ہماری اخلاقی صورتِ حال

Print Friendly, PDF & Email

ہم دیکھ رہے ہیں کہ پوری پوری قومیں بہت بڑے پیمانے پر ان بدترین اخلاقی صفات کا مظاہرہ کررہی ہیں جن کو ہمیشہ سے انسانیت کے ضمیر نے انتہائی نفرت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ بے انصافی، بے رحمی، ظلم و ستم، جھوٹ، دغا، فریب، مکر، بدعہدی، خیانت، بے شرمی، نفس پرستی، استحصال بالجبر اور ایسے ہی دوسرے جرائم محض انفرادی جرائم نہیں رہے ہیں، بلکہ قومی اخلاق کی حیثیت سے ظاہر ہورہے ہیں۔ دنیا کی بڑی بڑی قومیں اجتماعی حیثیت سے وہ سب کچھ کررہی ہیں جس کا ارتکاب کرنے والے افراد ابھی تک ان کے ہاں جیلوں میں ٹھونسے جاتے ہیں۔ ہر قوم نے چھانٹ چھانٹ کر اپنے بڑے سے بڑے مجرموں کو اپنا لیڈر اور سربراہ کار بنایا ہے، اور ان کی قیادت میں بدمعاشی کی کوئی مکروہ سے مکروہ قسم ایسی نہیں رہ گئی جس کا وہ کھلم کھلا نہایت بے حیائی کے ساتھ وسیع پیمانے پر ارتکاب نہ کررہی ہوں۔ ہر قوم دوسری قوم کے خلاف جھوٹے دعوے تصنیف کر کرکے علانیہ نشر کررہی ہے اور ریڈیو کے ذریعے سے ان جھوٹوں نے فضائے اثیر تک کو گندہ کردیا ہے۔ پورے پورے ملکوں اور براعظموں کی آبادیاں لٹیروں اور ڈاکوؤں میں تبدیل ہوگئی ہیں، اور ہر ڈاکو عین اُس وقت جب کہ وہ خود ڈاکہ مار رہا ہوتا ہے، نہایت بے شرمی کے ساتھ اپنی گناہ کاریوں کا شکوہ کرتا ہے، جن سے داغدار ہونے میں اس کا اپنا دامن بھی اپنے حریف سے کچھ کم سیاہ نہیں ہوتا۔ انصاف کے معنی ان ظالموں کے نزدیک صرف اپنی قوم کے ساتھ انصاف کے رہ گئے ہیں، حق جوکچھ ہے ان کے لیے ہے۔ دوسروں کے حقوق پر دست درازی ان کے اخلاقی قانون میں جائز بلکہ کارِ ثواب ہے۔ قریب قریب تمام قوموں کا حال یہ ہوچکا ہے کہ ان کے ہاں لینے کے پیمانے اور ہیں اور دینے کے اور۔ جتنے معیار وہ اپنے مفاد کے لیے قائم کرتی ہیں، دوسروں کا مفاد سامنے آتے ہی وہ سب معیار بدل جاتے ہیں، اور جن معیاروں کا وہ دوسروں سے مطالبہ کرتی ہیں ان کی پابندی خود کرنا حرام سمجھتی ہیں۔ بدعہدی کا مرض اس حد کو پہنچ چکا ہے کہ اب ایک قوم کو دوسری قوم پر کوئی اعتماد باقی نہیں رہا۔ بڑی بڑی قوموں کے نمائندے نہایت مہذب صورتیں لیے ہوئے جب بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کررہے ہوتے ہیں، اُس وقت ان کے دلوں میں یہ خبیث نیت چھپی ہوتی ہے کہ پہلا موقع ملتے ہی اس مقدس بکرے کو قومی مفاد کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھائیں گے۔ اور جب ایک قوم کا صدر یا وزیراعظم اس قربانی کے لیے چھری تیز کرتا ہے تو پوری قوم میں سے ایک آواز بھی اس بداخلاقی کے خلاف نہیں اٹھتی، بلکہ ملک کی پوری آبادی اس جرم میں شریک ہوجاتی ہے۔ مکاری کا حال یہ ہے کہ بڑے بڑے پاکیزہ اخلاقی اصولوں کی گفتگو کی جاتی ہے، صرف اس لیے کہ دنیا کو بے وقوف بناکر اپنے مفاد کی خدمت اس سے لی جائے اور سادہ لوح انسانوں کو یقین دلایا جائے کہ تم سے جان و مال کی قربانی کا مطالبہ جو ہم کررہے ہیں یہ اپنے لیے نہیں۔ بلکہ ہم بے غرض، نیکوں کے نیک لوگ یہ ساری تکلیفیں محض انسانیت کی بھلائی کے لیے برداشت کررہے ہیں۔ سنگدلی و بے رحمی اس مرتبہ کمال تک پہنچی ہے کہ ایک ملک، جب دوسرے ملک پر حملہ آور ہوتا ہے تو اس کی آبادی کو روندنے اور کچلنے میں محض اسٹیم رولر کی سی بے حسی ہی اس سے ظاہر نہیں ہوتی بلکہ وہ نہایت مزے لے لے کر دنیا کو اپنے ان کارناموں کی اطلاع دیتا ہے۔ گویا اسے معلوم ہے کہ اب دنیا انسانوں سے نہیں بلکہ بھیڑیوں سے آباد ہے۔ خودغرضانہ شقاوت اس انتہا کو پہنچ چکی ہے کہ ایک قوم دوسری قوم کو اپنے مفاد کے لیے مسخر کرنے کے بعد صرف یہی نہیں کہ بے دردی کے ساتھ اسے لوٹتی کھسوٹتی ہے بلکہ نہایت منظم طریقے سے پیہم کوشش کرتی رہتی ہے کہ انسانیت کے تمام شریفانہ خصائل سے اس کو خالی کردے، اور وہ تمام کینہ اوصاف اس کے اندر پرورش کرے جنہیں وہ خود نہایت گھناؤنا سمجھتی ہے۔
یہ چند نمایاں ترین اخلاقی خرابیاں میں نے محض نمونے کے طور پر بیان کی ہیں، ورنہ تفصیل کے ساتھ اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ پوری انسانیت کا جسم اخلاقی حیثیت سے سڑگیا ہے۔ پہلے قحبہ خانے اور قمار بازی کے اڈے اخلاقی پستی کے سب سے بڑے پھوڑے سمجھے جاتے تھے، لیکن اب تو ہم جدھر دیکھتے ہیں انسانی تمدن پورا کا پورا ہی پھوڑا نظر آتا ہے۔ قوموں کی پارلیمنٹس اور اسمبلیاں، حکومتوں کے سیکریٹریٹ اور وزارت خانے، عدالتوں کے ایوان اور وکالت خانے، پریس اور نشرگاہیں، یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے، بینک اور صنعتی و تجارتی کاروبار کے مجامع، سب کے سب پھوڑے ہی پھوڑے ہیں جو کسی تیز نشتر کا مطالبہ کررہے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ علم جو انسانیت کا عزیز ترین جوہر ہے آج اس کا ہر شعبہ انسانیت کی تباہی کے لیے استعمال ہورہا ہے۔ طاقت اور زندگی کے تمام وسائل جو قدرت نے انسان کے لیے مہیا کیے تھے فساد اور خرابی کے کاموں میں ضائع کیے جارہے ہیں۔ اور وہ صفات بھی، جو انسان کی بہترین اخلاقی صفات سمجھی جاتی تھیں، مثلاً شجاعت، ایثار، قربانی، فیاضی، صبر، تحمل، اولوالعزمی، بلند حوصلگی وغیرہ، آج ان کو بھی چند بڑی بنیادی بداخلاقیوں کا خادم بناکر رکھ دیا گیا ہے۔
ظاہر ہے کہ اجتماعی خرابیاں اُس وقت ابھر کر نمایاں ہوتی ہیں جب انفرادی خرابیاں پایہ تکمیل کو پہنچ چکی ہوتی ہیں۔ آپ اس بات کا تصور نہیں کرسکتے کہ کسی سوسائٹی کے بیشتر افراد نیک کردار ہوں اور وہ سوسائٹی بحیثیتِ مجموعی بدکرداری کا مظاہرہ کرے۔ یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں ہے کہ نیک کردار لوگ اپنی قیادت اور نمائندگی اور سربراہ کاری بدکردار لوگوں کے ہاتھ میں دے دیں اور اس بات پر راضی ہوجائیں کہ ان کے قومی، ملکی اور بین الاقوامی معاملات کو غیر اخلاقی اصولوں پر چلایا جائے۔ اس لیے جب وسیع پیمانے پر دنیا کی قومیں ان گھناؤنے اور رذیل اخلاقی اوصاف کا اظہار اپنے اجتماعی اداروں کے ذریعے سے کررہی ہیں تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آج نوع انسانی اپنی تمام علمی و تمدنی ترقیوں کے باوجود ایک شدید اخلاقی تنزل میں مبتلا ہے، اور اس کے بیشتر افراد اس وبا سے متاثر ہوچکے ہیں۔ یہ حالت اگر یونہی ترقی کرتی رہی تو وہ وقت دور نہیں جب انسانیت کسی بہت بڑی تباہی سے دوچار ہوگی اور ایک طویل عہدِ ظلمت اس پر چھا جائے گا۔
اب ہم اگر آنکھیں بند کرکے تباہی کے گڑھے کی طرف سرپٹ جانا نہیں چاہتے تو ہمیں کھوج لگانا چاہیے کہ اس خرابی کا سرچشمہ کہاں ہے جہاں سے یہ طوفان کی طرح امڈی چلی آرہی ہے۔ چونکہ یہ اخلاقی خرابی ہے لہٰذا لامحالہ ہمیں اس کا سراغ ان اخلاقی تصورات ہی میں ملے گا جو اس وقت دنیا میں پائے جاتے ہیں۔
(”اسلام کا اخلاقی نقطۂ نظر“۔یہ مقالہ 26 فروری 1944ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں پڑھا گیا۔)

Share this: