کوئلے کی دکان میں وردی داغ دار ضرور ہوگی

Print Friendly, PDF & Email

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا جلسے سے خطاب

جماعت اسلامی پاکستان نے رابطہ عوام مہم کے دوسرے مرحلے کا آغاز کردیا ہے سینیٹر سراج الحق نے یہاں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا، جس میں انہوں نے جماعت اسلامی کی سیاسی حکمت عملی اور قومی ایشوز پر اپنا نکتہ نظر بیان کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو یوٹرن کی نہیں، رائٹ ٹرن کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی آئے گی تو ملک کے لیے رائٹ ٹرن ہو گا عمران خان کو مشورہ دیا کہ وہ تربیت کے لیے کسی پرائمری اسکول میں داخلہ لیں اور ملک کا بیڑہ غرق نہ کریں تحریک انصاف نے 950دنوں میں مسلسل یوٹرن لے کر ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم بھی اس سٹیٹس کو کا حصہ ہے، ان کے جلسوں میں آج تک اسلامی نظام کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت نہ کرے اور سیاست دان بھی اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں بیانات نہ دیں، آپ نے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی جلسے منعقد ہوں گے۔ گوجرانوالہ جلسے سے سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم، نائب امیر لیاقت بلوچ، امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، صدر جے آئی یوتھ زبیر گوندل، امیر جماعت اسلامی گوجرانوالہ مظہر اقبال رندھاوا نے بھی خطاب کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ظالم جاگیرداروں اور اشرافیہ نے ملک کے ہر ادارے کو تباہ کر دیاہے۔ انگریزوں کے جانے کے بعد ملک پر مسلط اشرافیہ نے ان کی غلامی کا حق ادا کر دیا اور عوام کا خون نچوڑنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ حکمرانوں نے اداروں کو تباہ کیا اور پاکستان کی حالت اس طرح کی ہے کہ یہاں عدالتوں میں انصاف نہیں، اسمبلی میں قانون سازی نہیں، ہسپتالوں میں صحت کی سہولیات میسر نہیں اور اسکولوں میں تعلیم نہیں۔ پاکستان کے لیے کروڑوں مسلمانوں نے اپنا گھر بار چھوڑا اور قربانیاں دیں لیکن قائداعظم محمد علی جناح کے تصور کے مطابق آج تک وہ پاکستان نہیں بنا۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے رہی سہی اداروں کی ساکھ کو بھی برباد کر دیا اور نااہلوں کی ایک فوج عوام پر مسلط کر دی ہے۔ 50سے زیادہ وزرا اور مشیر اس وقت وزیراعظم کے اردگرد بیٹھتے ہیں دعوے سے کہتا ہوں کہ انھیں خود آدھے سے زیادہ وزرا کے نام معلوم نہیں ہوں گے۔ وزیراعظم قانون کی بالادستی کی بات کرتے تھے اپنا گھر غیر قانونی طریقے سے ریگولرئزڈ کروا دیا لیکن غریبوں کی جھونپڑوں پر بلڈوزر پھیر دیا۔ حکومت کو خبردار کرتے ہیں کہ آئندہ کسی سرکاری کارندے نے غریب کی جھونپڑی گرائی تو اسے نشان عبرت بنا دیں گے، پاکستان میں انصاف کی بالادستی اور اسلامی انقلاب کے لیے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔ جماعت اسلامی نے پی ڈی ایم سے اس لیے دور رہنے کا فیصلہ کیا کہ یہ بھی اسی اشرافیہ کا حصہ ہے جو آج ملک پر مسلط ہے۔ پی ڈی ایم کے جلسوں میں آج تک اسلامی نظام کے لیے بات نہیں ہوئی۔ مسلم لیگ ن پاکستان پیپلز پارٹی کو ماضی میں اسٹیبلشمنٹ نے ملک پر مسلط کیا، اب پی ٹی آئی کے ذریعے ملک کے تمام شعبوں کی تباہ و بربادی ہو رہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی دونوں ہی بند گلی میں ہیں اور دونوں کو عوام خوب پہچان چکے ہیں۔سینیٹر سراج الحق نے اس موقع پر اسٹیبلشمنٹ کو مشورہ دیا کہ اگروہ چاہتے ہیں کہ سیاست دان اس کے بارے میں بات نہ کریں تو اسے بھی سیاست میں مداخلت بندکرنی ہو گی وردی پہن کر کوئلوں کی دکان میں بیٹھیں گے تو وردی داغدار ضرور ہو گی بہتر ہو گا کہ ہر ادارہ اپنا کام کرے۔ انھوں نے سیاست دانوں کوبھی کہا کہ وہ آپس میں مل بیٹھ کر اداروں میں بہتری لانے اور الیکشن ریفارمز لانے پر بات چیت کا آغاز کریں۔ جماعت اسلامی کو موقع دیا تو ملک میں اسلامی نظام نافذہو گا۔ انصاف کا بول بالا ہو گا، تعلیم اور صحت سب کے لیے ہو گی، اشیا خورونوش اور زرعی اجناس کھاد اور ادویات پر سبسڈی دیں گے۔ جماعت اسلامی معیشت کو سود سے پاک کرے گی اور ملک کو صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنائے گی۔

Share this: