔2017ء کے انتخابات میں نیپال کی 275 اراکین پر مشتمل پارلیمنٹ میں کوئی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکی تھی‘ اس لیے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں یعنی کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یونیفائیڈ مارکسسٹ‘ لیننسٹ) اور نیپالی کمیونسٹ پارٹی (مائو پرست) نے مخلوط حکومت قائم کی۔ اس حکومت کے سربراہ کے پی شرما تھے‘ جو اگلے سال اپریل اور مئی میں نئے انتخابات میں تیسری دفعہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونے کی کوشش کریں گے۔ مسٹر اولی پرانے نیکسلائٹ (Naxalite) ہیں اور 1960ء کی دہائی میں سابق شاہ مہندرا کے استبدادی نظام کے خلاف جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ اس جدوجہد میں انہیں طویل عرصے تک قید و بند کی صعوبتیں بھی سہنا پڑیں۔ بدیا دیوی بھنڈاری‘ نیپال کی پہلی خاتون صدر ہیں اور وزیراعظم اولی کیمونسٹ پارٹی آف نیپال کی پُرانی کارکن اور چیئرپرسن رہ چکی ہیں۔ نیپال چاروں طرف سے خشکی سے گھرا ہوا ملک ہے۔ اس کی سرحدیں بھارت‘ بھوٹان‘ چین اور چین کے علاقے تبت سے ملتی ہیں‘ لیکن بیرونی دنیا سے تجارتی روابط اور آمدورفت کیلئے واحد راستہ اس کے علاقے وادیٔ ترائی کیساتھ ساتھ بھارت سے ملنے والی لمبی سرحد ہے۔ چین کے ساتھ بھی نیپال کے تجارتی تعلقات ہیں‘ لیکن درمیان میں ہمالیہ کے بلند پہاڑی سلسلے ہونے کی وجہ سے یہ تجارت محددو ہے۔ نیپال نہ صرف اپنی بیرونی تجارت کے لیے بھارت کا محتاج ہے بلکہ آمد و رفت آسان ہونے کی وجہ سے نیپال بیشتر اشیائے ضروریات مثلاً آٹا‘ گھی‘ پٹرول‘ ادویات‘ دودھ‘ وغیرہ بھارت سے منگواتا ہے۔
انگریزوں کے زمانے سے ہندوستان کی فوج میں نیپالی گورکھا بھرتی ہوتے آئے ہیں۔ اس وقت بھی بھارت کی فوج میں ایک گورکھا رجمنٹ موجود ہے۔ نیپال کی بیورو کریسی اور کالج و یونیورسٹیوں کے بیشتر اساتذہ بھارت کی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں۔ بھارت کے برعکس نیپال کبھی برطانیہ کی کالونی نہیں رہا؛ تاہم برطانیہ کو نیپال کے خارجہ تعلقات پر مکمل کنٹرول تھا۔ انگریز شمال سے چین کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے نیپال کو ایک بفر سٹیٹ کے طور پر قائم رکھنا چاہتے تھے۔ نہ صرف مذہب اور ثقافت بلکہ سیاست اور سکیورٹی کے شعبوں میں بھی بھارت اور نیپال کے مابین گہرے روابط ہیں۔ نیپال کے سیاست دان بلکہ سیاسی پارٹیوں نے بھی بھارت میں پیدا ہونے والی سیاسی تبدیلیوں سے انسپائریشن حاصل کی ہے۔ ان میں نیپال کی سب سے پُرانی جماعت نیپال کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی بھی شامل ہیں۔1951ء میں رانا خاندان کے موروثی راج کے خلاف نیپال کی عوامی بغاوت میں بھارت براہِ راست اور اہم کردار ادا کر رہا تھا۔ اس بغاوت کی کامیابی کے بعد نیپال میں پارلیمانی جمہوریت کا جو نظام قائم کیا گیا‘ وہ بھی بھارت کی تقلید میں کیا جانے والا اقدام تھا‘ حتیٰ کہ 2008ء میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد نیپال میں جو وفاقی نظام قائم کیا گیا‘ اس کے خدوخال اور ڈھانچے کو قائم کرنے کے لیے بھارت کے تجربے کو سامنے رکھا گیا۔ 1960ء کی دہائی میں جب سابق شاہ مہندرا نے ملک میں پارلیمانی جمہوریت کی بساط لپیٹ کر پنچایت (ایوب خان کے بنیادی جمہوریتوں کے نظام کی طرز پر) نظام قائم کیا اور نیپال میں سیاسی پارٹیوں کو کالعدم قرار دے کر سیاسی کارکنوں کو جیل میں ڈالنا شروع کیا تو نیپال کے سیاسی رہنمائوں نے بھاگ کر بھارت میں پناہ لی تھی۔ اتنی قربتوں‘ روابط اور مماثلتوں کے باوجود نیپال کے اگر تمام ہمسایہ ممالک میں سے کسی کے ساتھ سب سے زیادہ کشیدہ تعلقات ہیں تو وہ بھارت ہی ہے۔ اس کی وجوہات بڑی گہری اور پیچیدہ ہیں‘ لیکن ان میں سب سے نمایاں کچھ عرصے سے چین اور بھارت کے مابین بڑھتی ہوئی مسابقت ہے۔
بھارت نیپال کو اپنا حلقۂ اثر سمجھتا ہے اور اس کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ نیپال میں جو بھی حکومت برسرِ اقتدار آئے اس کا جھکائو چین کی نسبت بھارت کی طرف ہو۔ اس کو یقینی بنانے کے لئے بھارت نے ہمیشہ نیپال کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت کی ہے۔ 2015ء میں بھارت نے نیپال کے ساتھ اپنی سرحد کو بند کر کے ایسا ہی اقدام کیا تھا۔ اس کی وجہ سے نیپال کے عوام بھارت سے سخت برگشتہ ہیں۔ نیپال کے جیو اسٹریٹیجک محلِ وقوع کی روشنی میں بیرونی مداخلت کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بھارت کی بی جے پی حکومت‘ وزیراعظم اولی کی حکومت کے سخت خلاف تھی اس لئے بعض مبصرین کی رائے ہے کہ نیپال کے موجودہ بحران میں بھارت کا ہاتھ ہو سکتا ہے اور اس نے نیپال میں اپنے ہمنوا سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر یہ صورتحال پیدا کی ہے تاکہ کے پی شرما اولی کی جگہ ایسا لیڈر برسرِ اقتدار آئے جو نیپال میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے آگے بند باندھ کر خطے میں بھارت کے مفادات کا تحفظ کرے۔
(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ،روزنامہ دنیا،29دسمبر،2020)

Share this: